اہل کراچی دیکھو!یہ سرپھرے پھر تمہیں بچانے نکلے – اسریٰ غوری




کسی بھی ملک میں آفت آجائے پورا ملک ہل جاتا ….. کراچی جیسا بڑا شہر ، پورے ملک کی اکانومی جس پر کھڑی ہے ، جس کو کھانے کے لیے وفاق سے لے کر صوبائی ، بلدیاتی حکومتیں کھانے کے لئے لڑ مر رہے تھے ….. مگر آج جب کراچی پر آفت آئی ہے کراچی ڈوب چکا ہے تو وفاق ایسے مر گیا جیسے کبھی زندہ ہی نہیں تھا !!!!
صوبائی حکومت تماش بین بنی اپنی بیان بازیوں میں لگی ہوئی اور بلدیاتی اپنوں کا تو حال ہی مت پوچھیے …….. کہ ان کی چائینا کٹنگ نے آج یہ دن دکھایا اور اب وہ سر عام محبت نامے دکھا دکھا کر رورہے . کراچی کو لوٹنے والو …. ! تمہیں خدا پوچھے . پاکستان کو جب بھی کسی آفت کا سامنا ہوا کراچی نے سب سے پہلے اور سب سے بڑھ کر پورے پاکستان کی مدد کی ۔ زلزلہ ہو یا سیلاب ، کشمیر ہو یا روہنگیا ، بم دھماکے ہوں یا دہشت گردی ……… کراچی والوں نے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق دامے اور درمے اپنا اپنا حصہ ادا کیا ۔ کراچی کی مدد کو کون آئے گا ؟؟
اور یہ جماعتی سر پھرے ….. اللہ تو ہی انکو جزا دینے والا ہے . ضلع ائیرپورٹ کے امیر گھر ہوکر گئے ……. پتا چلا کہ میمن گوٹھ اسکے ساتھ پانچ گاؤں ….. پورے کے پورے بہہ چکے . جماعت اسلامی الخدمت پوری کی پوری لگی ہوئی . ان کو بسوں میں الخدمت کی میت گاڑیوں میں بٹھا بٹھا کر محفوظ مقامات پر پہنچارہے . دیگوں میں کھانے بنوا کر ان کو پہنچائے جارہے . اپنے گھروں میں پانی بھرا چھوڑ کر یہ عوام کے لیے نکلے ہوئے سر پھرے ……!!! یاد رہے ، یہ گوٹھ ….. یہ وہی لوگ ہیں جن کو پیپلرز پارٹی گاڑیوں میں بھر بھر کر لاتی ہے اور تیر پر ٹھپے لگواتی ہے …… آج مگر جب آفت آئی تو جماعت اسلامی کے سواء کوئی نہیں انکی مدد کرنے والا ……. یہ اک ضلع کی صورتحال نہیں ، پورے کراچی میں یہی حال ہے . سوائے الخدمت ، جماعت اسلامی کے آپ کو کہیں کوئی سیاسی مذہبی جماعت نہیں نظر آئے گی . یہ سب اپنے بلوں میں بند ہوچکے ….. یاربی ! اہل کراچی کی آنکھیں کھول دے .
کراچی والو …….. ! مت بھولنا کہ جب جب تم پر مصیبت آئی ، جماعت اسلامی کی ماؤں نے اپنے جگر گوشے تمہارے لئے حاضر کردیئے ،
دیکھو ان کے معصوم اور ننھے چہروں کو یہ بھی اپنی ماؤں کے ایسے ہی کلیجے کے ٹکڑے ہیں . میری جیسی مائیں ہیں جو بیٹے کے دس منٹ دیر سے گھر آنے پر دس کالیں گھماتی ہیں . دیکھو …….! یہ بھوک پیاس تھکاوٹ سے بے نیاز کیسے تمہیں اور تمہارے بچوں کو بچانے کی فکر میں در بدر ہورہے ہیں ….. لیاری سے لیکر ملیر تک پورے کراچی میں اسوقت الخدمت ہے . جو دن رات اپنا چین سکون ختم کرکے تمہیں بچانے کی فکر میں لگی ہوئی ہے .
کراچی والو!! یاد رکھنا ….. تمہیں جب سب نے تنہا چھوڑ دیا تھا . جب تبدیلی تمہارے سامنے برہنہ ہوچکی تھی . جب عصبیت کے مارے تمہاری لاشوں پر بھٹو کو زندہ کررہے تھے . تمہارے اپنے ….. ہاں ! تمہارے پورے شہر کو چائینا کٹنگ کے جال بچا کر تمہیں ڈبو کر بھاگ گئے تھے ، تب …… تب صرف اک یہی سرپھرے جماعتی تھے جن کو تم نے بار بار ٹھکرایا …. !جنکو تم نے منافق کہا …. جنکے تم نے تمسخر اڑائے…. جو اس شہر کراچی میں اپنے ہی لہو میں نہلا دیئے گئے . مگر کراچی گواہ ہے کہ اس سب کے باوجود ، ان سرپھروں نے ہمیشہ کراچی کے حقیقی سپوت ہونے کا ثبوت دیا. ہمیشہ کراچی کو سنبھالا . کرونا کی وبا ہو یا ہر سال بارشوں سے ہونے والی تباہیاں. ہیٹ سٹروک ہو یا کویی اور مصیبت یہ تمہیں تھامنے کے لیے ہمیشہ تیار رہے . جو بچے بوڑھے جوان سب لگے ہوئے تھے. اک باپ جسکا اپنا جوان بیٹا اک دن پہلے بارش میں کرنٹ لگنے سے شہید ہوا ہو ، وہ باپ اگلے دن تمہیں بچانے نکلا ہوا تھا…….
اہل کراچی سوچو تو سہی کہاں ملیں گے تمہیں ایسے مخلص لوگ ؟؟؟؟ چوروں لٹیروں بدمعاشوں بہروپیوں کے اس جال سے اب تمہیں نکلنا ہوگا …….. اہل کراچی اب تمہیں سنبھلنا ہوگا. اپنی قمست کا فیصلہ اب تمہیں خود کرنا ہوگا …….. تب ہی بچ سکو گے .

اپنا تبصرہ بھیجیں