Home » صرف مرد نہیں اس معاشرے کو محافظ درکار ہیں – اسریٰ غوری
بلاگر اسریٰ غوری

صرف مرد نہیں اس معاشرے کو محافظ درکار ہیں – اسریٰ غوری

وہ اب تک الگ اسکول میں پڑھا تھا جو صرف لڑکوں کا اسکول تھا ……. اب جہاں جانا تھا وہاں لڑکیاں بھی ساتھ ہونی تھیں . اس نے پہلے ہی دن بیٹے کو بلایا اور کہا …
یاد رکھنا ……!

اب تک تمہارا اٹھنا بیٹھا سب لڑکو کیساتھ تھا …. مگر اب لڑکیاں بھی ساتھ ہونگی . تمہارے ساتھ جتنی لڑکیاں ہونگی ، وہ ایسے ہی اپنے بھائیوں کی غیرت اور عزت ہونگی جیسے تمہارے گھر میں اک بہن ہے …. جیسے اس کے لیے تمہارے اندر غیرت موجود ہے . اس غیرت کو ان سب لڑکیوں کے لیے بھی زندہ رکھنا . پہلے دن سے اپنی پہچان یہ بنانا کہ تمہاری موجودگی کسی لڑکی کو تحفظ کا احساس دے . تمہارے ہوتے ہوئے تمہارے ساتھ پڑھنے والی لڑکیاں یہ محسوس کریں کہ جب تک یہ یہاں موجود ہے کوئی ہمیں تنگ نہیں کرسکتا …….. جب تک کسی کو تنہا دیکھو انتظار کرنا کہ وہ چلی جائے …. کبھی ایسا نہ ہو کہ تمہاری موجودگی کسی لڑکی کو خوفزدہ کردے …
تمہارے سامنے آنے پر تمہاری نگاہوں سے خود کو ان کمفرٹیبل محسوس کرے …… اس سے پہلے تم مر جانا…….!!