Home » ایک بیوہ ماں کو خراج تحسین ۔ اسریٰ غوری
بلاگر اسریٰ غوری

ایک بیوہ ماں کو خراج تحسین ۔ اسریٰ غوری

آج کا دن میری ماں کے نام

30 سال کی عمر میں بیوہ ہوئیں تو سات بچے سامنے جبکہ آٹھواں بچہ میں دنیا میں آنے والی تھی ۔ چھ ماہ بعد میری پیدائیش کے بعد لوگوں کی ترس بھری نگاہیں چبھتے ہوئے الفاظ بیٹی ہوگئی وہ بھی یتیم ۔۔۔۔۔ اماں بہت چاہتیں کہ یہ سارے تیر مجھ تک نہ پہنچ سکیں ۔ مگر میں انہی کیساتھ بڑی ہوئی کہ زمانہ نے کبھی یہ بھولنے نہ دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اماں کے سامنے چار بیٹے اور چار بیٹیاں ۔ ہمارے ساتھ کہیں جاتیں تو کوئی نہ مانتا کہ یہ آٹھ بچے ان کے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سب سے بڑے بھائی نویں جماعت میں اسی طرح بلترتیب بہن بھائی بھی چھوٹی کلاسز میں تھے ۔ بابا کے بعد ذریعہ معاش کچھ نہیں تھا ۔۔۔۔ مگر ماں جو خود پڑھی لکھی نہیں تھیں دو فیصلے کیے۔ ایک یہ کہ بچوں کو پڑھانا ہے چاہے اس کے لئے جتنی بھی مشکلات جھیلنی ہوں ۔ دوسرا یہ کہ کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلانا
فیصلہ اسقدر کٹھن تھا کہ اس پر چلنا جلتے انگاروں پر چلنے جیسا تھا ۔۔۔ مگر میری ماں چلتی رہی ۔۔۔۔۔۔۔ بھری دنیا میں اللہ کے بعد ماں کا ساتھ ماں کی ماں نے بھی پل بھر کو نہ چھوڑا ۔۔۔۔ نانی اماں جو خود بیوہ تھیں امی کا سایہ بن گئیں ہمارے لیے ماں بن گئی میری پرورش میں ان کا بہت حصہ ہے ۔۔۔۔

امی دن بھر آٹھ بچوں کے کام اور رات کو کپڑے سینا ۔۔ بھائیوں نے بھی چھوٹی سی عمر میں ہی اپنی زمہ داری سنبھال لی ۔ امی کبھی چھولے بنا کر دیتی کچھ بھائی منڈٰی سے فروٹ لے آتے اور اسکول سے واپس آکر بیچا کرتے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کبھی گھر میں بس چٹنی ہوا کرتی تھی اور کبھی وہ بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ مگر کبھی بچوں کی پڑھائی پر سمجھوتا نہیں کیا ۔۔۔۔۔۔ میں چونکہ سب سے چھوٹی تھی تو میری یاداشتوں وہ تمام وقت کسی فلم کی طرح محفوظ ہے ۔۔۔۔۔۔ بڑے بھائی جان اپنی ساری زمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اپنی پڑھائی مکمل کرتے رہے سٹریٹ لائٹس میں رات کو پڑھنا دیر ہوجاتی تو ماں کا دروازے پر کھڑے رہنا اور تھک جانا تو ایک پیر اوپر کرلینا مجھے کبھی گود میں لینا کبھی اتار دینا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بھائی جان نے اپنی پڑھائی کیساتھ بہن بھائیوں کی پڑھائی پر بھی کڑی نگاہ رکھی کبھی خیر پور ، کبھی سکھر ، تو کبھی لاہور پوسٹنگ ہوتی مگر بھائی جان لمحہ لمحۃ خبر اور ۔۔۔۔۔۔مجھے ہمیشہ کہتے مارگریٹ تھیچر جو اسوقت برطانیہ کی وزیر اعظم تھی مجھے کہتے یہ ہے تمہارا فیوچر تم نے ایسا بننا ہے بولڈ اور ذہین ۔ ہمارے حالات بدلنا شروع ہوئے تو گھر میں ٹی وی آگیا شام میں سارے محلے کے بچے ہمارے گھر میں ہوتے پہلے ہی جھاڑو لگوا کر جگہ بنالیتیں کہ آنے والے بچے آرام سے بیٹھ سکیں ۔ پھر فریج آگیا محلے میں ہمارا دوسرا گھر تھا جہاں فریج آیا امی نے تو جیسے برف فیکٹری لگا لی گھر کا ہر چھوٹا بڑا برتن پانی بھر کر فریزر میں اور صبح سات بجے سے وہ برف بانٹنا شروع کردیتی ہم بہن بھائی کبھی غصہ بھی ہوتے ۔۔۔۔۔۔ تو کہتی تمہیں نہیں پتا ایسی سخت گرمی میں یہ برف کیسی نعمت ہے ہمیں مل گئی تو ہم دوسروں کو کیوں محروم رکھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

برف کی دو شفٹ لگتیں اک صبح اور اک شام کو محلے بھر کے بچوں کا سکول میں ایڈمیشن کروانا ہو تو وہ امی ہی لیکر جائینگی امی نے ہمارے ساتھ پڑھنا لکھنا سیکھا ۔پڑھی لکھی نہیں تھیں مگر ہمارے ہوم ورک کے وقت ایسے ساتھ بیٹھا کرتیں جیسے سب کچھ جانتی ہوں ۔ ساری ٹیچرز سے ان کی دوستی ملنا جلنا خود بھی کسی پرنسپل سے کم نہیں لگتی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں ایسے رکھتیں جیسے مرغی اپنے چوزے پروں کے نیچے چھپا کر رکھتی ہے ۔ میں نے باپ کے بغیر خون کے رشتوں میں سرخ رنگ کو سفید دیکھتے اپنا بچپن گزارا ۔۔۔۔۔۔۔۔

جب کچھ شعور آیا اور قرآن میں بار بار یتیموں کے حقوق اور ان پر وعید دیکھی تو سمجھ آیا کہ یتیموں کے حقوق ایسے ہی نہیں رکھے رب کائنات نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنوں کے دکھ اور زمانے کی سختیاں سب میری ماں نے صبر سے جھیلیں ۔۔۔۔ وقت بدل گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھائی جان نے کمیشن کا امتحان پاس کیا پورے سندھ میں ٹاپ کیا پورا شہر خوش تھا یتیم بچوں نے کیا کر دکھایا ۔ دوسرے بھائی جان ڈاکٹر بنے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تیسرے پہلے انجینئیر بنے پھر سی ایس ایس کیا ، چوتھے بھائی نے بھی اپنی پڑھائی مکمل کرکے بزنس سیٹ اپ کرلیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم جس گھر میں رہتے تھے وہ دادا کو ہجرت کے بعد ملا تھا دادا بھی چلے گئے دادی بھی بابا بھی بڑے تایا ابو دادا کے سامنے ہی الگ گھر میں شفٹ ہوئے تھے ہماری دو پھپھو تھیں ۔

جب ہم کراچی شفٹ ہوئے تو اپنا حصہ چچا کو فروخت کر آئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امی نے نہ صرف ہم بہنوں کا حصہ نکالا بلکہ اپنے پورشن کے پیسوں میں سے دونوں پھپھو کو حصہ دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ لوگوں نے کہا باپ مر جائے تو کیسا حصہ مگر امی کہتی ان کے باپ کا گھر تھا ان کا حصہ بنتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غرض ماں کی جوانی اور سرخ و سفید رنگت اب جھریوں والے ہاتھوں میں بدلنے لگی تھی ۔۔۔لمبے سیاہ بالوں میں چاندی گھلتی گئی ۔۔۔۔۔ اور اولاد بستی گئی ۔ آج ہم سب بہن بھائی اپنے اپنے گھروں میں آباد ہیں اور ماں ہمیں دیکھ کر جیتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کبھی کہوں کہ میرےلئے دعا کریں تو اک ہی جواب آتا ہے

اور میرا کام کیا ہے بیٹا دن رات تہجد میں بس تم سب کے لئے دعا ہی تو کرتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اکثر ان کے چہرے میں بیتے دنوں کی تپش کو تکتی ہوں تو وہ حدیث یاد آجاتی ہے ۔۔۔

اللہ کے رسول فرماتے ہیں جنت کا ردوازہ کھلے گا میں جنت کی جانب جانے لگونگا تو دیکھونگا کہ اک جوان عورت مجھ سے آگے بھاگ رہی ہے جنت کی جانب میں حیران ہو کر سوال کرونگا کہ یہ کون ہے جس کو مجھ سے پہلے جنت جانے ہی دھن ہے ۔۔۔۔۔۔۔ جواب ملے گا یہ وہ جوان بیوہ ہے جس نے اپنے بچوں کیلیے اپنی جوانی اور عصمت کی حفاظت کی اللہ کا اس سے جنت کا وعدہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔ میں مسکرادونگا ( مفہوم )
میں اکثر اللہ پاک سے یہی کہتی ہوں
دیکھیے اللہ جی اپنا وعدہ نبھائیے گا کہ آپ تو بہترین وعدہ نبھانے والے ہیں ۔

یا اللہ میری ماں کا سایہ ہم ہر سلامت رکھئے گا یہ ہاتھ ہمارے لئے دعاوں کو اٹھے رہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آمین یاربی
یادیں تو بہت سی ہیں باقی پھر کبھی لکھونگی کہ لکھنا آسان نہیں یہ چند پیرا گراف نجانے کتنے سالوں سے نہیں لکھے جارہے تھے ۔۔۔۔ اک اک لفظ لکھتی ہوں تو سالوں کا بوجھ آجاتا ہے پلکوں پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کیسے لکھا بس میں ہی جانتی ۔۔۔۔

کسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دکاں آئی
میں گھر میں چھوٹا تھا میرے حصے میں “ماں ” آئی

درد میں سانجھی ساتھ نہیں

درد میں سانجھی ساتھ نہیں آنکھوں میں ویرانی تھی دل بھی میرا شانت نہیں اجلے دن میں نا کھیلی تھی گھور اندھیری رات میں بھی حصہ میں جس کے آتی تھی وہ شاہ میں گدا کہلاتی تھی آنسو پی کے جیتی تھی ذلت کا نشانہ بنتی تھی یا خاک میں زندہ رلتی تھی ہرس و ہوس کا سمبل تھی یا اینٹوں میں چن دی جاتی تھی چند ٹکوں میں بکتی تھی آہ میری بے مایہ تھی سوکھے لبوں پہ مچلتی تھی

威而鋼

以前服用威而鋼,但有效時間僅僅只有4小時,對於在常年在高原的我來說,時間有點太短,所以會考慮犀利士。

  • 犀利士(Cialis),學名他達拉非

犀利士購買

與其他五花八門的壯陽技巧相比,犀利士能在40分鐘內解決性功能勃起障礙問題,並藥效持續36小時。這效果只有犀利士能做到,因為醫療級手術複雜,不可逆,存在安全隱患;植入假體和壓力泵等,使用不便,且有病變的可能。