"آپ ہی اپنی اداوں پہ ذرا غور کریں"




تحریر : اسریٰ غوری

آپ ہی اپنی اداوں پہ ذرا غور کریں

ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی

ابھی ہم بھاولپور سے کراچی آئے ہی تھے کہ بچوں کے قرآن حفظ کو جاری رکھنے کی فکر ہوئی تینوں بچے بہاولپور میں قران حفظ کررہے تھے کینٹ میں ہی مسجد کے خطیب صاحب نے اپنے گھر کے ایک کمرے میں بچوں اور بچیوں کیلیے مدرسہ بنایا ہوا تھا ساتھ چھوٹی سی مسجد بھی تھی گھر میں انکی اپنی اہلیہ اور بچے بھی وہیں بچوں کیساتھ ہوا کرتے ۔۔

غرض پورا ایک فیملی ماحول تھا ہم نے بھی اپنے تینوں بچے وہیں بھیجنا شروع کیے ساتھ ہی کچھ عرصہ ہم بھی اپنے کچھ پارے جو حفظ کیئے ہوئے تھے انکو پکا کرنے کے لیےبچون کیساتھ جانے لگے ۔

الحمدللہ جب وہاں سے پوسٹنگ ہوئی تو ایک حافظ قرآن کیساتھ آئے ارسل ارقم ابھی دونوں چھوٹے تھے مگر انہوں نے بھی الحمدللہ بہت اچھا قرآن اسٹارٹ لیا تھا مجھے یاد ہے ارسل کلاس ٹو سے اور چھوٹو جو اس وقت پریپ سے ون مین آیا تھا تو دونوں کو اسکول سے اٹھا لیا تھا کہ اب ایک ساتھ ہی کرلین تینوں ( شروع سے یہی ارداہ تھا کہ تینوں بچوں کو حفظ کروانا )

چھوٹو مدرسے کا منا تھا اور لاڈلا تھا قاری صاحب کی گود میں بیٹھ کر سبق سنایا کرتا مگر حفظ میں اسقدر تیز نکلا جب ہم وہاں سے آئے تو ارسل کا نواں پارہ تھا اور چھوٹو کا ساتواں اسے اپنی منزل ،سبقی اور سبق سب اس قدر پکا تھا کہ ان پاروں میں سے کہیں سے بھی کوئی آیت پڑھ دی جائے تو وہ یہ بتا دیا کرتا تھا کہ یہ کس پارے کے کس پاؤ کے کونسے رکوع کی آیت ہے ۔۔ اب کراچی جیسا شہر جہاں مدرسوں کی بہتات ۔۔۔۔

مگر پہلا دن جب کہ بڑی خوشی خوشی اک مشہور مدرسہ میں بھیجا بچوں کو ۔۔۔۔۔ شام میں بچے منہ لٹکاتے واپس آئے تو پوچھا کیا ہوا ؟؟؟

جواب ملا ٹوپی نہیں پہنی ہوئی تھی تو قاری صاحب نے اندر ہی نہیں بیٹھنے دیا ۔۔

 افسوس کے سواء کیا کرسکتے تھے ۔۔ خیر اگلے دن دوسرا مدرسہ تلاش کیا گیا ۔۔۔

اس بھی واپس آئے تو ایک نئی کہانی تھی ۔۔۔ ارسل ارقم دونوں ایک سال سے حفظ کررہے تھے مخارج اتنے خوبصورت اور درست تھے کہ اپنے ہونے والے امتحان میں ارسل فرسٹ اور چھوٹوکو اعزازی نمبر ملے تھے۔۔۔

مگر یہاں قاری صاحب نے کہا کہ وہ تو قائدے سے پڑھائینگے جو ساتواں اور نواں پارہ چل رہا وہاں سے نہیں کنٹینو کرینگے ۔۔۔

خیر وہاں سے بھی نواپس آگئے اب ایک جگہ بڑی مشکل سے بٹھاآئے ۔۔۔ دو دن بچے گئے تو تیسرے دن ارسل (جو اس وقت آٹھ سال کا تھا ) نے آکر کہا ماما کیا مولوی صاحب کو ایسی باتیں کرنی چاہیے وہاں تو قران ہوتا ہے نا سامنے میں نے پریشانی میں پوچھا کیسی باتیں ؟؟؟

اس نے جواب میں بہت جھجھکتے ہوئےمولوی صاحب کا سنایا ہوا سنایا ۔۔ جسے سن کر میرا رنگ فق تھا کہ ہم تو ایسے لطیفے عام لوگوں سے بھی نہ سن سکین کجا یہ کہ مدرسہ کے مولوی صاحب ۔۔۔۔

خیر میں نے اسی لمحہ یہ فیصلہ کیا کہ بھئی یہاں نہین بھیجنا بچوں کو ۔۔ اگلے دن پھرمدرسہ تلاش مہم جاری تھی ۔۔۔۔

ایک ہفتہ تک یہی رہا ۔۔ پھر ایک مدرسہ بتایا گیا وہاں بھیجا ۔۔ بچے ایک ہفتہ گئے میں پچھلے مدرسوں کی صورتحال سے کافی پریشان ہوچکی تی اس لیئے بچوں سے لازمی پورے دن کی تفصیلات سنتی سوالات کیساتھ ۔۔۔ اور اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ مدرسہ بھی چھڑوانا پڑا اور پھر بلاخر یہ فیصلہ کیا کہ بچے حافظ قرآن بنیں نہ بنیں مگر ایک اچھے انسان ضرور بن جائیں یہ تیتر بٹیر والی کیفیت سے تو نکلیں ۔۔۔

اسلام آباد والے دھرنے نے جو جوہر عیاں کیئے آج اپنے اس فیصلے پر دل مزید مطمئن ہوگیا ۔۔۔۔

یقینا سارے مدرسہ اور ساری مولوی حضرات ایسے نہیں مگر جو ہیں انکی بھی تعداد کچھ کم نہیں ۔۔۔۔

ایک اور اہم بات یہ کہ مولویوں پر تنقید کرنے والے خود وہی ہیں جو اپنے ہر جملے میں انگریزی کے تین حروف ادا کرکے ویسے ہی شانتی محسوس کرتے ہیں جیسے کہ یہ مولوی صاحبان لمبی لمبی مخلظات بک کر کررہے ۔۔۔

کاش کوئی انکو بھی وہ سکھا دیتا تو انگریزی کی انگریزی ہوجاتی اور گالی کی گالی ۔۔۔

اچھے ماڈرن اسکولوں سے پڑھے ہوئے بچوں کی زباں کبھی سنئے تو اندازہ ہوگا کہ انگریزی نے جہاں ہمیں بہت کچھ ادھار دیا وہاں ایسی ایسی گالیاں بھی عنایت کیں کہ جن سے آپ کے کانوں سے دھواں نکلنے لگے ۔۔۔۔

تو صاحب مسلہ یہ نہیں کہ گالیوں کا رواج ہر طبقے میں ہی عروج پر ہے ۔۔۔ مسلہ یہ ہیکہ جو لوگ اسلام کے دعوایدار ہیں ان کو ایسی لغویات سے خود بچانا عام لوگوں کی بہ نسبت زیادہ لازم ہے۔۔

اگر آپ بھی یہی سب کرینگے تو آپ کا محاسبہ ایک عام آدمی سے زیادہ کیا جائیگا ۔۔۔ آپ جس دین کہ داعی ہیں وہاں اس کی گنجائیش نہین ملتی ۔۔۔۔

اسلیئے کہ جب آپ اسلام کے چوغا پہن کر کوئی بھی بات کرتے ہیں تو نشانہ اسلام بنتا ہے پچھلے ایک ہفتہ میں جتنی تضحیک کا نشانہ اسلام خود اسلام کے ٹھیکداروں کی وجہ سے بنا شاید ہی اسکی مثال کہیں ملتی ہو ۔۔۔۔۔

تو صاحب ۔۔۔

آپ ہی اپنی اداوں پہ ذرا غور کریں

ہم اگر عرض کریں گے تو شکائت ہو گی

2 تبصرے “"آپ ہی اپنی اداوں پہ ذرا غور کریں"

  1. اسکول کی اچھی تعلیم بہت مہنگی اور عام میسر نہیں. قرآن کی تعلیم نہایت سستی اور ہر جگہ میسر ہے. …..مگر معاملہ وہی ہے جو آپ نے بیان کیا ہے. جزاک الللہ

اپنا تبصرہ بھیجیں