"مغرب کا تحفظ نسواں "




برائٹ بارٹ ڈاٹ کام کے مطابق جرمنی کی ایک ریل سروس کمپنی” سنٹرل جرمن ریگیوبان ریل سروس ” نے اپنی ٹرین میں خواتین کیلیے دو الگ ڈبے بنانے کا فیصلہ کیا ۔۔۔
یہ فیصلہ ان تمام مغرب پسندوں نام نہاد آزاد پسندوں کے منہ پر طمانچہ ہے جو عورت کی اک الگ حیثیت کے انکاری ہیں اور ہر جگہ مرد اور عورت کو برابر بٹھانے کو ہی عورت کی آزادی اور اسکے پیدائیشی حق قرار دینے کیلیے قلابازیاں کھاتے نظر آتے ہیں۔۔
یہ بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ یہ فیصلہ تیسری دنیا کے کسی پسماندہ ملک میں نہیں ہوا یہ ایک ترقی یافتہ اور” پڑھے لکھے باشعور ” لوگوں کے ملک میں کیا گیا ایک فیصلہ ہے ان لوگوں کے ملک میں جن کے اترے ہوئے جوتے بھی ہم پہن لیں تو چال میں بانکپن آجاتا ہے تو صاحب ذرا اس فیصلے پر بھی کچھ نگاہیں دوڑالی جائے یہ بھی جان رکھیئے کہ یہ فیصلے ایسے ہی نہیں کر لیے جاتے ان کے پیچھے بہت کچھ کارفرما ہوتا ہے ۔۔
خیال رہے کہ یہ وہ سوسائیٹی ہے جو وہ تمام تجربات کر کے ان کے نتائج بھگت چکی ہے اور اب ان نئے فیصلوں کے ذریعے اپنے پچھلے تجربات سے ” تائب ” ہوئی چاہتی ہے ۔
جی ہاں وہی تجربات جن کو دہرانے کرنے کے لیئے آج ہم اپنی نئی نسلوں کو ان تجربہ گاہوں کی زینت بنانے پر تلے ہوئے ہیں اور اپنی ہر اقدار کو پیروں تلے روندھ رہے ہیں۔
معاملہ کچھ یوں ہے کہ گزشتہ برس برطانیہ میں اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی کی قائدانہ مہم کے دوران موجودہ لیبر جماعت کے قائد جیریمی کوربن نے برطانیہ میں پبلک ٹرانسپورٹ میں خواتین کے خلاف جنسی چھیڑ چھاڑ کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ٹرین میں خواتین کے ڈبے الگ کرنے کی تجویز دی تھی جسے اس وقت رد کردیا گیا تھا ۔
مگر وہاں پیش آنی والی صورتحال کے پیش نظر ریل سروس کمپنی کو یہ فیصلہ ازخود کرنا پڑا ۔
سنٹرل ریگیوبان ریل سروس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کسٹمر سروس کے ساتھ عورتوں کے مخصوص ڈبوں کی قربت ایک شعوری فیصلہ ہے تاکہ خواتین مسافر سفر کے دوران خود کو محفوظ خیال کریں۔
محفوظ کی بھی کیا خوب کہی کہ یعنی اب یہ بات مان لی جائے کہ مرد وزن کا اختلاط عورت کو غیر محفوظ بنا دیتا ہے اور عورت صرف عورتوں کے درمیان یا اپنے خاندان کے مردوں کے درمیان ہی خود کو محفوظ تصور کرتی ہے تو اسکے لیئے اس کا اہتمام کیا جانا اب ناگزیر ہوگیا ہے ؟۔
یہ فیصلہ اور اس کی تفصیلات پڑھ کرمیں مسکراتی بھی رہی کہ یہ حضرت انسان رب کی بنائی ہوئی تخلیق میں جب جب جہاں جہاں پنگا لینے کی کوشش کرتا ہے وہیں مات کھاجاتا ہے اور پھر پلٹ کر وہیں آتا ہے جو فطرت ہے ۔۔۔
عورت کے خالق نے اس کے محفوظ رکھنے کا نسخہ خود بتادیا تھا
سورة الاحزاب کی آیت نمبر ۵۹ میں مذکور ہے :
”اے نبی ﷺ اپنی بیویوں بیٹیوں اورمسلمان عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کا پلو لٹکا لیا کریں۔ یہ زیادہ مناسب ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اورانہیں ستایا نہ جائے۔ اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔“
افسوس کہ جب ہم رب کی بنائی ہوئی حدود کو توڑتے ہیں تو پھر ان معاشروں میں ایسی ایسی خرابیاں جنم لیتی ہیں کہ انسانیت آئینہ دیکھنا بھول جائے ۔۔۔
مگر یہ حقیقت بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پھر بالآخر اس انسان کو تمام تجربات سے گزر کر پلٹنا فطرت ہی کی جانب ہوتا ہے۔
مگر اس وقت وہ تک بہت کچھ کھو چکا ہوتا ہے ۔۔
ہم بھی ان قوموں کی تقلید میں اپنا بہت کچھ کھو چکے ہیں اور بہت کچھ کھونے جارہے ہیں ۔۔ مگر اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم یہاں ٹہر کر پھر اک بار ان قوموں کی زندگی کے اندر تیزی سے آنے والے ان تغیرات کی وجوہات کو بھانپ سکیں
“جن کی صبح کہہ رہی ہے ان کی رات کا فسانہ ”
اگر ہم نے یہاں تک کر یہ جائزہ لے لیا تو یقین جانئے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایک بڑے طوفان سےبچانے میں کامیاب ہوجائیں گے ۔۔۔ وگرنہ دوسری صورت میں انجام تو دور ہی ہی دکھائی دے رہا ہے ۔۔
فیصلہ آپ کے یاتھ میں ہے ۔۔۔!!

3 تبصرے “"مغرب کا تحفظ نسواں "

  1. I am agree with you partially that we should act according to nature and should make our own policies. However, i have no idea about the nature of German railway departmwent decision. Maybe, there are some other reasons as well.

  2. لوگ واپس دین فطرت اسلام کی طرف پلٹ رہے ہیں۔ ۔ ۔ ہمارے حکران مغرب کی نکالی کر رہے ہیں۔ ۔ ۔کبھی کہتے ہیں ہم پاکستان کو لبلرل بنائیں گے۔ اور کبھی دین فطرت کے غلاف عورتوں کے تحفظ کے نام پر پاکستانی معاشرے کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔اسی شہ پر کچھ خود ساختہ دانشور جن پر اخلاقی مقدمہ بھی کسی خاتون نے قائم کیا تھا۔ جو ن لیگ کے ٹکٹ پر ایم این اے بنھی بنے تھے۔ شاعر مشرق کو مقامی شاعر لکھتے ہین۔ ان کی چگالی کرتے ہوئے ایک اور خودساختہ دانشور ،جومشہور ہیں کہ (چوہے کو تھوم کی گھٹلی مل جائے تو پنساری بن پیٹھتا ہے)یعنئی گھٹلی کو کتر کتر کر سارے کمرے میں پھیلا دیاتا ہے۔ ایسے ہی کالم لکھ کر معاشرے کو کتفرتے رہتے ہیں ۔ کالم میں نہ سر ہوتا ہے نہ ہی پائوں۔ ان خود ساختہ رانشور نے بھی شاعر اسلام کو کہا ہے کہ اس کی وجہ سے اسلامی معاشرہ انتہا پسند ہوا۔ شزید دونوں کا ایک ہی مسلکی بیک گرونئڈ بی ہے۔ یہ آج کل ٹی وی پروگراموں میں اسلامی معاشرے پر تیشے چلا رہے ہیں۔ حکومت نے کھلی چھٹی دی ہوئی ہے۔اللہ ایسے نکالوں سے اسلامی معاشرے کو بچائے آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں