تلاش




تحریر : اسریٰ غوری
شزانہ یار یہ دیکھو میری زبان بلکل زخمی ہوچکی ہے میں اپنی ڈاکٹر سے سامنے بیٹھی شکایت کررہی تھی ۔
کئی دنوں سے سخت تکلیف کے باعث دانتوں کا ٹریٹمنٹ کروانے کا ارادہ کیا تھا اور ابھی تو اس ٹریٹمنٹ کو شروع ہوئے بس چار دن ہی ہوئے تھے اوپر والےدانتوں میں ڈاکٹر نے بریسز لگا دیئے تھے کہ پہلے یہ کچھ دن سیٹ ہوجائیں تو پھر اگلا ٹریٹمنٹ ہوگا ۔
مگر یہ کیا چار دن بعد ہی روتی صورت اور زخمی زبان کیساتھ ڈاکٹر کے سامنے موجود تھی
ڈاکٹر میری بات سن کر مسکرائی اور بولی وہ جو اتنے سالوں سے دانتوں کی یہی جگہ تھی
وہ اب بدل رہی ہے اور آپکی زبان ان دانتوں کو وہیں تلاش کررہی ہے
اور اسی تلاش میں وہ مستقل ٹکراتی اور زخمی ہوجاتی ہے
میں وہاں سے اٹھ آئی تھی مگر ۔۔۔
اس وقت سے یہی سوچ رہی ہوں کہ ہماری زندگیوں میں بھی جب لوگ اپنی جگہ بدل کر ایک خلا چھوڑ جاتے ہیں تو ہماری روح ان لوگوں کو تلاش کرتے کرتے ایسے ہی زخمی ہوتی رہتی ہے۔
جسے کبھی ہم بے وجہ اداسیوں کا نام دیتے ہیں تو کبھی دل کی بے سکونی کا نام ۔۔۔
مگر دراصل اس وقت ہماری روح انہی جگہوں پر ان لوگوں کی تلاش میں سرکرداں
خود کو ٹکرا رہی ہوتی اور یہی تلاش اسے زخم زخم کردیتی ۔
مگر اس کی یہ تلاش کبھی ختم نہیں ہوتی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں