شیطان بھی جن سے شرما جاے وہ ہو تم!!




تحریر: اسریٰ غوری

ایک تو دردندگی …
اور اس پر ستم یہ کہ جس کے ساتھ یہ درندگی کی گئی وہ اک معذور اور لاچار آئی سی یو میں زیر علاج بچی….
کون نہیں جانتا کہ “آئی سی یو” میں داخل ہونے والوں کی کنڈیشن کیا ہوتی ہے….
آہ!!
کویی ہے جو شرمین چنایے کو بتایے ؟؟؟
کویی ہے جو ماروی سرمد , بے ہود بھایی, جبران ناصر اور موم بتی آنٹیوں اور ان کے قبیلے کو یہ خبر کرے کہ اچھل اچھل کر اقلیتوں پر ان ڈھایے مظالم کی لسٹیں اٹھایے
ایک جعلی وڈیو پر طوفان کھڑا کرنے والے …
جھوٹی تیزاب کت جلنے والی عورت کی ڈاکومنٹری بنا کر دنیا بھر میں رسوایی کا داغ سجا کر آسکر جیتنے والے ….اپنی لمبی لمبی زبانوں کیساتھ اسلام اور مذہب پر تبرا بھیجنے کی تلاش میں رہتے ہیں…
آج کیوں تمہاری صفوں میں ہر جگہ موت کا سناٹا ہے ؟؟
اس لیے کہ جو معذور بچی جو آئی سی یو میں مجبور اور لاچاری کی حالت میں زیر علاج تھی اسکا مذہب اسلام تھا ……. ؟؟؟
یا اس لیے کہ مسیحا کے روپ میں بھیڑیا بن کر اس بچی پر ٹوٹنے والا درندہ کوئی داڑھی والا مسلمان نہین کسی مدرسے سے فارغ التحصیل نہیں بلکہ ایک ہندو تھا…. ؟؟؟؟
اسی لیے تمہاری زبانیں آج تالو سے چپکی ہوئی ہیں ….
کویی ہے جو آج اس درندہ کو پھانسی چڑھانے کے لیے اپنی موم بتیوں کو جلا کر احتجاج کرے…
کویی ہے جو آج اس معصوم کیساتھ کیے جانے والے انسانیت سے گرے ہویے اس ظلم پر چوک میں ٹانکنے کا مطالبہ کرے ؟؟؟
کویی ہے ؟؟؟
کویی ہے ؟؟؟
کوئی ہے جو مجھے یہ بتائے کہ میری ہی آواز کیوں ٹکرا کر واپس آرہی ہے ؟؟؟

شیطان بھی جن سے شرما جاے وہ ہو تم!!” ایک تبصرہ

  1. میں آپ کی بات سے بالکل متفق ہوں. ایسے شخص کو عبرناک سزا دینا بہت ضروری ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں