تحریک پاکستان میں مولانا موددی رحمہ کا کردار اور مخالفین کے الزامات




تحریر : اسریٰ غوری
تحریک پاکستان کے حوالے سے جماعت اسلامی اور مولانا مودودی پر کئی جھوٹے الزامات لگائے جاتے ہیں۔ اگرچہ یہ الزامات قیام پاکستان سے لے کر آج تک مسلسل لگائے جارہے ہیں اور ان کا اتنی ہی بار مدلل جواب بھی دیا گیا ہے مگر پھر بھی اک ٹولہ جماعت اسلامی اور مولانا مودودی ؒ کی کردار کشی سے باز نہیں آتا۔
خود مولانا بھی اپنی زندگی میں ایسے الزامات کا کوئی ثبوت مانگتے رہے مگر مخالفین کے پاس کے منہ در منہ نکلنے والے الزامات کے سواء کبھی کچھ برآمد نہ ہوسکا ۔ عدنان کاکڑ اس فہرست میں نیا نام ہیں جنھوں نے اپنی تازہ تحریر میں وہی گھسے پٹے الزامات دہرائے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
کاکڑ صاحب یا تو مولانا مودودیؒ کی تحریروں اور شخصیت سے بالکل بے خبر ہیں یا جماعت کی مخالفت نے ان کو اس حقیقت سے بے بہرہ کر دیا ہے کہ اہلِ قلم کو قلم کی عصمت پامال کرنے سے کبھی عزت و ثقاہت حاصل نہیں ہوسکتی
افسوس ناک بات یہ ہے کہ جو کچھ انہوں نے فرمایا اس کے لیے انہوں نے کسی کتاب کوئی صفحہ نمبر، کوئی پیرا گراف کسی تقریر کا کوئی حوالہ کچھ بتانا گوارا نہیں کیا، اور جن کتابوں کے نام لکھے، انھیں پڑھ کر حیرانی ہوتی ہے۔ جس کسی نے بھی انھیں ان کتابوں کے نام لکھنے کا مشورہ دیا، معلوم ہوتا ہے کہ اس نے ان سے کوئی پرانی دشمنی نکالی، کیونکہ نام لکھنے سے پہلے وہ خود ان کتابوں کا مطالعہ فرمالیتے تو نہایت فائدہ مند ہوتا کیونکہ ان تمام الزامات کے جواب ان کتب میں ہی مل جانے تھے اور وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا اس پر دھمال ڈالنے کی نوبت ہی نہ آتی۔
مثال کے طور پر پہلا الزام کہ ” صوبہ سرحد کے ریفرنڈم تک تحریک پاکستان کی جی جان سے مخالفت کرنے والے سید مودودی کی تفہیم شریعت کی بات کرتے ہیں۔ ”
“تحریک پاکستان کی ریفرنڈم تک مسلسل مخالفت کرنے والے اور مسلم لیگیوں کو الیکشن میں ووٹ ڈالنے سے منع کرنے والے، قیادت سمیت مسلم لیگیوں کو نام کے کاغذی مسلمان کہنے والے، قائد کو اتاترک کی مانند رجل فاجر قرار دینے والے، آج چاہتے ہیں کہ ملک میں ان کی مرضی کی ملائیت نافذ ہو، نہ کہ قائد اور اقبال کے فرمان کے مطابق اسلامی اصولوں کی روشنی میں ایسا نظام حکومت بنایا جائے جو کہ سب شہریوں کو برابر کے حقوق دیتا ہو۔”
آیئے اس کا جواب خود مولانا کی زبانی سنئیے
“1948 ء میں صوبہ سرحد میں ریفرنڈم کے موقع پر مولانا مودودی نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ
’’ استصواب رائے صرف اس امر سے متعلق ہے کہ تم کس ملک کے ساتھ وابستہ رہنا چاہتے ہو ،ہندوستان سے یا پاکستان سے ؟ اس معاملے میں رائے دینا بالکل جائز ہے اور اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں ہے۔لہٰذا جن جن علاقوں میں استصوابِ رائے کیا جارہا ہے وہاں کے ارکان جماعت اسلامی کو اس کی اجازت ہے کہ وہ اس میں رائے دیں۔۔۔
البتہ شخصی حیثیت سے میں کہہ سکتا ہوں کہ اگر میں خود صوبہ سرحد کا رہنے والا ہوتا تو استصواب رائے میں میرا ووٹ پاکستان کے حق میں پڑتا ”
( سہہ روزہ کوثر مورخہ 5جولائی 1947 ء بحوالہ تحریک آزادی ہند اور مسلمان حصہ دوم صفحہ 88)
اس تاریخی موقع پر آئندہ کے نظام کے بارے میں مولانا نے لکھا
”وہ نظام اگر فی الواقع اسلامی ہوا جیسا کہ وعدہ کیا جارہا ہے تو ہم دل و جان سے اس کے حامی ہوں گے، اور اگر وہ غیر اسلامی نظام ہوا تو ہم اسے تبدیل کرکے اسلامی اصولوں پر ڈھالنے کی جدوجہد اسی طرح کرتے رہیں گے جس طرح موجودہ نظام میں کررہے ہیں۔“ یہاں مولانا کے الفاظ سے صاف واضع ہوتا ہے کہ اس وقت جو وعدہ کیا جارہا تھا کسی سیکولر نظام کا نہیں بلکہ اسلامی نظام کا تھا ۔
کاکڑ صاحب نے علامہ اقبال کی فکر کو بھی مولانا سے متصادم ثابت کرنے کے لیے بڑا زور لگانے کوشش کی ، اس کے جواب میں خود ان کی زبانی سنیے کہ جن سے علامہ اقبال نےمولانا کولاہور بلوانے کیلئے خط لکھوایا ۔۔۔۔
علامہ اقبال اور سید مودودی
ڈاکٹر علامہ محمد اقبال سید مودودی کی تحریرات سے بے حد متاثر تھے۔ بقول میاں محمد شفیع (مدیر ہفت روزہ اقدام)، علامہ موصوف ’’ترجمان القرآن“ کے اُن مضامین کو پڑھوا کر سنتے تھے۔ اُن (مضامین) ہی سے متاثر ہوکر علامہ اقبال نے مولانا مودودی کو حیدرآباد دکن چھوڑ کر پنجاب آنے کی دعوت دی اور اسی دعوت پر مولانا 1938 میں پنجاب آئے۔ میاں محمد شفیع صاحب اپنے ہفت روزہ اقدام میں لکھتے ہیں کہ
” مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی تو درحقیقت نیشنلسٹ مسلمانوں کی ضد تھے اور میں یہاں پوری ذمہ داری کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ میں نے حضرت علامہ اقبال رحمتہ اللہ کی زبان سے کم و بیش اس قسم کے الفاظ سنے تھے کہ ’
’مودودی ان کانگریسی مسلمانوں کی خبر لیں گے“
۔ جہاں علامہ اقبال بالکل واضح طور سے آزاد (مولانا آزاد) اور مدنی (مولانا حسین احمد مدنی) کے نقاد تھے وہاں وہ مولانا کا ’’ترجمان القرآن“ جستہ جستہ مقامات سے پڑھواکر سننے کے عادی تھے۔ اور اس امر کے متعلق تو میں سو فیصدی ذمہ داری سے بات کہہ سکتا ہوں علامہ نے مولانا مودودی کو ایک خط کے ذریعے حیدرآباد دکن کے بجائے پنجاب کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنانے کی دعوت دی تھی۔ بلکہ وہ خط انہوں نے مجھ سے ہی لکھوایا تھا
مولانا مودودی پر الزام لگانے والے اپنی دشمنی میں یہ تک بھول جاتے ہیں کہ چونکہ تحریک پاکستان کی بنیاد ہی دو قومی نظریہ پر تھی۔ اس تصور کو پیش کرنے، اسے نکھارنے اور فروغ دینے میں سید مودودی کی تحریرات کا حصہ تھا، اسے اس شخص کی زبان سے سنیے جو کہ قائداعظم اور خان لیاقت علی خان کا دست ِ راست تھا ۔۔۔۔۔۔ یعنی آل انڈیا مسلم لیگ کے جائنٹ سیکریٹری، اس کی مجلس ِ عمل Committee Of Action اور مرکزی پارلیمانی بورڈ کے سیکریٹری ظفر احمد انصاری لکھتے ہیں۔
”اس موضوع پر مولانا ابوالاعلیٰ مودودی صاحب نے ’’مسئلہ قومیت“ کے عنوان سے ایک سلسلہ ءِ مضامین لکھا جو اپنے دلائل کی محکمی، زور ِ استدلال اور زور ِ بیان کے باعث مسلمانوں میں بہت مقبول ہوا اور جس کا چرچا بہت تھوڑے عرصے میں اور بڑی تیزی کے ساتھ مسلمانوں میں ہوگیا۔ اس اہم بحث کی ضرب متحدہ قومیت کے نظریہ پر پڑی اور مسلمانوں کی جداگانہ قومیت کا احساس بڑی تیزی کے ساتھ پھیلنے لگا۔ قومیت کے مسئلہ پر یہ بحث محض ایک نظری بحث نہ تھی بلکہ اس کی ضرب کانگریس اور جمعیت علماء ہند کے پورے موقف پر پڑتی تھی۔ ہندوئوں کی سب سے خطرناک چال یہی تھی کہ مسلمانوں کے دلوں سے ان کی جدا گانہ قومیت کا احساس کسی طرح ختم کرکے ان کے ملی وجود کی جڑیں کھوکھلی کردی جائیں۔ خود مسلم لیگ نے اس بات کی کوشش کی کہ اس بحث کا مذہبی پہلو زیادہ سے زیادہ نمایاں کیا جائے تاکہ عوام کانگریس کی کھیل کو سمجھ سکیں اور اپنے دین و ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنے کی طرف متوجہ ہوں۔ “
مسلم لیگی رہنما مزید لکھتے ہیں۔
”دراصل پاکستان کی قرار داد سے پہلے ہی مختلف گوشوں سے ’’حکومت الہٰیہ“ ، ’’مسلم ہندوستان“ اور ’’خلافت ربانی“ وغیرہ کی آوازیں اٹھنے لگی تھیں۔ علامہ اقبال نے ایک ’’مسلم ہندوستان“ کا تصور پیش کیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مودودی صاحب کے لٹریچر نے حکومت الہٰیہ کی آواز بلند کی تھی۔ چوہدری فضل حق نے اسلامی حکومت کا نعرہ بلند کیا تھا۔ مولانا آزاد سبحانی نے خلافتَ ربانی کا تصور پیش کیا تھا۔ جگہ جگہ سے اس آواز کا اٹھنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسلمان اپنے مخصوص طرز فکر کی حکومت قائم کرنے کی ضرورت پوری شدت سے محسوس کررہے تھے اور حالات کے تقاضے کے طور پر ان کے عزائمِ خفتہ ابھر کر سامنے آرہے تھے۔ “
مولانا مودودی اور دو قومی نظریہ :
1937 ء میں کانگریس کی سیاسی تحریک اس قدر زور پکڑ گئی کہ بہت سے مسلمان خود علماء کرام کی بہت بڑی تعداد بھی ہندوؤں کے ساتھ مل گئی ۔کانگریس یہ کہتی تھی کہ ہندوستان کے مسلمان اور ہندو سب مل کر ایک قوم ہیں ۔یہ ایک ایسی خطرناک بات تھی کہ اگر اسے مان لیا جاتا تو ہندستان میں مسلمانوں کی علیحدہ حیثیت بالکل ختم ہوجاتی اور ان کا دین بھی خطرے میں پڑ جاتا ۔ کانگریس کے اس نظرئے کو ’’متحدہ قومیت ‘‘ یا ’’ایک قومی نظریہ ‘‘ کا نام دیا جاتا تھا۔ سید مودودیؒ نے اس خطرے کی شدت کو محسوس کرتے ہوئے اس کے خلاف بہت سے مضامین لکھے جو کتابوں کی صورت میں ’’مسئلہ قومیت‘‘ اور ’’مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش ‘‘ حصہ اول و دوم کے نام سے شائع ہوئے۔ ان مضامین میں سید مودودی نے زوردار دلیلوں سے ثابت کیا کہ مسلمان اور ہندو دو الگ الگ قومیں ہیں ۔کیونکہ دونوں کا تصورِ خدا،مذہبی عقیدہ،رہن سہن، اور طور طریقے سب جدا جدا ہیں، انہیں ایک قوم کہنا بالکل غلط ہے۔1940 ء کی قرارداد پاکستان کے بعد مسلمانوں کے بڑے بڑے رہنما اور مسلم لیگ کے دوسرے لیڈر بھی یہی بات کہنے لگے۔ اسے ’’ دو قومی نظریہ ‘‘ کہا جاتا ہے۔ سید مودودی نے مسلمانوں کی علیحدہ قومیت کے نظرئے کو اتنے اچھے اور عمدہ طریقے سے ہیش کیا کہ کہ اس خوبی کے ساتھ اب کوئی اور شخص مسلمانوں کے علیحدہ قومی تصور کی مدلل وکالت نہیں کرسکا تھا۔سید مودودی نے قرآن و حدیث سے دلائل دیئے۔۔۔۔اس طرح سید مودودی پہلے شخص تھے جنہوں نے نظریہ پاکستان کو علمی سطح پر دلائل کے ساتھ پیش کیا اور پاکستان کے حق میں دو قومی نظریہ کے لئے زبردست عقلی اور اسلامی دلائل فراہم کئے ۔
ان دلائل کا کانگریس کے ساتھ وابستہ علماء کرام کے پاس بھی کوئی جواب نہ تھا۔اس کے بعد پاکستان کا تصور مسلمانوں میں پختہ ہوگیا اور مسلم لیگ کے علیحدہ اسلامی اور قومی وطن کی مہم کو سید مودودی کے ان دلائل سے زبردست تقویت ملی۔
خود مولانا مودودی ؒ کے الفاظ ہیں کہ’’ 1937 ء میں مجھ کو حیدرآباد سے دہلی جانے کا اتفاق ہوا اس سفر کے دوران میں مَیں نے محسوس کیا کہ ہندوستان کے چھ صوبوں میں کانگریس کی حکومت قائم ہوجانے کے بعد مسلمانوں پر کھلی کھلی شکست خوردگی کے آثار طاری ہوچکے ہیں۔
دہلی سے جب میں واپس حیدر آباد جارہا تھا تو ریل میں ایک مشہور ہندو لیڈر ڈاکٹر کھرے (ڈاکٹر کھرے 1937کے انتخابات کے بعد سی پی کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے تھے ) اتفاق سے اسی کمپارٹمنٹ میں سفر کررہے تھے جس میں مَیں تھا اور بھی بہت سے مسلمان اس میں موجود تھے میں نے دیکھا کہ مسلمان ڈاکٹر کھرے سے بالکل اسی طرح باتیں کررہے ہیں جیسے ایک محکوم قوم کے افراد حاکم قوم کے فرد سے کرتے ہیں۔ یہ منظر میرے لئے ناقابل برداشت تھا۔حیدر آباد پہنچا تو یقین کیجئے کہ میری راتوں کی نیند اُڑ گئی سوچتا رہا کہ یا اللہ ! اب اس سرزمین پر مسلمانوں کا کیا انجام ہوگا۔ آخر کار میں نے وہ سلسلہ مضامین لکھا جو ’’مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش ‘‘ حصہ اول کے نام سے شائع ہوا۔ (جماعت اسلامی کے 29سال صفحہ 17 ایڈیشن ستمبر 2009 )
ہندوستان کی تقسیم
’’جب مسلمانوں کے ایک گروہ نے کہا کہ ہندوستان کی تقسیم اور اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر دینے کو کیسے گوارہ کیا جاسکتا ہے تو مولانا مودودی صاحب ؒ نے کہا کہ ’’ مسلمان ہونے کی حیثیت سے میری نگاہ میں اس سوال کی کوئی اہمیت نہیں کہ ہندوستان ایک ملک رہے یا دس ٹکڑوں میں تقسیم ہوجائے، تمام روئے زمین ایک ملک ہے انسان نے اس کو ہزاروں حصوں میں تقسیم کررکھا ہے۔ اب تک کی تقسیم اگر جائز تھی تو آئندہ مزید تقسیم ہوجائے تو کیا بگڑ جائے گا۔ اس بت کے ٹوٹنے پر تڑپے وہ جو اسے معبود سمجھتا ہو۔ مجھے تو اگر یہاں ایک مربع میل کا رقبہ بھی ایسا مل جائے جس میں انسان پر خدا کے سوا کسی کی حاکمیت نہ ہو تو میں اس کے ایک ذرے خاک کو تمام ہندستان سے زیادہ قیمتی سمجھوں گا۔ (سیاسی کشمکش حصہ سوم صفحہ 76-77)
مولانا مودودی کو مسلم لیگ اور تحریک پاکستان کا مخالف ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے
مسلم لیگ علماء کمیٹی کی رکنیت
قیام پاکستان کی جدوجہد کے دوان مسلم قومیت پر سید مودودی کے مضامین مسلم لیگ کے حلقوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتے رہے۔ بعد ازاں مسلم لیگ یو پی نے اسلامی نظام مملکت کا خاکہ تیار کرنے کے لئے علماء کی ایک کمیٹی بنائی تو مولانا مودودی نے اس کی رکنیت قبول کرتے ہوئے اس کام میں پوری دلچسی لی۔ اس کا مسودہ کمیٹی سے وابستہ ایک معاون تحقیق مولانا محمد اسحاق سندیلوی نے Working Paper تیار کیا تھا۔ اس کتاب کے پیش لفظ میں مولانا عبدالماجد دریا بادی لکھتےہیں۔
”غالبا 1940 ء یا شاید اس سے بھی کچھ قبل جب مسلم لیگ کا طوطی ہندوستان میں بول رہا تھا۔ ارباب لیگ کو خیال پیدا ہوا کہ جس اسلامی حکومت (پاکستان) کے قیام کا مطالبہ شد و مد سے کیا جارہا ہے خود اس کا نظام نامہ یا قانون ِ اساسی بھی تو خالص اسلامی بنانا چاہیے۔ اس غرض سے یو پی کی صوبائی مسلم لیگ نے ایک چھوٹی سی مجلس ایسے ارکان کی مقرر کردی جو اس کے خیال میں شریعت کے ماہرین تھے کہ یہ مجلس ایسا نظام نامہ مرتب کرکے لیگ کے سامنے پیش کرے۔ اس مجلس ِ نظام ِ اسلامی کے چار ممبران کے نام تو اچھی طرح یاد ہیں۔ (1) مولانا سید سلیمان ندوی (2) مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی (3) مولانا آزاد سبحانی (4) عبدالماجد دریا آبادی۔[
‘’ یو پی مسلم لیگ کی دعوت پر مولانا مودودی کی اجلاس میں شرکت ،
تحریک پاکستان اور تاریخ پاکستان سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے توجہ طلب بات ہے۔ اس سے پہلے 1937ء سے 1939 ء تک مولانا نے مضامین کا ایک طویل سلسلہ شروع کیا جو کہ کتابی صورت میں مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش کے نام سے شائع ہوا۔ ان مضامین کو مسلم لیگ کے حمایتی پرچے مثلاً ’’ماہنامہ پیامِ حق ‘‘ پٹھان کوٹ ، ’’القاسم ،امرتسر ‘‘ ، ’’مشور‘‘ دہلی، ’’طلوع اسلام ‘‘ دہلی وغیرہ میں شائع کرکے لیگی کارکنوں میں مفت تقسیم کرتے رہے۔1937 ء سے 1947 ء تک مسلم لیگ کے صف اول کے سینکڑوں لیڈر ان پرچوں کے خریدار تھے لیکن کسی کے ذہن میں یہ بات نہ آئی کہ مولانا مودوی اور ان کی جماعت تحریکِ پاکستان کی مخالفت کررہے ہیں ۔ اچانک اسلامی دستور کے مطالبے کا سن کر لیاقت حکومت نے یہ انکشاف کیا کہ مولانا اور ان کی جماعت پاکستان کے مخالف تھے۔نہ کوئی دلیل نہ تحقیق نہ کوئی گواہ صرف جلسوں کو گرمانے کے لئے فرضی بیانات اور جھوٹی قسمیں ‘‘
( عالمی تحریکِ اسلامی کے عظیم قائدین از افتخار احمد صفحہ 49-50)
اگر مولانا مودودی قائد اعظم اور تحریک پاکستان کے اتنے ہی مخالف تھے تو ایسے شخص کو جس نے ساری توانائی کسی کی مخالفت میں صرف کردی ہو اور جب وہ جدوجہد کامیابی کے مراحل میں ہو تو اس کا باقائدہ نظام مرتب کرنے کے لیے سب سے اگلی صفوں میں اسےلاکھڑا کیا جائے !!
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب حقائق یہ ہیں تو آخر جماعت اسلامی کے بارے تحریک پاکستان کے حوالے سے منفی پروپیگنڈہ کیوں کیا جاتا ہے؟ تو اس کا جواب بالکل واضح ہے کہ قیام پاکستان کے بعد جب جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے نفاذ کا مطالبہ کیا تو یہ منفی پروپیگنڈہ شروع کر دیا گیا۔ اس اسلام بےزار ٹولے کا المیہ یہ ہے کہ پہلے تو وہ دو قومی نظریہ کو تسلیم نہیں کرتا اور اس کی بنیاد پر ہندوستان کی تقسیم کو ہی غلط ثابت کرنے کے لیےالٹا لٹکتا نظر آتا ہے ، لیکن جب اس میں کامیابی نہیں ملتی تو لے دے کر مذہب اور مذہب پسندوں کو نشانہ بناتا ہے ۔۔ مگر کیا کیجیے کہ یہ مذہب اور مذہب پسند ان کے گلے کی وہ ہڈی ہیں جو اگلی جائے نہ نگلی جائے اور اسی سانس بندی کی کیفیت میں یہ آنکھیں باہر کو نکالے اول فول لکھتا اور بولتا چلا جاتا ہے۔ اب بھی حقائق دلائل کے ساتھ پیش کر دیے گئے مگر بس الزام الزام کھیلنا جن کا فن ٹھہرا ہو، وہ حقائق دیکھنے اور ان تک پہنچنے کی کوشش کیونکر کریں گے۔
مگر افسوس یہ کہ ایسے قلم کاروں کی زبان تو بگڑی ہی تھی، اب انھیں فکر کرنی چاہیے کہ دہن بھی اس طرزِ عمل سے بگڑ رہا ہے ؎
لگے منہ بھی چڑانے دیتے دیتے گالیاں صاحب
زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجیے دہن بگڑا

2 تبصرے “تحریک پاکستان میں مولانا موددی رحمہ کا کردار اور مخالفین کے الزامات

  1. ماشا ء اللہ بہترین جواب ہے ان لوگوں کئلئے جو بلا سوچے سمجھے جماعت پر ٹوٹ پڑتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں