Home » دھرنے ایسے بھی ہوتے ہیں – اسریٰ غوری
بلاگر اسریٰ غوری

دھرنے ایسے بھی ہوتے ہیں – اسریٰ غوری

سلام ہو تم پر اے دیوانو…….! کہ تم نے 29 دن برستی بارش ہو سخت سرد موسم ، تیز آندھی ہو یا یخ بستہ ہواؤں کے جکھڑ ، ہر مشکل کا مقابلہ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ دھرنا کیسا دھرنا تھا کہ جس میں نہ ہی ڈی جے تھا نہ ہی اسٹیج سے بھڑکتی موسیقی پر کسی کا نچنے نو دل کردا ۔۔۔۔۔

نہ ہی لیڈروں کی زبانیں کسی کی عزت اچھال رہی تھیں ۔۔۔۔ نہ ہی کارکنان کی بدزبانی تھی ۔۔۔۔ یہ دھرنا کیسا دھرنا تھا کہ اک دن بھی وہاں کوئی گلاس ٹوٹا نہ ہی کسی سرکاری عمارت کسی گاڑی یا کسی فرد واحد کو کوئی نقصان پہنچایا گیا ۔ پھر 29 دن اس دھرنے میں کیا ہوا ؟؟؟ کہ جس نے سب میں اک نیا جذبہ اک نیا جوش بھر دیا ۔۔۔۔ اور حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا. اس دھرنے میں دن رات اللہ کی کبریائی کا اعلان ہوتا رہا ۔ نیلے آسمان تلے باجماعت نمازوں میں سجدوں میں گڑگڑاتے رب کے بندے اسے منانے کی سعی کرتے رہے ۔۔۔۔۔ اللہ کو دیئے گئے عہد کی تجدید کی جارہی تھی اپنے حق کے لیے ڈٹے رہنا سکھایا جارہا تھا اک طرف بڑوں کے جذبات گرمایا جارہا تھا تو دوسری جانب بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کیا جارہا تھا ۔۔۔ ہر روز بچوں کے مقابلے ہوئے تقریری مقابلہ تو علمی مکالمے مباحثے تو کبھی کیلیگرافی مقابلہ ۔ کبھی کراٹے تو کبھی پوسٹر ڈیزائینگ۔۔۔۔۔

غرض اس دھرنے نے ہر دن میں بچوں بڑوں خواتین سب نے ملکر پوری دنیا خو کو دکھایا کہ اپنے حقوق کی جنگ ایسے بھی لڑی جاتی ہے۔۔۔ پر امن اور اپنے مقصد سے سچی لگن کیساتھ جڑے رہ کر خود کو مضبوط رکھ کر ………. مگر کیا کیجیے کہ … اس میں لگتی ہے محنت زیادہ ۔۔۔ مبارک باد کے مستحق ہیں اس دھرنے کے روح رواں حافظ نعیم الرحمن جنہوں نے یہ 29 دن اپنا چین سکون آرام اپنا نرم بستر اپنے بیوی بچے چھوڑ کر اسی سڑک پر اپنے کارکنان کے ساتھ سرد موسم کی سختیاں جھیلتے ان کے جذبوں کو ولولہ انگیز کرتے گزارے کسی اک لمحے کو بھی وہ نہ گھبرائے نہ تھکے نہ ہی پلٹنے کا سوچا ۔۔۔۔۔۔۔ اے شیر کراچی ۔۔۔۔ سلامت رہیے ۔ کراچی ہی کیا پورے پاکستان اور پاکستان سے باہر سے بھی ماون بہنو کی دعائیں ہر لمحہ آپ کو گھیرے ہوئے ہیں ۔۔۔ رب آپ سے بہت بڑا کام لے مالک ۔۔۔۔۔ آپ پر کبھی کوئی آنچ نہ آئے ۔

آپ ایسے ہی دیں ہی سربلندی کیلیے کام کرتے رہیں ۔۔۔۔۔۔ کراچی کی عوام کو اسکا اصل حق دلانے میں کامیاب رہیں ۔ مبارک کے مستحق ہیں وہ سب منتظمین جنہوں نے دن رات اس دھرنے میں ہر روز نئی ایکٹیوٹی ارینج کی کسی لمحے اس کا اثر کم نہ ہونے دیا اور مبارکباد کے مستحق ہیں وہ کارکنان وہ خواتین وہ بچے جو اس دھرنے کو چار چاند لگائے رہے ۔۔۔۔۔ 29 دن کے دھرنے میں آپ جس وقت چلے جائیں اپکو خواتین اور بچوں کی اک بڑی تعداد دھرنے میں شریک نظر آتی ۔ بے شک اللہ یہ دھرنا اس آیت کی تشریح پیش کررہا تھا ۔۔

وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍۘ-یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ یُطِیْعُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗؕ-اُولٰٓىٕكَ سَیَرْحَمُهُمُ اللّٰهُؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ(۷۱) ترجمہ : اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں ، بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانتے ہیں ۔ یہ وہ ہیں جن پر عنقریب اللہ رحم فرمائے گا۔ بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے

اور جب رات کے 2 بجے جب یہ دھرنا رب کی مدد سے کامیاب ٹہرا تو قربان جائیے اس لیڈر اور اس کارکنان کے کہ اس اک بڑی فتح پر نا ہی تکبر سے اسٹیج سے مکا لہرایا جاتا یے اور نہ ہی ڈی جے کے ساتھ بھنگڑے ڈالے جاتے ہیں ۔ بلکہ 29 دن سے شیر کی طرح للکارتا لیڈر آج رب کے آگے جھکا ہوا ہے . ہاتھ بلند کیے رو رہا ہے شکر گزاری سے اسکے کاندھے جھکے ہوئے ہیں ۔ دھرنے کے پنڈال سے رب کی کبریائی کا اعلان ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔ کارکنان اپنی اس فتح پر رب کے شکر گزار ہیں ۔ اپنی اس تاریخی فتح پر لیڈر اپنے کارکنان کو گلے لگا کر الوداع کہہ رہا یے کارکنان آتے ہیں حافظ نعیم الرحمن کے ساتھ گلے لگ کر آنسوؤں کی جھر مٹ میں اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں ۔ فلک بھی رات کے اس پہر اس منظر پر نازاں ہے چاند اپنی چاندنی بکھیر رہا ہے ستاروں کی تیز ہوتی چمک یہ پیغام دے رہی کہ ۔۔۔۔۔۔

سحر طلوع ہونے کو ہے ۔۔۔۔۔ سلام ہو تم پر اے دیوانو!
کہ تم نے دھرنوں کے نام پر اس ملک میں ہونے والی فحاشی اور فرعونیت کے مناظر دیکھنے کے بعد آج دنیا کو دکھایا کہ دھرنے ایسے بھی ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔