شبنم – اسریٰ غوری




رات کے اس پہر جب باہر نکلے تو دیکھا گاڑی جو باہر ہی کھڑی رہ گئی تھی …
جس کو شبنم کی بظاہر ننھی ننھی بوندوں نے ساری دن بھر کی مٹی اور گرد کو دھو ڈالا تھا ۔۔۔۔۔ سوچ رہی تھی صبح تک یہ شبنم کے ننھے قطرے ہر چیز پر سے دن بھر کی گرد و غبار کو ایسے ہی دھو ڈالتے ہیں اور ہمیں اگلی صبح ہر چیز فریش نظر آتی مگر ہم کبھی ان کی اس فریشنیس میں شبنم کا حصہ نہیں ڈالتے ۔۔۔
سوچنے لگی ہماری زندگیوں میں ایسے لوگ ہوتے جو شبنم کی بوندوں کی طرح اپنے ہونے کا پتا بھی نہیں لگنے دیتے مگر انکا ساتھ اور ان کی خاموش ڈھیروں دعائیں محبتیں ہماری زندگیوں سے دکھ تکلیف کے گرد و غبار کو ایسے ہی دھوتے جاتے جس کا ہمیں پتا بھی نہیں چلتا اور بس یہی سوچتے رہ جاتے ۔۔ یہ جو اتنی مشکل آئی تھی یہ کیسے اچانک حل ہوگئی ۔۔۔
بلکل ایسے ہی جیسے مین نے گاڑی کو شبنم سے نہائے دیکھا تو اک خوشی کا احساس سرشار کرگیا ۔۔ سوچنے کی بات یہ کہ کیا آپ بھی کسی کے لیے شبنم ہیں ؟ نہیں ہیں تو بن جائیے …… آج سے !

اپنا تبصرہ بھیجیں