ڈائجسٹ ، والد مرحوم کی یاد میں – عطیہ اقبال زیدی کی تحریر سے اک اقتباس




حشرات الارض کی طرح اُگنے اور پھر تھڑوں ہر بکنے والے ان ڈائجسٹوں سے ابی جان کو شدید نفرت تھی . منتشر الخیالی ، وقت کا بھی ضیاع ، ذہنی پراگندگی الگ. ابی جان اسے ذہنی عیاشی کہتے ،گھر میں کوئ ڈائجسٹ داخل نہیں ہونے دیتے تھے ،ہمارے گھر، نور، بتول، ایشیا، آئین، چٹان ،ترجمان القران، زندگی، جسارت اخبار کے علاوہ بس صرف اک ڈائجسٹ قدم رکھ سکتا تھا، اس کا نام تھا اردو ڈائجسٹ …….!

ابی جان کے ہاتھوں مجلّد کیئے ہوئے ، تجلّی دیوبند ، چراغ راہ، اور مشیر کے خاص نمبر، اور پرانے شمارے بےشمار تھے، جماعت اسلامی کی تقریباً تمام کتب ،گھر کیا اچھا خاصا دار المطالعہ تھا ،کبھی سیارہ ڈائجسٹ بھی نظر آتا، چودہ اگست والے دن کراچی سے نکلنے والے تمام۔اخبار آتے، اور سارا اگست پڑھے جاتے، محاورۃ کہتے ” . اپنی کتاب ،قلم اور سیف کسی کو نہیں دیتے “،لیکن خود احباب میں بھی طالب علموں میں بھی کتابیں فراخ دلی سے دیتے، اور ان کی واپسی کیلئے دیا گیا، وقت بھی یاد رکھتے باقی اگر کہیں کوئی ڈائجسٹ نظر آجائے، تو لانے والے کی گوشمالی ہوتی ، سخت غصّے ہوتے اور فوراََ پھاڑ کر بھی پھینک دیتے تھے ، کبھی کبھار بڑی بہن سمیہ باجی، اکا دکا، تعلیم وتربیت، اور نونہال کے شمارے بھی لے آتیں ، ورنہ بس بچوں کیلئے اسلامک پبلیکیشنز، کی چھوٹی چھوٹی کہانیوں کے پلندوں کے پلندے ۔آجاتے، کہ گرمیوں کی اسکول کی چھٹیوں میں یہ پڑھو، اسی طرح ٹی وی بھی بہت نہیں دیکھنے دیتے تھے ، بچوں کی تربیت کے معاملے سخت تھے، کہتے

“کھلاؤ سونے کا نوالہ رکھو، شیر کی نگاہ ” ہائے ابی جان،…….
ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے

اپنا تبصرہ بھیجیں