گوانتانا موبے کا جہنم،سابق افغان سفیر ملّا عبدالسلام ضعیف پر امریکی مظالم کی داستاں – چھٹی قسط




ہاں میں ضعیف ہوں: ایک دن صبح سویرے 24یا 25 جنوری 2002ء کو آٹھ نو بجے کے قریب تقریباً چھ آدمی میرے کمرے میں لائے گئے جن کے سروں پر تھیلیاں چڑھی ہوئی تھیں اور انہیں کمرے کے کونے میں بٹھا دیا گیا۔ ان کے ساتھ عربی زبان کے ترجمان بھی تھے اور ترجمانوں کے ذریعے انہیں بار بار کہا جاتا تھا کہ چپ ہو کر بیٹھ جاؤ اور بالکل خاموش رہو، باتیں بالکل نہ کرنا۔ ایک دو مسلح فوجی دروازے کے پیچھے بیٹھ گئے اور ایک لمحے کی خاموشی کے بعد آپس میں باتیں شروع ہوگئیں اور ان کے بار بار منع کرنے کے باوجود ہماری باتوں میں تیزی آتی رہی اور فوجی بھی خاموش بیٹھے رہے۔ بالآخر عربی ترجمان آیا اور بہت کوشش کے باوجود ہمیں خاموش کرانے میں ناکام رہا۔ ایک عرب بھائی نے مجھ سے پوچھا:’’آپ ضعیف تو نہیں؟‘‘میں نے کہا ’’ہاں میں ضعیف ہوں‘‘ پھر ان چھ بھائیوں نے مجھ سے باتیں کیں اور تسلی دیتے تھے انہوں نے مجھ سے اپنا تعارف کروایا ان چھ کے نام یہ ہیں: سالم سقر، سلمان یمنی، شیخ فیض کویتی، شمیر الجزائری، طارق (جو کہ اصلاً جزائر کے تھے لیکن لندن کی نیشنلٹی تھی) محمد قاسم حلیمی افغانی، ہمیں یہاں کسی سے چھپایا گیا تھا اور ہم یہ سمجھ گئے تھے اس لیے ہم بلند آواز سے بولتے تھے۔ یہ ہمارے پیچھے دروازے کیوں بند ہے؟
ہم سب کو ایک ساتھ تنگ جگہ پر کیوں رکھا جا رہا ہے؟ وہ جواباً کہتے تھے کہ دروازہ اس لیے بند رکھا ہے کہ یہاں کچھ لوگ آتے رہتے ہیں اور اگر انہیں تمہارا پتا چل گیا تو تمہیں قتل کر دیں گے لیکن ہم سمجھ گئے تھے کہ یہ بات بالکل جھوٹ ہے بلکہ بات کوئی اور ہے۔ عصر تک یہ لوگ میرے ساتھ رہے پھر ان کو وہاں سے لے جایا گیا۔ میری گرفتاری کے بعد یہ دن میرے لیے سب سے اچھا تھا۔ صبح پھر یہ لوگ میرے کمرے میں لائے گئے اور میں ایک بار پھر خوش ہوا۔ اس لیے کہ یہ لوگ اور قیدیوں کے ساتھ تھے ۔ میں نے ان سے پوچھا کہ گزشتہ دن کیا ماجرا تھا تو انہوں نے کہا کہ اس دن ہلال احمر کا نمائندہ آیا تھا اور وہ قیدیوں سے خطوط وصول کر رہا تھا تاکہ انہیں ان کے عزیز و اقارب تک پہنچائے اور ہمیں ان سے چھپانے کے لیے یہاں لایا گیا تھا اور آج پھر وہ آرہے ہیں اس لیے وہ دوبارہ ہمیں یہاں چھپانے کے لیے لے آئے۔
ارضِ جہاد کی مقدس مٹی: عصر کے وقت پھر انہیں یہاں سے نکال کر دوسری جگہ لے جایا گیا اور میں اپنے خراب دیواروں والے کمرے کے اندر اکیلا رہ گیا ۔ان دنوں ہمیں بہت زیادہ کھانا ملتا رہا اور یہ پہلی بار تھا کہ میں خوب سیر ہوا۔ اس دفعہ میں نے حلیمی صاحب کو بھی پہچانا۔ دو دن بعد مجھے نیچے کمرے میں لے جایا گیا اور وہاں حلیمی صاحب اور سالم سقر بھی موجود تھے۔ سالم بھائی کا وہ قصہ ابھی تک میرے کانوں میں گونج رہا ہے جو وہ سنا رہا تھا ۔وہ کہہ رہا تھا کہ میری ایک چھوٹی معصوم بچی تھی جو تازہ تازہ بولنا سیکھ رہی تھی۔ چیختی تھی کہ (ابی سرد) ابو جی سردی ہے۔ اور اس کی والدہ روتی رہی اور بددعائیں دیتی رہی۔
اس لیے کہ قندھار میں ہمارے لیے کوئی جائے پناہ نہ تھی۔اوپر سے مسلسل بمباری جاری تھی۔ میں اور بچی کی والدہ بے بس تھے اور بچی کی بار بار سردی کی شکایت اور رونے پر ہم بھی اس کے ساتھ رو رہے تھے۔ یہاں سے منتقلی کے وقت کافی تکلیف کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ قندھار شہر پر ابھی قبضہ نہیں ہوا تھا کہ میں نے اپنے بچوں کو دیگر عرب خواتین کے ہمراہ چمن پہنچایا۔ عرب خواتین افغان سر زمین کی مٹی اپنے دو پٹوں کے ساتھ باندھ کر چل رہی تھیں۔ میں نے ان سے افغان مٹی ساتھ لے جانے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ افغانستان شہداء اور غازیوں کا ملک ہے اور ہمیں اس کا دیدار پھر کبھی نصیب نہ ہوگا اس کی کچھ نشانی ہم ساتھ لے کر چلتے ہیں .
یہ وہ واحد سر زمین ہے جس پر اللہ تعالیٰ کے احکام نافذ ہوئے ۔دوسری جگہ منتقلی: تین دن سے ہم تینوں بھائی یہاں ساتھ تھے اور آخری دن ہمیں ایک اور جگہ منتقل کیا گیا ۔رات ہوگئی تھی ۔حلیمی صاحب کو تحقیق کے لیے لے گئے اور ہم نے عشاء کی نماز پڑھی۔ اس کے بعد فوجی آئے اور ہمیں نیچے کمرے میں لے گئے۔ وہاں دوسرے بھائیوں کے ہاتھ پیر باندھتے ہم نے دیکھا اور ایسا لگ رہا تھا کہ ان کو دوسری جگہ منتقل کیا جا رہا ہے۔ تقریبا بیس کے قریب قیدی یہاں موجود تھے۔ جن کے ہاتھ پاؤں اور سر مضبوط باندھے گئے تھے جو کہ کسی اور جگہ منتقلی کی علامت تھی۔
قندھار منتقلی: بڑی تیزی کے ساتھ فوجیوں نے میرے ہاتھ پاؤں باندھے اور سر پر وہی کالا تھیلا پہنچایا اور پھر میرا سر دوسرے قیدی کے شانے پر ٹکائے رکھا اور اسی طرح میرے شانے پر ایک اور قیدی کا سر لگایا۔ ایک گھنٹہ تک یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا۔ اس کے بعد ہم سب کو کھڑا کیا گیا اور اونٹوں کی طرح ایک لائن میں کھڑا کرکے ہمارے ہاتھوں کو ایک پتلی سی تیز دھار رسی سے باندھا گیا۔ فوجی ہی رسی دائیں بھائیں کھنچتے تو قیدیوں کی چیخیں درد و تکلیف کے مارے آسمان سے باتیں کرتیں ۔اس لیے کہ رسی ان کے بار بار مختلف سمتوں میں کھینچنے سے ہاتھوں کے اندر گھس جاتی تھی اور درد و تکلیف میں اضافہ ہوتا رہتا تھا۔ ہماری اس لائن میں ایک قیدی نافع جو کہ سوڈان کے تھے اور ان کے دونوں پاؤں پہلے سے شدید زخمی تھے وہ غریب مظلوم بہت چیختا تھا۔
پہلی قسط
دوسری قسط
تیسری قسط
چوتھی قسط
پانچویں قسط
ساتویں قسط
آٹھویں قسط
(نائن الیون کے بعد جب امریکی افواج نے اتحادیوں کے ساتھ مل کر افغانستان پر حملہ کیا تو طالبان کی امن پسندقیادت کوبھی چن چن کر تحقیقات کے نام پر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور گوانتاناموبے کی بدنام زمانہ جیلوں میں انہیں جانوروں سے بدترزندگی گزارنے پر مجبور کیاگیا تاہم ان میں سے اکثر قیدی بے گناہ ثابت ہوئے ۔ملا عبدالسلام ضعیف افغان حکومت کے حاضر سفیر کے طور پر پاکستان میں تعینات تھے لیکن امریکہ نے اقوام متحدہ کے چارٹراور سفارت کے تمام آداب و اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے پاکستانی حکومت کو مجبور کرکیااور انکو گرفتارکرکے گوانتانہ موبے لے جاکر جس بیہیمانہ اور انسانیت سوز تشدد کوروا رکھا اسکو ملاّ ضعیف نے اپنی آپ بیتی میں رقم کرکے مہذب ملکوں کے منہ پر طمانچہ رسید کیاتھا ۔انکی یہ کہانی جہاں خونچکاں واقعات ، مشاہدات اور صبر آزما آزمائشوں پر مبنی ہے وہاں ملاّ صاحب کی یہ نوحہ کہانی انسانیت اورامریکہ کا دم بھرنے والے مفاد پرستوں کے لئے لمحہ فکریہ بھی ہے۔دورحاضر تاریخ میں کسی سفیر کے ساتھ روا رکھا جانے والا یہ حیوانی سلوک اقوام متحدہ کا شرمناک چہرہ بھی بے نقاب کرتا ہے)۔

3 تبصرے “گوانتانا موبے کا جہنم،سابق افغان سفیر ملّا عبدالسلام ضعیف پر امریکی مظالم کی داستاں – چھٹی قسط

  1. Pingback: گوانتانا موبے کا جہنم - سابق افغان سفیر ملّا عبدالسلام ضعیف کی داستاں - تیرہویں قسط - نوک قلم
  2. Pingback: گوانتاناموبے کا جہنم - سابق افغان سفیر ملّا عبدالسلام ضعیف کی داستاں - پندرہویں قسط - نوک قلم
  3. Pingback: گوانتانا موبے کا جہنم - سابق افغان سفیر ملّا عبدالسلام ضعیف پر امریکی مظالم کی داستاں - گیارہویں قسط - نوک قلم

اپنا تبصرہ بھیجیں