قائداعظم مولانا مودودی کی نظر میں




مولانا مودودی نے فرمایا :
“جب میں نے ملکی سیاست میں دلچسپی لینی شروع کی تھی ، میرے دل میں مسلمانوں کے جن لیڈروں کا احترام سب سے زیادہ تھا ، ان میں قائد اعظم مرحوم بھی تھے۔ میں نے ان کو ایک با اصول ، راست بازاور مضبوط سیرت و کردار کا مالک انسان سمجھا ۔ 1920ء سے (قائد اعظم کی رحلت) 1948 تک میرے دل میں ان کے متعلق کبھی بدگمانی پیدا نہیں ہوئی کہ وہ اپنے ضمیر کے خلاف کوئی بات کہہ سکتے ہیں.”
قائد اعظم نےاس موقع پر یوپی مسلم لیگ اسلامی دستور کے خدوخال مرتب کرنے کے لیے جید ماہرین شریعت کی ایک مجلس تشکیل دی تو اس میں سید مودودیؒ کو بھی شامل کیا ۔ مولانا مودودیؒ نے اس کمیٹی کی رکنیت کو قبول کیا اور پوری دلچسپی سے اپنا کام کیا.
قائد اعظمؒ نے اس موقع پر فرمایا:
“وہ سید مودودیؒ کی خدمات کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ ان کی جماعت اگر مسلمانوں کی زندگی اور کردار کی تطہیر میں مصروف ہے تو مسلم لیگ اس سے زیادہ فوری اہمیت کے کام یعنی آزاد ریاست کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔ جہاں تک آخری منزل مقصود کا تعلق ہے ، جماعت اسلامی اور مسلم لیگ میں فرق نہیں.”

اپنا تبصرہ بھیجیں