سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ اور لادینی نظام




“آج بھی آپ واہگہ کی سرحد پر کھڑے ہو کر دیکھ لیجیئے کہ کیا کوئی پہاڑ پاکستان اور ہندوستان کو الگ کر رہا ہے؟ کیا ان کے درمیان کوئی دریا حائل ہے جو دونوں ملکوں کے لیئے ہزاروں میل لمبی سرحد بن گیا ہو؟
کیا انہیں ایک دوسرے سے الگ کرنے والی کوئی دوسری جغرافیائی رکاوٹ موجود ہے؟ اس کے برعکس وہاں تو کھڑے ہو کر یہ پتا ہی نہیں چلتا کہ کس جگہ پاکستان کی حد ختم ہوتی ہے اور کہاں سے ہندوستان شروع ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اصل سرحد دین اور لادینی کی ہے جو لوگ پاکستان میں سیکولرزم یا کوئی اور لادینی نظریہ لانا چاہتے ہیں وہ اس سرحد کو مٹانا اور پاکستان کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔
اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیجیئے کہ اگر ہم یہاں اسلام کا نظام قائم نہیں کرتے تو عملاً ہم تقسیم ہند کا جواز ختم کردیتے ہیں۔ اگر یہاں لادینی نظام قائم ہوتا ہے تو اکھنڈ بھارت کا خواب پورا ہونے میں کتنی مدت لگے گی؟”
( سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ )

اپنا تبصرہ بھیجیں