خدا کی رحمتیں ہوں آپ پر سو بار مودودی – زبیر منصوری




میں دور ایک ویرانے میں ہوں …….. کچھ نوجوان ساتھ ہیں …….. نہ نیٹ ہے …….. نہ سگنلز! کوئی آج کے دن میرا سلام وہاں لاہور میں مرشد تک پہنچا دے گا؟
میرا استاد ، میرا مربی ، میرا قائد ، میرا رہنما ………. سچ تو یہ ہے کہ میں بے مقصد زندگی کی کسی کھائی میں گرا ہوا ہوتا ، کہیں وقت کے طاغوت کے کسی کمی کمین کی خدمت میں مصروف ہوتا ، نظام ظلم کی غلاظت کے کسی چھکڑے کو کھینچ رہا ہوتا ، کہیں لاشعوری کی زندگی میں ابلیس کی مزدوری میں لگا ہوا ہوتا . اگر مرشد مودودی رح کی تحریر تک نہ پہنچتا ………. مجھے اگر خطبات و دینیات نہ ملتے . مجھے اپنے استاد کی رہنمائی نہ ملتی . مجھے وہ یہ نہ سمجھاتے کہ دیکھو اللہ کی ساری ہدایات اور سارے نبیوں کی آمد کا مقصد اللہ کی زمین پر اللہ کے بندوں پر اللہ کی مرضی چلانا ہے . دیکھو ! اللہ کے بندوں تک پہنچو ان سے محبت کرو ان کی خدمت کرو اور انہیں اور خود کو بس اللہ سے جوڑنے (کسی جماعت کسی فرد کسی شخصیت سے جوڑنے نہیں )کی جدوجہد میں لگے رہے . اس نے مجھے سکھایا کہ دین کا قائم ہو جانا افضل ترین کام ہے اور اس کی جدو جہد افضل ترین عبادت
پھر میں نے اس کا اپنا عمل جانچنے کے لئے ان کی زندگی پر نظر ڈالی تو وہ حیدآباد دکن کا نستعلیق انسان شستہ اردو بولنے والا باوقار وضع قطع کا انسان مجھے اس کام کے لئے وقف ملتا ہے وہ اس مقصد زندگی کے لئے اپنی نواب خاندان کی اہلیہ کو لے کر پٹھانکوٹ کے جنگل مین ادارہ بنا کر جا بستا نظر آتا وہ مٹی کے گھر میں رہتےاور خود لکڑیاں جلا کر کھانا بناتے ہیں اور اپنے خواب میں خون جگر سے رنگ بھرنے لگتے ہیں . اسلام کو عام فہم اسلوب میں پڑھے لکھے طبقے کے لئے قابل فہم بناتے ہیں . مخالفین سے گالیاں سنتے اور خاموشی سے کوئی جواب دئیے بغیر اپنا کام جاری رکھتے ہیں . حلم اس درجہ کا کہ عین چوپال میں ایک شخص غصہ دلانے کے لئے کہتا ہے …….. مولانا مجھ سے اپنی بیٹی کی شادی کر دو اور وہ متانت سے جواب دیتا ہے . بیٹا ایسی بات یوں نہیں کرتے اپنے ماں باپ کو بھیجتے ہیں . اس بہادر انسان کو کاش انسانیت جان لیتی
کاش لوگ دوسرون کے حوالے سن کر رائے بنانے کے بجائے خود براہ راست ایک بار بس ایک بار اسے پڑھ لیں . بس ایک بار ، صرف ایک بار …….. ہے کوئی عدل کا علمبردار جس نے ابھی تک اسے خود نہ پڑھا ہو …….. جو اسے ایک بار خود پڑھنے اور سمجھنے کو تیار ہو؟؟؟

اپنا تبصرہ بھیجیں