سید مودودی پرعزم زندگی – گمنام گوشے از محمد حسین شمیم




غالباً 1973 کا زمانہ تھا لینن گراڈ (سوویٹ روس) سے ایک خط آیا ۔ پتہ صرف اتنا لکھا تھا :

مولانا مودودی , امیر جماعت اسلامی پاکستان
یہ خط بحفاظت مولانا کو اچھرہ لاہور کے پتہ پر مل گیا ۔ خط ایک افریقی نوجوان نے لکھا تھا جو لیفٹیننٹ کے طور پر روس میں زیر تربیت تھا ۔ اس نے انگریزی کے جس ٹوٹے پھوٹے رسم الخط میں لکھا تھا وہ عام طور پر پڑھا نہیں جاسکتا, مولانا محترم نے مجھے فرمایا کہ اسے ٹائپ کردوں ۔

چونکہ میں نے ایسے بیشمار رسم الخط پڑھے ہوئے تھے اس لئے کچھ زیادہ دقت پیش نہیں آئی میں نے خط ٹائپ کرکے مولانا کی خدمت میں پیش کیا۔ افریقی نوجوان نے لکھا تھا :
میں مسلمان ہوں یہاں کمیونسٹوں سے خدا اور قیامت کے بارے میں بحث ہوتی رہتی ہے میں ان کے دلائل کا اطمینان بخش جواب دینے سے قاصر ہوں، آپ میری رہنمائی فرمائیں گے؟ مولانا نے افریقی جوان کو حوصلہ افزائی کا خط لکھا اور ساتھ ہی مجھے ہدایت کی کہ “سلامتی کا راستہ “توحید و رسالت اور زندگی بعد موت کا عقلی ثبوت” کے انگریزی تراجم بھجوادیں میں نے مولانا کا خط اور یہ انگریزی لٹریچر انہیں بجھوادیا۔ خدا کی شان کچھ عرصہ بعد افریق نوجوان کا خط آیا ۔ انہوں نے لکھا تھا کہ life after death کا پمفلٹ پڑھ کر جب میں نے روسی کمیونسٹوں سے بات کی تو وہ ششدر رہ گئے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا میرے ہاتھ میں میزائل ، اینٹی میزائل آگئے ہیں۔

میں آپ کو یہ خط لکھتے ہوئے مسرت محسوس کررہا ہوں کہ بفضل خدا ان لوگوں کا منہ بند ہوگیا ہے۔ براہ کرم میری رہنمائی جاری رکھیں۔۔۔۔۔مولانا کے ارشاد پر انہیں مزید مناسب کتب بھجوادی گئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں