سید مودودیؒ کے قافلے کے ایک امیر – افتخار احمد




جب قاضی حسین احمدؒ نے شیخ القرآن مولانا گوہر الرحمٰنؒ جو کہ امیر صوبہ تھے سے استعفیٰ طلب کیا تو شیخ صاحب نے استعفٰی پیش کیا اور صوبائی امارت سے سبکدوش ہوئے لیکن پارٹی سے علیحدہ نہیں ہوئے اور ایک کارکن کی حیثیت سے کام کرتے رہے. استعفیٰ کے معاملے میں ایک خط کے جواب میں مولانا گوہر الرحمٰنؒ رقمطراز ہے:

جماعت اسلامی کی دعوت انبیاء کی دعوت ہے لہٰذا اس کا طریقہ کار بھی انبیاء ہی کا ہونا چاہیے۔ میں نے امارت صوبہ سے استعفیٰ قاضی صاحب کے حکم پر دیا تھا جو انہوں نے منظور فرما کر صوبے کی امارت اس کو سونپ دی جو انکی نگاہ میں اہل تر تھا۔ لیکن مولانا مودودیؒ کی تحریکی فکر کے مطابق کام کرنے والی جماعت اسلامی کو میرے دل و دماغ سے کوئی نکال نہیں سکتا اور ایک “کھلی عوامی سیاسی پارٹی” کے طور پر کام کرنے والی جماعت کیلئے میرے دل کے دروازے کوئی کھول نہیں سکتا۔ مولانا مودودیؒ کی قائم کردہ جماعت ایک دینی تحریک ہے اور اسے قرآن و سنت کے صراط مستقیم پر قائم رکھنے کی جدوجہد کرنا ہم سب کا فرض ہے میں تو اپنے طور پر یہ کوشش کررہا ہوں مگر آپ جیسے مخلصین کو بھی کوشش کرنی چاہیے! اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی زندگیوں میں بھی صراط مستقیم پر قائم رہنے کی توفیق بخشے۔ ( تفہیم المسائل ج 3 )

شیخ گوہر الرحمٰن اس تحریک کے مقصد کو سمجھ گئے تھے اسلئے اس نے پارٹی اختلاف کی وجہ سے تحریک کو نہیں چھوڑا اور مرتے دم تک کارکن کی حیثیت سے سید مودودیؒ کی اس قافلے میں شامل رہے

اپنا تبصرہ بھیجیں