یہ نئے مزاج کا شہر ہے – عالیہ زاہد بھٹی




موبائل اسکرین کو اسکرول کرتے ہوئے میری نگاہ ایک ویڈیو اسٹیٹس پر جم سی گئ . جس میں آواز کے ساتھ تحریر لکھی آرہی تھی . جس کا متن کچھ یوں تھا…….
“یہ شوہر کا فرض ہے کہ سب کو بتادے کہ یہ میری بیوی ہے اسے کوئی تنگ نہ کرے اور اس کی عزت کرانا شوہر کا فرض ہے وغیرہ وغیرہ”……. اسی طرح کے اسٹیٹس کم وبیش پچھلے کچھ عرصے سے مختلف نئی شادی شدہ بچیوں کے دیکھ رہی ہوں . معاشرے میں وہ تغیّر دیکھ رہی ہوں کہ سولہ سترہ سالوں میں زندگی اور اس کے معیارات اس قدر بدل گئے کہ محض سولہ سترہ سال پرانی بیاہتاؤں اور چار پانچ سال پرانی اور اس دورانیے سے اب تک کی نوبیاہتاؤں کے مزاج ، معیار، ایثار، حصار، اور معاملات میں اس قدر تغیّر وتبّدل ؟ کہ ایک نوجوان ” دینی اسپیکر ” ہیں …..کوئی ان کی ویڈیو ہر طرف وائرل ہے کہ “کیا مرد کے والدین کی خدمت فرض ہے؟ اس کا جواب بڑے استغنا اور شان بے نیازی سے محترم یہ دیتے ہیں کہ ناں بلکل نہیں،ہرگز فرض نہیں ہے. اور مرے پہ سو درے کے مصداق مزید فرماتے ہیں کہ کیا مرد اپنی بیوی کے والدین کے پاؤں دباۓ گا؟ بس جو اس کا جواب ہے وہی پہلے سوال کا جواب ہے”
صرف یہی نہیں بلکہ اس اسپیکر کے علاوہ دیگر اسٹیٹس بھی اس طرح کی کیٹیگری کے کانٹیکسٹ میں یہی چل رہے ہیں کہ جو مرد راتوں کو جاگ کر بچے سنبھالے، گھر کے کاموں میں بیوی کا ہاتھ بٹائے بس وہی مرد ہیں وہی اچھے ہیں اور وہی قدردان ہیں …… مطلب جو بے چارے یہ سب کچھ کرنے سے قاصر ہیں ان کے اوپر وفا،مہر ومحبت وغیرہ کے ٹیگز نہیں لگیں گے . اب ان بے چارے مردوں نے کماکماکر بیگمات اور بچوں کو کسقدر سہولیات فراہم کی ہوں، ان کے سکھ چین کی خاطر گرم دنوں میں اپنے آپ کو دھوپوں میں جلایا ہو،سرد راتوں میں جاگ جاگ کر کمایا ہو مگر جی وہ …….
“اپنی بیگمات کے کاموں میں ہاتھ نہیں بٹاتے ، وہ راتوں کو جاگ کر بچے نہیں سنبھالتے کہ گھر میں رہ کر کام کر کر کے تھکی ہوئی بیگم تھوڑا آرام کر لے”
بہت ظالم اور یزید ہیں ایسے مرد،ناقدرے ہیں،محبت کا پاس ہی نہیں ان کو جانے کس کے لئے اپنے آپ کو ہلکان کیئے دیتے ہیں کہ بیگمات کی ذرا فکر نہیں؟ کیا ان ناقدر شناس گروہ والوں کو معلوم نہیں کہ نبی مہربان محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیگمات کا کسقدر ساتھ دیا کرتے تھے؟ یہ ہے وہ نکتہ جو ڈرا دیتا ہے ان حلال کما کر اپنے بیوی بچوں کو کھلانے کی فکر کرنے والے ان بے چارے مردوں کو کہ جن کے اوپر یہ تمام ناقدر شناسی کے الزامات لگے ہیں کہ کیسے کر لیا پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب کچھ اتنی تبلیغ ، اتنی جدوجہد اتنے غزوات،اس قدر مسائل کے ساتھ کیسے گھر کے تمام کام بھی اپنے ہاتھوں سے، بیگمات کی دلجوئی بھی سب کچھ کیسے؟ آئیں ذرا ان بے چارے مردوں کے اس طبقے کا یہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کریں….!
غارِ حرا میں خلوت نشین میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم گھنٹوں اور دنوں کے حساب سے گھر سے باہر، جب بھی گھر آئے اس دورانیے میں بیگم کی دلدہی اور عاشق زار شوہر کا روپ ، نبوت کے بارِ گراں سے گھبرائے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گھر آمد پر محبوب زوجہ کا مہربان و شفیق روپ اب بیگم دلجوئی کے فرائض انجام دے رہی ہیں، اہل مکہ کی ریشہ دوانیوں پر بیوی بچوں کا کردار اپنا بیٹا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان کرتی بیوی خدیجہ رضی اللہ،شعب ابی طالب کی گھاٹی میں چمڑے اور پتے چبا کر بھوک مٹاتی خدیجہ رضی اللہ ……. اپنا تمام تر سرمایہ نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں وقف کرتی خدیجہ رضی اللہ …….. دنوں،ہفتوں اور بعض اوقات مہینوں غزوات میں مصروف نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم اور گھروں میں فاقوں سے دوچار ازواجِ مطہرات ……. ان دنوں،ہفتوں اور مہینوں بعد آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی واپسی پر بھی ان ازواج مطہرات کی بے پایاں وارفتگی،محبت وشیفتگی کے جواب میں میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی دلدہی اور دلجوئی آج کی بیگمات کو نظر آرہی ہے تو ان ازواج کی وارفتگی،والہانہ پن،جانثاری،عاشق زاری
ہمارے عہد کی بیگمات کو نظر کیوں نہیں آتیں ……. کہتی ہیں کہ خاوند نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت جیسا ہو . تو بی بیو! زوجہ بھی تو خدیجہ،سودہ،حفصہ،عائشہ اور ام سلمی جیسی ہوں . جان نثار کی جاتی ہے تو جان سے پیارے لگتے ہیں . دل وارے جاتے ہیں تو دل کی دھرتی میں آم کے بور جیسے میٹھے پھل لگتے ہیں ، دھڑکنوں کو محبوب کے دل کی دھڑکن سے ہم آہنگ کیا جاتا ہے تو محبت کے سوتے پھوٹتے ہیں……. ارے تم نے سنا نہیں میرا رب ، ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا رب بھی تو مجھ سے یہی کہتا ہے تو ایک قدم چل میں دوڑ کر آؤں گا. ارے وہ پہلے قدم کی الفت ، وہ محبت ، وہ یگانگت ، وہ قربانی ، وہ ایثار ، وہ جانثاری مجھے ثابت کرنی ہے ……. جس پر مجھے کہا جارہا ہے کہ تیرا نہ ہوجاؤں تو پھر کہنا!
ہائے ہائے ! دورِ حاضر کی چند بیییو! مثلِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم زوج مانگنے سے پہلے”سیرت صحابیات” ضرور پڑھنا تم مثلِ خدیجہ وعائشہ بن جانا تمہارے زوج بھلے سے مثلِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نہ بن سکیں مگر میرا ایمان ہے کہ تم ضرور فلاح پاجاؤگی اور تمہاری فلاح تمہارے زوج اور تمہاری پوری نسل کی فلاح ہے . آسان لفظوں میں یہ کہ زندگی میں کچھ بھی ہم پر فرض نہیں ہے سوائے پانچ نمازوں ،تیس روزوں،زکوۃ اور حج کے(آخرالذکر دونوں بھی صاحب نصاب ہونے کی صورت میں) سو یہ سنت نوافل اور فرائض کی بحث میں الجھے بغیر صرف اتنا جان لو کہ نبی مہربان صلی اللہ علیہ اور خلفائے راشدین اگر گھر بیٹھ کر آٹا گوندھتے،روٹیاں پکاتے،اور بچے پالتے رہتے تو نہ مکہ فتح ہوتا اور نہ ہی اسلامی ریاست کی توسیع ہوتی ….. یہ دلداریاں ناز برداریاں ہر چند کہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ ہیں مگر
اقامت دین کی جدوجہد سے بچ رہنے والے وقت میں ……اللہ پاک کے دیۓ فرائض کی انجام دہی کے بعد یاد رہے کہ مرد پر اللہ سبحان و تعالی کے عائد کردہ فرائض میں والدین کی خدمت سرِ فہرست ہے کہ ایک صحابی کو جہاد پر جانے سے اس لئے روک دیا گیا کہ ان کی والدہ بوڑھی،لاچار اور بیمار تھیں . تو جہاد کی فرضیت موقوف ہو گئ جہاں وہاں مجھ جیسی بیگمات کو سوچ لینا چاہئے کہ میرے اوپر اپنے شوہر کی اطاعت و خدمت فرض ہے . شوہر پر نہیں اس کے اوپر صرف میری نازبرداری کا کام ہے اور وہ بھی فرائض کے بعد …… سو اگر میں اور میرے جیسی دیگر بیگمات چاہتی ہیں کہ میاں جی کا زیادہ وقت ہماری نازبرداریوں میں گزرے تو انہیں پھر اپنے شوہر کے فرائض میں اپنا حصہ ڈال کر اسے سرخرو کرنا ہوگا. اس کے فرائض محبت کے ساتھ اپنے ذمے لے کر اس کی محبت کو اپنے لئے مختص کرنا ہوگا
وگرنہ حقوق وفرائض کی جنگ میں تھکا ماندہ مرد چڑچڑے پن سے آپ کو”بھگتائے” گا محبت اور وارفتگی سے نہیں …. اگر آپ ایسا نہیں چاہتیں تو پھر یہ سوال رہنے دیں کہ کیا فرض ہے؟ بلکہ آپ کو محبت چاہیے حقیقی معنوں میں تو محبت تقسیم کریں اس پر ضرب پڑے گی تو آپ نہال ہو جائیں گی …… مان کر دیکھئے اک بار!

اپنا تبصرہ بھیجیں