صبح منور شام منور – سیلانی




یہ 80ء کی دہائی کی بات ہے، جب ایم کیو ایم نے اپنے تئیں کراچی “فتح” کر لیا تھا. بلدیاتی الیکشن میں کامیابی نے گویا مقتدر قوتوں کی جانب سے اسکی کامیابی پر قبولیت کی مہربھی لگادی تھی کہ اب کراچی آپکے حوالے ہوا،اسکے بعد الطاف حسین نے کراچی میں مخالفین کی صفائی شروع کردی تھی .
سامنے سب سے بڑی رکاوٹ جماعت اسلامی تھی، ایم کیو ایم کے بدمست کارکن روزآنہ کہیں نہ کہیں جماعت اسلامی کے کارکنان کو اٹھالے جاتے اور ٹارچر کرکے پھینک دیتے ان کے گھروں پر فائرنگ ہوتی آتے جاتے ڈرایا دھمکایا جاتاحالات بدستور کشیدہ چل رہے تھے اور مزید کشیدہ ہوتے جارہے تھے یہ صورتحال ان کے لئے بھی پسندیدہ نہ تھی جوایم کیو ایم کو اس راستے پر نہیں دیکھنا چاہتے تھے ایم کیو ایم کے وائس چیئرمین عظیم احمد طارق مرحوم کا تقریبا ساراخاندان جماعت اسلامی سے وابستہ تھا ان کی کوششوں سے جماعت اسلامی کے وفد کی نائن زیرو پر الطاف حسین کے ساتھ ملاقات رکھی گئی ،وفد وہاں پہنچا ملاقات شرو ع ہوئی کشیدہ صورتحال پر بات ہونے لگی الطاف حسین نے کسی صاحب کو آواز دے کر بلایا وہ آیا تو اسکے ہاتھ میں ایک کاغذ تھا جسے لے کر الطاف حسین نے کہنا شروع کیا آج یہاں یہاں مساجد میں آپکا درس قرآن ہوا ان ان علاقوں اجتماع ہوئے اور ان علاقوں میں تربیتی نشستیں ہوئیں ،جس پر جماعت کے وفد میں موجود ایک صاحب نے فورا کہا یہ تو دین کی دعوت ہے یہ سرگرمیاں تو چلتی رہی ہیں اور چلتی رہیں گی .
یہ سن کر الطاف حسین نے نفی میں سر ہلایا اور کہا کہ اب کراچی ہمارا ہے ہ میں اسے نمٹنے دیجئے جماعت کو اپنی سرگرمیان بند کرنی ہوں گی ،اس سید زادے نے یہ سوچے بنا کہ وہ کہاں اور کس کے سامنے بیٹھا ہے یہ مطالبہ ماننے سے انکار کردیا سخت جملوں کا تبادلہ ہواملاقات ختم ہوگئی اور دوسرے دن ’’جماعتیوں ‘‘ کے کاندھوں پر تین کارکنوں کے جنازے تھے جماعت اسلامی پر کراچی کی زمین مزید تنگ کر دی گئی لیکن چھینی نہ جاسکی جانتے ہو نائن زیرو میں اس فرعون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے والا کون تھا ۔ ۔ ۔ وہ سید منور حسن تھا جسے آج منوں مٹی میں دبا کر آئے ہو،کراچی والوں کو نہیں پتہ کہ انہوں نے کیا کھویا ہے وہ قبر کے گڑھے میں چراغ رکھ آئے ہیں ‘‘ سعید عثمانی کے لہجے میں وہی اداسیاں تھیں جو رات ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی اور سرفراز عالم کے لہجے میں بین کرتی محسوس ہوئیں .
،منور حسن صاحب غلبہ ء اسلام کی عالمی تحریک کا وہ برگد تھے جو ساری عمر تیز دھوپ میں جھیلتے رہے اور اپنے تلے بیٹھنے والوں کو ٹھنڈا سایہ دیتے رہے سیلانی انہیں اسلامی جمعیت طلباء کے ایک کارکن کی حیثیت سے تربیتی نشستوں اور جلسوں میں سنتا رہا ہے اور بعد میں بطور صحافی ان کے جلسے جلوس بھی کور کرتا رہا ہے اس کے لئے ان کی تقریر نوٹ کرنا ہمیشہ اک مسئلہ رہاوہ ایسے ہی جوشیلے مقرر اور بلا کے خطیب تھے الفاظ ان کے سامنے خدمت گزاروں کی طرح مودب رہتے لہجہ ایسا شستہ کہ اردو زبان بھی رشک کرتی لوگ نثر میں شاعری کرتے ہیں وہ تقریر میں شاعری کرتے تھے بات کرنے آتے تو ہزاروں لاکھوں کے میں مجمعے میں ایسے سکوت چھاجاتا کہ جملوں کے درمیان توقف میں دھڑکنیں گنی جائیں لگتا تھا انہوں نے سحر پھونک دیا ہے اب ایسے ساحر کی تقاریر کے نوٹس کون لے اور کون خبر بنائے ;238;
سیلانی انہیں ایک سخت مزاج اور حاضر جواب لیڈر کے طور پربھی جانتا تھا وہ میڈیا کے لئے پسندیدہ نہیں تھے کہ ان کی لائن پر نہ چلتے تھے ان کے منہ میں اپنی بات ڈالنا ناممکن تھا وہ اس لحاظ سے ’’بے لحاظ‘‘ تھے سیلانی کو ادارہ نور حق کی وہ پریس کانفرنس یادآگئی جب اس نے سوال جواب کے سیشن میں غلطی سے سید صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا’’ابھی آپ نے عرض کیا تھا کہ ۔ ۔ ۔ ‘‘سیلانی کا لہجہ تو نامناسب نہ تھا لیکن الفاظ بالکل مناسب نہ تھے بڑے بزرگ فرمایا کرتے ہیں عرض نہیں کرتے سید صاحب نے سیلانی کا سوال سنا تو پتلے پتلے ہونٹوں پر طنزیہ مسکان لاتے ہوئے گویا ہوئے ’’جی بالکل درست فرمایا آپ نے ،فرماتے تو آپ ہی ہیں ہم جیسے تو عرض ہی کرسکتے ہیں ۔ ۔ ۔ ‘‘
سیلانی کی آنکھوں میں سید صاحب کا پروقار چہرہ گھوم گیا جی بے چین ہوا تو اس نے سعید عثمانی صاحب کو فون کردیا سعید عثمانی جماعت اسلامی کے شعبہ نشرواشاعت سے طویل عرصہ منسلک رہے ہیں ان کی منور حسن سے بڑی گاڑھی چھنتی تھی ان کے گنتی کے بے تکلف دوستوں میں سے تھے سیلانی نے انہیں فون کیا سلام کے بعد کہنے لگا’’عثمانی صاحب ! منور صاحب کی فیملی کے بعد کسی سے تعزیت بنتی ہے تو وہ آپ ہی ہیں ،بڑی طویل رفاقت رہی ہے آپکی ‘‘
’’ہاں ۔ ۔ ۔ 1964ء میں تعلق بنا تھاوہ اسلامی جمعیت طلباء کے ناظم تھے اور میں کارکن پھر انہوں نے مجھے جمعیت کا رفیق بنایا ا ور میں انہی کے دستخطوں سے جمعیت کا رکن بنا میں ان کے دستخط سے بننے والا آخری رکن تھا پھر ان کی نظامت کا وقت پورا ہوگیا اور وہ جماعت اسلامی میں آگئے ۔ ۔ ۔ اکثر مجھ سے کہتے تھے کہ تمہیں رکن بنانے کے بعد ہم نے قلم ہی توڑ دیا تھا‘‘ ۔ سعید عثمانی صاحب کی منور حسن سے چھپن برس کی رفاقت تھی یہ ان دوستوں میں سے تھے جنہوں نے انہیں شیر کی طرح گرجتے برستے بھی دیکھا اوربوڑھے بیمار بدن کے ساتھ بستر پر خاموشی سے پڑے سید منور حسن کو بھی وہ بتانے لگے ’’وہ ایک درویش صفت انسان تھے ان کے سامنے دنیا اپنی تمام تر ترغیبات تحریصات کے ساتھ بڑی خوش شکل میں سامنے موجود تھی دولت کمانے کے آسان مواقع تھے
،مراتب تک پہنچنا ان کے ابروئے جنبش کے فاصلے پر تھالیکن اس اللہ کے ولی نے دنیاکو اپنی ضرورت نہیں بنایا میں آپکو بتاؤں کہ وہ ڈھائی سو روپے کی ملازمت کر رہے تھے جب انہیں اسلامک فاوَنڈیشن جیسے انٹرنیشنل ادارے کا سیکرٹری جنرل بننے کے لئے برطانیہ جانے کی پیشکش ہوئی ۔ ۔ ۔ ‘‘… ’’کیا اسلامک فاوَنڈیشن جسے ابھی پروفیسر خورشید چلا رہے ہیں ‘‘سیلانی کے لہجے میں حیرت تھی اسلامک فاوَنڈیشن بہت باوسائل ادارہ ہے اسکے اثاثے کروڑوں نہیں اربوں روپے کے ہیں ’’جی جی وہی اسلامک فاوَنڈیشن ‘‘سعید عثمانی صاحب کی آواز آئی ’’اور منور صاحب نے انکار کردیا کہ نہیں مجھے پاکستان میں ہی جماعت اسلامی کا کام کرنا ہے بہت کم لوگوں کو پتہ ہے کہ وہ ان لوگوں میں سے تھے جنکے مالی حالات اچھے نہیں رہتے تھے
وہ انگریزی میں کہتے ہیں ناں hand to mouth رہناتو وہ اسی طرح تھے لیکن قناعت سے بسر کرتے تھے وہ سولہ سال نعمت اللہ خان مرحوم کی چھت پر دو کمروں کے مکان میں رہے اور دو کمرے کیا تھے باورچی خانہ بھی نہ تھا ایک کمرے میں چولہا اوربرتن رکھ کر باورچی خانہ بنالیا گیا تھا اور اک عرصے تک ایسے ہی کام چلایا ان کے گھر ریفریجریٹر نہ تھاہم گھر جاتے تو راستے سے برف خرید کر جاتے کہ منور حسن کے گھرکولر کا گرم پانی پینے کو نہ ملے ۔ ۔ ۔ ‘‘ ’’عثمانی صاحب ۔ ۔ ۔ عثمانی صاحب ! یہ کیا بات کررہے ہیں آپ ;238;‘‘ منور صاحب کی نجی زندگی کے یہ پہلو اس کے لئے کیا شائد بہت سے لوگوں کی نظر سے اوجھل تھا اسے یقین نہیں آرہا تھا
’’جی جناب ایسا ہی تھا ۔ ۔ ۔ یہ ایک سفید پوش گھرانے سے تھے کوئی لینڈ لارڈ تھوڑی تھے والد صاحب دہلی میں اسکول ٹیچر تھے سید مودودی رحمتہ اللہ علیہ کے دوستوں میں سے تھے پاکستان بنا تو یہاں آگئے اور یہاں جمشید روڈ یاجہانگیر روڈ کے کسی اسکول میں پڑھاتے بھی رہے اس وقت نیا نیا ناظم آباد بن رہا تھا تو انہوں نے کسی نہ کسی طرح ایک سو بیس گز کا ٹکڑا لے لیا اور مکان بنا کر رہنے لگے یہی ان کا اثاثہ تھا،وہ تو بعد میں بچے پڑھ لکھ کر نوکریوں پر لگتے گئے اور شادی وادی کرکے اپنے گھروں کے ہوگئے جس کے بعد طے ہوا کہ ناظم آباد کا مکان بیچ دیا جائے بھائیوں نے منور حسن کے لئے ایثار کرنا چاہا لیکن انہو ں نے منع کردیا اور شرعی حصہ ہی لیا جس سے کچھ نہ بنتاتھا مگر وہ بڑے ہی قناعت پسند انسان تھے .
پھر ان کی شادی کا سنو والدہ نے شادی کے لئے کہا اور شرط رکھ دی کہ کسی سچے سید گھرانے سے بہو لاؤں گی ہمارے کراچی میں ایک نائب قیم ہوتے تھے انہیں سن گن ملی تو انہوں نے اپنی بھتیجی کے لئے پیام دیا گھر والوں میں ضروری معلومات کا تبادلہ ہوا والدہ کی تسلی ہوگئی اور منور حسن دولہا بن گئے ان کی گرومندر کے قریب کسی ہال میں مولانا زوار حسین صاحب نے نکاح پڑھوایاتھا وہ اپنے وقت کے بہت بڑے عالم دین تھے شادی نہاءت سادگی سے ہوئی انہوں نے کوئی جہیز وغیرہ نہ لیا اس لئے ان کے پاس فرنیچر بھی نہ تھا ناظم آباد تین نمبر والا مکان فروخت ہوگیا جس کے بعد رہائش کا مسئلہ نعمت اللہ صاحب کی چھت پر بنے دو کمروں سے حل ہوا اب جیسے روح ویسے فرشتے ان کا اوڑھنا بچھونا بھی دعوت حق اور بیگم کا بھی دونوں صبح نکلتے تو رات گیارہ بارہ بجے ہی ملاقات ہوتی تھی گھر بنانے سنوارنے او ر اسکی ضروریات پر توجہ کون د ے‘‘
عثمانی صاحب کہنے لگے اب ایسے تنے ہوئے رسے پر چلنے والا شخص اصول پسند نہ ہوگا تو کیا ہوگا;238; آپ اسے سخت گیر کہہ لیں یا کوئی بھی نام دے لیں وہ جو بھی حق سمجھتے تھے کہتے تھے اور ڈٹ کر اپنے موقف کا دفاع کرتے تھے وہ ضیاء الحق کے مارشل لاء کی حماءت کے بھی کٹر مخالف تھے شوریٰ میں کھل کر بولتے تھے کہ ضیاء الحق کی حماءت سے نقصان ہوگا اور یہی نہیں انہوں نے توضیاء صاحب سے ملاقاتوں میں بھی انکے فیصلوں پر تنقید کی انہیں کہا کہ آپکی روش غلط ہے وہ ایسے ہی بے خوف انسان تھے ۔ ۔ ۔ عثمانی صاحب کی بات کی تائید امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس نے اپنی کتاب دی کنٹریکٹر میں ان الفاظ میں کی کہ میری رہائی میں ایک بوڑھا سیاستدان رکاوٹ بناہوا تھا اور وہ تھا جماعت اسلامی کا لیڈر منور حسن ۔ ۔ ۔ منور حسن نتاءج سے بے پرواہ ہو کر حق کہا کرتے تھے ایک بار ان کے حوالے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کچھ تشویش ناک اطلاعات ملیں آئی جی سندھ نے انہیں فون کیا ا ور کہا کہ آپ جب کراچی آئیں تو ہ میں بتا دیجئے گا ہم آپکی سیکیورٹی کا انتظام کردیں گے منور حسن صاحب کہنے لگے آپ جنہیں میری سیکیورٹی کے لئے بھیجیں گے ان کی سیکیورٹی کون کرے گا ، آئی جی صاحب نے کہا ’’انکی سیکیورٹی اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے ‘‘
منور صاحب نے فورا کہا ’’بس میری سیکیورٹی بھی اسی کے پاس ہے اور مرتے دم تک رہے گی ‘‘کراچی کے لوگ جانتے ہیں کہ بفرزون میں منور حسن صاحب کا ایک سو بیس گز کا گھرایم کیو ایم کے گڑھ میں ہے جماعت کے کاموں سے فارغ ہوتے ہوتے انہیں اچھی خاصی رات ہوجاتی ڈرائیور انہیں گھر چھوڑنے جایا کرتا تھا ایم کیوایم کے’’ ساتھی بھائی‘‘ ان کے راستے میں کھڑے ہوتے تھے وہ انہیں خوفزدہ کرنے کی کوشش کرتے آوازے کستے ’’سامان ‘‘ دکھاتے جب ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کے مابین زیادہ کشیدگی ہونے لگی تو منور صاحب نے حد ہی کردی وہ اپنے گھر سے دور ہی گاڑی رکوا کر ڈرائیور کو واپس بھیج کر رات گھپ اندھیرے میں پیدل گھر کی طرف چل پڑتے سمجھایا گیا تو بے پروائی سے کہاجو رات قبر میں آنی ہے وہ باہر کیسے آسکتی ہے ۔ ۔ ۔ اور پھر ان کی قبر کی رات بھی آہی گئی ،اللہ تعالیٰ کو اپنے غلام پر پیار آگیا کہ اس نے دنیا میں بہت وقت دے لیا بڑی مشقت کرلی انہوں نے تحریک میں جوانی کھپا کر بڑھاپا اوڑھنے والے منور حسن کواپنے پاس بلالیا ا ور وہ تو جیسے تیار بیٹھے تھے ،ڈاکٹروں نے لاکھ جتن کئے کوششیں کیں مصنوعی تنفس پر ڈال دیا پورا پورا بورڈ بیٹھ گیا لیکن ساری حیاتی اپنے رب کے احکامات کی تعمیل کرنے والا اس کے بلاوے پر کیسے پیچھے رہتا
انہوں نے آخری ہچکی لی اور حق پورا کر دیا ۔ ۔ ۔ ۔ سیلانی کی آنکھوں میں سفید کفن سے جھانکتا ان کا چہرہ گھوم رہا ہے کیسا سکون اور اطمینا ن تھا کیسی طمانیت تھی جیسے کسی مزدور کو اسکی محنت کا بہترین اجر دیاجارہا ہو ۔ ۔ ۔ ۔ سیلانی سرد آہ بھر کر رہ گیاحق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا سیلانی یہ سوچتے ہوئے آل رسول ﷺ میں سے سید منور حسن کا پرسکون چہرہ دیکھنے لگا اور عقیدت سے دیکھتا رہا دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا

اپنا تبصرہ بھیجیں