ام الخبائث جرائم کی جڑ – الطاف جمیل ندوی




گزشتہ کئی روز سے مسلسل سننے میں آرہا ہے کہ سرزمین اولیاء میں شراب پینے کے لئے قریہ قریہ میں مے خانے کھولنے اور پینے پلانے کے لئے اجازت نامے اجرا کئے جارہے ہیں۔اس طرح کی اطلاعات عام ہونے کے بعد ہر خاص و عام انگشت بہ دندان ہے اور اس بات کے لئے ماتم کناں بھی، کہ ایک مسلم اکثریتی ریاست میں اس طرح کے اقدامات ا ±ٹھانے کے پیچھے کو ن سے عوامل کار فرما ہیں ۔

سوال یہ ہے کہ مسلم اکثریتی ریاست میں میں اس طرح کے اقدامات اٹھانے کی کیا ضرورت آں پڑی کہ لوگ ایک جانب وبائی امراض کے نرغے میں ہیں اور حکام اس صورت حال کا شافی تدارک کرنے کے بجائے وادی کو شراب میں ڈبونا چاہتی ہے ۔پوچھا جاسکتا ہے کہ ایسی کیا آں پڑی کہ حکام نے ایک نادرشاہی طرز پر لائیسنس اجرا کرنے اور علاقوں کی نشاندہی بھی کی ۔شراب بنیادی طور ہماری تہذیب و ثقافت کے خلاف ہے۔ اس ساری صورت حال کو محسوس کرتے ہوئے میں نے شراب اور سماج پر اس کے مضر اثرات سے متعلق اور اپنے خیالات کو الفاظ کا جامہ پہناکر ثبت قرطاس کرنے کی کوشش کی کہ شاید اُتر جائے تیرے دل میں میری بات دنیا کے قیام کے ساتھ ہی انسان اور مخلتف جانور چرند و پرندے پیدا ہوتے رہے اور مرتے رہے لیکن دنیا میں اکثر اس بات کے شواہد ملتے ہیں کہ جانور ایک ایسی مخلوق ہے ، جس نے اپنی وضع قطع بنانے اور سنوارنے اورظاہری خد و خال میں تبدیلی کے لئے کیاکچھ نہ کیا۔

جو وحشی ہیں وہ وحشی ہی رہے اور جو وحشی نہیں وہ وحشی بننے رہنے کے لئے کوشاں رہے لیکن خالق کائنات نے انسان کو یہ جو دماغ دیا ہے سوچ سمجھ کی صلاحیت دی ہے۔ غور و فکرکرنے کی جو استعداد عطا کی ہے ۔انسان نے جہاں اس سے کامیابی کی بلندی تلاش کی وہی اس کا غلط استعمال کرکے انسان نے اپنی تباہی کے ساتھ ساتھ بقیہ دنیاوی مخلوقات کے لئے بھی مسائل کھڑے کرنے میں کوئی کمی باقی نہ رہنے دی۔ دنیا کے قیام کے بعد جوں جوں انسان کی آبادی میں اضافہ ہوتا گیا اسی قدر فساد و شر بھی بڑھنے کے لئے محو پرواز ہوتا رہا ۔دو سوچوں کے درمیان یا دو نظریوں کے درمیان تصادم ہوتا رہا ۔اگر تاریخ عالم کو دیکھا جائے تو یہ بات الم نشرح ہوتی ہے کہ یہ ہر زمانے میں ہوتا رہا کہ طاقتور نے کبھی کمزور کو کچلنے کا موقعہ ہاتھ سے نہ جانے دیا .

اس تصادم کا اصل محور صرف اپنی انانیت اپنی ضد کی دھاک بٹھانا ہی رہا اسی لئے سروں کی فصل کاٹنے سے لے کر آبادیوں کو ویرانوں میں تبدیل کرنے تک کا ہر کار بد انجام دیا جاتا رہا۔ طاقت ور طبقہ ہمیشہ اپنی طاقت کو مزید تقویت دینے کے لئے لڑتا رہا اور کمزور اپنی بقاءکیلئے جدوجہد میں مصروف رہا مگر دنیا میں انقلاب برپا کر دینے والے ذی شعو افراد نے بجائے طاقت کے علم و عمل کے میدان کو اپنے لئے منتخب کرکے انسانیت کو درس تہذیب و ثقافت سے روشناس کیا جس کی مثالیں موجود ہیں، بتانے کی چنداں حاجت نہیں
اسلام کی آمد قرون اول سے ہی دنیا کے خالق کا نام لیا جاتا رہا ہے پر زمانے میں اس خالق کے تعارف کے لئے مخلوق میں سے پاکیزہ سیرت و کردار سے مزین کچھ لوگ آئے جنہیں مسلم دنیا انبیاءکرام کے نام سے جانتی ہے جن کی دعوت کا اصل مقصد یہی تھا کہ خالق کی بندگی خالق کی حاکمیت کا تصور خالق کائنات کے نظام کی فرمانبرداری اور اس نظام کا اصل مقصد یہی ہوتا تھا کہ انسانیت کی فلاح و بہبود باقی بنا رہے

اسی لئے خالق کائنات انسانیت کی بقائ کے لئے بھی احکام نازل کرتا رہا جن کے نفاذ کے لئے انبیاءکرام علیہ السلام نے انتھک محنت و کوشش کی۔ اسے پروان چڑھانے میں اور اسی سلسلے کی آخری کڑی میں عرب کے لق و دق صحراء سے وحشی قوم کے درمیان سے ایک ہادی اعظم ﷺ مبعوث ہوئے جو وہی نظام وہی تعلیمات کے کر آئے جن کی ترویج و اشاعت کے لئے ان کی بعثت تک مختلف علاقوں میں مختلف انبیاءکرام علیہ السلام نے ان تھک کام کیا اور اب اسی نظام و سسٹم کی تجدید کے طور پر صادق امین کے نام سے مشہور و معروف ( اپنی قوم ) محمد صل اللہ علیہ وسلم تشریف لائے جنہوں نے اپنی دیانت داری پاکیزہ اخلاق کے ساتھ اس جاہل و گنوار قوم کو علم کی اونچائی سے متعارف کرایا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ صحرائی قبائل پوری دنیا پر چھا گئے اپنے حسن کردار سے ایک نئی تہذیب و ثقافت کے ساتھ اس مبارک تہذیب کی روشنی کی کرنین پھیلتی گئیں اور پوری دنیا پر چھا گئی

نئی تہذیب و ثقافت کے اس پر نور شعاع کی روک تھام کے لئے ایک گروہ ہمیشہ برسر پیکار رہا اور آج بھی ہے پر جو قوم اس تہذیب و ثقافت کے ساتھ عروج پا رہی تھی اس کا پلڑا بھاری رہا بہت وقت تک اور اس کی جڑیں مضبوط ہوتی رہیں جہاں اس کی شعاع نور بکھرتی رہی وہاں وہاں برائی کا خاتمہ اس کا لازمی جز بنتا تھا پھر بدی نے انگڑائی لی ۔دنیا میں اب ایک نئی کشمکش شروع ہوئی اب کوئی صادق امین تو نہیں آنے والا تھا بس اس تہذیب و ثقافت کے متوالے ہی اس کے ضامن و داعی تھے انہوں نے بھی اپنی کوشش و عزم کے ساتھ اس کو باقی رہا پر بدی کے سوداگر بھی اپنی مکاری و فریب کاری کے جواہر دیکھاتے رہے اور اس پاکیزہ تہذیب و ثقافت جو اصل میں الہی نظام ہے کے خلاف سازشیں بنتے رہے انہوں نے ایک جدید تہذیب و ثقافت متعارف کرادی جس کی چکا چوند نے انسانیت سے اس کی عظمت و رفعت چھین کر اسے کچھ فرسودہ اوراق تھما کر باور کرایا کہ اصل زندگی یہاں ہے اور اسی کے ساتھ ہی دنیائے انسانیت ذلت و رسوائی کے گڑھے میں گرتی رہی دو تہذیبوں کے درمیان جو فرق تھا وہ کچھ یوں سمجھ سکتے ہیں

ایک خالق کی بندگی۔۔ ہزاروں معبودوں کی دریافت
نیکی پرہیزگاری ۔۔۔ درندگی
انسانیت کی فلاح و بہبود ۔۔ انسانیت کا خاتمہ
شرافت و دیانت داری۔۔۔ ضد و انانیت
حلال و حرام میں تمیز۔۔۔ حرام و حلال میں یکسانیت
نکاح ۔۔۔ زنا
ہر نشہ برائی کی جڑ۔۔ ہر نشہ آور شئے کی تجارت
امن اخوت بھائی چارہ۔۔۔ نفرت کدورت لوٹ مار دہشت
انسانیت محبت مروت و ہمدردی ۔۔۔۔ تعصب انانیت

یہ کچھ باتیں ہیں جن کو ہم سب سمجھ سکتے ہیں اسلامی تہذیب و ثقافت نے نکاح کو ترجیح دی تو جدید تہذیب و ثقافت نے زنا کو اسلام نے اونچ نیچ کا بت منہدم کر دیا تو جدید ثقافت نے پھر سے اسے استادہ کردیا پوری دنیا دو گروہوں میں تقسیم ہوگی …… اب اپنی حالت زار جس پاکیزہ تہذیب و ثقافت نے دنیا کو روشنی دی اسی کی مبارک شعاعیں اپنی ریاست میں بھی پڑھ گئی جسے دنیا وادی کشمیر کے نام سے جانتی ہے یہاں کچھ زیادہ ہی اس کے اثرات مرتب ہوئے لوگوں کی اکثریت اس مبارک تہذیب و ثقافت کی گرویدہ ہوگئی اور اسی سے اب تلک وابستہ ہے یہاں مساجد خانقاہین مدارس دینیہ اور اسلامی انجمنیں موجود ہیں جو اس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ یہاں اسلام کے نام لیوا ہیں پر ستم ظریفی یہ کہ ہم اپنے وطن میں ہوکر بھی اپنے وطن کی نوک پلک سنوارنے سے ہمیشہ قاصر رہے ہیں کبھی اپنوں نے خفا کی تو کبھی کسی مغرور نے ہمارے جذبات مسلے زیادہ پرانی یادیں کریدنے کے بجائے صرف اسی صدی کی بات کی جائے تو یقین کریں حیرت سے آنکھیں بند کرنا بھول جائیں گئے کہ بدی کے سوداگر کی پوری قوت سے یلغار ہوئی پر کشمیری مسلماں پورے قد کے ساتھ کھڑے اب بھی ہیں اور اپنے اسلامی تعلیمات کے تئیں والہانہ محبت و عقیدت کا اظہار کرنے سے ججکتے نہیں

جبکہ حقیقت یہی ہے کہ یہاں عام لوگوں سے زیادہ مختلف حکومت کرنے والوں نے اس قوم کو بزور بدی کی طرف کھینچا اور پوری قوت اسی پر صرف کی کہ کسی طرح یہ ابلیس کی آلہ کار بن جائے مگر ہر بار حکومتیں یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ کیسے لوگ ہیں یہ انہیں کتنا بھی بدی کی راہ دیکھاو ¿ پر موقعہ ملتے ہی ان کے ماتھے پر شرم و حیا کے پردے چمکنے لگتے ہیں اب یہ خبرآرہی ہے کہ شراب کی دکانیں کھولی جارہی ہیں۔ پہلی بات کہ ارباب اقتدار کے ذمہ یہ لازم ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے جذبات کچلنے کے بجائے ان کے فکری و دینی جذبات کا احترام کرے اور ان کے تحفظ کے لئے اپنی کوشش کرے مگر المیہ یہ ہے کہ ہم اس نعمت سے اکثر محروم رہے ہیں کہ ارباب اقتدار ہمارے اسلامی تعلیمات کا ہمارے دینی جذبات کا تحفظ یقینی بنائے بلکہ آج تک ہماری تاریخ میں یہی رقم ہے کہ ارباب اقتدار نے اس کشمیری نسل کے جذبات کو ہمیشہ مسلا ہے۔ شراب نوشی اور اس سے ہونے والی برائی سے کون واقف نہیں پر کچھ گزارشات پیش کرتا ہوں ۔

سوچئے ذرا ………… تمام نعمتوں میں عقل اور سمجھ سب سے بڑی نعمت ہے جس کے ذریعے انسان خیرو شر ، نیکی اور بدی نیز نفع و نقصان میں فرق کر سکتا ہے۔ عقل کی بدولت ہی انسان اپنی زندگی سنوارتا ہے ، تدبر اور غور و فکر سے کام لیتا ہے ، عقل ہی کی بنا پر انسانی معاشرے منظم اور موثر طور پر عمل رہتے ہیں عقل ایک قیمتی جوہرہ ہے ، موتی ہے جسے عقل مند حضرات ، دانشمند لوگ حفاظت سے رکھتے ہیں اور اس کی قدر کرتے ہیں۔ دانشمند انسان عقل کو انہی اغراض کے لیے استعمال کرتے ہیں جن کے لیے وہ عطا کی گئی ہے اگر انسان عقل کھو دے تو وہ حیوانات جیسا تصرف کرنے لگتا ہے اس میں اور حیوانات میں اور نباتات و جمادات میں کوئی فرق نہیں رہتا بلکہ حیوانات بسا اوقات انسان سے بہتر نظر آتے ہیں جو عقل کھو دے اسے کوئی نفع نہیں پہنچتا وہ نفع بخش شمار ہی نہیں کیا جاتا بلکہ وہ اپنے اہل و عیال ، اپنے کنبے کے لئے وبال بن جاتے ہیں

نفس پرستی اور شہوت رسانی ان پر غالب آجاتی ہے۔ یہی رویہ دیگر لوگوں میں اس طرح دیکھا جاتا ہے کہ وہ شراب پیتے ہیں یا کئی قسم کی منشیات کا استعمال کرتے ہیں ایسی نشہ آور چیزیں استعمال کرتے ہیں جن سے عقل پر پردہ پڑجاتا ہے اور انسان اپنی انسانیت بھی کھو بیٹھتا ہے وہ حیوانوں جیسا تصرف اور سلوک کرنے لگتا ہے ، مجرم بن جاتا ہے ، پاگل بھی ہو جاتا ہے فسق و فجور میں ڈوب جاتا ہے ، نشے میں انسان اپنے غم کو بھی بھول جاتا ہے۔ خود اپنے نفس پر بھی اسے قابو نہیں رہتا ، وہ اپنے آپ پر بھی ظلم کرتا ہے اس کا ارادہ اور اس کی سمجھ مفلوج ہو جاتی ہے اس کے زندہ رہتے ہوئے اس کے بچے یتیم ہو جاتے ہیں اور اس کی زندگی ہی میں اس کی بیوی بیوہ ہو جاتی ہے اپنے کنبے اور اپنے معاشرے کو نقصان پہنچاتا ہے وہ اپنے گرد و نواح میں بد امنی اور بدعنوانیاں پھیلاتا ہے اور کنبے پر بوجھ بن جاتا ہے

مطلب معاشرہ تباہ و برباد کردیتا ہے نشہ آور اشیاءاستعمال کرنا پر یاد رہے کہ ہمارے معاشرے میں یہ کوئی ایک بیماری نہیں بلکہ مختلف برائیاں ہیں جو اب پنپ رہی ہیں گر ہم صرف ایک برائی کو مد نظر رکھ کر اس کا خاتمہ چاہیں گئے یہ ممکن نہیں بلکہ اصل اس برائی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا مطلوب ہے جس کے سبب سے ہمارا اسلامی تشخص برباد ہوجانے کی دہلیز پر پہنچ سکتا ہے اس سلسلے میں سب سے اہم یہی ہوگا کہ کہ ہم معاشرے کے سلگتے مسائل کو سمجھیں معاشرے میں پنپ رہی برائیوں کو دیکھیں اور پوری قوت سے اپنے اپنے میدان عمل میں اس کے تدارک کے اسباب تلاش کریں ورنہ یہ خواب میں گھوڑے دوڑانا کوئی فائدہ نہیں دیتا چاہئے کہ خواب کا گھوڑا کتنا بھی تیز دوڑ لگائے اٹھتا آخر صبح بستر سے ہی ہے

بہتر ہے کہ ہا ہو کرنے کے بجائے عملی اقدامات کئے جائے ہمارے ہاں جو فلاحی انجمنیں ہیں جو اہل علم میں سربراہ لوگ ہیں وہ اس سلسلے اقدام اٹھائیں اور عوام کو ان مصائب سے بچنے کی ترغیب بھی ساتھ ساتھ دیں
لکھنے کو تو جی بہت چاہتا ہے پر لوگ عدیم الفرصت ہیں لمبی تحریر نہیں پڑھتے اس لئے التماس ہے۔ انتظار کریں دوسری تحریر کا

اپنا تبصرہ بھیجیں