اداسی سی اداسی – ڈاکٹر اسامہ شفیق




دل مغموم ہے …….. لیکن کیا کریں جانا تو سب کو ہے۔ عجب کیفیت ہے، گاڑی چلا رہا تھا ……. اچانک موبائل نکالا تو سید صاحب کے انتقال کی خبر ملی دل دہل گیا ۔ گاڑی سامنے والی گاڑی سے ٹکراتے ٹکراتے بچی ، عجیب اداسی سی اداسی ہے ، یوں تو بلاشبہ سید منور حسن صاحب کی پالیسیوں سے کچھ نہ کچھ اختلاف رہا لیکن ایسا فرد شاید صدیوں میں پیدا ہوتا ہے۔

یہ مبالغہ نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ فقر، سادگی ، متانت ، سنجیدگی اور سب سے بڑھ کر وہ ادا جو مجھے بہت پسند تھی…… وہ ہے بے خوفی۔ اتنا بے خوف نڈر اور بیباک اگر سالار ہو تو بکریوں کا لشکر بھی شیروں کا شکار کرتا ہے۔ کراچی میں ایم کیو ایم کا سامنا ہو تو کیسے ممکن ہے کہ قیادت بیباک نہ ہو۔ لیکن اللہ اللہ کیسے کیسے ہیرے اللہ نے جماعت اسلامی کراچی کو دیئے پروفیسر غفور احمد ، محمود اعظم فاروقی ، عبدالستار افغانی ، نعمت اللہ خان ، سید منور حسن صاحب اس قافلے کے آخری فرد تھے جو رخصت ہوئے۔ دل بے انتہاء مغموم ھے اور مشکور بھی ، اور کیوں نہ ہوہم نے ایسے عالی المرتبت تقویٰ ، خشیت اور للہیت کے میناروں کو صرف سنا یا پڑھا نہیں بلکہ ان سے فیض حاصل کیا ہے۔آنے والی نسلیں جب ان کی داستانوں کو پڑھا کریں گی تو ھم فخر سے بیان کریں گے کہ یہ روشنی کے چراغ ھم نے اپنی زندگی میں دیکھے ہیں۔

سید منور حسن ایسے بے خوف و بیباک قائد تھے کہ کبھی کبھار ان کی جرات اور بیباکی کا ساتھ ان کے اپنے کارکنان بھی نہ دے پاتے تھے۔ مجھے یاد ہے …….. 2002 کا الیکشن تھا ۔ سید منور حسن نارتھ ناظم آباد سے میدان میں آئے ……. وہ وقت تھا کہ جب ایک طرف نعمت اللہ خان نے شہر کراچی میں اپنی خدمت کی دھاک بٹھائی اور ایسی بٹھائی کہ بدترین مخالف بھی گرویدہ ھوئے تو دوسری جانب 2002 کے الیکشن میں سید برسر میدان آئے تو ایسے آئے کہ سماء باندھ دیا، اتنی بے باک تقاریر کہ شروع کے ایام میں تو کارکن بھی پریشان ھوجاتے کہ اب نجانے کیا ھوگا۔ لیکن جلسہ ختم ہوتا گرجنے اور برسنے والے سید منور حسن کارکنان کے درمیان مسکراتے ساتھ کھڑے ہوتے۔ نہ کوئی خوف نہ خوف کا شائبہ …….. لوگ کہتے ہیں کہ مقتدر قوتوں نے شہر کراچی کو ایم کیو ایم کی فسطائیت سے آزاد کروایا اور ان کو زبان دی ، میں کہتا ہوں کہ شہر کراچی میں اس کا سہرا نعمت اللہ خان اور بدرجہ اتم سید منور حسن صاحب کو جاتا ھے۔ جب ایم کیو ایم کے خلاف کوئی بولتا نہیں تھا تو اس وقت یہ اذانیں دے رھے تھے۔ اس بے خوفی جرات اور بیباکی کا خمیازہ بھی سید کو بھگتنا پڑا اس پر ابھی بات کرنا مناسب نہیں لیکن یہ حق ھے کہ جو بات سید نے کی وہ دل میں تیر ہوگئی۔

ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق
یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق

ان صلاتی و نسکی و محیای و مماتی للہ رب اللعالمین کی زندہ تفسیر، صرف خود نہیں بلکہ پورا گھرانہ، جس نے اللہ سے سودا کرلیا ھو اس کا بندوں سے بھلا کیا کام؟ اکلوتا بیٹا جس کے لیے دنیا کیا کچھ نہیں کرتی لیکن میں گواہی دیتا ہوں کہ انہوں نے اپنے بیٹے کے لیے کوئی معمولی سی سفارش کبھی نہیں کی، یہی حال عائشہ آنٹی کا اکلوتی نرینہ اولاد لیکن کوئی ایک سفارش کیا کبھی اس بات کا تذکرہ بھی کسی سے نہ کیا کہ مبادہ کوئی کچھ ترجیح دے دے۔ ایسے لوگ اس دنیا میں ہی پائے جاتے ہیں؟ جب دنیا حرص و ہوس کی جانب گامزن ھوتو وہ اپنا جائز استحقاق بھی ختم کردے۔ یہ تو حضرت ابوبکر صدیق کی خلافت میں ھوا کہ وظیفہ اتنا کہ بس گزر بسر ہوسکے باقی کچھ نہیں، اپنا حق بھی چھوڑ دیا۔ سید منور حسن امیر جماعت بنے تو امیر جماعت اسلامی پاکستان کے لیے مختص مکان میں کبھی نہ ٹہرے اپنا استحقاق ترک کردیا، بظاہر گرجنے اور برسنے والا انسان ایسا نرم دل اور اپنے لوگوں کا خیال رکھنے والا کہ شاید کوئی تصور نہ کرسکے۔ میرا منصورہ جانا ہوا اگلے دن کراچی روانگی تھی سید منور حسن صاحب کو سلام کرنے ان کے کمرے میں گیا سلام دعا ہوئی کچھ بات چیت ہوئی کہنے لگے کراچی کب جانا ہے میں نے کہا بس کل روانگی ہے، کہنے لگے اچھا ذرا تھوڑی دیر میں مجھ سے مل کر جانا۔ میں کچھ دیر بعد حاضر ہوا تو ایک لفافہ میرے حوالے کیا اور کہا کہ کل جاکر ادارہ نورحق میں فلاں شخص کو یہ لفافہ دے دینا اس کی بیٹی کی شادی ہے …… میرا جانا نہیں ہوسکے گا وہ ہمارا بہت قیمتی کارکن ہے۔ میں حیرت سے کھڑا امیر جماعت اسلامی پاکستان کو دیکھ رہا تھا کہ جس کو کراچی چھوڑے دو دہائیاں ہوئیں لیکن ایک بظاہر ادنی سے کارکن کا اتنا خیال، اس کی خوشی غمی کا خیال ایسا کہاں ہوتا ہے کوئی ہوتو ایسا لاؤ!

سید منور حسن رخصت ہوئے، اپنی کم مائیگی کا احساس اور بڑھتا جارہا ہے۔ تقوی، للہیت اور بے خوفی کا ایک تابناک باب بند ہوا ہم وہ خوش نصیب کہ جنہوں نے ان کو کتابوں میں نہیں پڑھا بلکہ چلتے پھرتے خود دیکھا۔ وہ مرد قلندر رخصت ہوا، مثل خالد بن ولید یہ روایت بھی زندہ کرگیا کہ اگر عین حالت جنگ میں سپہ سالاری سے بھی معزول کردیا جائے تو اطاعت کس طرح کی جاتی ہے۔ سید منور حسن امارت جماعت اسلامی سے فارغ ھوئے تو کبھی بھی کوئی ایسا بیان نہ دیا کہ جس سے نظم جماعت کو کوئی مسئلہ پیدا ہو، سراپا سمع و اطاعت۔ سراپا خلوص اور للہیت۔ سید منور حسن تاریخ ساز شخصیت تھے کہ جنہوں نے تحریک اسلامی کی سمت کا رخ تبدیل کیا۔ پاکستان اور بین الاقوامی سطح پر اس کے اثرات کیا ھونگے اس پر تبصرہ کرنا ابھی قبل از وقت ھے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسا کام صرف جرات اور بہادری سے نہیں بلکہ اس کے ساتھ فہم و فراست سے کیا جاتا ہے۔ سید منور حسن کے فہم پر ماضی میں کئی باتیں کی گئیں لیکن درحقیقت ان باتیں کرنے والوں نے جلد یا بدیر اس حقیقت کو قبول کیا کہ سید منور حسن کا موقف درست تھا۔ سید صاحب کی زندگی تاریخ کا وہ باب ہے کہ جس میں سید احمد شہید، شاہ اسماعیل شہید کی جوانمردی، خالد بن ولید کی بہادری، سمع و اطاعت اور ابو بکر صدیق کی درویشی اور فقر پنہاں ہیں۔

حضرت ابوبکر صدیق کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ خلیفہ مقرر ھوئے تو کہا کہ اے ابوبکر آپ نے اپنے بعد آنے والوں کے لیے بہت سخت معیار بنادیئے کہ جن پر پورا اترنا بہت مشکل ہے، جماعت اسلامی میں سید صاحب کا کام بھی یہی ہے جو معیار قائم کیا وہ بہت بلند ہے۔

جو بادہ کش تھے پُرانے، وہ اُٹھتے جاتے ہیں
کہیں سے آبِ بقائے دوام لے ساقی!

اللہ تعالی تحریک اسلامی کو سید منور حسن کا نعم البدل عطا فرمائے آمین۔

اپنا تبصرہ بھیجیں