اے خاصائے خاصان رسل وقت دعا ہے – قدسیہ ملک




ڈان نیوز کے مطابق 44 برس سے صحافت سے وابستہ سینئر صحافی اور روزنامہ جسارت کے ایڈیٹر انچیف اطہر علی ہاشمی کراچی میں انتقال کر گئے۔ان کی عمر 74 برس تھی، وہ معمولی سی ناسازی طبعیت کے باعث ایک دن جسارت کے دفتر نہیں گئے۔رات میں سوئےصبح فجر کے وقت نیند کی حالت میں ہی وہ اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔
اطہر ہاشمی جیسے لوگ اردو ادب کا سرمایہ تھے۔ وہ نہ صرف اردو کے استاد اور ماہر لسانیات تھے بلکہ ان لوگوں میں شامل تھے . جنہوں نے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو صحافت کرنا سکھائی ۔ ان کا شمار عرب نیوز ویب سائٹ ’ اردو نیوز ‘ جدہ کے بانیوں میں ہوتا تھا اس کے علاوہ وہ روزنامہ امت کے ڈپٹی ایڈیٹر انچیف بھی بنے ، اور روزنامہ جنگ لندن سے وابستہ رہے ۔ ان کا مشہور کالم ’خبر لیجیے زباں بگڑی ‘ اردوادب میں ایک سند کی حیثیت رکھتا ہے . جس میں وہ اردو زبان کی بول چال میں رائج غلطیوں کی نشاندہی اورتصیح کرتے تھے۔ وہ بلاشبہ بہترین استاد تھے۔ حق تعالی آپ کی مغفرت فرمائے۔ اس سے پہلےالخدمت کے ڈاکٹرعبدالقادر سومرو جو خدمت کے جذبے سے سرشار ہو کر بیمارمریضوں کو صحت یاب کرتے کرتے خود بھی اس وباء کا شکارہوکر شہید ہوگئے ۔ پاکستانی نوجوان ڈاکٹر کی موت کرونا سے ہوئی ہے۔ 26 سالہ پاکستانی ڈاکٹر اسامہ بیرون ملک کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کے بعد انتقال کر گئے۔
ڈاکٹر اسامہ کرونا سے متاثرہ مریضوں کی دیکھ بھال کر رہے تھے ۔ اس سے پہلےماہر تعلیم ، جماعت اسلامی کراچی کے سابق قیم اور سیکریٹری جنرل حلقہ خواتین دردانہ صدیقی کے بہنوئی نسیم صدیقی بھی اسی سال 18 جون کومختصر علالت کے بعد انتقال کرگئے ۔ پھر 26 جون کو جماعت اسلامی پاکستان کےسابق امیر و رکن قومی اسمبلی سید منور حسن انتقال کرگئے ۔ منور حسن جماعت اسلامی پاکستان کے چوتھے امیر تھے۔ وہ سید ابو لا اعلی مودودی کے جانشین میاں طفیل محمد ، نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ ، پروفیسر غفور احمد اور قاضی حسین جیسے عظیم رہنماوں میں شمار ہوتے تھے ۔ انکی رحلت نےتحریک اسلامی میں ایک بہت بڑا خلا پیدا کردیا۔ ابھی ہم خبروں سے سنبھلتے بھی نہیں کہ یکے بعد دیگرے خطرناک خبریں نہ مارا انتطار کررہی ہوتی ہیں ۔ جولائی میں شدید بارشوں اوربجلی سپلائی کرنے والی کمپنی کے الیکٹرک کی ناقص حکمت عملی ، سیوریج کی ناقص پالیسیوں کے باعث ایک بار پھر شہر میں کرنٹ لگنے سے ہلاکتوں کےکم سے کم 20 واقعات میں 2 سگے بھائی اور 8 سالہ بچہ بھی شامل تھالقمہ اجل بن گئے۔
اسی دوفان خبر آئی کے مملکت خدادادپاکستان کی بےگناہ بیٹی عافیہ صدیقی جو پچھلے 12۔سالوں سے امریکی جیل میں اپنی بےگناہی و معصومیت کے باوجود قید و بند کی صعوبتیں برداشت کررہی ہے۔ جولائی 2008 پرویز مشرف کے دور حکومت میں اپنے ملک سے گرفتار ہونے والی عافیہ قید کے دوران اپنے سب سے چھوٹے بچےکی موت کا دکھ بھی برداشت کرچکی ہے۔اسکو خطرناک دہشت گردوں والی جیل میں رکھنے پر بھی جب امریکہ بہادر کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا تو جیل میں کرونا مریض قیدیوں کی تعداد بڑھادی گئی ہے۔ تاکہ وہ باآسانی اس اذیت ناک زندگی سے چھٹکارا حاصل کرسکے ۔ اللہ تعالی قوم کی اس بیٹی کے لئے کوئی محمد بن قاسم پیدا فرمادے جو میری عافیہ کو واپس لاسکے۔ وانا وزیرستان کا حال ہمارے سامنے ہے۔ پاک افغان اور پاک ہندوستان بارڈر پر جھڑپوں میں مزید شدت آگئی ہے۔
ان تمام آفات،مصائب و آلام کے باوجود پاکستان کے سب سے حساس ترین شہر کراچی کے باسی جب پاکستان کی شہہ رگ پر ہونے والے ایک سالہ بھارتی کالے قانون پر یوم سیاہ منانے پر امن احتجاج کیلئے نکلے تو انہیں بھی بھارتی ایجنٹوں کی دہشت گردی کانشانہ بنا کر یہ پیغام دیا گیا کہ خاموش رہو۔ بولوگے تو اٹھا لیئے جاوگے یا پھرمٹا دیئے جاو گے ۔ اس پرامن احتجاج پر حملے کے باعث 30 کے قریب کارکنان زخمی ہوکر کراچی کے مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں ۔ بعض کی حالت ابھی نازک ہے۔
5 اگست کا سفاک ترین دن جب٢٠١٩ کو فاشسٹ مودی حکومت نے ہندوستان کے قانون سے آرٹیکل 370 اور 35A ختم کر کے کشمیر کی متنازعہ حیثیت ختم کر دی . اور اسے بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیتے ہوئے وہاں کی تحریک آزادی کو کچلنے کے لیے پچھلے ایک سال سے لاک ڈاؤن کر رکھا ہے . اس دوران سینکڑوں کشمیریوں کو شہید اور خطے کا امن کرنے کےلئے خطے کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیا گیا ہے معیشت ، تعلیم ، کاروبار سب تباہ و برباد ہو کر رہ گیا ہے . وہاں اسرائیلی بستیوں کی طرح ہندوؤں کو زمینیں دے کر آباد کاری کی جا رہی ہے. شیر کراچی کی پکار پر لبیک کہتے گلشن اقبال کی سڑکوں پرکشمیریوں سے اظہار یکجہتی کےلئے یوم سیاہ منانے نکلے تھے۔ آخری اطلاعات آنے تک رکن جماعت اسلامی قائد آباد کراچی ، رفیق تنولی بھائی اہل کشمیر کی محبت میں ریلی میں شامل تھے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان بحق ہوگئے ہیں۔
دبا سکو تو صدا دبا دو، بھجا سکو تو دیا بجھا دو
صدادبےگی توحشرہو گا،دِیابجھےگاتوسحرہوگی
ایک طرف تویہ غمگین ترین ملکی صورتحال ہے۔اور دوسری جانب بین الاقوامی صورتحال پر مسلمانوں کی تکالیف و آہ فغاں بھی کم ہونے کی بجائے بڑھتی جارہی ہیں۔ کوئی مانے یا نہ مانے اس مسلم قتل عام پراسرائیل کی جانب سے آنکھیں بند کرلینا بالکل ایساہی ہے جیسے شتر مرغ خطرے کو دیکھ کر زمین میں اپنا منہ دبا لیتا ہے یا کبوتر بلی کو دیکھ کر اپنی آنکھیں بند کرلے ۔ کل بیروت میں خوفناک دھماکے اور بے گناہ معصوموں کے خون کی ارزانی دیکھ کر ایک بار پھر یہ یقین پختہ ہوگیا کہ اسرائیل خطے ہی نہیں پوری دنیا کے لئے ایک ناسور ہے۔ لبنان کے سیاسی حالات ویسے بھی گونا گوں کیفیت کا شکار ہیں تمام مسلمان ممالک کی طرح یہاں بھی امریکی کٹھ پتلے خوب جم کر کھیل رہے ہیں۔سیاسی کرپشن خوب عروج پر تھی کہ اسی اثناء میں بیروت میں کئی ٹن نائٹریٹ پھٹنے سے پورا شہر لہو لہان ہوگیا ہے ۔ کئی کلومیٹر ریڈیس میں تباہی مچی ہے ، شیشے ، دروازے ، کھڑکیاں اور چھت اکھڑ گئے ہیں ۔ انکاگورنر میڈیا کے سامنے رو رہا ہے کہ ہمارے ساتھ ایسا حشر ہوگیا ہے جیسا کہ ہیروشیما اور ناگاساکی کیساتھ ہوا تھا۔
لبنانی طبی ذرائع کے مطابق گزشتہ روز ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں اب تک زخمیوں کی تعداد 3500 سے زائد اور شہدا کی تعداد 100 ہوچکی ہے۔ ہمارے سب لبنانی احباب ابھی تک آفیشل اسٹیٹمنٹ یہی دے رہے ہیں کہ چھ سال سے یہاں امونیم نائیٹریٹ کا ذخیرہ تھا جسمیں دھماکے ہوئے یاکئے گئے ہیں۔ لبنان میں بیروت اور دبئی میں عجمان کے بعد اب نجف میں بھی دھماکے و آتشزدگی کے خطرناک واقعات ریکارڈ ہوئےہیں۔جس میں ایک طرف تو خون مسلم پانی کی طرح بہہ رہاہے تو دوسری جانب مسلم ممالک کی معیشت، معاشرت ، تعلیم ، قانون ، ثقافت ، مذہب ، تہذیب و تمدن ان استحصالی ممالک (جن میں اسرائیل سرفہرست ہے) کےہاتھوں غدار کٹھ پتلی حکمرانوں کے ذریعے کھلونابنی ہوئی ہے ۔ ایک طرف توعالمی وباء کورونا نے انسانی زندگی کی بقاء پر اپنے خونی پنجے گاڑھے ہیں تو دوسری جانب خون مسلم کی ارزانی دنیا کے ہر ملک ہر خطےہر شہر میں ایک عام سی بات بن کر رہ گئی ہے۔
یا اللہ امت مسلمہ پہ رحم و کرم فرما۔ہم تیرے معذور ناہنجار اور مفلس بندے ہیں۔ یا اللہ ہم کمزور ہیں۔ہم پر رحم فرما ۔ ہم سے ہمارے اچھے مخلص و ہم سے محبت امت کا درد رکھنے والے رہنماوں کو ہمارے ساتھ کردے تاکہ وہ ہماری رہنمائی کرسکیں ۔ یا اللہ اس پرفتن دور کی ریشہ دوانیوں سے ہمیں محفوظ فرما ۔ بقول الطاف حسین حالی کہ

اے  خاصہ  خاصان  رسل  وقت دعا  ہے
امت  پہ  تیری آ  کے عجب وقت پڑا  ہے
جو دین بڑی شان سے  نکلا تھا وطن سے
پردیس  میں   وہ   آج  غریب   الغربا  ہے
جس دین کےمدعوتھےکبھی قیصرو کسرٰی
خود   آج   وہ   مہمان  سرائے  فقرا   ہے
وہ دین ہوئی بزم جہاں جس  سے  چراغاں
اب  اس کی  مجالس میں نہ بتی  نہ دیا ہے
جو  دین کہ  تھا شرک سے  عالم کا نگہباں
اب   اس  کا  نگہبان  اگر  ہے  تو خدا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں