بہاولپور کے مسائل اور نیا پاکستان – سید کاشف اعجاز




اکیسویں صدی میں جہاں دنیا ترقی کے نئے دور میں داخل ہوئی ، وہیں انسانوں کے بنیادی مسائل اور صحت عامہ کو لیکر بہت ساری جہتیں بروئے کار لائی گئیں ۔ صاف پانی ، صحت کا سستا حصول اور سیوریج کے گندے پانی سے نجات ان عالمی گولز میں سے اہم گول بھی سرِفہرست رہا ۔ خصوصاً گندے پانی سے انسانی جسم پر ہونے والے مضر اثرات قابلِ تشویش تھے۔
جن میں پولیو ، ہیپاٹائٹس اور ملیریا اپنی ہولناکی کو لے کر پیش پیش تھے ۔ ترقی کی جانب قدم بڑھانے والے ممالک نے اپنے شہروں اور دیہاتوں سے اسکا تدارک ضروری سمجھا اور اس مسئلہ سے نبردآزما ہوکر اپنی عوام کو ریلیف دیا ۔ ملک خداداد اسلامی جمہوری پاکستان بھی اس اذیت ناک مسئلہ سے دوچار تھا۔ ہر شہر کے عوامی نمائندے نے اپنے مقدور اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کی۔ اس ضمن میں 2013 میں بہاولپور سے تیسری بار عوام تائید حاصل کرنے والے جماعت اسلامی پنجاب کے امیر ڈاکٹر سید وسیم اختر مرحوم نے اس وقت کے وزیرِ اعلیٰ جنابِ شہباز شریف سے ایک اہم ملاقات میں بہاولپور کے سیوریج ایشو کی بابت مسئلہ ڈسکس کیا جس پر وزیرِ اعلیٰ نے عمدہ ظرف کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے اس صوبائی ممبرِ اسمبلی کے نام چونتیس کروڑ کا خطیر فنڈ برائے بہاولپور کے سیوریج ایشوز پر جاری کرنے کے احکامات صادر فرمائے جو پبلک ہیلتھ بہاولپور کے اکاونٹ میں جمع ہوگئے۔
سروے رپورٹ کے نتیجہ میں بھٹہ جات میں گندے پانی کے جابجا تالابوں کی وجہ سے وہاں کی ہزاروں نفوس پر مشتمل آبادی کی صحت عامہ کو لیکر ایک منصوبہ بنایا گیا کہ وہاں کے ڈسپوزل سے فورس مین کے ذریعہ سیوریج کا پانی دریا میں ڈالا جائے جس پر قریباً ستارہ کروڑ کی لاگت آئی ۔ دوسرا منصوبہ یہ تھا کہ ڈراوری گیٹ اندرون شہر سے لیکر کوہِ نور ہوٹل تک نئی لائن ڈالی جائے تاکہ بند روڈ اور اس سے متصل علاقوں کے لاکھوں شہریوں کو اس اذیت سے نجات دلائی جائے۔ کیونکہ ایک تو پرانی لائنیں بوسیدہ ہوچکی تھیں دوم یہ کہ بہاول وکٹوریہ ہسپتال جب اپنے ڈسپوزل کے جمع شدہ پانی کو نکالنے کے لئے مشینیں چلاتا ہے تو اندرون شہر کی تمام سڑکوں پر گندہ بدبودارپانی ٹخنوں سے اوپر تک آجاتا ہے۔ اس ضمن میں ڈاکٹر سید وسیم اختر سابق ایم پی اے مرحوم کی متعدد دفعہ ایم ایس بی وی ایچ اور پرنسپل قائدِ اعظم میڈیکل کالج سے میٹنگز بھی ہوئیں جس میں راقم بطور سیکٹری ٹو ایم پی اے شامل رہا ۔
ان تمام میٹنگز میں ڈاکٹر وسیم اختر نے اس سنگین مسئلہ کی نشاندہی کی اور مطالبہ کیا کہ چونکہ وکٹوریہ ہسپتال ایک بڑا ادارہ ہے اور اسکی وجہ سے شہر مشکلات سے دوچار ہورہا ہے لہٰذا ہسپتال اپنے اس مسئلہ کے حل کے لئے حکومتِ پنجاب سے رابطہ کرے اور ایک منصوبہ بنائے کہ یہ مسئلہ کیسے حل ہو؟ اس ضمن میں سب کی تائید سے پبلک ہیلتھ کے ذمہ یہ کام لگا جس پر پبلک ہیلتھ نے منصوبہ پیش کیا کہ وکٹوریہ ہسپتال کا پانی فورس مین کے ذریعہ بھٹہ جات کے فورس مین سے جوڑا جائے تو یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ مگر آج تک ایسا کوئی بھی پی سی ون ہسپتال انتظامیہ نے حکومتِ پنجاب کو بھجوانا گوارہ نہیں کیا۔ اُس وقت طے یہ پایا کہ جب تک یہ منصوبہ منظور نہیں ہوتا تب تک ہسپتال انتظامیہ رات سے پہلے اپنی موٹرز نہیں چلائے گی تاکہ دن میں عوام سے اذیت کو نہ سہے اور ٹی ایم اے کا عملہ اس کی کڑی نگرانی کرے گا۔ مگر سابقہ حکومت تک تو یہ سلسلہ جاری رہا اور پی ٹی آئی کی دوسالہ حکومت میں آج شہر بدترین حالات سے دوچار ہے.
یہاں کے ایم این اے اور ایم پی اے دونوں ہی پی ٹی آئی کے تبدیلی کے نعرے کی گونج میں منتخب ہوکر آئے۔ ایم این اے ملک فاروقِ اعظم تو خیر الیکشن کے بعد سے حلقہ میں شاذونادر ہی نظر آئے جو کہ اپنی جگہ لمحہ فکریہ ہے مگر عوامی انداز اپناتے ڈیڑھ سال تک صوبائی وزیر رہنے والے سمیع اللہ چوہدری بھی اس حالتِ زار پر اپنی بے پروائی ثابت کرچکے کہ انہیں شہریوں کی اس اذیت سے کوئی سروکار نہیں۔ شہر جابجا گندے پانی کا جوہڑ بن چکا ہے۔ عوام کی بڑی تعداد خطرناک اور جان لیوا بیماریوں کی لپیٹ میں ہے ۔عوام کی بہبود کے لئے لگایا جانے والا کڑوڑوں روپیہ عوامی نمائندوں کے ساتھ ساتھ ٹی ایم اے کی سفاکانہ بے حسی کے باعث اسی گندے پانی میں بہہ سا گیا ہے۔ راقم کی خود ٹی ایم اے کے چیف سینٹری انسپکٹر سے بارہا بات ہوئی جو کہ ہر اُس میٹنگ کا بھی حصہ رہے جب یہ منصوبہ پائپ لائن میں تھا اور یہاں تک کہ جب سیکٹری پبلک ہیلتھ نے اعلیٰ افسران کے ساتھ ابتدا میں دورہ کیا تھا تب بھی یہ موصوف شاملِ عملہ تھے ۔
مگر کوئی مثبت رسپونس نہیں رہا۔ تمام لائنیں بِچھ جانے کے باوجود آج بھی یہ مسئلہ درپیش ہے۔ ڈی سی اور کمشنر بہاولپور کی بھی پراسرار خاموشی اپنی جگہ سوالیہ نشان ہے ۔اس سارے سیوریج منصوبہ کی تنصیب کے بجٹ میں سے ایک بجٹ تھرڈ پارٹی آڈٹ کا بھی رکھا گیا تھا مگر بار بار اس پر توجہ دلانے کے باوجود آج بھی وہ آڈٹ نہ ہوسکا۔ پبلک ہیلتھ سے ہینڈ اوور معاہدہ ہوجانے کے باوجود بھی ٹی ایم اے کی بدترین کارکردگی اس محکمہ پر کروڑوں ماہانہ خرچ کرنے پر ان کے ماتھے کا کلنک بن چکی ہے۔
ہسپتال انتظامیہ کی اپنا ہسپتال بچاو اور اندرون شہر کو گندے پانی میں ڈبو پالیسی پر انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ میری عوامی نمائندوں اور انتظامی سربراہان سے مطالبہ ہے کہ اس مسئلہ پر توجہ دیں تاکہ ریاستِ بہاولپور کا یہ شہر ان مسائل سے چھٹکارا پاسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں