احساس ذمہ داری بمع ایمانداری – لطیف النساء




ماشاء اللہ ، سبحان اللہ کہ اللہ نے یہ دن دکھا یا جتنا شکر کیا جائے کم ہے . واقعی سوچیں دنیا میں کیا کچھ ہو گیا اور الحمد للہ ……… اللہ تعالیٰ نے ہمیں محفوظ ر کھا ، روزے دیئے ، عید الفطر عطا کی ، عید قرباں منائی ، گرمی ، بارش تنگی سب کچھ اللہ کے کرم سے گزر گئے . یہ اسکا فضل ہی تو ہے . اس دن کے آنے سے ہفتوں پہلے تیاریاں شروع ہو گئیں .
جھنڈیاں ، بینرز، اسٹیکرز، کپڑے ، جیولری ، پمفلٹس اور نہ جانے کیا کیا جنکے ذریعے ہم اپنے جوش و خروش کو نمایاں کرتے ہیں خوش ہوتے ہیں ۔ چراغاں کرتے ہیں، رش لگاتے ہیں ، گاتے بجاتے ہیں اور راستوں میں بے ہنگمی پیدا کرکے مشکلات اور حالات بد پیدا کرتے ہیں ۔ کہیں پٹا خوں کا شور تو کہیں فائرنگ کی گونج پھر اسی دن لڑکے لڑکیوں بچوں کا بے تحاشا رش ، ہرے سفید کپڑوں کی بے تکی نمائش ، بے حیائی اور بدنظمی کا سر عام مظاہرہ جس میں ماں باپ خود ملوث ہوتے ہیں اور شے دیتے ہیں کہ یہ خوشی ہے انجوائے کرنے دو ! ٹھیک ہے ۔ خوشی ہے لیکن ہمیں خوشیوں کے بھی آداب سکھائے گئے ہیں۔ اس میں بھی سب سے پہلے شکر خداوندی صدقہ خیرات ، لوگوں کی فلاح و بہبودکے کام ، غریبوں بے کسوں کی سرپرستی ۔ اپنے گھر پاکستان کی سرزمین کی صفائی ستھرائی، گڑھے اونچ نیچ ، گٹر نا لوں ، سڑکوں کی مرمت اور راستوں کی ہمواری زیادہ توجہ طلب کام ہے ۔
تھوڑی سی توجہ ایک جان ہو کر ان پر بھی دیں اپنا حق ادا کریں ۔ صرف اپنے گھر کے آگے حصے کو صاف ستھرا ہموار بنادیں ہر بندہ دوسرے کی تکلیف کا احساس کرتے ہوئے راستوں میں ہمواری ، پانی اور سایوں کا تھوڑا سا انتظام کردے ۔ درختوں کی حفاظت کریں ، انہیں پانی دیں ، گٹروں کے ڈھکن چرائیں نہیں لگائیں اور پھر نگرانی بھی کریں ۔ ایمانداری اور اپنے احساس ذمہ داری سے تو یہ کام ہزار درجہ بہتر ہوگا۔ پہلے جو ضروری کام ہے وہ کریں ۔ دیکھیں اس میں کتنی خوشی اور سکون ہے ! جب ہمارے سامنے بجلی ، پیٹرول لوگوں کے قیمتی وقت جھنڈوں میں استعمال ہونے والے کپڑے کا غذ اور دوسرے ڈھیروں لوازمات آتی ہیں جو چند گھنٹوں بعد کوڑی کی نہیں رہتی ہیں اور پائوں تلے روندھی جاتی ہیں تو انتہائی افسوس ہوتا ہے ۔ اس غریب ملک میں ابھی تو بہت کام ہے یہ کوئی اور نہیں کرے گا ہمارا گھر ہے ہمیں ہی اس کو آباد کرنا ہے ، سلامت رکھنا ہے ۔
اسطرح تو ہم خود اپنے پائوں پر کلہاڑی ماررہے ہیں . کوئی محنت کے پیسے کو یوں ضائع نہیں کرتا ! اسراف منع ہے ، لغو حرکات منع ہیں ، خرافات سے پناہ مانگی گئی ہے ، کہتے ہیں سنتے اور سناتے ہیں کرتے کیوں نہیں ہیں؟ پھر ہم کو ن ہوئے ؟ تو گویا یوم آزادی تو ہماری جانچ کا دن ہے ، احساس ذمہ داری اور ایمانداری سے نبھانے کا یقینی منصوبہ ہے ، عہد کی پابندی ہے ، رب کی رضا مندی ہے اورشکر گزاری کا دن ہے تو ہمارا عمل کیسا ؟ اپنے روئیے پر غور کریں !
اپنے ماں باپ ، دادا دادی ، نانا نانی سے انکے حالات سنیں پاکستان کی تعمیر میں انکی قربانیاں سنیں اور سرچ بھی کرلیں ۔ اب تو ماضی بھی آپ سے چھپا نہیں ، انکار کی گنجائش نہیں انہوں نے لاکھوں جان مال کی قربانیوں کے بعد یہ عظیم تحفہ آپ کو ، ہم کو دیا اور ہم اس کیا قدر کررہے ہیں ؟ ہم تو مغربی دنیا اور ماڈرن ورلڈ کے دلدادا اپنے گھروں میں اپنے رشتہ داروں ، بڑوں چھوٹوں کا حق نبھانے میں ڈنڈی مار رہے ہیںانکی ناقدری کرکے ، حق تلفی کرکے ، بد اخلاقی اور بد کرداری کرکے ، تعلیم دینی اور دنیاوی سے منہ موڑ کر تو پھر ہمیں کیا حق ہوتا ہے کہ ہم یوں دیوانوں کی طرح ناچیں گائیں ؟ ہمیں تو تڑپ ، طلب اور لگن کے ساتھ محنت کرنی ہے ، تعلیم دینی اور دنیاوی حاصل کرنی ہے ہم ہی تو مستقبل کی باگ ڈور سنبھالنے والے ہیں اگر ایمان علم اور عمل سے بہرور نہ ہوئے تو سب کچھ بے کار ہے۔ اگر سدھار پیدا نہیں کرسکتے تو اس وقت، توانائی ، وسائل کو یوں ضائع کرنے کا بھی ہمیں حق نہیں ۔
خود کو پہنچائیں ، شناخت کریں ہمیں کیا ہونا چاہئے ؟ ہم کیا ہیں ۔ کیا ہم اپنی زندگی کا اس ملک کا حق نبھا رہے ہیں ؟ اپنے والدین ، اساتذہ ، عزیز رشتہ دار نوکریوں اور کاروبار میں مخلص ہیں ؟ ہماری کمائیاں جائز ہیں ؟ ہمارا وقت اور صلاحیتیں صحیح جگہ لگ رہی ہیں ؟ اگر لگ رہی ہیں تومبارک ہیں وہ لوگ اور انکے ارادے اور کام جو ملک کی تعمیر میں جتے ہیں مگر جو ضمیر کے آگے شرمندہ ہیں انہیں آج عہد کرنا ہوگا کہ انہیں اس ملک کو خزاں سے بچانا ہے چاہے اس کیلئے انہیں اپنی بہاریں اور جانیں تک دینی پڑے ۔ ہم نے سنا ہے نا کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے۔ ہم تو مشکلوں کی شکایتیں کرتے ہیں انہیں دور کرنے کی کوشش نہیں کرتے ۔ تعاون ہر ایک سے حکومت سے ، اپنی ذات سے ، اپنے اداروں سے ، اپنی ذمہ داریوں سے ، اہل و عیال سے ، محلہ داروں سے خوشگوار تعاون تاکہ معاملات خوشگوار اور حالات استوار رہیں ۔
یہ کیا کہ برسوں سے ایک دوسرے کی کاٹ میں لگے ہیں ۔ زندگی کسی کا انتظار تھوڑی کرے گی وقت تو بہتی دھارا ہے اپنے منصوبے ارادے اور عمل کا انتظار نہیں کرے گا ۔ یقین جانئے اگر آپ مخلص ہو کر لگن سے کام کریں تو کام ہو جائے گا وقت بچ جاتا ہے دوسرے معنوں میں آپکی جیت ہوتی ہے ۔ ہم نے شروع سے بچوں میں وقت ، کام ، ذمہ داریوں ، علم و آگہی کو ، خوشگوار رویوں کو مثبت کردار سازی کو ایسے پیوست کرنا ہے ا نہیں ایسے کام کرنے والے بنانا ہے کہ وہ ایسے نبھانے والے بن جائیں کہ دنیا یاد کرے جیسے ؎
کچھ لوگ نبھاتے ہیں ایسا
ہوتےہی نہیں دھڑکن سے جدا
راتوں کے تقدس کو پامال کرناہمارا شیوہ نہیں ۔ خوشی غمی کے آداب کا لحاظ رکھنا مہذب زندگی کا طرئہ امتیاز ہے ۔ نقالی میں ہم پٹری سے اتر کر جہنم کے قریب آتے جا رہے ہیں اور جانتے بوجھتے بے خبر بنے بیٹھے ہیں یہ نادانی ہے ، بے ایمانی ہے، آزادی کی بربادی ہے تذلیل ہے ہے کیونکہ جانوں کی قربانی دنیا آسان نہیں اتنی قیمتی شے کی یوں ناقدری ناشکر گزاری اور بد تہذیبی ہے ۔ خدارا ایمان بڑھائیے ۔ سمجھداری اور بردباری پیدا کریں تو ہی آپ کل سے زیادہ آج کامیاب ہوں گے ورنہ تنزلی آپ خود خرید رہے ہیں اور گھاٹے کا سودا کر رہے ہیں۔ اس وقت میں خود پٹا خوں اور فائرنگ کی ان آوازوں کو سننے کی قابل نہیں میراقلم اورمیرا بدن بھی لرز رہا ہے اوریہ گولیاں اور توا نائیاں ضائع ہورہی ہیں ، لوگوں کو جنکے بچھڑے بزرگ گزرے ، انکی یاد تازہ کررہے ہیں ، کہیں کسی کو رلا رہے ہیں ، بچے چیخ چیخ کر اٹھ رہے ہیں کیا یہ کوئی مذاق نہیں ہے ؟
یہ شیطا نی عمل ہے ! جو ہم پر حاوی ہے اور ہم اسلامی ملک کا دعویٰ کرنے والے کلمے کا مطلب سمجھانے والے کیا کر رہے ہیں ؟ کس پہر کر رہے ہیں خو د سوچیں ٹھیک کررہے ہیں ؟؟ کل اخبارات میں کئی وارداتیں اور اموات، حادثات کو کیا معمولی سمجھ لیا ہے؟ اس کا کون ذمہ دار کون قصور وار ؟ کیسے ازالہ کروگے ؟ کب کرو گے ؟ کب تم بگڑے ؟ کیوں تم بگڑے ؟ کس کس کو بتلائو گے ؟ اتنی دور تو آپہنچے ہو اور کہاں تک جائو گے؟ اپنی آزادی سے دوسروں کی بربادی نہ کرو ، پڑوسیوں کو دیکھیں کشمیریوں کو دیکھیں !! کیا تمہیں ان کا بھی غم نہیں ؟ کم از کم ان کے غم میں شریک ہو کر ان کیلئے تمام وسائل کی آمدنیوں کو نثار کر دیں، گانے بجانے ، پروگرامز کرنے، ہلہ گلہ کرنے سے تو کہیں بہتر ہوتا۔ تکبیریں بڑھتے دعائیں کرتے اور انکی آزادی کیلئے فنڈزاکٹھا کرتے ۔ نیکیاں کرتے وہ بھی دریا میں ڈالنے کے لئے تاکہ وہ ہمیں طوفانوں سے نکالے ۔ وہ گانا سنا تھا ٹی وی پہ کہ ؎
لا ئے ہیں ہم طوفان سے کشتی نکال کے
رکھنا اسے تم میرے بچوں سنبھال کے
تو ہم کیسے سنبھالیں گے؟ خدارا مثبت انداز اپنائیے ، جامع حکمت عملی بنائیے اور اللہ سے دعا کریں کہ اللہ پاک تیرا شکر ہے ہمیں اپنا شکر گزار بندہ بنالے اور ہم سے واقعتا وہ کام لے لے جس کیلئے ہمیں مسلمان بنانا اور یہ ملک دیا تا کہ ہم اس میں تیرے دین کو نافذ کریں ۔ مایوسی کفر ہے ۔ ہمیں اپنی شنا خت دے ، ایمان دے اوراحساس ذمہ داری دے کہ ہم اس کی حفاظت کریں اور مت مسلمہ بن کر دکھائیں ۔ آمین
یا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرما دے، جو روح کو تڑپا دے

اپنا تبصرہ بھیجیں