دُنیائے تعلیم و تدریس: ایک قدم آگے،ایک قدم پیچھے – ہمایوں مجاہد تارڑ




نصابی کتب اور تدریس میں اردو کو بطور میڈیم اپنا لینے کا فیصلہ خوش آئند ہے۔ اس پر بے حد خوشی ہے. یعنی انگریزی زبان کو اب ایک لینگویج کے بطور ٹریٹ کیا جائے گا، نہ کہ مضمون کے بطور۔ یہ رہا ایک قدم آگے۔
اب دوسری بات۔
اگرچہ دُعا گو ہوں کہ اِس ‘پُرحکمت’ اقدام اندر سے بھی خیر کا پہلو برآمد ہو، اور ہماری بگڑی کسی طور سنور جائے۔ تاہم، بظاہر یہ فیصلہ ناقابلِ فہم ہے، اور خوف یہ ہے کہ موجودہ وزارتِ تعلیم اپنے پیشروؤں کی مانند اربوں روپے بے مغز طور ضائع نہ کر بیٹھے جس کا بہتر و بامقصد استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کانسپٹ کلیئر ہونے کی دیر ہے۔ فکری اصلاح میسر آگئی تو بات بن جائے گی۔ مارگلہ پہاڑی کے دل شاد پہلو میں آباد حکومتی مرکز کے ایک ایوان میں پچھلے تین روز سے محفل سجی ہے، آج جس کا آخری دن ہے۔ یہ قومی نصاب کونسل یعنی National Curriculum Council کی تین روزہ کانفرنس ہے۔ اطلاع یہ ہے کہ مجموعی اعتبار سے خاصا کام ہو رہا ہے، خوب میراتھن قسم کی مشقّت جاری ہے کہ وطنِ عزیز کے نظامِ تعلیم کو انقلاب آشنا کیا جائے۔
اس کانفرنس میں شعبہ تعلیم سے جڑے ذمّہ دار افرادِ کار نے اپنی دوبرسوں پر محیط ریسرچ ورک کا نچوڑ پیش کرنا تھا، اور وہ یہ ہے کہ تمام تعلیمی ادارے حکومتی ٹیکسٹ بُک بورڈ کی جاری کردہ کتب استعمال کرنے کے پابند ہوں گے۔ اِس خاطر شعبہ تعلیم سے وابستہ تمام سٹیک ہولڈرز کو ملک کے طُول و عرض سے مدعو کیا گیا تاکہ اعتماد میں لیا جا سکے کہ یکساں نصابِ تعلیم کے خواب کی تعبیر ممکن بنائی جائے۔ اس پروگرام کے خاص شرکا مصنّفین اور پبلشرز ہیں۔ پہلے مرحلہ میں یہ کانفرنس گریڈ 1 تا گریڈ 5 تک کے نصاب پر فوکس کیے ہوئے ہے۔ اس ضمن میں بنیادی نوعیت کا ایک اہم فیصلہ یہ ہے کہ نجی اور سرکاری تعلیمی اداروں میں یکساں نصابی کتب استعمال کی جائیں گی جو وفاقی حکومت اپنی نگرانی میں تیار کرائے گی۔ اس سلسلہ میں آکسفورڈ اور آفاق پبلشرز ایسے بعض بڑے اور مستند اداروں کو ان کتب کی اشاعت و ترسیل میں حصہ دیا جائے گا وغیرہ۔
اِس سے پہلے ملک کی تمام اکائیوں اور طبقہ ہائے زندگی کی شخصیات کو اعتماد میں لے کر وسیع البنیاد مشاورت کے ساتھ متفقہ نصاب curriculum تیار کیا جا چکا ہے جو بلا شبہہ ایک بڑی کامیابی ہے۔
یہاں ہمارا موضوع ہے:
یکساں نصابِ تعلیم کے نام پر یکساں کتاب؟!!
یعنی، پرائیویٹ اور پبلک سیکٹر کے تمام ادارے بشمول دینی مدارس حکومتی ٹیکسٹ بُک بورڈ کی جاری کردہ نصابی کتب ہی پڑھائیں گے۔ سائنس ہو یا میتھ، اردو، انگریزی، جیوگرافی، اسلامیات، ہر مضمون کے لیے ملک کے طول و عرض میں یکساں کتاب پڑھی اور پڑھائی جائے گی تا کہ نصابی مواد سے متعلق کسی نوع کا ابہام باقی نہ رہے، نیز یہ کہ ایک قومی سوچ پیدا ہو۔ مَیں مضطرب دل کے ساتھ اِس تین روزہ کانفرنس میں شامل اپنے کچھ احباب کی جانب سے فِیڈ بیک کے انتظار میں بیٹھا تھا، معاً ایک خیال آیا — کیوں نہ اپنے سوشل میڈیا روابط کو ‘چھیڑ’ کر دیکھا جائے کہ جن ترقی یافتہ ممالک میں وہ بیٹھے ہیں، آیا وہاں بھی اسی نوع کا چلن ہے۔ کینیڈا، انگلینڈ، سویڈن، اور امریکہ میں مقیم فیس بُک فرینڈز کا اِنباکس دروازہ کھٹکھٹایا تو ہر مقام سے ایک ہی بات دوہرائی گئی: یہاں سٹوڈینٹس اور ٹیچرز کے پاس کوئی نصابی کتاب نہیں دیکھی گئی! بوجوہ اُن اقوام کی کتاب دوستی قابلِ رشک ہے، اور شاید یہی بڑی وجہ ہے!
خیر، بتایا گیا کہ یہاں اہداف ہیں، آبجیکٹِوز ہیں، کچھ کامن نوعیت کے نصابی مقاصد ہوا کرتے ہیں، تعلیمی پالیسی اور پیشہ ورانہ تربیت پر زور ہے اور بس! اس سے آگے اسباق کی سالانہ، ماہانہ، ہفتہ وار، اور یومیہ منصوبہ بندی یعنی لَیسن پلاننگ اور تیاری کا غلغلہ ہے، اساتذہ کی پروفیشنل ٹریننگ کا اہتمام ہے ……. کہ دورانِ تدریس ایک well prepared ٹیچر کو بچوں کے روبرو اور والدین کے لیے sources and resources کھولنا ہوتے ہیں۔ یعنی ایکسپلور کرنے والی فضا کو پروموٹ کیا جاتا ہے، نہ کہ بوریت کا شکار کرتی کتابِ واحد پر فوکس کرا کر امکانات کے دروازے بند کر دئیے جائیں۔
بتایا گیا کہ یہاں استاد کا کام ہے سٹوڈینٹس کو ٹریک پر چڑھا کر رواں کر دینا۔ اُنہیں اہداف سونپ کر مزید تلاشنے اور کھوجنے اور بکھرے اجزا کو اکٹھا کر کے جوڑنے کی راہ پر ڈال دینا۔ تب بچے اور والدین مطلوبہ مواد لائبریری میں رکھی کتابوں سے ڈھونڈیں یا انٹرنیٹ کے سمندر پر تیرتی ویب گاہوں کو کھنگالیں، یہ اُن کا اپنا دردِ سر ہے۔ ہمارے یہاں ہونا کیا چاہئیے؟ کہ:
1- کتاب اور بھاری بستہ کلچر کو اُچک کر باہر پھینک دیا جائے۔ حکومت کا کام کتابیں چھاپنا نہیں، پالیسی دینا ہے، اسے بہ قوّت نافذ کرانا ہے۔ تدریسی مزاج کے حامل، وطنِ عزیز کے اعلٰی ترین دماغوں کا انتخاب، اور اُن کی پیشہ ورانہ تربیت! خدارا، آٹھ کتابوں، آٹھ کاپیوں والی بوری ننّھے بچوں کی کمر سے اتار لی جائے۔
2- نصابی کتابوں کی اشاعت پر اٹھنے والا خرچ بچا کر اِن گورنمنٹ سکولز کو انفراسٹرکچر فراہم کیا جائے۔ جبکہ نصابی کتابوں کی اشاعت کے لیے پرائیویٹ سیکٹر میں اوپن مارکیٹ competition کی فضا استوار کی جائے۔ اس میں بے شمار لوگوں کا روزگار بھی ہے اور لکھنے لکھانے کے صحت مندانہ عمل کا فروغ بھی۔
3- ہر دو کلومیٹر کے علاقہ میں دو ڈھائی سو بچوں کے لیے چھ، سات کمروں پر مشتمل ایک عدد سکول کا قیام ممکن بنایا جائے۔ ترقی یافتہ ممالک میں تقریباً ہر گھرانے کو قدمی فاصلہ پر سکول ملا کرتا ہے ـــ معیاری و مفت تعلیم والا گورنمنٹ سکول! جبھی ممکن ہو پائے گا کہ ایک کمرہِ جماعت میں طلبہ کی تعداد 20 یا 25 سے تجاوز نہ کرے۔
4- بتدریج، میٹرک تک کی تعلیم کی مُفت فراہمی کی جانب بڑھا جائے۔
5- عظیم ترین مسئلہ تعلیمی اداروں میں بیٹھے اوسط درجہ دماغ لوگ ہیں جو تدریسی صلاحیت سے محروم حادثاتی طور نوکری کی غرض سے وارد ہوئے ہیں۔ ایسے اساتذہ بچے کی تعلیم و تربیت کے رستے میں خود سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ انہیں بتدریج ریمُوو کر دیا جائے۔ فِن لینڈ کی طرز پر یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہوتی ٹاپ 10 فیصد ذہین ترین کھیپ میں سے تدریسی صلاحیت و مزاج کے حامل افراد کا انتخاب کیا جائے۔ تب اُن کو ٹریننگ دی جائے۔ ایک سُبک رفتار دماغی صلاحیت کا حامل متوازن الطبع اور updated استاد ہی بچے کی دنیا کا معمار ہے، بچے کی تعلیم و تربیت کا ضامن۔
6- ایسے افراد کی تنخواہ اور مراعات فِن لینڈ ماڈل کی طرز پر اِس قدر پُرکشش بنا دی جائیں کہ ٹیچر بننا ہر شخص کی زندگی کا خواب بن جائے۔ فِن لینڈ کے شعبہ تعلیم میں ہر سال لاکھوں افراد ایپلائی کیا کرتے ہیں۔ بیشتر درخواستیں مسترد کر دی جاتی ہیں۔ وہاں فی الواقع استاد کا مقام، اس کی توقیر ایک ڈاکٹر یا انجینئر سے کہیں زیادہ ہے۔ اساتذہ رہائشی اور مالی اعتبار سے آسودہ ہیں۔ ٹیوشن کلچر ناپید ہے۔
7- اور پھر ایسے اساتذہ کا workload دن میں چار عدد کلاسز سے زیادہ نہ ہو۔ بہت اہم نکتہ ہے!
8- یہ بات ہماری تعلیمی پالیسی کا مستقل حصہ بنائی جائے کہ (اٹیچمنٹ تھیوری کے پیشِ نظر) گریڈ وَن سے لے کرگریڈ 6 تک ٹیچر تبدیل نہیں ہو گا/گی۔ چھوٹے بچے کی نفسیات پر اس کا گہرا اثر پڑتا ہے۔
9- ماہانہ اور سہہ ماہی امتحانات یکسر ختم کر دئیے جائیں۔ بچوں اور اساتذہ کو گریڈز والی فضا سے باہر نکالا جائے۔ یہ نفسیات شکن عمل ہے۔ اس کی بجائے daily assessment والے پروفارمے بنا کر ایک نیا کلچر پروان چڑھایا جائے۔ ایک بچے کا مقابلہ اس کی اپنی گذشتہ self سے ہوا کرتا ہے، نہ کہ دوسرے بچوں سے ـــ چونکہ ہر بچہ اپنے منفرد مسائل اور صلاحیتیں رکھتا ہے۔ فِن لینڈ کی طرز پر بچوں کو ایک بڑا major exam صرف 15 برس کی عمر میں دیا جائے جس پر سرٹیفیکیشن کر دی جائے۔
مجھ ناچیز کی نگاہ میں یہ اصل مسائل جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ دیکھیں، امریکی ریاست میری لینڈ سے ایک بہن نے بتایا کہ یہاں SAT سکور اپنی اہمیت کھو چکا ہے۔ کیوں؟ ۔۔۔ دیکھا یہ جا رہا تھا کہ سٹوڈینٹس کا سارا فوکس اور مطمحِ نظر بس اِس ٹیسٹ کی تیاری کرنا رہ گیا تھا۔ اب اس کی بجائے یونیورسٹی ایڈمشن کے لیے اہمیت اس بات کو دی جارہی ہے کہ بچے نے نویں، دسویں، گیارہویں، اور بارہویں جماعتوں میں کن کن سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ اس نے دورانِ تعلیم پراجیکٹس کیا اور کتنے کیے، اس کا ایکسپوژر کتنا ہے؟ ترقی کا راز یہ ہے کہ سیکھ کر آگے بڑھا جائے، نہ کہ طرزِ کُہن پہ اَڑا جائے۔
ترقی کرنے کا سادہ سا اصول ہے:
چند قدم چلو، مُڑ کر کارکردگی کا جائزہ لو، غلطیاں تسلیم کرو، طریقہ کار بدلو، نئی حکمتِ عملی اختیار کرو، آگے بڑھو ۔۔۔ اور اس عمل کو دوہراتے جاؤ۔
ایک آخری بات۔
ایک سوچ یہ بھی ہے کہ پاکستان کی مخصوص صورتحال کے تناطر میں یکساں کتاب فارمولہ ایک درست اقدام ہے، بالخصوص دینی مدارس کو مین سٹریم میں لانے کے حوالے سے۔ مجھے اعتراف ہے ، یہ نکتہ قابلِ صد اعتنا ہے! میری معلومات کے مطابق عمران خان نہ صرف خود پوری طرح سنجیدہ و مخلص ہیں کہ نظامِ تعلیم کو revolutionize کیا جائے بلکہ وزارتِ تعلیم میں سرگرم ان کی ٹیم بھی ۔ لیکن یہ خوب دِقّت طلب اور وقت طلب کام ہے ۔ دیکھتے ہیں یہ معرکہ سر ہوتا ہے یا نہیں ۔ اصل میں ، بگاڑ کا حجم بہت بڑا ہے ۔ وقت بہت کم ہے اور وسائل محدود ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں