ڈگری کو دل پر نہ لیں – جہانزیب راضی




سر! داخلہ کس طرح یونیورسٹی میں لوں؟ سر! کس فیلڈ میں داخلہ لوں؟ سر! فلاں فیلڈ کا اسکوپ کتنا ہے؟ سر! اس فیلڈ میں ڈگری لینے کے بعد جاب تو آسانی سے مل جاتی ہے نا؟ سر ۔۔۔!
بس جیسے ہی یہ دن آتے ہیں بچوں کی کالز بھی آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ وہ ملاقات کرکے بھی پوچھنا چاہتے ہیں کہ کون سی ڈگری، کون سی یونیورسٹی اور کون سی فیلڈ کی “ریٹنگ” اس وقت ٹاپ پر چل رہی ہے؟ ڈگری بھی چینل کے موافق ہو گئی ہے، یہ بھی ریٹنگ مانگتی ہے۔
بہرحال اس دفعہ بھی یہی صورتحال ہے بلکہ کرونا کی وجہ سے بچے زیادہ پریشان ہیں دنیا میں سب سے زیادہ بزنس وہ چلتا ہے جو انسانوں میں خوف پیدا کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے اور انٹرمیڈیٹ کے طلبہ و طالبات اس وقت جس خوف اور سراسیمگی کا شکار ہیں اس کا سب سے زیادہ فائدہ پرائیویٹ یونیورسٹیز کو ہوتا ہے۔ والدین اپنی حسرتوں کو اپنے بچوں میں پورا کرنا چاہتے ہیں۔ “لوگ کیا کر رہے ہیں؟” اور “لوگ کیا کہیں گے؟” اس وقت سب سے زیادہ ٹرینڈنگ پر یہی جملہ ہے۔
دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ہر آنے والے دن کے ساتھ یونیورسٹیز کی اہمیت کم سے کم تر ہوتی چلی جارہی ہے ۔کرونا کے دوران ویسے بھی تعلیمی اداروں بشمول یونیورسٹیز کا “پول” کھل چکا ہے۔ ہماری اجتماعی زندگی میں اسکول، کالج، سینٹرز اور یونیورسٹی کی کتنی اہمیت ہے اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لیں کہ ملک میں سوائے درج بالا مقامات کے سب کچھ مکمل طور پر کھل چکا ہے اور برائے مہربانی جس طرح احتساب کے نام پر جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے اسی طرح اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے نام پر فورا تعلیم اور مستقبل کو خطرے میں نہ ڈال دیا کریں۔ تعلیم سال کے 12 مہینے، دن کے 24 گھنٹے اور ہفتے کے سات دن جاری و ساری رہ سکتی ہے بشرط یہ کہ آپ واقعی تعلیم کے حصول میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اپنے بچوں کو بھی تعلیم دینے کو سنجیدہ لیتے ہوں۔
“علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے” اور آپ یقین کریں اس حدیث کا کوئی تعلق اسکول، کالج اور یونیورسٹی سے نہیں ہے۔ جان ہالٹ کی کتاب “لرننگ آل دی ٹائم” کا مطالعہ کریں آپ کو مارک ٹوئن کا وہ جملہ درست معلوم ہوگا کہ “اصل میں تو وہی علم میرے پاس رہ گیا جو اسکول کے بعد میں نے بچا لیا”۔ گوگل نے پچھلے دنوں “کیریئر سرٹیفکیٹ” متعارف کروایا ہے۔ یہ چھ مہینے کا مختصرالمیعاد کورس ہے مگر اس کی اہمیت چار سالہ ڈگری پروگرام کے برابر ہے۔
1) ڈیٹا اینلسٹ
2) انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکسپرٹ
3) پروجیکٹ مینجمنٹ
4) اور یوزرز ایکسپرئینس
کی فیلڈز کے لیے فی الحال یہ “اسکل کورسسز” متعارف کروائے گئے ہیں۔ اب نوجوان صرف چھ مہینوں میں چار سالہ ڈگری لینے والوں کے برابر بلکہ شاید ان سے زیادہ اہمیت کے حامل ہو جائیں گے۔ اپنی ڈگری مکمل کرنے اور اسائنمنٹس “چھاپنے” کے لیے آپ کو جس گوگل کی صبح، شام اور دن، رات ضرورت پڑتی ہے اس سرٹیفیکٹ پر اسی گوگل کا نام اور نشان چھپا ہوا ہوگا۔
دنیا میں اب جابز کی ہئیت بھی تبدیل ہو چکی ہے۔ اگلے چار سالوں میں اس میں مزید بے انتہا تبدیلی واقع ہو چکی ہوگی، اگر آج 40 فیصد ڈگری یافتہ بے روزگار ہیں تو چار سال بعد یہ تعداد 60 اور 70 فیصد تک جاچکی ہو گی۔ اب اس دنیا کو ڈگری کی نہیں بلکہ آپ کی “اسکل” کی ضرورت ہے۔ اگر آپ واقعی “اسکل یافتہ” ہیں تو آپ کے لئیے ساری دنیا کھلی پڑی ہے آپ پروجیکٹ بیس کام پکڑئیے اپنے کمال کے مطابق پیسے حاصل کیجئے اور پھر اگلے پروجیکٹ کے لیے تیار ہوجائیے۔ اب پچیس ، تیس سال ایک ہی نوکری کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی اہمیت بلکہ اب کوئی بھی آپ کو اتنے سالوں کے لیے نوکری دینے کو تیار نہیں ہوگا کیونکہ آفس بنانا وہاں پر کئی سارے ملازمین کا مستقل درد سر پالنا اب شاید آسان نہیں ہے۔ اس وقت دنیا کی سب سے کم عمر ترین کاسمیٹکس انڈسٹری کی 23 سالہ نوجوان خاتون کو “کائے لی جینر” کے کل ملازمین کی تعداد صرف 12 ہے اور ان کی ساری کی ساری اشتہاری مہم صرف انسٹاگرام پر چلتی ہے، انہوں نے سب کچھ آؤٹ سورس کر رکھا ہے اور صرف انسٹاگرام اپنے ہاتھ میں لیا ہوا ہے۔
اگر آپ کو موٹرسائیکل چلانا آتی ہے تو پھر فوڈ پانڈا اور باءیکیا چلائیے، اگر کار چلانا آتی ہے تو اوبر اور کریم چلائیے، اگر ہائیس چلانا آتی ہے تو سیئول اور ائیر لفٹ چلائیے اگر گرافک ڈیزائننگ ویڈیو ایڈیٹنگ آتی ہے تو سینکڑوں لوگ آپ کے منتظر ہیں اور اگر آپ بولنا اچھا جانتے ہیں تو پبلک اسپیکنگ سکھائیے ۔غرض یہ کہ لوگ اب آپ کو نوکری نہیں صرف “کام” دینگے اور یہ بھی اس پر منحصر ہے کہ آپ کتنے کام کے بندے ہیں۔ میرا نوجوانوں کو مشورہ ہے کہ جب چار سال بعد آپ یونیورسٹی سے باہر نکلیں گے تو دنیا بدل چکی ہوگی ۔
آپ کی ڈگری ردی کے ٹکڑے سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں رکھتی ہوگی گوگل نے آج چار شعبوں اور چار ملکوں کے لئیے یہ کورسسز متعارف کروائے ہیں، چار سال بعد گوگل 140 شعبوں اور 140 ملکوں میں یہ کورسسز متعارف کروا دے گا پھر وہ نوجوان جو صرف چھ مہینے میں آپ کے برابر آ جائے گا عمر میں کم اور ہنر میں زیادہ ہوگا . ذرا سوچئے مارکیٹ میں کس کی اہمیت زیادہ ہوگی؟ میں نہیں کہتا کہ آپ یونیورسٹی میں داخلہ نہ لیں ۔ ضرور لیں کیونکہ دنیا دکھاوا اور ماں باپ کی خواہشات کی قدر بھی ضروری ہے مگر ایک اوسط طالب علم کی طرح ڈگری لیں اور اصل توجہ “اسکلز” سیکھنے پر لگائیں۔ یونیورسٹی کے ہر چھ مہینے میں چھ کورسسز آتے ہیں، چار مہینے پڑھائی ہوتی ہے، ایک مہینہ امتحانات، ایک مہینہ چھٹی۔
اگلے سمسٹر میں پھر سب کچھ تبدیل ہوچکا ہوتا ہے۔ یونویرسٹی آپ کو صرف فلیورز چکھاتی ہے ڈش بنانا بہرحال آپ کو خود ہی سیکھنا پڑے گا۔ کوشش کریں کہ داخلہ بھی کم از کم اس فیلڈ میں لیں جس میں کہیں نہ کہیں آپ کا شوق بھی موجود ہوسمسٹر کی چھٹیوں میں کوئی نہ کوئی کام یا پروجیکٹ میں مہینہ بھر اپنے آپ کو کھپائیں تاکہ آپ ڈگری کے ساتھ ساتھ ہنر بھی حاصل کریں اور خود کو اپڈیٹ بھی رکھیں بہرحال جو بھی کرنا ہے ضرور کریں مگر ڈگری کو دل پر نہ لیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں