کیا ملک ایسے چلتے ہیں؟ – حفصہ جنید




تھوڑی دیر کیلیے ہم سیاسی مخالفت کو سائیڈ پہ رکھ دیتے ہیں اور بطور پاکستانی یہ سوچتے ہیں کہ ہمارا ملک کہاں کھڑا ہے،دنیا کے انٹرنیشنل ادارے ہمارے ملک کے شعبوں کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟دنیا میں ہماری حیثیت کیا ہے؟10 سالوں بعد ہم کیا کھڑے ہونگے؟ہمارا کونسا ایسا ادارہ ہے جس کے بارے میں ماہرین اچھی رائے رکھتے ہوں؟
ہم سب سے پہلے تعلیم کے بارے میں سوچتے ہیں ، سچ بتایئے گا کہ کیا ہمارا تعلیمی نظام ایسا ہے کہ جس میں سے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات ملک و قوم کی ترقی میں کردار ادا کرسکیں؟کیا ہماری ڈگریز اس قابل ہیں کہ ان کو رٹا لگا کر حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات آنے والے جدید دور کے چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہوں؟تعلیمی سرکاری اداروں میں حکومت اتنا پیسہ جھونکنے کے باوجود عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام ہے،انتہا تو یہ ہے کہ سرکاری اداروں میں پڑھنے والے بچے کے ساری عمر احساس کمتری سے نکل نہیں پاتے۔آئین پاکستان کی شق A-25 کے مطابق ریاست 5 سے 16 سال کی عمر کے بچوں کو مفت اور معیاری تعلیم کی فراہمی کی پابند ہے لیکن اس کے باوجود ہزاروں بچے اسکول سے باہر ہیں۔یونیسف کی ایک رپورٹ کی ہیڈنگ:
An estimated 22.8 million children aged 5-16 are out of school..
صرف صوبہ پنجاب میں ایک کڑوڑ تیس لاکھ بچے اسکول نہیں جا پاتے۔۔جس کی بنیادی وجہ سہولیات کا فقدان اور والدین کا سرکاری اداروں پر عدم اعتماد ہے۔ پاکستان میں کافی تعداد والدین اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کے خواہشمند ہوتے ہیں لیکن حالات اجازت نہیں دیتے،جب وہ اپنے بچوں کا داخلہ سرکاری ادارے میں کروانے جاتے ہیں تو کانوں کو ہاتھ لگا کر بجھے دل کے ساتھ واپس آجاتے ہیں۔پاکستان کے سب سے پڑھے لکھے صوبہ پنجاب کے سرکاری اداروں کے حوالے سے ایک رپورٹ: پنجاب کے 20000 اسکول پانی، واشروم، بجلی اور استاد جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں،29 فیصد اسکول اساتذہ کی کمی کا شکار ہیں۔ سندھ میں سرکاری اسکولوں کی تعداد 49 ہزار ہے اس کے باوجود 35 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں ۔اور یہ اعداد و شمار حکومت کے ہیں،اللہ نے کرے کہ حقیقت میں تعداد اس سے زیادہ ہو۔
ہمیں نظر آتا ہے کہ والدین ڈھیروں پیسہ لگا کر اپنے بچوں کو باہر پڑھنے بھیجتے ہیں ،
جب بچے ڈگریز مکمل کر کے پاکستان واپس آتے ہیں تو انھیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تعلیمی حیثیت کے مطابق کوئی ایسا ریسرچ ادارہ نہیں ہے جس میں وہ اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھا سکیں،انہیں درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ کردیا جاتا ہے،اپنے ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کا جذبہ لے کر جب باہر پڑھنے والے طلبہ و طالبات پاکستان آتے ہیں تو یہ سب کچھ دیکھ کر انتہائی دلبرداشتہ ہوتے ہیں اور چند ہی دنوں میں اپنا بوریہ بستر لے کے نم آنکھوں کے ساتھ اپنے ملک کو الوداع کہہ دیتے ہیں۔۔اعدادو شمار کے مچا 1947 سے 1997 تک پاکستان میں 79229 ڈاکٹر بنے،ان میں 22324 ڈاکٹر یورپ اور امریکہ میں اپنی بدن سر انجام دے رہے ہیں،اس دوران 68686 انجینئرز تیار ہوئے جن میں سے 17518 بیرون ملک خدمات آنے دے رہے ہیں ، 1100 بین الاقوامی سطح کے سائنسدانوں میں سے 651 جرمنی ، فرانس ، انگلینڈ ، امریکہ اور آسٹریلیا میں آباد ہیں ۔ جبکہ خود پاکستان کی حالت یہ ہے کہ پاکستان میں ڈاکٹرز، سائنس دانوں کی کمی ہمیشہ محسوس ہوتی رہتی ہے۔۔
یہودیوں کے ایک سروے کے مطابق ان حالات میں پاکستانی دنیا کی چوتھی ذہین ترین قوم ہے اور اگر ان کو یورپ اور امریکہ جیسے وسائل مل جائیں تو پاکستان کا شمار دنیا کی سب سے ذہین ترین قوم میں ہوگا۔سوال یہ ہے کہ کیا دنیا کی چوتھی ذہین ترین قوم یوں ہی بے آبرو ہوتی رہے گی؟ اب ہم صحت کو دیکھ لیتے ہیں۔نالائقی کا یہ عالم ہے کہ ہمارا کوئی حکمران پاکستان سے اپنا چیک آپ نہیں کرواتا۔ذرا سا سر درد ہو تو پھر ان کی خیریت کی اطلاع لندن کے ہسپتالوں سے ملتی ہے۔پاکستان کا امیر طبقہ اپنی دوائیاں تک باہر سے منگواتا ہے کیونکہ پاکستان میں بنی ہوئی دوائیاں انھیں ہظم نہیں ہوتی۔۔اگرچہ پاکستان میں سرکاری ہسپتالوں کی تعداد 1279 ہے لیکن سرکاری ہسپتالوں میں چلے جاو تو پان کی پیک سے دیواریں ڈھکی ہوئی ہونگی،گندگی سے فرش ڈھکا ہوا ہوگا،ڈاکٹرز اور طبی عملہ نہیں ہوگا، دوائیاں نہیں ہونگی۔
پرائیوٹ ہسپتالوں میں جاو تو ڈاکٹرز ایک بیماری سے دس بیماریاں نکال کر ایک کاغذ پہ بیس دوائیاں لکھ کر ملک و قوم پہ احسان کر رہے ہونگے۔ جن کی قیمتیں دیکھ کر ایک دفعہ تو انسان کے چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں۔دوائیاں بھی عام انسان کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں پاکستان میں حالیہ رپورٹ کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر 100 دوائیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔جی ہاں،100۔۔قابل ڈاکٹرز اکثر بیرون ملک میں اپنی خدمات سر انجام دیتے ہوئے دکھائی دیں گے۔اور پاکستان کی حالت یہ ہے کہ 963 پاکستانیوں کےلیے صرف ایک ڈاکٹر موجود ہے۔جو کہ عالمی معیار کے مطابق کم ہے۔۔صحت کے عالمی رینک میں 190 ممالک میں سے سہولیات کے لحاظ سے پاکستان کا نمبر 154 ہے۔ گزشتہ مالی سال میں صحت کا بجٹ کل بجٹ کا محض صفر اشاریہ 53 فیصد بنتا تھا۔ماہرین کے مطابق پاکستان میں بیماریان جس رفتار سے پھیل رہی ہیں اس حساب سے کل بجٹ کا 50 فیصد صحت کے لیے مختص کرنا ہوگا۔
لیکن ہمارے ہاں تو 1 فیصد سے آگے کبھی بھی صحت کا بجٹ پہنچ ہی نہیں پاتا۔ہم نے کبھی بیماریوں کے پھیلاو کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کیے؟مثال کے طور پر پاکستان میں 50-60 فیصد بیماریاں آلودہ پانی کے سبب پھیلتی ہیں اگر ہم صرف پینے کے لیے صاف پانی کا ہی بندوبست کرلیں تو بیماریان 50-60 فیصد کم ہوجائیں گی ان شاللہ۔۔ لیکن یہ سب مسائل سوچنے اور انھیں حل کرنے کے لیے نہ ہی ہمارے پاس وقت ہے اور نہ ہی ہم انھیں ضروری سمجھتے ہیں۔شاید بہت کم لوگوں کو یہ بات معلوم ہو کہ 1973 کے آئین میں صحت پاکستان کی عوام کا بنیادی حق نہیں ہے۔۔ اب ایک لمحہ کو ہم ماحولیاتی آلودگی کے بارے میں بھی سوچ لیتے ہیں۔ماحولیاتی آلودگی میں آلودہ پانی، زمینی آلودگی، پانی کی کمی، فضائی آلودگی وغیرہ شامل ہیں۔۔پاکستان کو اس وقت ماحولیاتی مسائل کا شدید سامنا ہے جو انسانی صحت کےلیے حد درجہ خطرناک ہے اس کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ ای پی آئی رینکنگ میں پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں فضائی آلودگی میں ہر درجہ اضافہ ہوا ہے اور 2019 میں پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کو آلودگی میں چھٹا اور دوسرے بڑے شہر لاہور کو پہلا نمبر دیا گیا۔
پانی کی کمی کی صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کو 2019 میں آبی قلت میں دنیا کے 3 بڑے ممالک میں شامل کیا گیا تھا جبکہ دنیا کا سب سے بڑا ڈیم تربیلا ڈیم پاکستان میں ہے۔پاکستان کے ماہرین چلا چلا کر ماحولیاتی آلودگی کے نقصانات سے آگاہ کررہے ہیں اور نقصانات سے بچنے کے لیے جنگلات کا رقبہ وسیع کرنے اور کچرا صاف کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔کئی ترقی یافتہ ممالک اب کچرا درآمد کررہے ہیں لیکن ہم آج تک اس مسئلے کو حل نہیں کرسکے۔میونسپل کارپوریشن ہزاروں ٹن کچرا روزانہ کی بنیاد پر سمندر میں ڈال رہے ہیں جو آبی مخلوق اور ان لوگوں کے لیے جن کا دارومدار ہی سمندری مخلوق پہ ہے،کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ آپ کو شاید یہ جان کر حیرت ہوگی کہ پاکستان کا مصنوعی جنگل چھانگا مانگا دنیا کا سب سے بڑا مصنوعی جنگل ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان میں جنگلات کا رقبہ 4 فیصد ہے جو خطرناک حد تک کم ہے۔ سیلاب سے کافی جان و مالی نقصان ہوتا ہے اور جنگلات سیلاب کو روکنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔۔
کیا ہم نے کبھی ان مسائل پہ غور کیا؟ اب ایک نظر ہم بجلی کے شعبے کی طرف دوڑا لیتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوگا 2017-2018 کے مالی سال میں 29573MW بجلی ہم نے بنائی جبکہ عوام کی طلب 25000MW کے قریب قریب تھی لیکن کنڈا سسٹم اور بدانتظامی کی وجہ سے 700MW کا فالٹ ہوا۔ہم 49 فیصد بجلی تھرمل سے پیدا کرتے ہیں جو کہ پاکستان کے خزانے پر اچھا خاصہ بوجھ ہوتی ہے جبکہ پانی سے ہم صرف 30 فیصد بجلی بناتے ہیں۔جبکہ ماہرین کے مطابق 50000 میگاواٹ بجلی ہم پانی سے بنا سکتے ہیں یعنی دو پاکستانیوں کی طلب کے مطابق ، تھر میں ہمارے پاس 175 ارب ٹن کا کوئلہ موجود ہے لیکن اسے استعمال میں لانے کی زحمت نہیں کی گئی۔گذشتہ سال سندھ کی حکومت جاگی تو تھر کے کوئلہ سے بجلی بنانے کا فیصلہ کیا۔ہم نے کبھی سوچا کہ جب ہمارے پاس پانی سے بجلی بنانے کی سہولت موجود ہے تو ہم کیوں زرمبادلہ کا ایک بڑا حصہ باہر سے تیل منگوا کر بجلی بنانے میں صرف کردیتے ہیں،
ہم کیوں ڈیم بنا کر سستی بجلی نہیں بناتے؟کالا ڈیم بنانے کا فیصلہ کیا تو سندھ کے جاگیرداروں نے وہ تماشہ کیے کہ اللہ کی پناہ۔ڈیم بنانے میں سستی کرنے کی وجہ سے ہماری صنعتیں پیداوار مکمل کرنے کا ہدف حاصل نہیں کر پاتی اور خمیازہ قومی خزانے کو اٹھانا پڑتا ہے۔ اب ذرا معیشت کی طرف آجائیں تو دیکھ کے دماغ کے تارے روشن ہوجاتے ہیں۔کہیں کوئی معاشی پالیسی ہو تو بتایے گا۔حکومت قرض لیتی گئی اور کسی حکومت نے اس سوال پہ غور کیا کہ قرضے کیسے واپس کرنے ہیں؟کیا پارلیمنٹ ، ٹاک شوز میں یہ حکمران پارٹی کبھی اس بات پر غور کرتی ہوئی دکھائی دی کہ معیشت کو سنبھالنے کے لیے کیا پالیسیز ہونی چاہیے؟حد یہ ہے کہ GDP میں 40 فیصد کی حصہ دار اور 100 میں سے 96 ادارے SMES کے ہونے کے باوجود ان کو بدقسمتی سے کوئی حکومتی سرپرستی یا تعاون حاصل نہیں ہے امریکہ اقر یورپ کے بیشتر ممالک نے اپنے ملک میں SMES کو فروغ دے کر اپنے ملک کو ترقی کی جانب گامزن کیا لیکن یمارے ہاں آج تک کسی نے ان کے مسائل کو غور کرنے کے لیے اسمبلی کا اجلاس بلوایا ہے؟
SMES کم سرمایہ کاری،مہنگی بجلی،گیس، پانی،مہنگا انصاف اور کمزور ٹیکنالوجی کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہے۔پاکستان میں جتنے بھی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر منتخب ہوتے ہیں ان سب کا تعلق large amd mega industries دے ہوتا ہے اور وہ صرف اپنے اداروں کی مشکلات حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔کبھی کسی نے کوشش کی SMES کے لیے بھی الگ سے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا قیام عمل میں لایا جائے؟ہمارے ہاں قرض لے کر بجٹ بنا لیا جاتا ہے اس کے سوا ہماری کیا پالیسی رہی ہے؟ پاکستان ایک زرعی ملک ہے کیا ہم نے آنے والے دس سالوں کے لیے کوئی زرعی ہدف بنایا ہے۔ہمارے ملک میں 6۔79 فیصد ملین ہیکڑز قابل کاشت ہے لیکن ہم صرف 43۔20 فیصد ملین ہیکڑز زمینوں پر کاشت کرتے ہیں۔کیا کبھی ہم نے غور کیا کہ باقی زمین پر کس طرح کاشتکاری کی جاسکتی ہے؟قیمتوں کو مناسب سطح پر رکھنے،جاگیردارانہ نظام کو یکسر ختم کرنے کے لیے کوئی کوشش کی گئی؟ہمارے ہاں کمال یہ ہوتی ہے کہ زرعی یونیورسٹیاں بنا تو لی جاتی ہیں لیکن وہ زراعت میں جدید تحقیق کی بجائے قانون اور اور صحافت کی تعلیم دینا شروع کردیتی ہیں۔۔
ایک صدی مکمل ہونے والی ہے لیکن ہم آج تک اپنے ملک کے شعبوں کو درست کرنے کے لیے کوئی حکمت عملی نہیں بنا سکے . الف سے کر ی تک ہر شعبہ مشکلات کا شکار ہے۔ ہمارے بعد آزادی حاصل کرنے والی کئی قومیں جن میں چین، سنگاپور، ملائیشیا، اسرائیل سرفہرست ہیں ، ہم سے بہت آگے نکل چکی ہیں۔لیکن ہم پون صدی گزرنے کے بعد بھی اپنا کوئی ہدف نہیں بنا سکے کہ آئیندہ دس سالوں بعد ہم اپنے ملک کو کہاں دیکھتے ہیں؟ کیا ملک ایسے چلتے ہیں؟

اپنا تبصرہ بھیجیں