بس خدا ہی یاد نہ رہا ؟ – آصف محمود




کورونا عروج پر تھا تو ہم نے راتوں کو اذانیں دیں ، اللہ کو یاد کیا ، اس سے رحم کی درخواستیں کرتے رہے اور جب کورونا تھم گیا تو ہم نے دانشوری فرماناشروع کر دی ۔ کسی کے خیال میں یہ ہمارے موسم اور ہماری قوت مدافعت کا کمال ہے تو کوئی اسے جناب وزیر اعظم کی بصیرت کا اعجاز قرار دے رہا ہے ۔
اس ساری ترک تازی میں ہم اس اللہ کو بھول گئے جس کے فضل و کرم سے یہ بلا ٹلی ۔ وبا کے دنوں میں جب جان کے لالے پڑے تو ہم نے رات دس بجے اذانیں دیں تو اب جب یہ بلا تھم چکی ہے کیا اتنی سی توفیق بھی نہیں ہو سکتی کہ جذبہ تشکر کے تحت شکرانے کے دو نوافل ہی ادا کر لیے جائیں ۔ آئے روز قوم سے بے مقصد خطاب فرما کر قوم کے صبر کا امتحان لیا جاتا رہا کیا ایک خطاب مزید نہیں فرمایا جا سکتا کہ اے عزیز ہم وطنو! آئیے آج ہم سب مل کر اس اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں جس نے ہم پر رحم کیا ورنہ آپ اور آپ کی حکومت نے تو کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی؟ مورخ کم بخت کا کیا ہے وہ تو لکھ دے گا کہ کورونا نے جاتے جاتے میرے کان میں سرگوشی کی تھی کہ میں آئے روز کے قوم سے خطابات اور کورونا ٹائیگر فورس کے ڈر سے بھاگا جا رہا ہوں لیکن مورخ کا قلم یہ سوچ کر دو من کا ہو جائے گا کہ کورونا تو صوبہ سندھ سے بھی قریبا ختم ہو گیا . جہاں نہ قائدانہ فراست تھی اور نہ ہی کورونا سے کبڈی کھیل کر اسے چاروں شانے کر دینے کے لیے کوئی کورونا ٹائیگر فورس تھی ۔
پنجاب اور کے پی کے میں توقائدانہ بصیرت تھی سندھ میں کیا تھا کہ وہاں بھی کورونا کے کیسز نہ ہونے کے برابر رہ گئے۔عالم اسباب کی نفی ممکن نہیں لیکن اس حقیقت کا انکار بھی آسان نہیں کہ یہ صرف اللہ کا کرم تھا جس نے ہمیں بچا لیا ورنہ ہمارے انتظامات اور ہماری تدابیر کی کہانی تو ہر وہ آدمی جانتا ہے جس نے وفور شوق میں ریت میں سر نہ دے رکھا ہو۔ عالم اسباب حقیقت سہی لیکن انسان کی کم مائیگی کا قصہ تو کورونا نے بیچ چوراہے میں سنا دیا ہے۔ ایک معمولی سا جراثیم جسے انسانی آنکھ دیکھ بھی نہ سکے اور اس نے ساری دنیا کو گھما کر رکھ دیا۔ معاشی برج ہل کر رہ گئے اور دنیا اپنی جملہ سائنسی تحقیقات کے ساتھ بے بسی کی علامت بن گئی۔ علاج تلاش کرنا تو دور کی بات ہے کسی کو یہ بھی معلوم نہ ہو پایا اس وائرس کی نوعیت کیا ہے اور پھیلتا کیسے ہے۔
ماہرین کی جملہ تحقیق کم مائیگی کا استعارہ ہے۔آج تک یہ طے نہیں ہو سکا یہ صرف چھونے سے پھیلتا ہے یا ہوا میں بھی معلق رہ سکتا ہے اور معلق رہ سکتا ہے تو کتنی دیر۔روز ایک نئی تحقیق روز ایک نیا محقق۔ جب ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو پایا یہ پھیلتا کیسے ہے تو دانشوروں کی ترک تازی یہ کیسے طے کر پائے گی کہ پاکستان میں یہ تھم کیسے گیا؟پھر دانشوری کیسی؟ یہ اگر مگر کے دیوان اور یہ حاکم کی بصیرت کے قصے کیسے؟ سیدھی سیدھی عاجزی اختیار کرتے ہوئے کیا زبان میں آبلے پڑتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں اس وبا سے نجات دے دی اور ہم اس سے نجات پر قادر نہ تھے۔
ذرا سورہ الزمر تو کھولیے۔ خالق کائنات کیا کہتا ہے؟ ”انسان پر جب کوئی آفت آتی ہے تو وہ اپنے رب کی طرف رجوع کر کے اسے پکارتا ہے پھر جب اس کا رب اسے اپنی نعمت سے نواز دیتا ہے تو وہ اس مصیبت کو بھول جاتا ہے جس پر وہ پہلے پکار رہا تھا اور وہ دوسروں کو اس کا ہمسر ٹھہراتا ہے۔ سید مودودی تفہیم القرآن میں اس کی شرح بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ بلا کے ٹل جانے پر وہ کہتا ہے یہ بلا تو فلاں حضرت، فلاں بزرگ، فلاں دیوی یا فلاں دیوتا کے صدقے ٹل گئی۔ کسی نے موسم کو خراج تحسین پیش کر دیا کسی نے دیوتا کی بصیرت کا پرچم بنا لیا۔ بس ایک خدا ہی یاد نہ رہا۔ وبا جو ٹل گئی۔ سورہ العٰدیات میں فرمایا گیا ہے:”بے شک انسان اپنے رب کا بڑا نا شکرا ہے۔اور وہ خود اس پر گواہ ہے“۔ کہیں ایسا تو نہیں آپ، میں ہم سب یہی گواہی دے رہے ہیں۔وبا ٹل گئی ہے اور ہم بڑے ہی نا شکرے ہیں؟ ہم نا شکرے ہیں اور ہم ہی اس پر گواہ بھی ہیں۔کس فخر سے ہم خبریں شیئر کر رہے ہیں کہ دنیا حیران ہے کورونا پاکستان میں کیسے ختم ہو رہا ہے۔اور پھر اسے ہم اپنے ممدوحین کی بصیرت کا اعجاز قرار دینے پر بھی مصر ہیں۔
ہماری کارکردگی تو ہمارے سامنے ہے۔چند بڑے شہروں کو چھوڑ کر کسی نے ایس او پی کا کب خیال رکھا؟ بڑے شہروں میں بھی کتنے تھے جنہوں نے اپنے معمولات زندگی میں احتیاط اختیار کی؟ ڈاکٹر صاحبان نے جو احتیاط بتا چھوڑی تھیں کیا کسی معقول انسان کے لیے ان پر عمل کرنا ممکن بھی تھا۔ باقی کے کام تو چھوڑ ہی دیجیے، سادہ سے اس بنیادی اصول پر کتنوں نے عمل کیا کہ ہاتھوں کو بیس سیکنڈ تک صابن سے دھوئیے اور بار بار دھوئیے؟ ذرا گھڑی سامنے رکھ کر بیس سیکنڈ تک ہاتھ دھو کر تو دیکھیے۔پانچ سیکنڈ سے اوپر کم ہی لوگوں نے تردد فرمایا ہو گا۔ سینیٹائزر اور ماسک والے بھی کتنے ہوں گے؟ ایک فیصد یا دو فیصد یا پانچ فیصد؟ حکومت اور حکومتی اقدامات بھی یقینا تھے مگر کتنے؟ طبی سہولیات نہ تھیں اور معاشی کمزوری کا آزار الگ تھا۔
موسم بھی کون سا دنیا سے جدا تھا۔ ہم سے زیادہ گرم ممالک بھی دنیا موجود ہیں اور کورونا سے نجات نہیں پا سکے۔ مون سون کی نمی بھی ایک وجہ قرار دی جا رہی ہے تو بھارت کے مون سون سے ہمارے مون سون کا کیا مقابلہ۔ پھر کیا وجہ ہے بھارت میں کورونا ختم نہیں ہوا اور پاکستان میں ختم ہو رہا ہے۔تحقیق اور توجیح میں سے کوئی بھی بری چیز نہیں۔ تحقیق اور جستجو ہی زندگی کے تحرک کا نام ہے اور غوروفکر ہی سے راہیں کھلتی ہیں۔اس لیے کوئی سوچنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ یہ کیسے ہو گیا۔ خوب سوچیے لیکن عالم اسباب میں کوئی توجیح سجھائی نہ دے تو پھر یہ مان لینے میں کیا امر مانع ہے کہ اللہ رب العزت نے کرم فرمایا۔ عالم اسباب کی صورت گری بھی رب کی مرضی ہی سے ہوتی ہے۔ منشاء اسی کی ہوتی ہے پھر اسباب نمودار ہو جاتے ہیں۔ بارش اس کی مرضی ہے اور بادل عالم اسباب کی شکل ظہور کرتا ہے۔
صرف بارش پر قرآن میں جو مضامین ہیں آدمی پڑھ لے تو حیرت زدہ ہو جائے۔سورہ ملک ہی پڑھ لیجیے، خدا تو اپنے بندے سے باتیں کر رہا ہے۔نشانیاں تو جا بجا بکھری پڑی ہیں، ہم غور نہیں کرتے۔ ابھی بھی وقت ہے۔ آئیے اللہ کے حضور سجدہ شکر ادا کریں اور دعا کریں کہ وہ اس وبا کو ہمیشہ کے لیے اٹھا لے اور ہمیں عافیت عطا فرمائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں