سیلف اسٹیم – ڈاکٹرسارہ شاہ




ہم میں عمومی رجحان یہ ہے کہ ہم ان موضوعات کو اپنی ذات کے لئے اہم نہیں سمجھتے ۔ اسے نئے دور کی اصطلاح سمجھتے ہیں اور اتنا ہی اپنے لئے غیر اہم حالانکہ اس کا سلسلہ تو حضرت آدم علیہ سلام سے لے کر دنیا کے آخری شخض تک رہے گا . خود شناسائی یا اپنی ذات کی پہچان کیا ہے ؟ اور کیوں ضروری ہے ؟

ہم ہمیشہ سے اپنے آپ کو اسی فریم میں دیکھتے آئے جو ہمارے اردگرد لوگوں اور ماحول نے بنایا . جس کی وجہ سے کسی کی منفی بات یا منفی رویہ ہماری self esteem کو مجروح کر دیتا ہے۔ ہمارا confidence کم کردیتا ہے ۔ ہم اپنا پرسنلیٹی فریم نہیں بنا پاتے ۔ جس میں کسی تنقید کی وجہ سے ہم خود کو گرا ہوا محسوس نا کریں ۔ اور کسی تعریف کے اثر سے تکبر کا شکار نا ہوں …… یہ ہمارا پرسنیلٹی فریم جو ہم اپنے لئے خود بناتے ہیں . مسلسل تربیت کا حصہ ہے جو ہماری ماں کی گود سے شروع ہو کر مرتے دم تک رہے گا . محاسبہ اور تزکییہ نفس سے ہی یہ تربیت اپنے اثرات دکھاتی ہے ۔ یہ ایک دن کا عمل نہیں جو ہمیں بدل دے۔۔۔ یہی تربیت کا سفر ہمیں سوچنے پہ مجبور کرتا ہے ۔ انسان کا دنیا میں کیا حیثیت کیا مقام ہے خود اپنی نظر میں اور اللہ کی نظر میں ، اللہ نے اپنے بندے کو دنیا میں کیا پہچان دے کر بھیجی اور اس بندے سے کیا مطلوب ہے ۔اس کا شعور اور احساس ہی اصل میں خودشناسائی ۔ جسے اقبال رحمتہ اللہ نے خودی کا نام دیا ۔ اپنی ذات کی پہچان سے ہی انسان اپنے آپ سے رشتہ مظبوط کر کے اپنے آپ کو سنوار سکتا ہے .

خود سے معرفت ہو تو رب کی معرفت کے راستے بھی آسان ہوتے ہیں۔ اور اللہ سے تعلق مظبوط ہو تو انسان اپنا آپ بھی درست کرلیتا ہے۔۔اس کی بہتریں مثال ہمیں حضرت آدم سے ملتی ہے کہ غلطی ہو جانے پہ فورا اللہ سے رجوع کرتے ہیں ۔ توبہ کے الفاظ بھی اللہ سے سیکھتے ہیں اور پھر انہیں الفاظ میں اللہ کے حضور اپنی عاجزی بیان فرماتے ہیں ۔ انسان کا جب اپنے رب اور اپنی ذات سے معرفت ہو تو دیگر رشتوں کا مقام اور حیثیت بھی واضح ہوتا ہے اور انہیں نبھانا بھی آسان …….. یہ خود سے تعارف کیسے حاصل ہو ؟ ہم اپنے آپ کو کتنا جانتے ہیں ؟ ہم آگ کی خصوصیت جانتے ہیں کہ وہ جلا دیتی ہے۔ ہم بلیڈ کی خوبی جانتے ہیں وہ چیزوں کو کاٹ دیتی ہے . اگر آگ ٹھنڈی پڑ جائے یا بلیڈ تیز دھار نا ہو کسی کا کام کا نہیں رہتا.کیا اپنی پوری ذندگی میں اتنا بھی جان پائے اپنے آپ کو ، اپنی خوبیوں اور اپنی کمزوریوں کا assessment کرنا ۔ اللہ تعالی نے انسان کی کن کن نعمتوں سے نوازہ ہے اس کا ادراک کرنا۔شعور کے ساتھ اس کا استعمال۔اس کا استعمال اور اعتراف ہی انسان کو شکر کے رویے پہ لاتا ہے اور یہی وہ رویہ ہے جس سے اس کا دل مطمئین ہوتا ہے۔۔

اپنی کمزوریوں ۔کمیوں کو جانچنا ، کھوجنا …….. ساتھ ساتھ اللہ کے سامنے اس کا اعتراف اور عاجزی کا اظہار۔ یہی وہ اصطلاح ہے جسے ہم موڈرن ورلڈ ویو میں”confidence”کہتے ہیں۔۔اَللّٰھُمَّ رَحْمَتَکَ اَرْجُوْ فَلَا تَکِلْنِیْ اِلٰی نَفْسِیْ طَرْفَۃَ عَیْنٍ وَّاَصْلِحْ لِیْ شَاْنِیْ کُلَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ
’’اے اللہ! میں تیری رحمت ہی کی امید رکھتا ہوں، پس تو آنکھ جھپکنے کے برابر بھی مجھے میرے اپنے نفس کے سپرد نہ کرنا اور میرے لیے میرے سب کام سنوار دے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘ سنن أبی داود، الأدب، باب مایقول إذا أصبح؟ حدیث:5090، ومسند أحمد: 4
تربیت تعلق کی پہلی سیڑھی پہلی بنیاد ہے ۔ اسی لئے اس کا سب سے پہلا قدم ماں کی گود ہے ۔ آج ویسٹ بھی اس بات کا اعتراف کرتی ہے ک موجودہ تعلیمی نظام اور ادارے knowledge hub تو ضرور ہیں لیکن تربیت کے ذرائع بالکل نہیں . تربیت کی اصل صرف اور صرف قرآن اور سنت ہو سکتی ہے ۔۔اور اس کی ادارے والدین کی تربیت۔نیک ماحول۔صحبت صالحہ اور مطالعہ ہیں . دوسرا مفروضہ جسے بدلنے کی ضرورت ہے وہ یہ کہ تربیت کسی خاص وقت میں کیا جانے والا عمل نہیں بلکہ ہمہ وقت چلتے رہنے والا سلسلہ ہے۔۔جہاں یہ عمل رک جائے وہاں ہم الٹے قدم چلنا شروع کرتے ہیں ۔

اور اکثر ہمیں یہ سننے میں آتا ہے یا ہم خود یہ کہتے ہیں کہ “ہم پہلے ایسے تو نہیں تھے”یا” ہم پہلے بہت اچھے تھے آب ہمیں پتہ نہیں کیا ہو گیا”۔یاد رہے ہر رشتہ۔۔ہر رویہ ۔ ہر مزاج ہماری تربیت کا ذریعہ ہے۔۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسے تربیت کا حصہ سمجھ کر آگے بڑھیں۔ ناکہ یہ سیلف اسٹیم کو کم کرنے کاسبب ہوں۔دوسری اور اہم بات رشتوں کو بہترین اسلوب پہ نبھانے کے لئے ضرور ہے کہ قرآن۔سنت سے واقفیت اور تعلق بھی اچھا ہوتا رہے کیونکہ یہی وہ خزانہ ہے جس سے اللہ تعالی حکمت اور بصیرت عطافرماتا ہے ۔ جو ذندگی کے مشکل تریں راہوں میں بھی روشنی دکھاتی ہیں کیونکہ قرآن میں خود اللہ تعالی فرماتے ہیں:
“اللہ بڑا فراخ دست اور دانا ہے ۔ جس کو چاھتا ہے حکمت عطا کرتا ہے ۔ اور جس کو حکمت ملی ، اسے حقیقت میں بڑی دولت مل گئی۔۔ان باتوں سے صرف وہی لوگ سبق لیتے ہیں جو دانش مند ہیں۔ (سور ہ البقرہ آیت 269)
یہ حکمت اللہ سے طلب بھی کرنی چاھئے ۔ کیونکہ اصل دولت اللہ رب العزت نے حکمت کو فرمایا ۔ حکمت اور بصیرت وہ دولت ہے جو دنیا میں بھی مایوس نہیں ہونے دیتی اور آخرت میں سرخرو کرے گی ۔ ان شاءاللہ

اپنا تبصرہ بھیجیں