اے امّت ہوش کر – شہلا خضر




عرب کی وسیع وعریض صحرائی آبادی ہے ۔ ایک چھوٹا سا قافلہ آہستہ روی سے چلا جا رہا ہے۔ اس کارواں میں کچھ مقامی افراد کہیں رواں دواں ہیں ۔ مستورات کے اونٹ پر پردے لٹکا کر حجاب کا اہتمام کیا گیا تھا ۔ سارباں اپنی دھن میں مگن چلتا چلا جا رہا تھا ۔ بے دھیانی میں اس کی رفتار تیز ہو گئی اور اونٹ بھی اس کے پیچھے دوڈ پڑے ۔
مستورات بے چین اور مضطرب ہو گئیں ۔ اونٹ اپنی منزل کی جانب برق رفتاری سے بڑھتا رہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قریب سے گزرتے ایک وجیہ اور باوقار شخص نے مستورات کی یہ بے چینی بھانپ لی ۔ ان کے نرم وگداز۔شفقت اور محبت بھرے دل سے مستورات کی یہ معمولی سی تکلیف برداشت نہ ہوئ اور انہوں نے فوراً مضطرب ہو کر ساربان کو آواز لگائی ۔
“آہستہ چلو سارباں ، نازک آبگینے سوار ہیں” ۔
یہ رحم دل نرم خو مہربان ہستی ہمارے پیارے آقا حضرت محمد عربیﷺ کی ہے ……ِ! اب پلٹ آئیں دوسرے منظر کی جانب ، نصف شب سے زائد وقت گزر چکا ۔ ایک پریشان اور خوفزدہ عورت اپنے بچوں کے ساتھ سنسان راستے میں گاڑی کے شیشے چڑھاۓ مدد کی منتظر ہے ۔ اس کی گاڑی میں پٹرول اچانک ختم ہو چکا ۔۔۔۔۔۔ نہ جانے کیا خرابی ہوئی کہ پٹرول کی نشاندہی کرنے والی سوئی نے دھوکا دے دیا ۔ چاروں طرف خوفناک جھاڑیاں اور تاریکی کے گہرے ساۓ ہر لمحے اس کی دہشت میں مزید اضافہ کر رہے تھے ۔ مضطرب دل کو سنبھال کر اپنے بچوں کی خاطر اوسان بحال رکھ کر اس نے قرآنی آیات کا ورد شروع کر دیا . اپنے گھر پر فون کر کے اطلاع دی ……. موٹر وے پولیس کو خبر دی ۔ جو بھی ممکن ہوا کیا ۔ ایک گھنٹے سے زائد وقت گزر گیا .کوئی مدد تو نہ آئی ۔۔۔۔۔ پر دو درندے اس ویرانے میں گاڑی کی فلیش لائٹ جلتے بجھتے دیکھ کر نہ جانے کہاں سے نکل آۓ ۔۔۔۔۔۔
گاڑی میں بیٹھی تنہا عورت اور اسکے بچوں کو دیکھتے ہی نیّت میں فتور آگیا ۔۔۔۔۔ گاڑی کا شیشہ پتھر سے توڑ ڈالا ۔ کانچ کے ٹکڑوں سے اندر بیٹھے بچوں اور ان کی ماں کے ہاتھ اور منہ زخمی ہوگۓ ۔ بے رحم لٹیروں نے بے بس عورت کو زبردستی اپنے ساتھ چلنے کو کہا انکار کرنے پر روتے بلکتے بچوں کی پرواہ کۓ بغیر وہ وحشی جانور بے بس عورت کوتھپڑوں ڈنڈوں اور لاتوں سے مارتے ہوۓ گھسیٹے ہوۓ کھیتوں میں لے گۓ ۔۔۔۔ اور حیوانیت اور بربریّت کی وہ داستان رقم کی کہ جس پر شیطان بھی شرما جاۓ ۔ انسانیت کو یوں تار تار کر ڈالا کہ زمین وآسمان کانپ اٹھے ۔۔۔۔۔ ایک بے بس مجبورعورت نے ہاتھ جوڑے اللہ کے واسطے دیۓ پران انسان نما بھیڑیوں نے اس کے معصوم بچوں کے سامنے ان کی زندگی کی سب سے انمول ہستی ان کی جنت ان کی ماں کو اپنے ناپاک قدموں سے روند کر مسل ڈالا ۔۔پولیس کے پہنچتے ہی وہ ویرانے میں غائب ہو گۓ ۔۔۔۔۔
اگلے روز سی سی پی او کا قابل مذمت بیان اس کے بے حس اور بے ظمیر ہونے کی دلیل دے رہا تھا . سپاٹ لہجے میں وہ ایک مظلوم عورت کے لۓ انصاف کی یقین دہانی کے بجاۓ الٹا اس کی ہی انویسٹیگیشن کر رہاتھا ۔۔۔۔۔۔۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ رات کو کیوں نکلی ۔۔۔پٹرول کیوں نہ دیکھا ۔۔۔۔ ایسے بے حس سخت دل شخص سے کیا ہمدردی اور مروت کی امید کی جاسکتی ہے ۔۔۔یہ شخص ہماری پولیس فورس کی زہنی پسماندگی اور بے ضمیری کا آئینہ دار ہے ۔۔۔۔۔۔اس پورے سانحے کی باریک بینی سے انویسٹیگیشن کی جاۓ کہ ویرانے میں موجود اس بد نصیب عورت کی درست لوکیشن ان لٹیروں کو کیسے مل گیئ ۔ کہاں گۓ وہ وزیراعظم صاحب جنہوں نے اقتدار سنبھالتے ہی دعوہ کیا تھا کہ “پاکستان کو وہ” گڈ گورننسیں” (good governence ) دیںگے جو اس سے پہلے کسی نے نہ کی ہوگی ۔ ہم پاکستان کو ایسا چلائیں گے جیسا پاکستان پہلے کبھی نہ چلایا گیا ہو گا ” انسانیت کا نظام قائم کریں گے ۔۔۔۔
کیا یہی ہے آپ کی گڈ گورننس ؟ کیا یہی ہے آپ کا انسانیت کا نظام ؟؟ ایک عورت مدد کے انتظار میں اپنی عزت اپنے وجود اپنے وقار اپنے آپ کو ہی ہار گئ پر ناعاقبت اندیش پولیس فورس اپنی حدود کے تعین کے لیۓ ہی جھگڑتی رہی ۔ شرم سے ڈوب مرنے کامقام ہے ۔۔کیا اس عورت کی جگہہ خدانخواستہ ان پولیس والوں کی ماں بہن یا بیٹی فون کرتی تو تب بھی انہیں اپنے تھانے کی حدود کی فکر ہوتی کیا ؟؟؟ یہ ہم سب کے لیۓ لمحۀ فکریہ ہے کہ یہ جنسی درندے جنگل میں پیدا نہی ہوتے ہیں ۔۔یہ ہمارے بچوں کی طرح کسی ماں کی گودمیں پروان چڑھتے ہیں اور نہ جانے کون سے حالات اور کیسی تربیت ہے کہ جس کے باعث اس معاشرے کا ناسور بنتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ جس ملک میں ایک وفاقی وزیر سر عام نشے میں دھت ہو کر ایک غریب پولیس کانسٹیبل کو کچل دے اور تمام شواہد کے باوجود عدالت اسے باعزت بری کر دے۔۔ ۔جس مدینہ کی ریاست میں بے گناہ جواں سال یونیورسٹی کے طالب علم کوبوڑھے ماں باپ کی نظروں کے سامنے گولیوں سے بھون دیا جاۓ ۔۔۔۔۔۔۔۔
جہاں پر انصاف صرف ایک سلوگن بن کر رہ جاۓ اور حقیقی وجود کھو دے ۔ جس ملک میں مقدمے کی طوالت کے باعث غریب بے بس عوام خود سوزی کر کے اپنی زندگیاں ختم کرنے پرمجبور ہو جائیں ۔ کس کس کو روئیں ۔۔۔۔ آوے کا آوہ ہی بگڑا ہوا ہے ۔ کس منہ سے آپ حوض کوثر اور شفاعت کے حقدارہونے کے دعویدار بنتے ہیں ۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟ کیوں نہی اس نام نہاد اسلامی جمہوریہ پاکستان کو “حقیقی اسلامی شریعت” کا تاج پہنا کر پروردگار عالم کے دیۓ گۓ قانون اور پیارے آقا محمد ﷺ کی دی ہوئی سنت کے مطابق چلایا جاتا ۔ آخر اب ذلت اور پستی کی کن گہرائیوں میں گرنا باقی رہ گیا ہے ۔۔۔۔۔
خدارا ہوش میں آئیں ! سب مل کر اسلامی شریعت کے نفاذ کی جدوجہد کریں ۔ اس کے علاوہ کوئی بھی راہ نجات نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اسلامی شریعہ کے پاکیزہ قوانین ہی کے ذریعے ہم ایک ایسی مثالی مملکت بنا سکتے ہیں جہاں ہر کس وناکس کی مال و عزت محفوظ ہو۔ جہاں انسانیت معراج پاۓ ۔۔۔۔اور رب کی نعمتیں اور رحمتیں سایۀ فگن ہوں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں