یہ واقعات اور ہم – افروز عنایت




زندگی میں پیش آنے والے کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو ذہن کے کینوس پر نقش ہو جاتے ہیں اور اکثر ذہن کے دریچوں پر دستک دیتے رہتے ہیں یہ واقعہ بھی اسی نوعیت کا ہے جو میں آپ کے سامنے پیش کررہی ہوں خصوصاً ان چند سالوں سے ایسے واقعات اکثر سننے میں آرہے ہیں اور یہ واقعات ایسے ہیں جس سے سبق بھی حاصل ہوتا ہے۔

یہ آج سے سولہ یا سترہ سال پہلے کا واقعہ ہے بچوں کی اسکول کی چھٹیاں تھیں جولائی کا مہینہ تھا اکثر ہلکی پھلکی بوندا باندی اہل کراچی کو مسرور کردیتی ہے ایسے موسم میں تفریح کے پروگرام بنتے رہتے ہیں کراچی والوں کے لیے تو بہترین تفریح ساحل سمندر کی سیر ہے بلکہ دوسرے شہروں سے آنے والے بھی اس طرف کا رخ ضرور کرتے ہیں… لہٰذا ہمارے رشتے داروں نے بھی ہاکس بے پر ’’پکنک‘‘ کا پروگرام بنایا تقریباً بچے جوان بوڑھے ملا کر سو (100) افراد تھے ایک بہترین ہٹ کا بھی انتظام کیا گیا طے یہ پایا کہ سب اپنی سواریوں پر صبح تقریباً دس بجے ہاکس بے سے دس پندرہ منٹ پہلے آنے والی ایک مسجد کے پاس سب اکھٹے ہوں گے وہاں سے مختلف اسٹالز سے کولڈ ڈرنک اور جوس وغیرہ کی خریداری بھی ہو جائے گی وقت مقرر پر تمام گاڑیاں وہاں پہنچنا شروع ہو گئیں تقریباً آدھے گھنٹے کے بعد ہاکس کی طرف سب روانہ ہو گئے موسم آج بھی ابر آلود تھا۔

تمام خواتین نے اپنے اپنے بچوں کو احتیاط برتنے کی خصوصی تاکید کی تھی گھر سے بھی یقینا ہماری طرح سب دعائیں وغیرہ پڑھ کر ہی نکلے ہوں گے ہٹ میں سامان رکھ کر بچے پانی کی طرف بھاگے یوں لگ رہا تھا وہ ہماری ساری نصیحیتیں فراموش کر چکے ہوں خیر ہر ایک نے دوبارہ اپنے بچوں کو تاکید کی… اس وقت ہم سب بہن بھائیوں کے بچے سترا اٹھارہ سال سے بڑے نہ تھے غرض کہ دو سال سے لے کر اٹھارہ سال کے بچے تھے جنہیں قابو میں رکھنا تھا ہم خواتین ساحل پر کچھ کرسیوں پر اور کچھ چٹائیوں پر براجمان ہو گئیں اور مرد حضرات کو ہم نے بچوں کے ساتھ لگا دیا کہ وہ بھی ان کی دیکھ بھال کریں جبکہ خواتین ہر پندرہ بیس منٹ کے بعد اپنے اپنے بچوں کی حاضری ضرور لیتی… سمندر کی لہریں کافی بپھریں ہوئیں تھیں اسی لیے ہر ایک کا چوکنا رہنا ضروری تھا نمازِ ظہر کا وقت تو سب کو بلایا گیا کہ نماز اور کھانا تناول کرنے کے بعد آپ کو مزید دو گھنٹے دیے جائیں گے اور ان شاء اللہ عصر کی نماز پڑھ کر واپسی ہو گی…

ہٹ میں کھانا کھاتے ہوئے بھی ہم سب نے اپنے اپنے بچوں کو تاکید کی کہ ماموں اور چچائوں کے ساتھ ہی رہنا دور نہ جانا ایسے موقع پر اکثر میرے چھوٹے بھائی ’’امجد‘‘ کے اردگرد سارے (بچے) لڑکے جمع رہتے ہیں اور وہ ان سب کا بہت خیال رکھتے ہیں جبکہ بچیاں ان کے پیچھے ہم خواتین سے آگے یعنی درمیان میں ہوتی ہیں۔ کھانا تناول کرنے کے بعد سب کی رائے کے مطابق چائے ساحل سمندر پر پینا پسند کیا گیا ابھی ہمیں ساحل پر آئے آدھا گھنٹہ ہی ہوا تھا کہ ایک شور اٹھا سب کی توجہ اس طرف گئی معلوم ہوا کہ ایک خاتون جو لاڑکانہ سے آئیں تھیں (چچا زاد بہن کی نند) ان کی چھ سات سالہ بچی نہیں مل رہی تھی کب سے گئی اور آخری وقت اسے کس نے دیکھا تھا جواب ندارد… سب ادھر ادھر دوڑ پڑے آس پاس کے تمام ہٹ دیکھ لیے لیکن بچی کا کوئی پتا نہیں… بچوں سے صرف اتنا پتا چل سکا کہ کھانا کھانے سے ایک ڈیڑھ گھنٹہ پہلے بندر کا تماشہ دیکھتے ہوئے اسے دیکھا گیا ہے .

بندر والے کو تلاش کیا وہ آس پاس ہی تھا اس نے بھی نفی میں گردن ہلائی کہ مجھے نہیں معلوم اونٹ اور گھوڑے والے بھی وہیں تھے سب نے مل کر اسے تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن ناکامی ہوئی بپھری سمندر کی موجوں کو دیکھ کر کسی نے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ خدانخواستہ بچی ڈوب تو نہیں گئی ماں کے کانوں تک یہ بات پہنچی تو وہ گش کھا کر گر گئی… لو اب ’’یک نہ شد دو شد‘‘ ہمارے ساتھ فیملی میں دو ڈاکٹر بھی تھے لہٰذا بڑی مشکل سے خاتون ہوش میں تو آئیں لیکن ساحل کی طرف دوڑ پڑیں کہ میں بھی بچی کے ساتھ سمندر میں ڈوب جائوں گی خیر جی اسے بڑی مشکل سے سنبھالا گیا… چند گھنٹے پہلے جو چہرے شادماں تھے اب مرجھائے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے رنگ میں بھنگ پڑ چکا تھا بچے سہمے سہمے مائوں سے لپٹے ہوئے تھے آس پاس کچھ رسکیو سے منسلک افراد تھے انہوں نے بھی سمندر میں کافی آگے جا کر دیکھا لیکن بچی کا سراغ نہ مل سکا .

سورج ڈوبنے کو تھا ساحل سمندر پر سناٹا چھا گیا پرندے اپنے اپنے گھونسلوں میں جا چھپے اندھیروں کے سائے بلند ہونے لگے تو سب نے واپسی کا سوچا بچی کی ماں کسی صورت اس جگہ کو چھوڑنے کے لیے تیار نہ تھی لیکن سب کی مجبوری تھی واپسی میں اداس چہروں کے ساتھ سب مسجد کے پاس پہنچے تاکہ برف کے بڑے بڑے ڈبے واپس کیے جائیں، مغرب کی آواز کانوں میں پہنچی تو سب نے کہا کہ نماز اب گھر جا کر ہی ادا کریں گے بس یہاں سے اب نکلیں ابھی روانہ ہونے والے تھے کہ مسجد سے ایک اعلان ہوا کہ ایک چھ سات سالہ بچی جس نے فلاں رنگ کی فراک پہنی ہے جس کی ہے وہ شناخت کروا کر اسے لے جائے… پھر تو سب کی دوڑ مسجد کی طرف تھی… الحمدللہ مطلوبہ بچی ہی تھی یسب نے شکرانہ ادا کیا وہیں نماز پڑھی پھر اس ماں کی بھی خبر لی گئی جس نے تین سے چار گھنٹے گزرنے کے بعد بھی بچی کی کمی محسوس نہیں کی غیر تفصیل یہ معلوم ہوئی کہ بندر کا تماشہ دیکھتے دیکھتے وہ بچی بندر والے کے پیچھے چلتی گئی تھی .

جب کافی دور نکل گئی تو رونے لگی اللہ کے کسی نیک بندے کے ہاتھ لگی اس نے یہی سمجھا کہ کہیں آس پاس ہی اس کے رشتے دار ہوں گے، معلوم کیا لیکن بچی تو بہت آگے نکل چکی تھی بچی کی ماں کو تقریباً 3½ یا 4 گھنٹے بعد بچی کی کمی کا احساس ہوا اس بندے نے کافی کوشش کے بعد مسجد میں جا کر متعلقہ عملے کے سپرد بچی کو کیا کہ یقینا اس کے گھر والے یہیں سے گزریں گے لہٰذا ایک گھنٹے سے مسلسل مسجد میں اعلان ہو رہا تھا/ اس واقعہ نے ہم سب پر اتنا اثر ڈالا کہ تقریباً دس بارہ سال تک ہم نے پھر ہاکس بے جانے سے توبہ کرلی بلکہ آج بھی اس نوعیت کے واقعات سنتی ہوں تو وہ واقعہ یاد آجاتا ہے۔ واقعہ گوش گزار کرنے کا مقصد یہ ہے کہ رب الکریم سے ہر موقع پر دعائیں مانگنے کے علاوہ احتیاط بھی لازمی امر ہے جو ہمیں دینِ اسلام کی تعلیمات سے بھی نصیحت ملتی ہے اور خصوصاً آئندہ کے لیے بھی نصیحت اور تعلیم حاصل کرنی ضروری ہے کہ ہم سے کہاں کوتاہی یا غلطی سرزد ہوئی.

اسے دوبارہ کرنے سے پرہیز کرنی چاہیے اور دوسروں کے ساتھ بھی ایسے واقعات اور اس کے اغراض و مقاصد کو بیان کرنا ضروری ہے تاکہ دوسرے بھی احتیاط کریں اس وقعہ میں بچی کا ماں کا قصور صاف واضح ہے جس نے 7 سالہ بچی کی تین سے چار گھنٹے کوئی خبر نہ لی جبکہ وہ آس پاس باقی خواتین سے یہ بات سیکھ سکتی تھی کہ ایسے موقعوں پر کس طرح کی احتیاط برتنی لازمی ہے . میرے نبیؐ قربان جائوں ان پر جب کسی میدان میں اترتے تو خصوصی طور پر صحابہ کرام کو یہ احتیاط برتنے کی تلقین کرتے کہ میدان میں سب ملک کر اکھٹے نہ اترو ٹولیاں ٹولیاں بنا کر اترو تاکہ اگر دشمن حملہ کرے تو پیچھے سے تمہاری دوسری ٹولی تمہاری مدد کو پہنچ سکے اسی طرح غذوۂ احد میں نگرانی کے لیے پہاڑی پر پچاس سپاہیوں کا دستہ نگران بنانے کا مقصد بھی یہی تھا کہ دشمن کی حرکات کی خبر رکھی جائے حالانکہ رب کا وعدہ تھا کہ مسلمانوں کو کامیابی ہو سکتی تھی صرف احتیاطی تدابیر کی اہمیت اور اس سے غفلت کے نتائج کو مسلمانوں پر واضح کرنا تھا جس کا آئندہ آنے والے وقت میں خاطر خواہ فائدہ ہوا…

اور مسلمان کو اس واقعہ سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا لیکن افسوس کا مقام آج یہ ہے کہ آئے دن واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں جس میں اکثر غلطی انسانوں کی اپنی بھی ہوتی ہیں لیکن نہ وہ خود نہ آس پاس والے اس سے کچھ سبق و عبرت حاصل کرتے ہیں پچھلے ایک ہفتے میں ہاکس بے، کینجھر وغیرہ پر جو واقعات رونما ہوئے ہیں اس میں کیا حکومت کی کوتاہی تھی یا متاثرہ افراد کی بھی…؟ یہ صرف ساحل سمندر وغیرہ پر پیش آنے والے واقعات کی ہی صرف بات نہیں ہمارے آس پاس خصوصاً چند دھائیوں سے بچوں کے ساتھ تشدد، زیادتی اغواہ ڈکیتی، دھوکے بازی جیسے واقعات میں اضافہ نظر آرہا ہے چھوٹے بچوں کو کیوں کر اس طرح دوسروں کے حوالے چھوڑا جا رہا ہے یا بغیر اپنوں کے گھروں سے دور کیوں جانے کی اجازت دی جا رہی ہے جبکہ ہر ایک کو معلوم ہے کہ اس نوعیت کے واقعات دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں خدارا میں ڈرا نہیں رہی لیکن اپنے بچوں کی آپ خود ذمہ داری اٹھائیں رب پر بھروسے، دعائوں کے ساتھ ساتھ احتیاطی تدابیر ہم سب کو ایسے حادثات کا سامنا کرنے سے بچا سکتے ہیں…

یہ موضوع ایسا ہے کہ ابھی بہت کچھ بیان کیا جا سکتا لیکن ان شاء اللہ پھر اس کی مزید تفصیلات کچھ دوسرے واقعات کے ذریعے پیس کروں گی خصوصاً اپنی بہو بیٹیوں کو ایسے واقعات اور حادثات کے اغراض و مقاصد ضرور گوش گزار کریں تاکہ وہ احتیاطی تدابیر کو ملحوظ رکھ کر زندگی گزاریں دعا ہے کہ رب العزت ہمیں اس قسم کے حادثات وہ واقعات سے بچائے …… آمین ثم آمین.

اپنا تبصرہ بھیجیں