بچوں کو القابات میں بند نہ کریں – جہانزیب راضی




یہ لاک ڈاؤن کا پہلا دن تھا۔ میں میٹرک کلاس کو پڑھا رہا تھا ، پرھاتے پڑھاتے میں نے کوئی مثال دینے کے لئے بچوں سے دودھ کے اُبلنے کا ذکر کردیا اور پوچھا ، ” کیا آپ نے دودھ کو ابلتے ہوئے دیکھا ہے؟” دلچسپ بات یہ ہے کہ کلاس میں موجود 70 فیصد بچیوں نے کبھی دودھ کو ابلتے ہوئے ہی نہیں دیکھا تھا ۔ میں نے حیران ہوکر ان سے 3 سے 4 دفعہ پوچھا مگر ہر دفعہ انکا جواب یہی تھا کہ؛

“سر ! ابھی ہمارے پڑھنے کے دن ہیں گھر کے کام تو اماں کردیتی ہیں”۔ اس سے بھی زیادہ مزے کی بات یہ تھی کہ یہ اسکول کراچی کے کسی پوش ایریا میں واقع نہیں تھا بلکہ اس اسکول میں آنے والے تمام طلبہ و طالبات کا تعلق مڈل اور لوئر مڈل کلاس گھرانوں سے تھا ۔ اسی طرح کا سوال کبھی کبھی میں لڑکوں سے پوچھتا ہوں کہ انھوں نے کبھی اپنے کپڑے دھوئے ہیں ؟ اور 80 فیصد لڑکوں کا جواب نفی میں ہوتا ہے ۔ کمال تو یہ ہے کہ جس کو “پڑھائی” کہا جارہا ہے اور جس کے لئیے صبح میں اسکول اور شام میں سینٹرز کے چکر کاٹے جارہے ہیں اسکا حال بھی ہم سب کے سامنے ہی ہے۔ آپ یقین کریں اگر 14 یا 15 سال کی عمر تک بچے یا بچی نے کبھی چائے نہیں بنائی ، دودھ نہیں ابالا ، کپڑے اور برتن نہیں دھوئے ، گھر صاف نہیں کیا ، جھاڑو اور پونچھا نہیں دیا۔ گھر میں آئے مہمانوں کو “سرو” نہیں کیا تو آپ نے اپنے بچوں کو زندگی کے ایک بہت بڑے اور عملی سبق سے ہی نا آشنا کر رکھا ہے۔

دوسرا بڑا المیہ والدین کا ہمیشہ سُپر مارکیٹ سے ہی شاپنگ کرنا ہے ۔ پھل، سبزی، گوشت اور روزمرہ استعمال کی کئی ساری اشیاء ہیں جو آپ کو خاص روایتی دوکانوں، ٹھیلوں اور جنرل اسٹورز سے خریدنی چاہیئے۔ محلے کی مارکیٹوں میں جاکر خریداری اور شاپنگ کرنی چاہئیے۔ جب آپ ہمیشہ بڑے سے سُپر مارٹ میں جاکر ایک ٹرالی پکڑیں گے اور دھڑا دھڑ اس میں چیزیں ڈال کر ” چِل ماحول” میں کارڈ سے پےمنٹ کر کے دوسرے دروازے سے نکل جائینگے تو ایک چھوٹے بچے کے ذہن میں جو خیالات جنم لیں گے وہ درج ذیل ہیں:

1) یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں ہر چیز کو اپنی ٹرالی میں ڈالا جاسکتا ہے۔
2) یہاں شاید مفت میں اور بغیر محنت کے ہر چیز مل جاتی ہے۔
3) میں یہاں پر جو چیز اور جس خواہش کا بھی اظہار کرونگا وہ پوری ہوجائیگی۔

یقینا سپر مارٹس کے نتیجے میں بے انتہا آسانی ہوگئی ہے مگر بچوں کو انسانوں سے “ڈیلنگ اور معاملات” سکھانے کے لئیے آپ کو دانستہ طور پر روایتی طریقے استعمال کرنا پڑینگے اور جب بھی آپ کسی اسٹور یا سپر مارٹ جائیں تو صرف منہ اٹھا کر جانے کے بجائے سامان کی “لسٹ” بھی ضرور لے کر جائیں کام کا سامان لیں اور سیدھا باہر آجائیں تاکہ فضول خرچی سے بچیں اور بچوں کو بھی کفایت شعاری اور قناعت کی تربیت دے سکیں۔ بچوں کے “تربیتی عمل” کی بہت بڑی وجہ بچوں کو ان کی اصل ناموں کے بجائے ان کو “القابات” میں بند کرنا ہے۔ مثلا میرا شہزادہ، میری شہزادی، میرا ہیرا بیٹا، میری چاند بیٹی وغیرہ جبکہ دوسری انتہا اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے جیسے: نکما ، نالائق، کام چور، روتی شکل، سست اور کاہل وغیرہ۔ جب آپ اپنے بچے کو ہمیشہ “شہزادہ” تصور کریں گے یا اپنی بیٹی کو “ہاتھ کا چھالا” سمجھیں گے تو پھر آپ اس کو بگاڑنے کی طرف پہلا قدم خود اٹھائیں گے۔

کیونکہ جو آپ بولیں گے یقینا آپ کا عمل بھی ویسا ہی ہوگا، اگر آپ اپنے بیٹے کو “شہزادہ” سمجھتے ہیں تو آپ اس کا ہر نخرہ پورا کریں گے، اس کے سارے لاڈ اٹھائیں گے اور اسے “چھوئی موئی کا پودا” سمجھیں گے۔ نتیجے میں بچہ بگڑتا چلا جائے گا۔ جب آپ بار بار اپنی بچی کے سامنے اس بات کا اظہار کریں گے کہ ہم نے اسے انتہائی “نازونعم” میں پالا ہے اور اس کے ہونٹوں پر آئی ہر خواہش پوری کی ہے تو آپ خود اس کے لئے زندگی کو مشکل بنائیں گے کیونکہ جب آپ کی “شہزادی” آپ کا “چاند” آپ کی “گڑیا” اور آپ کے “ہیرے، لعل اور موتی” اپنی اصل زندگی میں آئیں گے، اسکول جائیں گے، معاشرے میں نکلیں گے تو انھیں معلوم ہوگا کہ ہیرا بننے کے لئے تو کوئلے کی کانوں میں صدیاں گزارنی پڑتی ہیں مگر میرے والدین نے تو مجھ سے جھوٹ بولا تھا۔ اسے گھر کی باتیں اور القابات بے اثر نظر آنے لگیں گے اور وہ والدین جنہوں نے اس کو ہر آسائش دی تھی اسے مجرم محسوس ہونے لگیں گے۔

پھر بطور والدین آپ کا یہ رویہ اس کی شادی میں بھی بہت بڑی رکاوٹ بنے گا کیونکہ “بلخ کے شہزادے” کو پاکستان میں بھلا لڑکی کہاں ملے گی؟ اور انار کلی کے لئیے “شہزادہ سلیم” اب کہاں سے آئے گا؟ پھر آپ کو نہ کوئی لڑکی آنکھوں میں جچے گی اور نہ ہی کوئی لڑکا اپنی بیٹی کے شایان شان محسوس ہوگا۔ مگر ذرا سوچیں! اس سب کے نتیجے میں آپ خود کو اپنے بچوں کی نظروں میں مجرم بنا لیں گے۔
دوسری انتہا یہ ہے کہ آپ بچے کو انتہائی نامناسب القابات سے پکارتے اور لوگوں کے سامنے بھی یہ ذکر کرتے رہیں کہ یہ “بہت سست ہے، نکما ہے، نا لائق ہے، چیزیں گم کر کے آ جاتا ہے، کوئی بھی کام ڈھنگ سے نہیں کرتا وغیرہ وغیرہ۔ بچوں کی تربیت کا پہلا اصول یہ ہے کہ؛ “آپ اپنے بچے کو جیسا دیکھنا چاہتے ہیں ویسا بولنا شروع کر دیں”۔ اگر آپ اس کو ہمیشہ نکما، سست، کاہل، کام چور اور غیر ذمہ دار دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کے اور لوگوں کے سامنے بار بار یہی بولیں یقینا آپ کا رویہ بھی اسی کے مطابق ہو گا جو آپ بولیں گے اور وہ جلد ہی ویسا ہی بنتا چلا جائے گا پھر بعد میں آپ ہی ہوں گے جو بولیں گے “پتہ نہیں اسے کیا ہوگیا ہم نے تو اس کی تربیت میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی۔”

اس لیے بچوں کو “القابات” میں بند نہ کریں ۔ کبھی کبھی کے لئے تو ٹھیک ہے مگر حقائق کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھیں، ذہن میں رہے کہ آپ اپنے بچوں کو ملکہ برطانیہ کے تخت کے لیے نہیں بلکہ ایک چیلنجز سے بھری زندگی کے لیے تیار کر رہے ہیں۔ دنیا آزمائش کی جگہ ہے یہاں قدم قدم پر آپ کے امتحانات ہیں عیاشی کی جگہ “جنت” ہے اور ہمیں اپنے بچوں کو دونوں ہی کے لیے تیار کرنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں