دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا – محمد انوار اکرام




دو روز قبل کسی نے سوشل میڈیا پر منہاج یونیورسٹی کے راشد نسیم کی پیشانی سے اخروٹ پھوڑنے کی ویڈیو شئر کی کہ نوجوان کی کاوش کو گینیز بک میں جگہ مل گئی اور اس سے اقوام عالم میں پاکستان کا نام بلند ہو گیا . اسی پوسٹ میں اک معصوم سی خواہش کا اظہار بھی کیا گیا کہ حکومت پاکستان کو اس نوجوان کے ٹیلنٹ کی قدر کرنا چاہیئے اور اس اعلیٰ کارکردگی کے اعتراف کے طور پر بعد از مرگ کی روایت کے بجائے نوجوان کی زندگی میں ہی کوئی سڑک کوئی ادارہ اس کے نام سے موسوم کیا جائے۔

تجویز تو اچھی ہے مگر اس پر بات بڑھانے سے قبل آپ کو ایک تاریخی منظر دکھاتا ہوں …….. منظر کچھ یوں ہے کہ عباسی خلیفہ ہارون رشید کا دربار سجا ہے۔ سلطنت کے طول و عرض سے صاحبان ہنر آتے ہیں، اپنا اچھوتا فن دکھاتے ہیں اور خلیفہ اور اہل دربار سے اس فن کی داد کے طالب ہوتے ہیں۔ خلیفہ کو پسند آئے تو خوب تحسین کی جاتی ہے، مرحبا اور سبحان اللہ کی صدا میں اہل دربار کی آواز بھی شامل ہو جاتی ہیں ساتھ ہی خلیفہ فنکار کے اعتراف فن میں اس فنکار کو کبھی جواہرات سے نوازتے ہیں یا سونے میں تولتے ہیں۔ اسی طور سے حسب دستور ایک دن دربار سجا ہے اور ایک فنکار کو پیش کیا جاتا ہے کہ یہ یکتائے روزگار ہے ، اس کا سا ہنر کسی نے سنا نہ کبھی دیکھا۔ خلیفہ ہارون رشید متجسس ہو کر اس فنکار سے کہتے ہیں کہ نوجوان اپنا فن دکھاؤ . نوجوان نے جھک کر کورنش بجائی اور اپنے تھیلے سے دو باریک سویاں برآمد کیں۔ دربار میں بیٹھے امراء اور خلیفہ کا تجسس مزید بڑھ گیا ساتھ ہی انہماک بھی۔

فنکار نے ایک سوئی کو علیحدہ کر کے انگوٹھے اور پہلی انگلی سے پکڑ لیا اور نہایت مہارت سے کچھ فاصلے پر رکھے میز کی طرف اچھال دیا، سوئی نوک کے بل توازن سے کھڑی ہو گئی۔ آفرین و تحسین کی صداؤں سے دربار گونج اٹھا۔ یہ واقعی میں ایک نادر مشاہدہ تھا جو کسی آنکھ نے آج تلک نہ دیکھا تھا۔ سب لوک سانس روکے فنکار کی طرف دیکھ رہے تھے جو اسی اثنا میں دوسری سوئی کو بھی اپنے انگوٹھے اور انگلی کی مدد سے پکڑ کر تول رہا تھا۔ فنکار نے نشانہ باندھا اور سوئی کو پہلی سوئی کی طرف میز پر اچھال دیا۔ سوئی ہوا میں اڑتی ہوئی دوسری سوئی کے ناکے سے گذر گئی۔ سبحان و تحسین کا وہ شور اٹھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ لوگ بڑھ بڑھ کر فنکار کے ہنر کی داد دے رہے تھے۔ داد کا شور تھما تو سب دربار والے خلیفہ ہارون کی طرف متوجہ ہوئے کہ وہ اس یکتائے ہنر کے مظاہرے کو کیسے دیکھتے ہیں اور کیونکر نوازتے ہیں۔ خلیفہ ہارون الرشید نے متانت کے ساتھ فنکار کے ہنر کی داد دی اور اسے بیس درہم انعام دینے کا اعلان کیا ساتھ ہی بیس درے لگانے کا بھی حکم صادر کیا۔

اہل دربار جو خلیفہ ہارون الرشید کی جود و سخا کے معترف تھے، اعتراف ہنر کے اس عجیب انداز پر ششدر رہ گئے۔ ایک نے ہمت پا کے انعام کی حکمت کو دریافت کیا تو خلیفہ نے کہا۔ 20 درہم تے اس کی فنکاری اور اوج کمال کے اعتراف میں بطور انعام اور 20 درے اس بات پر کہ اس نے اس بیکار کام میں کمال حاصل کرنے میں اتنا وقت ضائع کیا۔ تو ساتھیو مجھے بھی کوئی سمجھائے کہ یہ سر سے اخروٹ پھوڑنا ٹیلینٹ کب سے ہو گیا؟ عجیب لوگ ہیں ہم بھی، کبھی کسی سٹیڈیم میں ہجوم بنا کر ترانا پڑھ لیا، لیجئے گینیز ریکارڈ بن گیا۔ ہزاروں لوگوں نے ایک خاص فارمیشن میں سمندر کنارے واک کر لی، گینیز ریکارڈ بن گیا۔ ایک سے رنگ کے پتنگ ایک وقت میں اڑا دیے، ریکارڈ بن گیا اور پھر کتاب میں بھی درج ہو گیا۔۔

ارے بھئی سنجیدہ اقوام اپنی کارکردگی سے دنیا کی سوچ کے انداز اور اسکی چال کو بدلتی ہیں، اپنے خیال، اپنے فلسفہ اور اپنی تحقیق و عمل سے دنیا کو نوازتی ہیں وقت کے پیمانوں پر اور زمانوں پر اپنا نام ثبت کرتی ہیں اپنی چھاپ مرتب کرتی ہیں . اسرائیل میں کسی کو ایسے ڈھکوسلے کرتے یا ان ڈھکوسلوں سے بہلتے دیکھا ہے؟ مگر ہر سال نوبل انعام کیلئے نامزد لوگوں میں اسرائیل کا نام ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں اس ماچس کی ڈبیہ کے سائز کے ملک نے سب سے زیادہ نوبل انعام حاصل کیے ہیں۔ ادب کے شعبہ میں اور عالمی امن کیلئے کوششیں کرنے پر نہیں بلکہ سائنس، طب اور زراعت جیسے شعبوں میں۔ زراعت اور زرعی تحقیق میں اس نے دنیا کو نئی جہتوں نئے ہنر، نئے طریقوں سے روشناس کرایا ہے۔ امریکہ میں قائم کردہ یہودیوں کی مانوسوٹا کمپنی دنیا بھر میں زرعی شعبہ میں استعمال ہونے والا بیج کا 70 فیصد بناتی ہے۔

بیج سے ہونے والی عالمی پیداوار کو کنٹرول کرتی ہے۔ خوراک کی عالمی منڈی کو کنٹرول کرتی ہے۔ یہی کمپنی ہے جو آخر الزماں میں آنے والے قحط کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ مسلم ممالک کی زراعت کو تباہ کر کے مسلمانوں کی آبادی کو کم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ فصل اگانے والے بیج کے DNA میں تبدیلی کر کے غذائیت ختم کر کے انسانی آبادی کو ناکارہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ ادھر ہم ………. ہر منبر و مسند پر واعظ کی یہود و نصرانیوں کی ریشہ دوانیوں کے الزام و اندیشے نشر ہوتے ہیں، گلے پھاڑ پھاڑ کے چلا رہے ہیں، چھاتی کا پورا زور صرف ہو رہا ہے مگر کوئی احساس نہیں دلا رہا کہ علم و تحقیق کے میدانوں میں وہ اپنی مہر لگا چکے ہیں، اپنا نشان گاڑ چکے ہیں۔ مگر ہمیں کیا!! ہم اگلی دفعہ کوئی اور مرد جری اور مرد مجاہد پیدا کریں گے جو دیے گئے مخصوص وقت میں 300 اخروٹ پیشانی کے زور سے توڑے گا یا 500 چلغوزوں کے چھلکے اتارے گا یا باداموں کے ڈھیر سے 1000 میٹھے بادام علیحدہ کرے گا۔

آئیندہ زمانوں کا تاریخ دان لکھے گا کہ جب مسلمان سر کے زور سے اخروٹ اور بادام توڑنے کی مشق کر رہے تھے تو مسلمانوں کے ازلی دشمن سر کو استعمال کر کے ستاروں سے آگے کے جہانوں کی کھوج نکال رہے تھے۔ حیف صد حیف ہماری ترجیحات پر

اٹھو وگرنہ حشر نہیں ہو گا پھر کبھی
دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا

اپنا تبصرہ بھیجیں