جنرل یحییٰ خان کا اکلوتا بیٹا – رئوف کلاسرا




مجھے بیک وقت چوہدری نثار علی خان ‘ لغاری برادرز ‘ نواز لیگ کے ترجمان محمد زبیر اور جنرل یحییٰ خان کا اکلوتا بیٹا علی یحییٰ خان یاد آئے۔ یہ سب لوگ مجھے لندن سے اسحاق ڈار کے ایک ٹوئٹ سے یاد آئے۔ اسحاق ڈار نے اس ٹوئٹ میں عمران خان اور اسد عمر پر اٹیک کرتے ہوئے انہیں جنرل نیازی اور جنرل عمر کا مشرقی پاکستان میں کردار یاد دلایا ۔ اگرچہ عمران خان براہ راست جنرل نیازی کے رشتہ دار نہیں لیکن نیازی ہونے کے ناتے سے اسحاق ڈار نے عمران خان کو بھی تنقید کا نشانہ بنا ڈالا۔

اسلام آباد میں بائیس برس کی رپورٹنگ کے دوران یہ تیسرا ایسا واقعہ تھا جس نے مجھے ڈپریس کیا۔ میں نے اپنے بچوں کے بارے سوچا کہ جب میں اس دنیا میں نہیں رہوں گا تو کیا وہ بھی کسی ایسے بندے کے ترجمان بنیں گے جو اُن کے باپ پر گند اچھالے گا‘ کیونکہ انہیں اس میں اپنا فائدہ نظر آئے گا؟ تو کیا میرے پوتے پوتیاں بھی اپنے دادا پر اچھالے گئے گند پر اپنے باپ سے سوال نہیں کریں گے ؟مجھے پہلی دفعہ ڈر لگا کہ جب انسان اس دنیا سے چلا جاتا ہے تو اس کے اپنے خون کی نظروں میں بھی باپ کی عزت اور وقار اہمیت نہیں رکھتا؟ محض دنیاوی فائدے کے لیے آپ کا اپنا خون بھی آپ پر اچھالے گئے کیچڑ پر نہ صرف خاموشی کی چادر اوڑھ لیتا ہے بلکہ جو کیچڑ اچھال رہے ہوتے ہیں ان کی ترجمانی بھی کرتا ہے۔اُس دن میں قومی اسمبلی میں موجود تھا جب اعتزاز احسن نے جوائنٹ سیشن کے موقع پر وزیراعظم نواز شریف کی موجودگی میں چوہدری نثار علی خان کا حشر کر دیا تھا۔ چوہدری نثار علی خان کو ہم پسند کریں یانہ کریں لیکن وہ اپنی ذاتی عزت‘ خاندانی وقار اور اَنا پر کمپرومائز نہیں کرتے ۔

چوہدری نثار علی خان کا کسی کو پسند ناپسند کرنے کا پیمانہ بہت سخت ہے‘ جس پر ہر کوئی پورا نہیں اتر سکتا ۔ چوہدری نثار کسی کا ادھار نہیں رکھتے‘ اگر کوئی ان پر تنقید کرے یا حملہ کرے تو وہ گھر جانے سے پہلے حساب برابر کرکے جاتے ہیں۔ وہ well left پر یقین نہیں رکھتے ‘ اس لیے جس دن اسمبلی میں اعتراز احسن نے چوہدری نثار علی خان پر ذاتی حملے کئے تو پریس گیلری میں بیٹھے مجھ سمیت سبھی دوستوں کا یہی خیال تھا کہ چوہدری نثار علی خان چپ نہیں بیٹھیں گے‘ وہ اعتزاز احسن کو پورا جواب دے کر بھیجیں گے۔مگر ان دنوں عمران خان کا دھرنا چل رہا تھا‘ لہٰذا وزیراعظم نواز شریف کسی قیمت پر زرداری کی پارٹی کو ناراض کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے تھے‘ اس کا ادراک اعتزاز احسن کو بھی تھا کہ یہی چوہدری نثار سے پرانے حساب برابر کرنے کا دن ہے‘ کیونکہ نواز شریف کبھی بھی اپنے وزیرداخلہ کو اُٹھ کر جواب نہیں دینے دیں گے۔ وہی ہوا ۔ اعتزاز احسن نے چوہدری نثار علی خان کے بھائی جنرل (ر) افتخار علی خان پر سنگین الزامات لگائے۔

اب ہم دیکھ سکتے تھے کہ چوہدری نثار علی اپنی کرسی پر بے چین ہورہے تھے‘ وہ نواز شریف کے بالکل قریب بیٹھتے تھے اورہوا یوں کہ جب بھی چوہدری نثار علی نے ہلچل کی کہ وہ اٹھ کر جواب دیں تو نواز شریف ان کا کندھا دبا کر بٹھا دیتے۔ چوہدری نثار علی کو یہ فیصلہ کرنا تھا کہ انہوں نے وزارت ِداخلہ بچانی ہے یا اپنے مرحوم بھائی کی عزت کا پاس رکھنا ہے۔انہوں نے اپنی وزارت بچا لی اور خاموش رہے اور کچھ دیر بعد ہاؤس سے نکل گئے۔ وزارت بچ گئی لیکن ایک بھائی پر جو سنگین الزامات پوری دنیا نے سنے اس پر چوہدری نثار علی خان کی خاموشی ایک ایسا داغ بن گئی جو شاید وہ ساری عمر نہ دھو سکیں ۔ آج چوہدری نثار علی خان وزیر نہیں رہے۔ نواز شریف کی پارٹی میں بھی نہیں رہے۔ یہی ہمت وہ اُس وقت کر لیتے اور نواز شریف کا ہاتھ جھٹک کر کھڑے ہو کر جواب دیتے‘ چاہے وزارت چلی جاتی تو شاید راجپوت کا قد مزید بڑا ہوتا ۔ ہوسکتا ہے اس وقت جب چوہدری نثار ہمیں بے چین نظر آرہے تھے وہ یہی تول مول کررہے ہوں کہ بھائی کی عزت کا دفاع یا وزارت‘ اور پھر وزارت کا پلڑا بھاری رہا ۔

شاید آج بھی چوہدری نثار علی خان خود اپنے اس فیصلے پر کڑھتے ہوں کہ انہیں اعتزاز احسن کو اس لیے اگنور نہیں کرنا چاہیے تھا کیونکہ یہ وزیراعظم نواز شریف کی خواہش تھی۔ بعض دفعہ خاندانی وقار اور عزت کسی بھی وزیراعظم کے اصرار اور کسی بھی دنیاوی عہدے سے زیادہ اہم ہوجاتا ہے . چوہدری نثار علی وہ لمحہ ضائع کر بیٹھے۔ اگرچہ چودھری صاحب نے چوبیس گھنٹے بعد ایک پریس کانفرنس میں خود پر لگائے گئے الزامات کے جواب دیئے تھے ‘ لیکن بہرحال فوری جواب دینے کا لمحہ انہوں نے ضائع کر دیا تھا۔ اس سے پہلے ہم نے دیکھا کہ نواز شریف نے ڈیرہ غازی خان کے قابلِ احترام لغاریوں کے بارے میں نامناسب باتیںکی…

اپنا تبصرہ بھیجیں