حرکت میں برکت ہے – جہانزیب راضی




مدینہ ہجرت کرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کے درمیان مواخات کی بنیاد رکھی۔ یہ ایک تاریخی مواخاۃ تھی جس میں کسی نہ کسی مہاجر صحابی کو کسی نہ کسی انصاری صحابی کا بھائی بنا دیا گیا ۔حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ کو جن صحابی کا بھائی بنایا گیا وہ عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آئے اور فرمایا؛

“میں اپنے مکان کو بالکل ناپ کر آدھا کر دیتا ہوں آپ وہاں دیوار اٹھا کر ایک حصہ لے لیں، میری کھیتی باڑی کی زمین بھی آدھی آپ ہی کی ہے، مزید یہ کہ میری دو بیویاں ہیں میں دونوں کو آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں جو آپ کو خوبصورت لگے میں اسے طلاق دے دوں گا آپ اس سے شادی کر لیجئے گا “۔

حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ نے ان کا شکریہ ادا کیا اور فرمایا؛ “بس گھر کے کسی کونے میں سونے کی جگہ دے دیں اور مجھے دو باتیں مزید بتا دیں، یہاں بازار کہا ں ہے؟ اور آپ کے خیال میں وہ کون سا کاروبار ہے جو مدینے میں چلنا چاہیے؟” ان انصاری صحابی سے مشورہ کرنے کے بعد عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ نے جانوروں کے گلے میں باندھنے والی گھنٹیوں کا کاروبار شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے عرب کے امیر ترین تاجر بن گئے۔ ہجرت کے وقت کاروبار پر یہودیوں کا قبضہ تھا، سود کا چلن عام تھا، مدینے کے رہائشی انتہائی مشکل میں زندگی گزار رہے تھے کہ ان کو ہر جگہ سود دینا پڑتا تھا ۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ نے مدینہ کے عین درمیان ایک بازار قائم کیا یہ مدینہ کی پہلی “ہول سیل” مارکیٹ تھی۔ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ سامان امپورٹ کرکے لاتے اور ہول سیل میں مسلمان تاجروں کو دے دیتے اس طرح مدینہ کی مارکیٹ سے یہودیوں کی اجارہ داری ختم کرنے میں سب سے بڑا ہاتھ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ کا ہے۔

مسلمانوں کی اور بالخصوص پاکستانیوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ ہم اپنی تاریخ سے ہی نابلد ہوگئے ہیں۔ نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد اپنے “کمفرٹ زون” سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ آپ یقین کریں کراچی میں جب کوئی نوجوان یہ کہتا ہے کہ میں “بے روزگار ہوں” تو میں حیران ہوتا ہوں کیونکہ اللہ کے فضل و کرم سے کراچی وہ شہر ہے کہ آپ یہاں صبح زہر لے کر بھی نکلیں گے تو شام تک وہ بھی کوئی نہ کوئی ضرور خرید چکا ہوگا۔ ہمارے ملک میں نوجوانوں کے روزگار کے حوالے سے دو بڑے مسائل ہیں:

1) پہلا مسئلہ ان کی نوکری کی “سوچ” ہے۔ وہ چاہتے ہیں بس کہیں9 سے5 والی نوکری مل جائے اور اس میں ہی میں ساری عیاشیاں کرلوں۔

2) دوسرامسئلہ “کام چوری” ہے۔مستقل مزاجی کا فقدان ہے، پہلے کام کام کی رٹ لگائیں گے اور جب کام دے دو تو اچانک ہی غائب ہو جائیں گے۔

یہ “سوچ “اور “کام چور” بنانے میں گھر والوں سمیت، تعلیمی اداروں اور معاشرے کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ بچپن سے ا”چھا پڑھو” کا مطلب ہی “اچھی نوکری” ہوتا ہے۔ ہمارے معاشرے ، خاندان اور گھر میں کبھی بھی اچھا پڑھو کا مطلب “اچھا روزگار” نہیں بلکہ “اچھی نوکری” ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے ایک خاص قسم کی روایتی سوچ پروان چڑھتی ہے جس میں بچے کو کاروبار کے نقصانات اور نوکری کے فوائد پر لیکچرز دئیے جاتے ہیں، بتایا جاتا ہے کہ خواہ مخواہ اپنے “پوٹینشل ” کو آزمانے کی کوشش نہ کرو عزت سے کسی کھونٹے سے بندھ جاؤ۔ نتیجے میں بچے تعلیمی اداروں سے یہی “سوچ “لے کر نکلتے ہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ اس نوکری کے نتیجے میں؛

آپ کی اپنی سوچ۔ آپ کی تخلیقی استعداد ……… اور آپ کی لامحدود صلاحیتیں۔ کسی9 سے 5 والے ڈبے میں بند ہوجاتی ہیں اور 9 سے 5 تو صرف دکھاوا ہے۔ اصل میں تو صرف جانے کا وقت ہوتا ہے آنے کا وقت تو ویسے بھی آپ کے اپنے ہاتھ میں نہیں ہے۔ اگر کوئی نوجوان ہمت کرکے اس “سوچ کے خول” سے باہر نکلنا چاہے تو پہلا سوال جو وہ اپنے آپ سے پوچھے گا وہ یہ ہے کہ “میں کروں گا کیا؟” اب پریشانی یہ ہے کہ ہول سیل مارکیٹ میں خوار ہو کر چھوٹی سی چیزیں کیوں بیچے؟ یا وہ چھوٹا سا چپس اور کھانے کا سیٹ اپ کیوں لگائے؟ بھائیکو تو 8 سے 10 لاکھ درکار ہیں جہاں سے وہ اپنا “ایمپائر” کھڑا کریں گے ورنہ بھلا لوگ کیا کہیں گے؟ دراصل “کام چوری” اور “کاہلی” کی بھی بہت بڑی وجہ گھر والوں کا بے جا لاڈ پیار کا رویہ ہے۔ بیٹے صاحب کی صبح ہی بارہ بجے کے بعد ہوتی ہے۔ اس پر بھی ان کی فرمائشیں پوچھ پوچھ کر ان کے سامنے ناشتہ حاضر کیا جاتا ہے۔ وہ موبائل میں اپنے اہم “کاروباری معاملات” نمٹاتے نمٹاتے ناشتہ کرتے ہیں اور تھکن اتارنے کے لیے پھر وہیں دراز ہو جاتے ہیں۔

کپڑے دھلے ہوئے استری شدہ ملتے ہیں۔ کھانا وقت پر میسر ہے جب ابّا حضور ڈانٹ پلانے کی کوشش کرتے ہیں تو والدہ صاحبہ وکیل صفائی بن کر سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند سامنے آ کر کھڑی ہو جاتی ہیں اور بچے کے ابا کو اس کے کام اور محنتیں گنوانا شروع کر دیتی ہیں۔ ان حالات میں آپ کے خیال میں دھوپ اور گرمی میں نکل کر بچہ کوئی کام کرے گا؟ آپ کتنے ہی اسکلڈ اور ہونہار کیوں نہ ہوں آپ کو کام “کمیونیکیشن اسکل” ہی کی بنیاد پر ملے گا۔ اور اس کے لئے آپ کو اپنے “کمفرٹ زون” سے باہر آنا ہوگا۔ میرا والدین سمیت نوجوانوں کو مشورہ ہے کہ ریٹیل انڈسٹری تیزی سے نہ صرف ترقی کر رہی ہے بلکہ اس کی ہیئت اور شکل بھی بدلتی جارہی ہے کسی نہ کسی ایسی چیز میں ضرور ہاتھ ڈال دیں جو جگہ اور وزن رکھتی ہو یعنی “ٹینجبل” ہو۔ ریٹیل اسٹورز میں جائیں سپر مارٹس اور سپرمارکیٹس میں جائیں، اپنا وقت اور پیسہ بچائیں اور وہاں پر اپنی پروڈکٹ رکھوانے کی کوشش کریں دوسری طرف اسی کو آن لائن بھی سیل کریں کچھ ہی عرصے میں انشاءاللہ آپ اپنے پیروں پر کھڑے ہو جائیں گے اور آپ نہ صرف اپنے خرچہ نکالنے لگیں گے بلکہ اس سے آگے بھی اللہ آپ کے رزق اور کاروبار میں برکت عطا فرمائے گا کیونکہ “حرکت ہی میں برکت ہے۔”

اپنا تبصرہ بھیجیں