اطیعواللہ واطیعوالرسول – مدثرہ جبیں




اللہ رب العزت ہم سب کے خالق و مالک نےمخلوق کی رشدوھداہت کیلیےانبیاءورسل کاایک تسلسل قائم فرمایااسی تسلسل کی آخری کڑی محمدﷺ ہیں اللہ نےآخری پیغمبرمحمدﷺپران کی امت کی رشدو ہدایت کیلیےقرآن مجیدنازل کیا۔قرآن مجیداس رشدوہدایت کو بیان کرتاہے . اگراللہ کی نعمتوں کاشمارکرناچاہیں تو شمارنہیں کرسکتےلیکن ان نعمتوں میں تین ایسی نعمتیں ہیں جواسلام کی سب سےبڑی سعادت ہیں ۔

1۔اسلام
2۔قرآن
3۔صاحبِ قرآن

جوخوش قسمت انسان ان تین نعمتوں کےمطابق اپنی زندگی کےلیل ونہارکوترتیب دیتاہےاللہ اس کوبھی کائنات کیلیےنعمت بنادیتاہے۔ آج کی میری تحریرکامحوراللہ کی نعمت وہ ہستی ہےجس کواللہ تعالٰی نےپوری کائنات کاسرتاج بنایا۔جس کو پوری کائنات کیلیےنعمت بناکربھیجاہےاللہ رب العزت نےاس مبارک ہستی کومیرےاورآپ کیلیےکسطرح آئیڈیل بنایاہے . آج کاموضوع ……. واطیعواللہ واطیعوالرسول . میری اور آپکی زندگی کو با رونق بنانے کیلیےرسول ﷺنےکونسی سنہری نصیحتیں فرمادیں کونسےطریقےبتلادیے۔

رسول اللہ ﷺنےفرمایا؛
“میرےصحابہ میں محمدبن عبداللہ ہوں اللہ تعالٰی نےجب کائنات کوپیداکیاتوکائنات میں سب سےبہترین مجھےپیداکیا”(صحیح بخاری) عبداللہ بن مسعودؓسےروایت ہےکہ رسول ﷺنےفرمایا۔“اللہ تعالٰی نےجب کائنات کوپیداکیاتوکائنات کےدلوں کوجھانکاسب سےبہترین دل محمدﷺکاپایا”۔پھراللہ نےاس ہستی کوچن لیااورپوری کائنات کاسرداربنادیا۔”(صحیح بخاری) اللہ تعالٰی نےرسول اللہﷺکل جہاں میں ذات کےاعتبارسے،حسب ونسب کےاعتبارسے،نام کےاعتبارسےنیزہرلحاظ سےآپﷺکواعلٰی بنایا۔آپﷺسےمتعلق صحابی ءِ رسول ﷺفرماتے ہیں؛ کہ “چشمِ فلک نے آج تک ایسا حسین و جمیل نہیں دیکھا” . آپؐ جیسا اخلاق کسی کو نصیب نہیں ہوا۔

صحابیءِ رسول کی اطاعت و اتباع پر خوشخبری:
“ایک صحابیءِ رسولؐ آتے ہیں اللہ کے نبیؐ آپ کی زیارت سے جب گھر لوٹتا ہوں تو پھر آپؐ کو دیکھنے کا شوق شدت اختیار کر لیتا ہے اگر آپؐ کو نہ دیکھوں تو ایسا لگتا ہے جیسے میں مر جاوُں گا پھر فرماتے ہیں کہ میں اپنی اور آپ کی موت کو یاد کرتا ہوں آقاؐ آپ تو قیامت کے دن انبیاءؑ کے ساتھ جنّت میں ہوں گے، یارسول اللہ ؐ اگر ہم جنّت میں چلے بھی گئے تو ہم اس مقام پر نہیں پہنچ سکتے جس مقام پر آپ ہونگے،اللہ کے نبیؐ دنیا میں تو جب جی چاہتا ہے ہم آپ کا دیدار کرنے آجاتے ہیں قیامت کے دن ہمارا کیا ہوگا؟ اللہ کے نبیؐ خاموش رہے، نبی اپنی مرضی سے کلام نہیں کرتا عرش والا کلام کرتا ہے تو مدینے والا فرمان جاری کرت ہے، عرش والے نے حکم دیا؛” پریشان ہونےوالوں کو بتادو،” مٙنْ یُّطِعِ اللّہٙ وٙرٙسُولٙہ” “جو اللہ اور اسکے رسولؐ کی اطاعت کرتا ہے”
نتیجہ کیا نکلے گا؛ قیامت کا دن ہوگا وہ انبیاءؑ کے ساتھ ہوگا، شھداء کے ساتھ ہوگا، صدیقین کے ساتھ ہوگا اس سے کہیں پریشان نہ ہو قیامت کے دن وہ محمدؐ کے ساتھ ہوگا ان کا ساتھی بنے گا”

اتباعِ رسولؐ کی سنت کا فائدہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛” میرا پوری امت جنت میں جائے گی سوائے اس کے جو خود انکار کر دے گا، فرمایا؛ یارسول اللہ ؐ جنت میں جانے سے کون انکار کرے گا؟ فرمایا؛ وٙمٙنْ عٙصٙانِی جس نے میری نافرمانی کی۔ جس نے میری پیروی کی وہ جنت میں جائے گا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اپنے ربّ کی جنت کو ٹھکرا دیا”(صحیح بخاری) لوگو! آج امتِ مسلمہ،امتِ برھان، امتِ محمدیہ کے دل غم سے چھلنی ہیں دل زخمی ہیں کہ دشمن توہین کررہا ہے۔اگر ہم نبیؐ کی پیروی کرتے ہوتے تو دشمن ہمارے نبیؐ کے ساتھ ایسا نہ کرتے۔اگر ہم مسلمان نبیؐ سے محبت میں سچّے ہوتے تو کافر یہ کام نہ کر سکتے۔ حدیثِ رسولؐ ہے؛ “میں ہی ہوں جو ابراہیم علیہ الصلاۃ و السلام کی دعا تھی اور میرے بارے میں ہی پیغمبر عیسی علیہ الصلاۃ والسلام نے خوشخبری سنائی تھی اور میں ہی تمہیں کہتا ہوں کہ مجھے کائنات کا سرتاج بنایا ہے اللہ رب العزت نے لیکن میں فخر نہیں کرتا کیونکہ فخر میرے مالک کو پسند نہیں ہے ” وہ محمدؐ جو اللہ کا پیغام ہمیں سنانے آئے؛”
ما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللہ”

اللہ کے رسول کی اطاعت اللہ کے حکم سے کی جائے . اللہ کے نبیؐ نے اس دین کو۔ہم تک پہنچانے کے لئے کتنی مشکلات برداشت کیں ایک جماعت تیار۔ہوگئی ،ایک اعلان کرنے والا اعلان کرتا ہے۔
عملی مثال:۔

١: شراب حرام ہوگئی جس کے ہاتھ میں جام تھا اس نے جام کو بہا دیا ہے جس کے ہاتھ میں مٹکے تھے اس نے ان مٹکوں کو بہا دیا جس کے منہ میں شراب کا گھونٹ تھا اس نے وہ گھونٹ باہر پھینک دیا اور جس نے گھونٹ حلق سے نیچے اتار لیا وہ انگلیوں سے اسے باہر نکال دیتا ہے

٢: پردے کا حکم نازل ہوتے ہی صحابیات نے ساری رات جاگ کر دیوں کی روشنی میں چھوٹے چھوٹے ٹکڑے جوڑے، رسول اللہ ؐ نے پوچھا آج ساری رات دیے کیوں جلتے رہے؟ بتایا گیا؛ یا رسول اللہ ؐ پردے کا حکم نازل ہوا تو ساری صحابیات رات کو کپڑے کے ٹکڑے جوڑتی رہیں تاکہ صبح فجر کی نماز کے لئے گھر سے پردے کے بغیر نکلیں گی تو اللہ اور اس کے رسولؐ کے حکم کی نافرمانی ہو جائے گی

٣: ایک مرتبہ رسول اللہ ؐ نے اعلان فرمایا کہ گدھے کا گوشت حرام ہے اور ہانڈیاں پاک ہوتی ہیں تو صحابہ کرامؓ ہانڈیوں سمیت اسے اٹھا کر کر باہر پھینک دیتے ہیں . ہمارا کیا حال ہے؟ ہم ہی کہتے ہیں “اٙشھٙدُ اٙن لّٙاِ اِلٰہٙ اِلّٙا اللّٰہ وٙاٙشھٙدُ اٙنّٙ مُحٙمّٙدٙٙا عٙبدُہ وٙرٙسُولُہ” اور جب میرے اور آپ کے سامنے رسولؐ کا فرمان آ جائے تو حیلے بہانے کرتے ہیں۔ “نہیں جانتے” . نبیؐ کی محبت کا پہلا تقاضا اپنے آقاؐ کی اتباع کی جائے۔ اتباع کرنے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟؛
“اٙطِیعُواللّٰہٙ وٙاٙطِیعُو الرّٙسُول لٙعٙلّٙکُم تُرحٙمُونٙ”
” اللہ اور اس۔کے رسولؐ کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم۔کیا جائے”

“ومن یّطع اللہ ورسولہ فقد فاز فوزاً عظیماً”
“اور جس نے اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کی اسکو بڑی کامیابی نصیب ہوگی” . کامیابی کیسی؟ دوزخ سے نجات پاکر ہمیشگی کی جنّتوں میں داخل ہوجائے گا . رسول اللہؐ نے فرمایا؛ “جنّت کے اندر ایک بالشت جگہ اور دنیا کے سارے مل کر اس ایک بالشت جگہ کی قیمت ادا نہیں کر۔سکتے” نعمت کے طور پر جو حور دی جائے گی اس کے سرکے دوپٹے کی قیمت کائنات کی کوئی چیز ادا نہیں کرسکتی۔ جس حور کے صرف دوپٹے کی قیمے کوئی چیز ادا نہیں کر سکتی اسکی اپنی قیمت کیا ہوگی۔ جو اللہ اور اس کے رسولؐ کی اتباع کرے گا قرآن اس کے بارے میں کہتا ہے؛ سورۃ نمبر 19 مريم – آیت 85
يَوۡمَ نَحۡشُرُ الۡمُتَّقِيۡنَ اِلَى الرَّحۡمٰنِ وَفۡدًا‌

حشر کے میدان میں لوگوں کو بطورِ مہمان رحمٰن کے سامنے پیش کیا جائے گا۔اور اہلِ جنّت کو جنّت کی طرف روانہ کردیا جائے گا جب یہ جنّت کے قریب پہنچیں گے تو جنّت کا داروغہ جنّت کے دروازے کھول دے گا اور ان سے کہے گا؛”السلام علیکم ” “تم پر سلامتی ہو اے جنّتیو ! جنّتوں میں ہمیشہ داخل ہو جاوُ” . رسول اللہؐ نے فرمایا؛”جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں جائے گا نے میری نافرمانی کی اس نے اپنے رب کی جنت کو ٹھکرا دیا “(صحیح بخاری) حشر کے میدان میں مجرموں کو پیاسا ہانک کر لے جایا جائے گا جونہی جہنم کے قریب لے جایا جائے گا تو جہنم کے دروازے ان کے لیے کھول دیے جائیں گے اور جہنم کا داروغہ ان سے سوال کرے گا؛
“الم یاْتکم رسل منکم یتلون علیکم اٰیٰت ربّکم”
“کیا تمہارے اندر تم میں سے کوئی رسول نہیں آیا تھاجو تم کو تمہارے ربّ کی پڑھ سنائے”

“کیا۔ ہم۔ نے تمکو اتنی عمریں عطا نہیں کی تھیں کہ تم محمدؐ کی بات کو تسلیم کر لیتے” . ہماری کتنی عمریں گزر گئیں تیس ،چالیس سالہ، پچاس سالہ، کتنی احادیث کا مجموعہ ہمارے کانوں سے ٹکراتا ہے اور ہم نظر انداز کر دیتے ہیں۔کاش! ہم سمجھ جائیں کہ اگر اللہ نے ہم سے پوچھ لیا کہ تم نے میرے محمدؐ کی بات کیوں نہیں سنی؟ تو ہم کیا جواب دیں گے؟ حشر کے میدان میں ہر۔ انسان تنہا تنہا اپنے ربّ کے سامنے کھڑا ہوگا اور ربّ بندے سے سوال کرے گا اور بندہ کھڑا ہو کر جواب دے گا۔حشر کے میدان میں انسان کی آنکھیں اللہ کے خوف سے نیلی ہوجائیں گی۔نجات صرف اسکی ہوگی جس نے کہا ہوگا اللہ میرا ربّ ہےاور محمدؐ میرے رسول ہیں اور اس پر ڈٹ گیا۔
“انّ الّذین قالوا ربّنا اللہ ثمّ استقامو”السجدہ ٣٠
وہ جنت کا راہی ہے

مثال: “ایک صحابیءِ رسولؐ نے سونے کی انگوٹھی پہنی ہے رسول اللہؐ نے دیکھ کر غصے سے منہ پھیر لیا اور فرمایا یہ آگ کا انگارہ ہے . تو صحابیءِ رسولؐ نے انگوٹھی اتار کر پھینک دی، یہ دیکھ کر آپؐ کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا، صحابہ کرامؓ نے کہا؛ انگوٹھی اٹھا لو اپنی بیوی کو دے دینا وہ استعمال کر لے گی تو صحابیءِ رسول نے کہا کہ جس انگوٹھی کی وجہ رخِ مصطفیٰؐ پر غصہ آیا خدا۔کی قسم میں اسے گھر نہیں لے جاوُں گا” . جس دل میں رسولﷺکی محبت ہوتی ہےوہ اتباع کرتاجاتاہے۔اپنےعملوں کوچھوڑتاجاتاہےاوررسولﷺکی سنتوں کواپناتاجاتاہے۔ آج تک آپ نےدیکھاہوکہ کسی ڈاکٹرنےاپنی کلینک کےباہرکریانہ مرچنٹ کابورڈلگایاہو۔بلکہ جواندرہورہاہوتاہےوہی بورڈلگایاجاتاہے۔ ہمارےدلوں میں جسکی محبت سمائی ہوتی ہےوہی عملی نمونہ ہماری زندگیوں میں نظرآتاہے۔

وَمَااٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَانَھٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوْا

رسول اللہﷺفرماتےہیں۔ سفرکےدوران ایک وادی میں اترے،توکوئی لیٹ گیا،کوئی بیٹھ گیا،سب بکھرگۓ . آپﷺایک فرمان جاری کرتےہیں ۔میرےصحابہؓ یہ بکھرکرلیٹناشیطان کی طرف سےہے۔”صحابی فرماتےہیں کہ اگلےہی لمحےسب اس طرح سمٹ کراکٹھےہوجاتےہیں کہ اگرسب پرایک چادر ڈال دی جاتی تووہ کافی ہوتی” . یہ اتباعِ سنت ہےاللہ میرےصحابہؓ کی قبروں کوجنت کےنورسے بھردے ۔آمین۔ آپﷺکےایک ایک فرمان کوسنیں اوران فرامین کوہرگزٹھکرائیں۔ کہ میرےگھروالےنہیں مانتےمیرےعزیزواقارب نہیں مانتےسب روٹھ جانےدیں اللہ اوراسکےرسولﷺکوراضی کرلیں سب راضی ہوجائیں گے۔دنیامیں سب کوچھوڑاجاسکتاہےمگراس ذات کونہیں چھوڑاجاسکتاجس نےنہ دنیامیں ہمیں چھوڑانہ قیامت میں چھوڑےگابلکہ اس روزبھی وہ پکارکرےگا

“یارب امتی ” ……… “یارب امتی”

آج ہمیں اس نبیﷺکاچہرہ کیوں نظرنہیں آتااس کااسوہ کیوں نظرنہیں آتا؟ جوہماری خاطراس رب کےحضورروتارہا . صحیح بخاری میں آتاہےکہ میدانِ حشرمیں بھی اس وقت تک سکون سےنہیں بیٹھےگاجب تک پوری امت کوجنت میں نہ لےجاۓسواۓمشرک کے۔(صحیح بخاری)

ابو داوُد سے روایت ہےکہ “صحابہ کرامؓ فجر کی نماز پڑھ کرمسجد سے نکلے ہیں اور صحابیاتؓ بھی نکلی ہیں اور راستے میں اکٹھے ہوگئے ۔رسول اللہ ؐ نے یہ دیکھا تو فرمایا; “اے عورتو! تم دیوار کے ساتھ چلو اور اے مرد صحابیو! تم راستے کے درمیان میں چلو”۔ یہ سن کر ۔ مرد اور عورتیں الگ ہوگئے ، عورتیں اس طرح دیوار کے ساتھ چلنے لگیں کہ ان کے دوپٹے دیوار کے سارھ چپکنے لگے” وہ کون تھے جن کو یہ حکم دیا جارہا تھا عمر، عبداللہ، ابوبکر ، عثمان ، علی ، فاطمہ ، عائشہ ، سودہ ، میمونہ( رضوان اللہ علیھم اجمعین ) جو خود ہی اختلاط کو برداشت نہیں کرتے تو الل کے نبیؐ ان کو حکم دیتے ہیں. عبداللہ ابن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ میں نے اپنے محمدؐ سے سنا ہے کہ آپؐ نے فرمایا کہ” اپنی عورتوں کو مسجد میں آنے سے منع نہ کرو عبداللہ ابن عمرؓ کے بیٹے کہا کہ میں منع کرونگا کیونکہ اب دور بدل چکا ہے فتنوں کا ڈر ہے تو اسکے سینے پر اتنے زور سے مکا مارا کہ وہ گرگئے اور فرمایا کہ میں نے تجھے فرمانِ رسولؐ سنایا ہے اور تو کہتا ہے کہ میں منع کرونگا،عبداللہ ابن عمرؓ مرتے دم تک میں تجھ سے کلام نہیں کروں گا اور زندگی بھر کلام نہیں کیا”(بخاری)

ایک صحابیءِ رسولؐ کا بھتیجا انگلیوں پر پتھر رکھ کر کھیل رہا تھا صحابیءِرسول نے تو فرمایا کہ” رسولؐ نے اس کام سے منع فرمایا ہے کسی کا دانت توڑ دو گے کسی کی آنکھ پھوڑ دوگے وہ پھر بھی کھیلتا رہا ۔ فرمایا؛ میں نےتجھے رسولؐ کا فرمان سنایا ہے اور تو باز نہیں آیا میں تجھ سے قیامت کی دیواروں تک کلام نہیں کروں گا تو نےمحمدؐ کا فرمان سن کر ٹھکرا دیا” . آج ہماری یہ حالت اپنی اولادوں کے ساتھ ہے ہم نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں تہجد پڑھ رہے ہوتے ہیں اور ہماری اولاد نرم گرم بستر پر سو رہی ہوتی ہے۔ ہم تلاوت کر رہے ہوتے ہیں اور ہماری اولاد گانے سن رہی ہوتی ہے وہ آگ کے انگاروں پر ہیں ، ہم کہتے ہیں اولادیں نا فرمان ہوگئیں ہیں کیا کریں؟ اگر اولاد والدین کے ساتھ گستاخی کرے تو ہم برداشت کریں گے؟ یقیناً نہیں کریں گے تو ہم محمدؐ کے ساتھ کی جانے والی گستاخیوں کو کیوں کر برداشت کر لیتے ہیں؟

حضرت عمر فاروقؓ کی کیفیت اور نبیؐ کا جلال:
نبیؐ کے پیارے ساتھی دنیا کے بھی ،قبر کے بھی ساتھی اور آخرت کے ساتھی فاروقِ اعظمؓ نے ہاتھ میں تورات کا ورق پکڑا ہوا ہے جسکو دیکھ رہے ہیں اور مسکرا رہے ہیں حضرت ابوبکرؓ بھی وہاں تشریف فرما ہیں وہ اللہ کے نبیؐ کے چہرے کی طرف دیکھتے ہیں آپؐ کا چہرہ غصے سے ٹمٹما رہا ہے تو حضرت ابو بکرؓ فرماتے ہیں کہ عمرؓ تم رسول اللہؐ کا چہرہ نہیں دیکھ رہے عمرؓ نے رسول اللہؐ کا چہرہ دیکھا اور فوراً وہ ورق پھینک دیا اور کہتے ہیں؛

رضيتُ باللهِ رباً,وبالإسلامِ ديناً, وبمُحمدٍ نبياً ……… میں اللہ کے ساتھ (اس کے ) رب ہونے پر راضی ہو گیا اور اسلام کے ساتھ (اس کے ) دین ہونے پراور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (اس کے ) نبی ہونے پر ” . ہمارے حبیب( صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا ” اے عمر ( رضہ) آ ج تو تم تورات کا ورقہ پڑھ رہے ہو.اگر صاحبِ تورات خود زندہ ہو کر آ جائیں ۔ انہوں نے نجات پانی ہو تو انہیں بھی محمد (صلی علیہ وسلم) کے پیچھے چلنا ہو گا تم مجھے چھوڑ دو۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے پیچھے چل پڑو گمراہ ہو جاؤ گے۔” (مشکوہ۔ دارمی) میری قابل صد تکریم ماوُوں٬ بہنو ٬ بیٹیو٬ عمر بن خطاب(رضہ) کے لیے رسول (صلی اللّٰہ علیہ وسلم) کی یہ کیفیت تھی تو ہمارا کیا بنے گا؟۔ ہم نے تو نبی کریم ( صلی اللہ علیہ وسلم) کے طریقے کو چھوڑ دیا۔

1.دائیں ہاتھ سے کھانا:
پیارے حبیب (صلی اللہ علیہ وسلم) دیکھتے ہیں ایک شخص بائیں ہاتھ سے کھانا کھا رہا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: سیدھے ہاتھ سے کھاؤ۔ اس نے کہا میرا دایاں ہاتھ نہیں اٹھتا۔ آ پ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا پھر یہ کھبی نہ اُٹھے۔ حدیث میں لکھا ہے اسے تکبر کی وجہ سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے فرمان کو ٹھکرا دیا۔ پھر اس کا دائیاں ہاتھ زندگی بھر نہ اٹھا۔ (ریاض الصالحین)

2. پیارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا:
امام سے پہلے سجدے میں نا جایا کرو۔ ایک شخص نے کہا تو آ ج امام سے پہلے سجدے میں میں جا کر دیکھتا ہوں کیا ہوتا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ شخص امام سے پہلے سجدے میں گیا اس کا چہرہ گدھے کی شکل میں تبدیل ہو گیا۔ جو اللہ اور رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی نہیں کرتا وہ خود ہلاکت کو دعوت دیتا ہے۔ رسول (صلی اللہ علیہِ وسلم) نے فرمایا:
“میں تمہیں ایسے دین پر چھوڑ کر جا رہا ہوں جس دین کی راتیں دن سے زیادہ روشن ہیں۔

جو اس دین کی روگردانی کرے گا وہ ہلاک ہو گیا۔ ایک شخص ساری رات عبادت کرتا رہے۔ تسبیحات پڑھتا رہے۔ اگر اس کا وہ عمل نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے طریقے کے مطابق نہیں تو اس کا وہ عمل ضائع ہو گیا۔ اللہ کے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم) کا نافرمان قبر میں پھنس جائے گا۔ تین سوالوں کے جواب دے گا تو کامیاب۔ جو عمل نہ کرتا رہا وہ جواب نہیں دے سکے گا وہ قبر میں ہی پھنس جائے گا۔ اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت کرنے والوں کے لیے اللہ خود فرماتے ہیں:“اے نبیؐ! کہہ دیجئے ……. اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ بھی تم سے محبت کرے گا” اللہ کی محبت کا انسان مستحق اس وقت ہوتا ہے جب وہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت کرتا ہے۔

حضرت آ سیہ کی مثال:
دین کی راہ میں رہنے کے لیے حضرت آ سیہ کی مثال ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ ظالم نےحضرت آ سیہ کے ایک پاؤں کو رسی باندھ کر ایک اونٹ کے ساتھ باندھ دی اور دوسرے پاٶں کو رسی باندھ کر دوسرے اونٹ کو مخالف سمت میں باندھ دیا . اور اونٹوں کو مخالف سمت میں دوڑایا دیا

اور حضرت آسیہ کو نیزہ مار کر دو ٹکڑے کردیا ان کی روح پرواذ ہوٸی تو وہ مسکرا رہی تھی وہ عورت جو بادشاہ کی بیوی ہو
چار ہزار غلام ہوں اس نے دین کے لئے مشکلات برداشت کیں . انہوں نے دعا کی۔”اے اللہ مجھے تیرے پڑوس میں گھر چاہیے”۔ جب روح پرواز ہونے لگی تو اللہ نے وہ کر دکھایا تو وہ مسکرا دیں ……… اللہ کے نبی کی باتوں کی شان ،،،حضرت عمرفاروق خلافت ملنے کےبعدمنبر رسولؐ پر کھڑے ہوۓ اور خطبے میں فرمایا،
لوگو ! اگرمیں دین حنیف ، دین مصطفٰی سے ایک انچ برابر بھی ہٹوں تو تم میرے ساتھ کیا سلوک کرو گے؟آخری صف سے ایک دیہاتی صحابی کھڑے ہوئے اپنا نیزہ بلند کیا اور فرمایا؛اے امیرلمومنین! اگر آپ دین مصطفٰی پر چلیں گے تو ہم آپ کی پیروی کریں گے اور اگر آپ ایک انچ برابر بھی اس سے ہٹیں گے تو میں اپنے نیزے کی نوک سے آپ کو سیدھا کر دوں گا۔ یہ پیغام مصطفٰی اور نظامِ مصطفیٰ کی شان ہے کہ اگر امیر المومنین بھی اس سے ہٹیں گے تو صحابہ ان کو سیدھا کر دیں گے .

آخری پیغام ………. !! آج ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےدین اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو رواج دینے کی کوشش کریں اور دین کو بچائیں ، حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تو پاس ہی ایسے رکھا جا سکتا ہے کہ ہم اپنی زندگی میں داخل ھو جانے والی ہر وہ چیز، ہر وہ کام ، ہر وہ مشغلہ و مصروفیت ترک کردیں جو نبیؐ کی سنّت سے ٹکراتی ہے ، جو آپؐ کے طریقے کے خلاف ہے کیونکہ آپؐ نے فرمایا؛ ” تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں۔ ہو سکتا جب تک اس کی خواہشِ نفس اس طریقے کے تابع نہ ہو جائے جو میں لے کر آیا ہوں” .

اللہ ربّ العزت سے دعا ہےکہ ہم اپنے قول اور فعل سے ثابت کر دکھائیں کہ رسولؐ کی عزت وحرمت ہمیں چیز سے پیاری ہے۔

وفا جس سے نبھاوُ گے اسی کے ساتھ جاؤ گے
ہیں یہ خوشخبریاں محبوبِ جاں کے ہم نشینوں میں

اپنا تبصرہ بھیجیں