ایمان کی معراج – عالیہ زاہد بھٹی




تحقیق سے منسلک افراد اچھی طرح جانتے ہیں کہ علم یعنی جاننے کی کوئ انتہا نہیں ہوتی اسی طرح ہر طرح کی علمی تحقیق چونکہ کاملیت کے درجہ کمال کو نہیں پہنچ سکتی وہ ادھوری ہوتی ہے . بات صرف ادھوری تک رہتی تو ٹھیک تھا مگر یہاں تو یہ تک بتایا جاتا ہے کہ

Knowledge is incomplete
کا مطلب ہے کہ
There is no true knowledge

دنیا میں صرف قرآن وہ واحد کتاب ہے کہ جس کا مصنف خود کہتا ہےکہ
“آج میں نے تمہارا یہ دین تمہارے لئے مکمل کردیا” یہ دنیا کی واحدResource of knowledge
ٕہے کہ جسے مکمل کہہ سکتے ہیں جب اس کے لکھنے والے نے اسے مکمل کرکے دنیا کے سب سے مکمل ترین فرد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قلبِ اطہر پر نازل فرما دیا تو گویا تمام انسانیت کے لئے علم کی معراج تکمیل پاگئی . اب ہزاروں ناقد بیٹھیں صدہا تحقیقات کرتے رہیں اس مکمل منبع علم پر ان کی تحقیقات کے ہر زاویے کو پڑھ پڑھ کر کبھی بھی کوئی کوئ تحقیق”سچ”نہیں ہوگی . اس کا مطلب یہ نہیں کہ سچ نہیں ہوگی تو اسکا متضاد لفظ “جھوٹ” ہوگی

نہیں بلکہ اسےجھوٹ کے بجائے آدھا سچ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا اور آدھا سچ میں گنجائش باقی ہے مکمل سچ ہونے کی یوں ہر تحقیق آدھے، آدھے سچ کے مکمل ہونے کی چاہ میں رواں دواں ہے نہ تو اس مکمل کتاب قرآن مجید کو کوئ مکمل سمجھ سکا اور ناں ہی کوئی اس مکمل ترین انسان نبی مہربان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات وصفات کا احاطہ کر سکا . کیوں کہ یہ قرآن اور جس پر یہ قرآن نازل ہوا وہ انسان نبی مہربان محمد صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ہی انسانی فلاسفی اور اور انسانی توجیہات سے بالاتر ہیں . سائنس کی بات ہم اس ماورائے سائنس موضوع میں اس لئے نہیں رکھ سکتے کہ سائنس بذات خود انسانی مشاہدات ،تجزیات اور تجربات کا مجموعہ ہے جو کہ تحقیق کی تعریف کے مطابق یعنی آدھا سچ ہے یہ مکمل کرنے کے لئے ہر اک محقق کی زندگی کے آغاز سے انجام کا سِرا درکار ہے جو کہ فرد کے بعد دوسرے فرد کی تحقیق اور اس کے بعد تحقیقات کے لامتناہی سلسلہ میں دب کر رہ جاتا ہے .

یہ ساری تمہید ہر اس اہل علم وشعور وعقل کے لئے دعوتِ فکر ہے کہ جو آج کامل ترین مقام پر پہنچی ہوئی کتاب اور کاملیت کے درجہ پر فائز محسنِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان پر ہرزہ سرائ پر خاموش رہتے ہیں یا جو یہ سوچ کر چپ ہیں کہ آخر اس احتجاج کے سلسلے میں کیا فائدہ ہوگا اور کیوں کر اس کے اثرات مرتب ہوں گے . ان سب کو اس تمہیدی گفتگو میں ہی کاملیت کی معراج تک پہنچنے والے عوامل تک پہنچ جانا چاہیے کہ جب وہ علم کا منبع اور اس علم کو اپنے اندر سمو لینے والی ذات ابتدائے آفرینش سے اپنی انتہا تک باعثِ حرکتِ کائنات،باعثِ برکتِ کائنات ہے تو اس قرآن اور نبی مہربان محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق کی معراج کیا ہوگی .

گلی محلے میں ہونے والی”قرآن خوانیوں” اور”میلادِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی محفلوں کے فیوض وبرکات کے قصے اپنی جگہ قرآن کے ہر حرف پر ملنے والی نیکیوں کی نوید بھی اپنی جگہ مگر اسی طرح ان کے عشق میں رچ بس جانے والے عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں زنگدگیاں بدل دینے والے کھوٹے سے کھرے کا سفر طے کر لینے والے آدھے،آدھے سچ کے مکمل ہونے کی آس میں قلم کی نوک سے قرطاس پر موتی بنا کر بکھیر دینے والے ابیض اور اسود کے بین فرق کرنے والے اندھیرے اور اجالے کا فرق پاٹ جانے والے عشق کی حدوں کو چھو لیتے ہیں پھر یہ حدیں عشق کی وادی کے اس اوجِ کمال تک پہنچا دیتی ہیں کہ غازی علم دین بنتا ہے تو اس وقت کا ذہین ترین وکیل محبت سے مغلوب اس کا مقدمہ لڑتا ہے اور اس وقت کا وہ دور اندیش ذکیہہ فقیہہ شاعر سخنطراز ودلنواز کفِ افسوس ملتا کہتا ہے کہ

“اک ترکھان کا لڑکا بازی لے گیا اور ہم بیٹھے رہ گئے”

اسی غازی علم دین کے نقشِ قدم پر چلنے والا ممتاز قادری بازی لے جاتا ہے اور ہم جیسے بیٹھ رہتے ہیں . اس بیٹھ رہنے پر مجھے سورہ توبہ کی وہ آیت یاد آتی ہے جس میں پیچھے رہ جانے والوں کو “والیوں”کے صیغے میں رگڑ کر رکھ دیا . مجھے سورہ توبہ پڑھ کر فوراً سورہ واقعہ کے مسابقت لے جانے والے یاد آتے ہیں اور دل رو پڑتا ہے کہ اے اللہ بے شک ہم کمزور ہیں بے شک ہم وہ ہیں جنہیں تونے اعزاز میں گھروں میں سکونت پذیر کردیا،جنہیں تو نے اپنی محبت کی انتہا میں ہر حق عطا فرما کر فرائض والوں کے فرضِ اولین کا حصہ بنا دیا تیرا شکر میرے مالک،مگر پھر بھی تجھ سے استدعا ہے،التجا ہے کہ ہمیں اس عشق کے راستے میں عشق کی معراج عطا فرما دے وہ معراج جو”بیٹھ رہنے والیوں” کے حصے میں نہیں آتی وہ عشق کی معراج کر گزرنے والوں،سبقت لے جانے والوں،محبت میں جان وار دینے والوں کے حصے میں آتی ہے .

میرے رب تیری اتنی بڑی کائنات میں تیری مکمل ترین کتاب قرآن مجید اور تیرے مکمل ترین انسان نبی مہربان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ڈھیروں عاشق ہیں ان تمام عاشقوں سے بڑھ کر ہمیں عشق کی معراج عطا فرما دے ہمارے ہاتھوں سے ہر موذی شیطان،ملعون اور شاتم کا قلع قمع کرادے جو یہ ممکن نہ ہو تو ربّی تو کن کہہ دے ہم عاشقِ ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم بن کر فرانس کے ان انسان نما جنگلی جانوروں کے خلاف سڑکوں پر تو نکل سکیں کہ جنہوں نے توہین رسالت کا گھناؤنا جرم کیا ہے …..؟‌ ربی ہم ان مصنوعات سے قطع تعلق کا اظہار ہی نہیں انہیں اپنی زندگی سے ہمیشہ کے لئے خارج کر سکیں جو اس ملعون ملک فرانس کی معیشت کو سہارا دیتی ہیں ……… ربی ہمارے ایک ایک بائکاٹ پر ہمیں وہ اجر عطا فرما دے کہ جو اجر ان کفار کی گردنیں کاٹنے پر مل سکتا ہے .

میرے رب تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت کی رکھوالی کے لئے ہم جو بطور احتجاج جہاں،جہاں بھی جائیں جو حرف بھی کہیں جو لفظ بھی لکھیں فرانس کی جس شے سے منہ موڑیں ربی اس کا ثواب حوضِ کوثر لکھ دے اس کا ثواب شفاعتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم لکھ دے اگر ایسا نہیں لکھنا تو پھر ہمیں وہ دینی،ایمانی اور عددی قوت عطا فرما دے کہ جس کے بل پر ہم ہر شاتمِ رسالت کو اپنے ہاتھوں جہنم رسید کر سکیں . اس مملکتِ اسلامیہ کے حکمرانوں کو وہ غیرت مسلم عطا فرما کہ وہ”بیٹھ رہنے والیوں”کی طرح نہ بنیں بلکہ بڑھ کر مردانہ وار عالمِ استعماریت کو للکار کر بتا دیں کہ ہاں عشقِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہے ……. ہم نے چوڑیاں نہیں پہن رکھیں کہ تم شانِ رسالت پر حملے کرو اور ہم دوسرا موقع بھی تمہیں عنایت کریں یہ حکمران اور ان کے حواری اگر مردوں کی صف میں رہنا یا شامل ہونا چاہتے ہیں تو انہیں تمام باطل پرستوں کو آگے بڑھ کر اپنے”اسلامی ایٹم بم” یعنی عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے چت کر دینا چاہیے کہ

“نگاہِ عشق ومستی میں وہی اول وہی آخر”

اگر زمانے کا امام بننا ہے تو سچ مچ کی ریاستِ مدینہ کی داغ بیل ڈال دیں . یہ وقت ہے ریاست مدینہ کے دعوے کو سچ ثابت کرنے کا کہ اگر میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی ریاست مدینہ موجود ہوتی تو آج کوئ گستاخِ رسول زندہ نہ رہ سکتا . تم لوگوں نے ملعونہ آسیہ مسیح کو باہر بھیج کر جو گناہ کمایا ہے اسی کے کفارے میں اسی کے ازالے میں فرانس حکومت کو دو ٹوک الفاظ میں بتا دو کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کریں گے آسیہ ملعونہ کو چھوڑنا ہماری کمزوری ٹہری تو آؤ آج ہم ہی تمہاری معیشیت کا جنازہ نکال کر اس کمزوری کی ندامت کو عشق کی معراج میں بدل کر مضبوط کردیں گے انشاءاللہ

اگر ایسا کچھ کر سکو پاکستان کے حکمرانوں تو آؤ ہم عشق مصطفی کی معراج میں تمہارے ساتھ ہیں . تم قدم بڑھاؤ امت مسلمہ کی آواز بنو ہماری آوازیں تمہارے ساتھ ہیں . جو یہ نہ کرسکے تو یار رکھو “پیچھے رہ جانے والیوں” سے تو اللہ بھی اعلان براءت کرتا ہے .

اپنا تبصرہ بھیجیں