ظالم کو کبھی پھلتے پھولتے نہیں دیکھا – قدسیہ ملک




ابوقلابہ سے مروی ہے کہ : میں نے شام کے بازار میں ایک آدمی کی آواز سنی جو ’’ آگ آگ‘‘ چیخ رہا تھا. میں قریب گیا تو میں نے دیکھا کہ اس کے دونوں ہاتھ اور دونوں پیر ٹخنوں سے کٹے ہوئے ہیں اور دونوں آنکھوں سے اندھا منہ کے بدل زمین پر پڑاگھسٹ رہا ہے اور ’’ آگ آگ‘‘ چیخ رہا ہے.

میں نے اس سے حال دریافت کیا تو اس نے کہا کہ ’’میں ان لوگوں میں سے ہوں جو عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر میں گھسے تھے. جب میں ان کے قریب گیا تو ان کی اہلیہ چیخنے لگیں‘ میں نے ان کے منہ پر طمانچہ مارا. عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا:تجھے کیا ہو گیا ہے‘ عورت پر ناحق ہاتھ اٹھاتا ہے. خدا تیرے ہاتھ پاؤں کاٹے‘ تیری دونوں آنکھوں کو اندھا کرے اور تجھے آگ میں ڈالے! مجھے بہت خوف معلوم ہوااورمیں نکل بھاگا. اب میری یہ حالت ہے جو تم دیکھ رہے ہو‘ صرف آگ کی بددعا باقی رہ گئی ہے.‘‘

نیرو کے نام سے ہم میں سے اکثرلوگ واقف ہونگے۔روم کا یہ بدنام زمانہ حکمران ایک لے پالک بچہ تھا۔ جب اس کے باپ کی وفات ہوئی تو وہ بادشاہ بنا۔ تخت سنبھالنے کے بعد شروع شروع میں اس نے اپنی ظالمانہ فطرت کا کوئی مظاہرہ نہیں کیا، لیکن اقتدار کے ماہ و سال گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی طبیعت میں ایک مجنونانہ اشتعال کی سی کیفیت بڑھنے لگی۔ سب سے پہلے اس نے اپنی ماں ’’ایگریپینا دی ینگر‘‘ (Agrippina The Younger) کو قتل کیا۔ بعدازاں کچھ عرصے بعد ہی اس نے اپنی دونوں بیویوں کو بھی باری باری قتل کردیا۔ آہستہ آہستہ نوبت یہاں تک جاپہنچی کہ اس نے پورے روم کو آگ لگانے کا منصوبہ بنایا تاکہ وہ پرانے شہر کی جگہ پر ایک نیا شہر بناسکے۔ یہ آگ ’’دی گریٹ فائر آف روم‘‘ کہلاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب روم جل رہا تھا تو نیرو آرام سے بیٹھا بانسری بجا رہا تھا۔

وہ یہیں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے روم کے بچ جانے والے شہریوں پر ہی آگ لگائے جانے کی سازش کا الزام لگا دیا اور ان پر مقدمات چلانے کے بعد بہت سوں کو شدید تشدد کرواکے مروا دیا۔ اس کی یہ ذہنی کج روی بالآخر اتنی بڑھی کہ اس نے خودکشی کرکے اپنی بھی جان لے لی۔ کنگ جان کو باآسانی انگلستان کی تاریخ کا سب سے زیادہ ظالم بادشاہ کہا جاسکتا ہے۔ یہ 24 دسمبر 1166ء کو پیدا ہوا اور 19 اکتوبر 1216ء کو وفات پائی۔ وہ 1199ء سے لے کر اپنے انتقال تک تخت نشین رہا۔ بادشاہت کے حصول کے لیے اس نے اپنے ہی بھائی کے خلاف فرانس کے بادشاہ کے ساتھ مل کر سازش کی۔ جب اس کے مخالفین نے اس کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کی تو اس نے انہیں قلعے میں قید کرواکر بھوکا پیاسا مار دیا۔ اس نے بادشاہ بننے کے بعد ایک بہت بڑی بری و بحری فوج تشکیل دی اور اس کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے عوام پر بھاری محصولات عائد کئے، معززین کی جائیدادیں ضبط کرلیں اور امراء کو قید میں ڈال کر ان پر تشدد کے ذریعے ان کی دولت ہتھیالی۔

بالآخر 1216ء میں وہ پیچش کے مرض میں کئی سال زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ہوکر دنیا سے گزرگیا۔ ظالم لوگ اپنےاَنْجام سےبےخوف ہوکرظلم وزیادتی کرتے ،دھمکیاں دے کر لوگوں سے رقم کا مُطالبہ کرتے ہیں،لوگوں کے مال وجائیدادپر قبضہ کرتے ہیں، چوری ، ڈکیتی ، رہزنی، لوگوں کے حقوق سلب کرنا،مظلوموں کو تکلیف دینا،دہشت گردی اورقتل و غارتگری جیسےگناہوں میں مبتلا ہوکرنہ جانےکس کس انداز سےاپنے جیسے مسلمانوں کےحقوق پامال کررہے ہیں۔ لیکن یادرکھئے!ظلم کا انجام بہت ہی بھیانک اور خطرناک ہے، ہم دنیا میں چاہے کسی پر کتناہی ظلم کرلیں  اور بے خوف ہوکر  گُھومتے پھریں،مگر یہ  بھ یاد رہےکہ مرنے کے بعد ہر ظلم کا حساب دینا ہو گا۔ 

بہت سے ایسے ظالم وجابرلوگ گزرے ،جن کا شمار دنیا کے طاقتور افراد  میں ہوتا تھا، جن کے پاس دنیاکی ہر نعمتوں کے خزانے موجود تھے،جن کے حکم کی خلاف ورزی کرنا گویا موت کو دعوت دینا تھا،جو زمین پر اکڑ  اکڑ کر چلا کرتے تھے، جن کے ظلم و جبرکے نہ صرف کارنامےسُن کربلکہ ان کانام سُنتے ہی لوگ لرز جاتے تھے، شاید وہ اس بات سے  بے خبر تھے کہ ایک دن انہیں بھی مرنا ہے اور اپنی کرنی کا پھل بُھگتنا ہے ،بالآخر موت نے انہیں اپنے شِکنجےمیں لےکران کاغروروتکبر ہمیشہ کے لیے خاک میں مِلادیا۔یہ قدرت کا انجام ہوتاہے۔جو وہ دنیا والوں کو عبرت کا سبق آور رہتی دنیا تک مظلوموں کی حمایت کا سبق دینے کے لئے قدرت کا ایک طریقہ کار ہوتاہے۔

ظلم کے خلاف کھڑے ہونا ، ظلم خود نہ برداشت کرنا اور دوسرے لوگوں کو بھی ظلم سے نجات دلانا ہر دور میں مسلمانوں کی پہچان اور ان کی امتیازی شان ہے۔ مسلمان فاتحین جس ملک میں بھی پہنچے انھوں نے اپنا یہ امتیاز باقی رکھا کہ عدل کا نظام قائم کیا_ اسی وجہ سے وہاں کے دبے کچلے لوگ جوق در جوق دائرہ اسلام میں داخل ہوئے اور اس کی پناہ میں انھوں نےسکھ چین کی سانس لی ـن مسلم حکم راں ہمیشہ ظلم کے خلاف کھڑے ہوئے ہیں۔ ظالموں کی سرکوبی میں پیش پیش رہے ہیں _ ایک مظلوم عورت نے ‘وامعتصماہ’ کی دہائی دی تو عباسی خلیفہ معتصم باللہ نے ایک لشکرِ جرّار تیار کیا اور عموریہ پر حملہ کرکے اس عورت کو آزادی دلائی، اندلس کے ایک مقامی حکم راں نے اپنے بڑے حکم راں کے ذریعے اپنی بیٹی کی آبرو ریزی کی شکایت کی تو طارق بن زیاد نے فوج کشی کی اور اندلس فتح کرلیا _

سندھ کے لٹیروں نے مسلمان مسافروں کے ایک قافلے کو لوٹ کر مردوں اور عورتوں کو قید کرلیا اور اس وقت کے راجہ داہر نے انھیں آزاد کرانے سے اپنی بے بسی ظاہر کی تو محمد بن قاسم نے حملہ کرکے انھیں آزاد کرایاـ اس سلسلے میں قرآن اور آنحضور ص کے ارشادات اور قرآن کی آیات ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :
” مظلوم کی بد دعا سے بچو ، اس لیے کہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا _” (بخاری : 1469 ، مسلم : 19)
” مظلوم کی بددعا ہر حال میں بارگاہِ الٰہی میں مقبول ہوتی ہے ، چاہے وہ فاجر ہو _ ( احمد : 8795 )

ظلم کا انجام دنیا میں بھی بُرا ہے اور آخرت میں بھی بہت برا ہوتاہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” کتنی ہی ظالم بستیاں ہیں جن کو ہم نے پیس کر رکھ دیا اور اُن کے بعد دُوسری کسی قوم کو اُٹھایا _”
( الانبیاء :11)

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے : ” ظلم کی سزا اللہ تعالیٰ آخرت میں تو دے گا ہی ، بسا اوقات ظلم کرنے والے کو دنیا میں بھی سزا دیتا ہے _” ( ابوداؤد : 4902 )

اسلام ظلم کی سختی سے مذمت کرتاہے۔اور ظلم کا ساتھ دینے کوبھی شدت سے منع کرتا ہے کہ کسی صورت میں بھی ظالم کا ساتھ نہ دیا جائے _ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :
” جس شخص نے کسی ظالم کا ساتھ دیا ، یہ جانتے ہوئے کہ وہ ظلم کررہا ہے ، تو وہ اسلام کے دائرے سے نکل گیا _” ( بیہقی ، طبرانی )

” جس شخص نے کسی جھگڑے میں ظلم کرنے والے کی مدد کی اس پر اللہ کا غضب نازل ہوگا _” ( ابو داؤد : 3598 )
اسلام نے تاکیدی حکم دیا ہے کہ کسی پر ظلم ہورہا ہو تو ظالم کا ہاتھ پکڑا جائے اور مظلوم کی حمایت کی جائے _ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے :
” لوگ جب کسی کو ظلم کرتے ہوئے دیکھیں ، پھر بھی اس کا ہاتھ نہ پکڑیں تو عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی سزا تمام لوگوں کو دے _ (ابوداؤد : 4338 ، ترمذی : 2168 )

ایک مرتبہ آپ نے فرمایا :” اپنے بھائی کی مدد کرو ، چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم _ “ صحابہ نے عرض کیا : ” مظلوم کی مدد کرنا تو ہماری سمجھ میں آتا ہے ، یہ ظالم کی مدد کرنے کا کیا مطلب ہے؟” آپ نے فرمایا : ” اس کا ہاتھ پکڑ لو اور اسے ظلم کرنے نہ دو ، یہ اس کی مدد ہے _” ( بخاری : 2444 )

ظلم کہتے ہیں کسی چیز کو اس کی جگہ سے ہٹاکر دوسری جگہ رکھنا ۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ کسی کو اس کا حق نہ دینا ،ناحق طریقے سے کسی کا حق مارنا ،بغیر قصور کے کسی پر زیادتی کرنا، معاملات میں ناحق طرفداری کرناوغیرہ ظلم کہلائے گا۔ یہ ظلم اس قدر بھیانک جرم ہے کہ اسے قیامت کی تاریکی سے موسوم کیا گیا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :تم ظلم سے بچو کیونکہ یہ قیامت کی تاریکیوں سے ہے یعنی ظالم کو قیامت کے دن بوجہ تاریکی اور اندھیرے کے راہ نہ ملے گی۔ (صحيح مسلم:2578)

ظلم کی پہلی قسم اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے ۔ اللہ اس کائنات کا تن تنہا خالق ومالک ہے ،اور جبکہ لقمان نے وعظ کہتے ہوئے اپنے لڑکے سے فرمایا کہ میرے پیارے بچو! اللہ کے ساتھ شریک نہ کرنا بیشک شرک بڑا بھاری ظلم ہے ۔اور جبکہ لقمان نے وعظ کہتے ہوئے اپنے لڑکے سے فرمایا کہ میرے پیارے بچو! اللہ کے ساتھ شریک نہ کرنا بیشک شرک بڑا بھاری ظلم ہے ۔ظلم کی دوسری قسم بھی حقوق اللہ سے متعلق ہے اور یہاں پراس سے مراد اللہ کی وہ معصیت ہے جو شرک کے علاوہ ہو۔
:
یہ یقینی بات ہے کہ اللہ لوگوں پر کچھ بھی ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔(یونس:44)

ظلم کی تیسری قسم حقوق العباد سے متعلق ہے یعنی ایک آدمی کسی دوسرے آدمی پر کسی قسم کا ظلم کرے مثلا لوگوں ک اناحق خون کرنا، باطل طریقے سے کسی کا حق مارنا، کسی کا سامان چھین لینا یا چوری کرلینا، بلاوجہ کسی کوگالی دیدینا، معصوم آدمی پر بہتان لگانا، لوگوں کا دل دکھانا، کسی کی غیبت اور چغلی کرنا، کمزوروں کو پریشان کرنا، حق کے داعیوں کے لئے مشکلات پیدا کرنا اور مظلوم کے خلاف ظالم کی مدد کرنا وغیرہ ۔ظلم کی تینوں اقسام میں یہ وہ بھیانک جرم ہے جس کو اللہ معاف نہیں کرتا اور نہ ہی نماز وروزہ اور حج وعمرہ جیسی نیکی سے تلافی ہوتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ کا فرمان ہے :

اگر کسی شخص کا ظلم کسی دوسرے کی عزت پر ہو یا کسی طریقہ (سے ظلم کیا ہو) تو آج ہی، اس دن کے آنے سے پہلے معاف کرا لے جس دن نہ دینار ہوں گے، نہ درہم بلکہ اگر اس کا کوئی نیک عمل ہو گا تو اس کے ظلم کے بدلے میں وہی لے لیا جائے گا اور اگر کوئی نیک عمل اس کے پاس نہیں ہو گا تو اس کے (مظلوم) ساتھی کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی۔(صحيح البخاري:2449)

اس معنی کی ایک مفصل روایت صحیح مسلم میں یوں ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :

.تم جانتے ہو میری امت کامفلس کون ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: مفلس ہم میں وہ ہے جس کے پاس روپیہ اور اسباب نہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مفلس میری امت میں قیامت کے دن وہ ہو گا جو نماز لائے گا، روزہ اور زکوٰۃ لیکن اس نے دنیا میں ایک کو گالی دی ہو گی، دوسرے پربدکاری کی تہمت لگائی ہو گی، تیسرے کا مال کھا لیا ہو گا، چوتھے کا خون کیا ہو گا، پانچویں کو مارا ہو گا، پھر ان لوگوں کو (یعنی جن کو اس نے دنیا میں ستایا) اس کی نیکیا ں مل جائیں گی اور جو اس کی نیکیاں اس کے گناہ ادا ہونے سے پہلےختم ہو جائیں گی تو ان لوگوں کی برائیاں اس پر ڈالی جائیں گی آخر وہ جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
(صحيح مسلم:2581)

اپنا تبصرہ بھیجیں