عمل سے زندگی بنتی ہے – جہانزیب راضی




اس سارے قصے میں چار کردار بہت اہم ہیں۔ سب سے پہلا کردار ایمانیول میکرون کا ہے، دوسرا کردار سموئیل پیٹی کا ہے، تیسرا کردار مِیلا کا ہے اور چوتھا کردار فرانس سے شائع ہونے والے مشہور میگزین چارلی ہیبڈو کا ہے۔ 2005 میں پہلی دفعہ ڈنمارک کے ایک میگزین جے لینڈز- پوسٹن میں نعوذ باللہ نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کے 12 تضحیکی خاکے شائع ہوئے۔

2006 میں یعنی صرف ایک سال کے بعد فرانس کے میگزین چارلی ہیبڈو نے ان تمام کارٹونز کو دوبارہ اپنے میگزین میں شائع کر دیا۔ یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ پورے یورپ میں برطانیہ کے بعد سب سے زیادہ مسلمان فرانس میں ہی بستے ہیں اور 2017 کی مردم شماری کے بعد فرانس میں مسلمانوں کی تعداد 57 لاکھ 60 ہزار 999 ہے جو کہ کل آبادی کا 8 اعشاریہ 8 فیصد بنتا ہے۔ بہرحال 2007 میں سویڈن کے ایک اور میگزین نے نیرکس الہینڈا نے تیسری دفعہ ان خاکوں کو شائع کیا۔ 2011 میں چارلی ہیبڈو کے مرکزی دفتر کو نامعلوم افراد نے آگ لگادی۔ 2015 میں ایک دفعہ پھر پیرس میں موجود چارلی ہیبڈو کے دفتر پر مسلح افراد نے حملہ کر کے 2 پولیس اہلکاروں سمیت 12 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا جس میں وہ کارٹونسٹس بھی شامل تھے جنہوں نے چارلی ہیبڈو میں ان خاکوں کو شائع کروانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

گستاخانہ خاکوں کی نئی لہر یکم ستمبر 2020 کے بعد اس وقت اٹھی جب چارلی ہیبڈو نے ایک دفعہ پھر ان تمام کارٹونز کو اپنے میگزین میں شایع کردیا۔ 20 اکتوبر 2020 کو فرانس کے ایک ہائی اسکول کے استاد سموئیل پیٹی نے ان اخبارات کو اپنی کلاس میں نہ صرف کھول کر دکھایا بلکہ ان اخبارات میں موجود خاکوں پر تبصرہ کرتے ہوئے آقائے دو جہان محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں تضحیک آمیز جملے بھی کسے۔ کلاس میں موجود 18 سالہ چیچن لڑکے نے جو کہ اسکول میں زیر تعلیم تھا نے اسی وقت سمیوئیل پیٹی پر حملہ کرکے وہیں اسے جان سے مار دیا۔ ہم اس واقعے کو ابھی یہیں پر روکتے ہیں اور جنوری 2020 کے آخری عشرے پر آتے ہیں16 سالہ لڑکی مِیلانے انسٹا گرام اکاؤنٹ پر لائیو پروگرام کے بارے میں اپنے “ہم جنس پرست” ہونے کا بتایا اور واضح الفاظ میں اس پر گفتگو بھی کی۔ بعدازاں اس اکاؤنٹ پر موصول ہونے والے کومنٹس میں ایک مسلمان نوجوان نے ملاد کے بارے میں کومنٹس کیے کہ “تم ایک ہم جنس پرست ہو اور تمہاری ان حرکتوں سے فرانس کے عربوں اور کالوں کا کوئی لینا دینا نہیں ہے”۔

ان کمنٹس کے جواب میں میلا نے اسلام کو نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ “قرآن خود ایک نفرت انگیز کتاب ہے” (نعوذ باللہ) میلا کے اس کومنٹ کے بعد مسلمانوں کے اندر غیر معمولی ردعمل پیدا ہوگیا اور کسی نوجوان نے اس کے اسکول اور کلاس کی تفصیلات نکال کر کر وہیں انسٹاگرام پر درج کر دیں۔ جس کے بعد میلا کو دھمکیاں ملنا شروع ہو گئیں اس واقعے کے بعد فرانس کی حکومت نے سرکاری طور پر مداخلت کر کے اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دیں۔ اہم بات یہ ہے کہ سموئیل پیٹی اور میلا دونوں کے واقعات اکتوبر کے ہی مہینے میں یکے بعد دیگرے ہوئے۔22اکتوبر کو سموئیل پیٹی کی آخری رسومات میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون بنفس نفیس شریک ہوئے بلکہ انہوں نے اپنی تقریر میں اسلام اور مسلمانوں کو تذلیل کا نشانہ بناتے ہوئے مزید کہا کہ: ” سموئیل پیٹی ایک ہیرو تھا اور ہم کبھی بھی کارٹونز بنانا نہیں چھوڑیں گے۔”

اسی طرح جب فرانسیسی صدر کے سامنے ملای کا کیس لایا گیا تو انہوں نے دوبارہ اس بات کا اعادہ کیا کہ “فرانس کے قانون میں کسی بھی قسم کا خاکہ بنانا، کارٹون شائع کرنا یا پھر کسی کی تضحیک آمیز تصاویر چھاپنا جائز ہے”۔ “اس لئے ہم ملای کو پوری طرح نہ صرف سپورٹ کریں گے بلکہ اپنے ملک کے قانون کے مطابق اس کا تحفظ بھی کریں گے”۔ فرانسیسی صدر نے اسلام کو مزید نشانے پر رکھتے ہوئے کہا کہ “اگر اسلام خود کرائسسز میں ہے تو اس کا ذمہ دار دوسروں کو نہ ٹھہرائیں”۔ فرانس نے مسلمانوں پر مزید سختی کرتے ہوئے 20 اکتوبر کو پیرس کی ایک مسجد میں چھاپہ مار کر وہاں سے 14 لوگوں کو بغیر کسی وجہ کے نہ صرف گرفتار کرلیا بلکہ مسجد کو بھی سِیل کردیا گیا۔

اب آپ دلچسپ بات ملاحظہ کیجئے کہ اسی فرانس کے “آزادی اظہارِرائے” کے قانون کے تحت ہولو کاسٹ پر کسی بھی قسم کی گفتگو کرنا یا مذاق اڑانا کسی صورت جائز نہیں ہے بلکہ لطیفہ تو یہ ہے کہ فرانس کے اپنے قانون آرٹیکل آر۔ 625-7 کے مطابق:
“فرانس کے ضابطہء فوجداری کے مطابق ہر قسم کی اس سرکاری اور غیر سرکاری نشرواشاعت پر پابندی ہے جو اہانت اور بے عزتی کا باعث بن سکتی ہو یا جس سے کسی بھی شخص یا گروہِ معاشرہ کے خلاف وطنیت ، نسلیت یا عدم شناخت نسل، قومیت، نسل، خاندان، مخصوص مذہب، جنس،جنسی شناخت یا معذوری کی بنیاد پر امتیاز، نفرت یا تشدد جنم لیتا ہو”۔
صدر فرانسس پر بھی تنقید ایک حد تک کی جاسکتی ہے تحقیر کی صورت میں اس شخص کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی۔ یہ ہیں ان ممالک کے دوہرے معیارات اور “آزادی اظہار رائے” کی حقیقت۔

فرانسیسی صدر کی آشیرباد کے بعد 28 اکتوبر کو چارلی ہیبڈو نے ایک دفعہ پھر ان تمام خاکوں کو اپنے میگزین میں شائع کر دیا ہے یورپ کی عموماً اور فرانس کی خصوصا مسلم اور اسلام دشمنی پر سب سے سخت ردعمل طیب اردوان کا سامنے آیا جنہوں نے میکرون کو ایک دماغی مریض قرار دیتے ہوئے کہا کہ “انہیں اس وقت اچھے معالج کی اشد ضرورت ہے”۔
ایردوان کے ان جملوں پر جب فرانس نے سفیر کو بلاکر احجانج کیا تو جواب میں ترکی نے نہ صرف اپنا سفیر واپس بلا لیا بلکہ فرانس کے سفیر کو بھی واپس بھیج دیا گیا۔ طیب ایردوان نے ترک عوام سے اپیل بھی کی کہ فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے اور فرانس کو معاشی طور پر غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی جائے۔

دوسرا بڑا ردعمل پاکستان سے آیا جہاں امتیاز اور چیزاپ جیسے اسٹورز نےنہ صرف فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کردیا بلکہ لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر عرفان اقبال شیخ نے بھی ہر قسم کی فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔
یہ ساری باتیں اپنی جگہ مگر یہاں پر سید ابوالاعلی مودودی رحمتہ اللہ علیہ کا ایک جملہ بہت اہمیت کا حامل ہے اور وہ یہ کہ “ہم بطور مسلمان اسلام پر مرنے کے لیے تیار ہیں لیکن جینے کے لیے تیار نہیں ہیں”۔ اقبال نے کہا تھا؛

عمل سے زندگی بنتی ہے ، جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں، نہ نوری ہے نہ ناری ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں