تیرا ظلم ہی تیرے گریبان کا پھندا بنےگا – نبیلہ شہزاد




دنیا بھر کے مسلمان کسی نہ کسی صورت میں طاغوتی طاقتوں کے ظلم وبربریت کا شکار ہیں۔ یہ ظالم مسلمانوں کے خلاف جہاں جو کچھ کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں وہاں کرتے ہیں۔ جہاں انہیں دل آزاری کرنے کا موقع ملتا ہے وہاں دل دکھاتے ہیں۔ جہاں گمراہ کرنے کا حربہ کام آتا ہے وہاں یہ اپنی مکارانہ صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔

مسلمانوں کی املاک پر غاصبانہ قبضہ ، ان پر تشدد اور ان کی جانیں لینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ زمانہ حال میں دنیائے مسلم پر ہونے والے ان کے ظلم وستم چیخ چیخ کر ان کی سفاکیت کی دہائیاں دے رہے ہیں۔. اس کے علاوہ ان کا ایک ایسا جبر وستم، ظلم وبربریت والا انہدوناک فعل جس کے سامنے چنگیز و ہلاکو خان کاظلم بھی شرما جائے اور وہ ہے معصوم پھولوں کا سفاکیت سے صفحہ ہستی سے مٹانا۔۔۔۔ان کفار کے سینے ، مسلمانوں کے خلاف اس قدر بغض سے بھرے پڑے ہیں کہ انہیں ان کے بچے بھی ہنستے کھیلتے ایک آنکھ نہیں بھاتے ۔ انہیں خوف ہے کہ کل کو یہ بچے بڑے ہو کر ان کے طاغوتی مشن کے آگے دیوار نہ بن جائیں۔ ابھی تھوڑا عرصہ قبل کی بات ہے جب افغانستان کے ایک مدرسہ میں تقریب تقسیم اسناد میں، حفاظ بچے دھماکے کے نتیجے میں اسناد لینے کی بجائے شہادت کا تحفہ لے کر گئے۔

ابھی تو ہمیں ڈمہ ڈولہ کے مدرسہ میں شہید ہونے والے بچے بھی نہیں بھولے۔ پھر آرمی پبلک اسکول پشاور کے بچوں کا زخم بھی تو ابھی تازہ ہے۔ اس کے علاوہ بھی پاکستان میں معتدد مقامات پر بم دھماکے کئے جس میں درجنوں بے گناہ اور معصوم لوگوں نے جام شہادت نوش کیا۔ وہ لوگ بیچارے تھوڑی دیر بعد واپسی کا کہہ کر گھروں سے باہر گئے لیکن ان کی مائیں ، بہنیں، بیویاں اور بچے، ان کی راہیں ہی تکتے رہ گئے۔کیا دشمن کا ہمارے دلوں کو اتنا لہو لہان کرنا کافی نہ تھا کہ ہمیں پھر ایک نیا زخم دے ڈالا۔بروز منگل 27 اکتوبر، پاکستانی صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع پشاور کے نواح میں واقع جامعہ زبیر یہ میں بم دھماکہ اس وقت ہوا جب مہتمم جامعہ، رحیم حقانی صاحب، مشکواۃ المصابیح کے درس میں مصروف تھے اور حدیث مبارکہ وہ تھی جس میں اسلامی بھائی چارے کے گر بتائے گئے تھے۔

امن کے داعی طلباء اسے توجہ سے سننے میں مگن تھے۔ اس دھماکے میں تقریباً 18 جانوں نے شہادت کا درجہ پایا اور 100 کے قریب لوگ زخمی ہوئے۔ پشاور میں یہ کوئی نیا واقعہ نہیں تھا بلکہ اس شہر کی تاریخ دشمن کے لگائے زخموں سے خون آلود ہے۔ یہ کبھی اہل تشیع کے زیر انتظام چلنے والے مدارس میں دھماکے کرواتے ہیں تو کبھی سینٹ چرچ میں۔۔۔۔۔ 2014ء میں ایک تبلیغی مرکز میں دھماکہ کیا۔ ان ظالموں کی دست درازی سے پاکستان کی نہ کوئی اقلیت محفوظ ہے اور نہ ہی کوئی اکثریت۔۔۔۔۔۔نہ عبادت گاہیں محفوظ ہیں اور نہ ہی کوئی سکول و مدارس۔۔۔۔نہ نوجوان محفوظ ہیں نہ ہی پیرو طفل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کبھی یہ ہمیں مسلکی جھگڑوں میں الجھاتے ہیں اور کبھی لسانی و علاقائی۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان کی سالمیت ان سے ہضم نہیں ہو رہی ہے۔ یہ پاکستان کی ملی وحدت کو پارہ پارہ کرنا چاہتے ہیں۔

داعش۔۔۔ جسے انہوں نے پہلے مسلمانوں کا ایک گروہ ثابت کرنے کی کوشش کی ۔ پھر اس کا ساتھ دینے کے الزام میں مسلمانوں کو ہی پکڑتے رہے۔ اور اب امریکہ نے اپنے ایک فارن پالیسی میگزین کے ایک آرٹیکل میں خود اعتراف کیا ہے کہ بھارت ، داعش کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف ایک اہم رول ادا کرنے جا رہا ہے۔ پاکستان۔۔۔ بیچارہ تو دہشت گردی کے ورق سے اپنا نام مٹاتے مٹاتے کنگال ہو گیا اور بھارت ہر طرح کی حرام زدگی کرتے ہوئے بھی امن کا ایوارڈ لے گیا۔ نصیب اپنے اپنے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جتنی بھی بڑی دہشت گرد تنظیمیں ہیں سب کے اڈے بھارت میں موجود ہیں اور پشت پناہی امریکہ کی قائم ودائم ہے۔جب 16 دسمبر 2014 ء کو آرمی پبلک سکول پشاور کا سانحہ پیش آیا تو اس کے چند دن بعد امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا دورہ بھارت تھا۔

العربیہ نیوز کے مطابق اس دورے میں بھارتی قیادت کو اس وقت سخت کوفت و سبکی کا سامنا کرنا پڑا جب نریندر مودی نے ان کے سامنے مگر مچھ کے آنسو بہاتے ہوئے کہا کہ انہیں سانحہ پشاور پر دلی صدمہ ہوا ہے تو جان کیری اور اس کی ٹیم نے موقع پر ہی نریندر مودی کے سامنے وہ شواہد رکھ دیے جو سانحہ سے چند روز پہلے ٹی ٹی پی کے ساتھ بھارتی سیکیورٹی حکام کے رابطوں کے حوالے سے تھے۔ بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت کمار ود وال نے ملا فضل اللہ کے ساتھ بلواسطہ روابط رکھے تھے۔ نوٹ کیجئے ان مکاروں کی مکاریاں اور چالاکیاں۔۔۔۔۔۔ بلکہ اسی میز پر بیٹھے ہی امریکی وزیر خارجہ کی قیادت میں ٹیم نے نریندر مودی کو سربراہ ٹی ٹی پی، فضل اللہ کے ساتھ روابط ختم کرنے کا کہا اور یہ کام اس وقت کے صدر اوباما کی بھارت آمد سے پہلے پہلے کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

کیونکہ امریکہ ٹی ٹی پی کو دہشت گرد قرار دینے والا تھا۔ یہ امریکی دستور ہے جس سے چاہے پہلے اپنی مرضی کا کام لیتا ہے۔ مطلب نکل جانے کی صورت میں آنکھیں پھیر لیتا ہے۔ ملالہ یوسفزئی کے واقعے پر چیخیں مارنے والے، پاکستانی بچوں کے ہمدرد کہاں چھپے بیٹھے ہیں۔ کہ ان کی طرف سے ایک بھی بیان سامنے نہیں آیا۔ یا پھر ان بچوں کے گھر والے ان کے زر خرید ایجنٹ نہیں اور وہ ان کے ایجنڈے پر کام نہیں کر رہےہیں۔یاد رکھو ظالموں!۔۔۔۔۔تم جن معصوم پھولوں کو مسلتے ہو یہ امت مسلمہ کا قیمتی خون ہے اور یہی ان کا خون تمہاری گردنوں کے گرد پھندا ثابت ہو گا۔ان شااللہ۔۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں