بچوں سے سیکھئیے – جہانزیب راضی




آپ کبھی غور کریں آپ کو اندازہ ہوگا کہ اللہ تعالی نے بچوں کے دل، دماغ اور روح کو کتنا پاکیزہ بنایا ہے اور ہم کس طرح ان کے دل، دماغ اور روح کو آلودہ کرتے ہیں۔ بچے سب سے زیادہ شوق سے مٹی کے ساتھ کھیلتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کے اندر کبر و غرور اور بڑائی نہیں ہوتی ہے وہ فطرت سے زیادہ قریب ہوتے ہیں.

آپ ان کے سامنے سارے جہاں کے خوبصورت حسین کھلونے لا کر رکھ دیں اور دوسری طرف مٹی رکھ دیں آپ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے کہ ان سارے مہنگے اور خوبصورت کھلونوں کے مقابلے میں وہ ہمیشہ “مٹی” کو ترجیح دیں گے۔دوسرا یہ کہ بچے کے پاس اپنی بات منوانے کا صرف ایک ہی ذریعہ ہوتا ہے اور وہ ہیں “آنسو” جب اس کو بھوک لگتی ہے تو وہ روتا ہے، سردی لگے یا گرمی وہ صرف روتا ہے۔ اس کو پانی چاہیے ہو یا پھر وہ پیشاب کرلے اس کے پاس اپنے مسائل حل کروانے کا صرف اور صرف ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہیں “آنسو”۔ ادھر وہ رونا شروع کرتا ہے اور ادھر اس کی ماں کو سب سمجھ میں آ جاتا ہے کہ اس کے بچے کو بھوک لگی ہے، پیاس لگی ہے، سردی لگی ہے یا پھر اس نے بستر میں پیشاب کر دیا ہے۔

روتے ہم بھی ہیں مگر رونے والوں کے سامنے۔ جو رونے والوں کے سامنے روتا ہے اس کا رونا کبھی بند نہیں ہوگا، ہمارے پاس بھی اپنی بات منوانے کا صرف یہی ایک ذریعہ ہے کہ ہم اپنے رب کے سامنے روئیں، اپنی ضرورتوں اور مجبوریوں کے لئے روئیں، تکلیفوں پر آنسو بہائیں مگر وہاں آنسو بہائیں جہاں سے واقعی ہمارے مسائل حل ہونے ہیں۔ سب سے خوبصورت عادت جو بچوں میں ہوتی ہے وہ لڑائی کے فورا بعد “صلح” کر لینا ہے۔ کسی بات پر بھی اچانک ان کی لڑائی اور ناراضگی ہوگئی اور تھوڑی ہی دیر میں وہ ایسے “شیر و شکر” ہو جائیں گے جیسے ابھی کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ میں نے 2 بچوں کو دیکھا جن کی ماؤں کی آپس میں سخت لڑائی ہے، دونوں نند بھاوج ہیں اور دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لڑتی رہتی ہیں۔ اگر لڑائی صرف ان دونوں تک ہی رہتی تو بھی صبر تھا مگر انہوں نے اس لڑائی کو اپنے 8 اور 9 سال کے بچوں میں بھی منتقل کرنے کی پوری کوشش کر رکھی ہے۔

دونوں بچے گھر پر پڑھنے آتے ہیں ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہیں چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں مگر پھر ان کو یاد آجاتا ہے کہ ہماری امی نے تو “لڑائی” کرنے کا کہا ہے اور وہ دونوں معصوم پھر لڑنے پر کمربستہ ہوجاتے ہیں۔ یقیناً یہاں تو کچھ نہیں کر سکتے مگر ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے اور پھرایک دوسرے کو بتاتے بھی ہیں کہ ہماری تم سے لڑائی ہے اور اس پر بڑائی جتانے کے لیے بھابھی صاحبہ نے بچے کو ایک “او – لیولز” اسکول میں ڈال دیا ہے جس کی فیس بھی ان کی اپنے اخراجات سے باہر ہے۔پھر بچے کا اپنا تعلق بھی لوئر مڈل کلاس گھرانے سے ہے جہاں کسی نے بھی اعلی تعلیم حاصل نہیں کی ہے اور آپ نے نند سے لڑائی کے چکر میں اپنے بچے کی زندگی اور مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے۔ ہم کیا لوگ ہیں؟

اپنی اناؤں اور ضدوں پر معصوم بچوں کی “بلی چڑھاتے” ہیں اور معاملہ اب صرف یہاں پر بھی نہیں رکے گا بلکہ جب نند کے بچے کو کوئی کامیابی حاصل ہوگی چاہے وہ کلاس میں گریڈ کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو ان کے سینے پر سانپ لوٹ جائینگے اور پھر یہ اپنے بچے کو بلیک میل کرنے لگیں گی اسے ایموشنل کریں گی اور اس کی معصوم خواہشات کو قربانی کا بکرا بنائیں گی۔بچوں میں چوتھی خوبصورت عادت یہ ہوتی ہے کہ ان کے اندر جمع کرنے اور سے سینت سینت کر رکھنے کی عادت نہیں ہوتی جو جتنا جب اور جہاں مل جائے گا لیتے ہیں بچوں میں فطرتاً بانٹنے کی عادت ہوتی ہے وہ سب کو کھلاتے ہیں اور مل جُل کر کھاتے ہیں پھر والدین لنچ دیتے ہوئے ان کے کان بھرنے لگتے ہیں کسی کو کھلانا مت، اگر کوئی بچہ کھائے تو مس کو شکایت لگا دینا، اکیلے بیٹھ کر کھانا، پیٹ بھر کر کھانا، سارا بانٹ کر مت آجانا۔

پھر واپس آنے کے بعد سوالات کا نیا سلسلہ شروع ہوتا ہے “بیٹا! خود کھایا یا کسی اور کو کھلادیا؟” اگر بچے نے بتا دیا کہ ساتھ والے بچے کو کھلایا تھا تو فورا اگلا سوال ہوتا ہے “کیا وہ لنچ لے کر نہیں آتا؟ جو سارا تمہارے میں سے کھا لیا؟” پھر اگر بچے نے یہ بتا دیا کہ مس نے بھی کھایا تھا تو وہیں بچے کے سامنے ٹیچر کی برائیاں شروع، اسکول پرلعن طعن شروع یاد رکھیں جو مائیں بچوں کے سامنے ان کے استادوں کی عزت نہیں کرتیں وہ بچے کبھی بھی استادوں کی عزت نہیں کرتے۔ ماؤں کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ جو بچہ اپنا لنچ کسی سے شیئر نہیں کر سکتا وہ اپنی کامیابی کیسے کسی سے شیئر کر پائے گا؟ لوگ اکثر اپنے بچوں کو میرے پاس بھیجتے ہیں کہ میں ان کی تربیت کر دوں گا، شاید میں انھیں ایک ذمہ دار اور سمجھدار بچہ بناؤں گا لیکن سچ تو یہ ہے کہ سارے کام ماؤں کے اپنے کرنے کے ہوتے ہیں کوئی دوسرا شخص کسی حد تک اس کام میں ماؤں ہی کی مدد کر سکتا ہے مگر تربیت ادارے نہیں مائیں کرتی ہیں۔

بچوں کی پانچویں اور سب سے دلچسپ عادت یہ ہوتی ہے کہ یہ مٹی کے گھر بناتے ہیں اور خود ہی گرا دیتے ہیں اور اپنے بڑوں کو اس بات کا پیغام دیتے ہیں کہ گھر مٹی سے، گارے سے، اینٹوں سے، بجری اور سریے سے نہیں بنائے جاتے ہیں بلکہ گھر رویوں سے درگزر سے، قربانی ایثار سے، عزت و محبت سے اور ایک دوسرے کی قدر کرنے سے بنائے جاتے ہیں۔ورنہ آپ مضبوط سے مظبوط اور عالی شان گھر بنائیے اور پھر اس میں تنہا رہ جائیے۔ وہی دیواریں آپ کو کاٹ کھانے کے لئے آئیں گی۔ میں نے لوگوں کو دیکھا ہے جو خوبصورت اور عالیشان بنگلے بناتے ہیں ان کے جسم گھروں میں رہتے ہیں مگر ان کا دل اور دماغ اپنے بچوں میں، نواسے نواسیوں اور پوتے، پوتیوں میں اٹکا رہتا ہے۔ ان کا دل چاہتا ہے کہ بس کسی طرح اس گھر کو چھوڑ کر وہاں چلے جائیں جہاں ہمارا دل پہلے ہی جا چکا ہے۔

یہ پانچ عادتیں ہیں جو دنیا کے ہر بچے میں پائی جاتی ہیں دنیا کا ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، وہ نیکیوں کا سرچشمہ ہوتا ہے، معصوم ہوتا ہے، نیکی کو جلدی قبول کرتا ہے، بُرائی کے لئیے اس کا دل آمادہ نہیں ہوتا، اس کا دل شیشے کی طرح صاف ہوتا ہے مگر پھر آہستہ آہستہ ہم ان کو بھی اپنے جیسا ہی کردیتے ہیں۔میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ ہمیں بچوں کو سکھانے کے بجائے شاید ان سے سیکھنے کی زیادہ ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں