اسلام آباد کی تہذیب اور ثقافت کہاں ہے؟ – آصف محمود




اسلام آباد ایوب خان صاحب نے بنوایا اور بنانے والے غیر ملکی ماہرین تھے ۔ ایوب خان کا ڈسپلن بھی اس شہر میں نمایاں ہے اور غیر ملکی ماہرین کی جدت بھی ۔ سوال یہ ہے کہ اس شہر کی اپنی تہذیب، اپناکلچر اور اپنی ثقافت کہاں ہے؟ ایوب خان جرنیل تھے اور فوجی کو ڈسپلن بہت عزیز ہوتا ہے ۔ تیر کی طرح سیدھ میں کھچی سڑکیں اسی افتاد طبع کی نشانی ہیں ۔

بلغاریہ کے سی اے ڈاکسیاڈزاس کے معمار تھے ۔ ان کے رفقائے کاار میں سے لیوئس کاہن امریکہ سے آئے تھے ، آرنی جے کوبسن کا تعلق ڈنمارک سے تھا ، جا پونٹی اٹلی کے تھے ، سر رابرٹ میتھیو سکاٹ لینڈ سے آئے تھے ، ایڈورڈ ڈیورال سٹون امریکی تھے ، کینزو ٹان گے کا تعلق جاپان سے تھا اور ہاروے فاسٹر فرانسیسی تھے ۔ ان ماہرین نے شہر کے طرز تعمیر میں جدت بھر دی ۔ اس ڈسپلن اور جدت کے بوجھ میں ہماری تہذیب اور ثقافت کہیں دم توڑ گئی۔ شہر میں عمارات کی تعمیر کے لیے دو ماڈل پیش کیے گئے ۔ ایک ڈیزائن ایڈورڈ ڈیورال سٹون کا تھا جس میں صرف جدت تھی ۔ دوسرا ڈیزائن لیوئس کائن کا تھا جس میں ثقافتی اور تہذیبی عنصر بھی تھا ۔ کاہن کا ڈیزائن رد کر دیا ۔ انجام یہ کہ مقامی موسموں اور مقامی ثقافت سے بے نیاز اس جدید طرز تعمیر کی شکل میں کنکریٹ اور شیشے کا ایک وحشت کدہ ہمارے سامنے ہے جس میں نہ گرمیوں میں کسی کو امان ہے نہ سردیوں میں۔

تلہاڑ کی وادی سے کبھی نیچے اتریں اور دن ڈھل رہا ہو تو اس شہر کا ڈسپلن اور اس کی جدت دیکھ کر سینے میں ایک ہوک سی اٹھتی ہے کہ اس ٹیم میں چند مقامی ماہرین بھی ہوتے جنہیں یہاں کے طرز تعمیر اور یہاں کی تہذیب و ثقافت سے کوئی آگہی ہوتی تو یہ شہر اتنا پھیکا، اتنا اجنبی اور اتنا بے رنگ تو نہ ہوتا ۔ اس شہر کا حسن اب صرف ان جنگلوں ، جھیلوں ، ندیوں ، پہاڑوں ، وادیوں اور پگڈنڈیوں میں ہے جو اس ڈسپلن اور اس طرز تعمیر کی جدت سے اللہ نے محفوظ رکھے ۔ شہر میں اتر آئیں اور عجب سے وحشت ہونے لگتی ہے اور آدمی خود ہی سے سوال پوچھنے لگتا ہے: کیا شہر ایسے آباد ہوتے ہیں؟ ہر شہر کی ایک تہذیب ہوتی ہے ، ایک تاریخ ہوتی ہے اور ایک ثقافت ہوتی ہے ۔ اسلام آباد کی تہذیب، تاریخ اور ثقافت کیا ہے؟ ایسا نہیں ہے کہ مارگلہ کے دامن میں یہ گوشہ ایک ویرانہ تھا جہاں اسلام آباد بنا لیا گیا ۔ یہاں ہنستے بستے گاؤں تھے، ایک پوری تہذیب تھی ۔

تہذیبی حساسیت اور ثقافتی شعور ہوتا تو وہ رنگ اس نئے شہر کی بنیادی میں گوندھے جا سکتے تھے ۔ ایسا ہو جاتا تو شہر کا رنگ ہی اور ہوتا۔”ڈسپلن“اور ”جدت“ نے مل کر شہر کو ریاضی کا سوال بنا دیا ۔ سکیل لے کر لائنیں کھینچی گئیں اور شہر کو سیکٹروں میں تقسیم کر دیا گیا ۔ یہ سیکٹر جی فائیو ہے اور وہ سیکٹر ایف ٹین ۔ یہ سیکٹر ای سیون ہے اور وہ سیکٹر ایف ایٹ ۔ یہ کیس احساس کمتری ہے جس نے شہر کو بے معنی اور لایعنی قسم کے نام دے کر خانوں میں بانٹ دیا ۔ کیا ان سیکٹروں کے کچھ اچھے اور معقول نام نہیں ہو سکتے تھے ۔ آخر یہ شہر مریخ پر تو آباد نہیں ہو رہا تھا ، ہنستی بستی تہذیب کے سینے میں آباد ہونے جا رہا تھا ۔ یہ ایک ایسے ملک کا دارالحکومت بننے جا رہا تھا جس کا ایک شاندار تہذیبی پس منظر تھا۔

ہر سیکٹر کے نیچے ایک گاؤں ، اس کی تہذیب ، ایک تاریخ اوران کے پرکھوں کی قبریں تھیں ۔ جی فائیو کے نیچے کٹاریاں تھا ۔ فارن آفس کی عمارت میں اور ایوان صدر کے پہلو میں پی ٹی وی کے بالکل سامنے آج بھی اس گاؤں کی قبریں موجود ہیں ۔ ای سیون کا سیکٹر ڈھوک جیون گاؤں پر آباد ہوا ۔ ایف سکس کی جگہ بانیاں نام کا گاؤں ہوتا تھا ۔ فیصل مسجد ٹیمبا نامی گاؤں میں بنی ۔ روپڑاں نام کے گاؤں میں آج جناح سپر آباد ہے ۔ بیچو گاؤں کو ایف سکس تھری کہا جاتا ہے ۔ ایف ٹین اور ایف الیون کے بیچ میں بھیکہ سیداں نامی گاؤں ہوتا تھا ۔ ایف سیون میں گدڑ کوٹھا نام کا گاؤں تھا ۔ پریڈ گراؤنڈ کے ساتھ شکرپڑیاں اور شکر پڑیاں کے پاس چک جابو نام کی بستی تھی ۔ پریڈ گراونڈ کے شروع میں اور لوک ورثہ سے ملحقہ جنگل میں ان بستیوں کی قبریں موجود ہیں ۔ ایف نائن میں بامیاں اور روپڑ نام کے گاؤں تھے۔ ان کا قبرستان آج بھی ایف نائن پارک میں موجود ہے۔

تو کیا ایسا نہیں ہو سکتا تھا کہ سارے نہ سہی تو کچھ سیکٹرز کا نام انہی بستیوں اور گاؤں کے ناموں پر رکھ دیا جاتا؟ کیا کراچی سے خیبر تک ایسی کوئی تہذیبی اور ثقافتی نسبت نہ تھی جس سے ان سیکٹرز کو منسوب کر یا جاتا؟ یہ ایف سکس ایف سیون اور یہ جی ٹین اور جی الیون، یہ کیا ہے؟ یہ انسانوں کی بستیاں ہیں یا کسی گودام اور ڈربے کے خانے؟ کیا ان ناموں کا کوئی سماجی، تہذیبی، تاریخی اور ثقافتی پس منظر اور جواز موجودہے؟جس قوم کو اپنے تہذیبی اور ثقافتی حوالوں پر فکر نہ ہو اس قوم کو کسی شے پر فخر کرنے کا حق نہیں رہتا۔ کیا ہم کبھی سوچ پائیں گے ہمارے رویوں میں ایسی مرعوبیت کیوں ہے اور ایسا ہمارے اندرایسا احساس کمتری کہاں سے آ گیا؟شکر پڑیاں میں جہاں راجہ اللہ داد خان کی حویلی تھی وہاں لوک ورثہ تو قائم کر دیا گیا لیکن کیا ہی اچھا ہوتا اس ثقافتی مرکز کا نام حویلی راجہ اللہ داد خان رکھ دیا جاتا۔

یہاں ایک میوزیم ہے، ملک بھر کی تہذیب کے مظاہر یہاں اکٹھے کر دیے گئے ہیں، کسی کو اتنی توفیق نہ ہو سکی کہ یہاں کوئی گوشہ شکر پڑیاں گاؤں کی تاریخ سے بھی آراستہ کر دیا جاتا ۔ راجہ اللہ داد خان کی کوئی تصویر ہی لگا دی جاتی ۔ شمال میں گاؤں کے آخری تکیے کی باقیات کو آباد نہ کیا جاتا تو اس کی تاریخ ہی لکھ کر رکھ دی جاتی تا کہ آنے والوں کو پتا چلتا لوک ورثہ کس گاؤں میں قائم ہوا تھا اور اس گاؤں کی تہذیب اور تاریخ کیا تھی۔لوک ورثہ کے سامنے راجہ اللہ داد خان کی بیٹھک میں ہوٹل بن گیا اور اس کا نام ہے 1969 ۔ یہ 1969 بھی بھلا کوئی نام ہے ؟ اس کا نام بیٹھک راجہ اللہ داد بھی تو ہو سکتا تھا؟دنیا بھر سے لوگ یہاں آتے، اس قدیم عمارت کے روشن دانوں میں لگے نیلے پیلے سرخ گلابی نارنجی اور سفید شیشوں میں سے جھانکتی دھوپ کو حیرت سے دیکھتے اور انہیں معلوم ہوتا یہ تاریخی عمارت یہاں کے گاؤں شکر پڑیاں کی تہذیب کی آخری نشانی ہے۔

کنکریٹ اور شیشے کے اس وحشت کدے میں سب کچھ ہے، تہذیب اور ثقافت نہیں ہے۔جس شہر کی کوئی تہذیب تاریخ ا و رثقافت نہ ہو بھلا وہ بھی کوئی شہر ہوتا ہے؟بس مارگلہ کے پہاڑ، چشمے، ٹریلز، وادیاں، پگڈنڈیاں اور چپ چاپ سے برگد کے چند درخت ہی ہیں جو پرانے وقتوں کے قصے سناتے ہیں اور ہم سننے چلے جاتے ہیں۔حسن فطرت کے یہ مظاہر نہ ہوتے تو اس وحشت کدے میں کس کا جی لگتا؟

اپنا تبصرہ بھیجیں