کالم

باتیں سن انیس سو اکہتر کی … آہیں سن دو ہزار اکیس کی – نگہت سلطانہ

جلسہ کی کاروائی اختتامی مراحل کی طرف بڑھ رہی تھی۔ آخری مقرر نے ماضی کے کچھ ” کارنامے “ بیان کئے۔ کچھ حال اور مستقبل کے خواب دکھائے اور یوں تقاریر کا سلسلہ ختم ہوا۔ سٹیج پر رکھا بھاری بھرکم کیک پارٹی ورکرز کی توجہ کا مرکز تھا۔ آخری تقریر ختم ہوتے ہی کیک کاٹا گیا اور ورکرز ” جئے بھٹو ” کا نعرہ لگاتے ہوئے کیک پر ہاتھ صاف کرنے لگے۔

ذولفقار علی بھٹو کی سالگرہ کے حوالے سے سجائی گئی یہ محفل تو اختتام پذیر ہو گئی مگر میرا غم کئی سوالات کی صورت ذہن کی لوح پر واضع ہونے لگا۔ غم سانحہ مشرقی پاکستان کا اور سوال یہ کہ اتنے بڑے قومی سانحہ کا نمایاں کردار مر کر بھی ہمارے درمیان موجود ہے۔ آخر کیوں ؟؟؟ غدارانِ وطن کو ہم نے آنکھوں پر بٹھایا، قومی زندگی میں ان کا مقام طے کیا آخر کیوں ؟؟؟ ہم نے ذوالفقار علی بھٹو کے اشتراکی نظرئیے کو اہم جانا اسے اپنایا۔ اللّٰه، محمؐد اور قرآن ہمارے قومی نعرے نہ بن سکے۔ روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے میں ہمیں “زندگی” نظر آئی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سقوطِ مشرقی پاکستان کے اس نمایاں کردار کا نظریہ اسی کے ساتھ ختم ہو جاتا مگر دیکھ لیجئے اس کی روحانی اور نسلی ذریت اس آدھے پاکستان کے تمام وسائل بلکہ حکومت کی “جائز حقدار” بھی ہے۔ سالہاسال سے سندھ میں ہاری، مزدور، پسماندہ طبقے، بہاری، بلوچ وغیرہ وغیرہ کو بنیادی حقوق تک سے کس نے محروم کر رکھا ہے؟ ہمارا میڈیا، ہمارے دانشور، ہمارے مربین اور معلمین نہیں جانتے کیا؟؟؟

سب جانتے ہیں مگر افسوس ادھورے پاکستان کے یہ “معززین” اپنی دانش و ذکاوت سے وطن کو نہیں اپنی جیب کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔ دانش فروخت کرتے ہیں یہ لوگ اور پھر ۔ ۔ ۔ یہی اہل دانش ہوتے ہیں کہ ہر موقع پر ضیاء الحق کو صلواتیں سناتے ہیں مگر مجال ہے کہ کبھی یحییٰ خان اور پرویز مشرف کو برا بھلا کہا ہو۔ عقلی مرعوبیت جب ذہنی غلامی کی شکل اختیار کر لیتی ہے تو قوموں کے بدن سے روحِ احتساب نکل جایا کرتی ہے۔ کچھ یہی حال بحیثیت قوم ہمارا بھی ہے۔ طرفہ تماشا ہے۔ ہم اپنی ذات کے لیے انتقام لینے میں بڑے شیر ہیں۔ مطلب کہ کوئی شخص آکر ہم میں سے کسی کے گھر توڑنا شروع کر دے تو کیا ردعمل ہوتا ہے؟ یہی نا کہ آخری حد تک مزاحمت کرتے ہیں، متعلقہ شخص کے خلاف ممکنہ حد تک قانونی چارہ جوئی کرتے ہیں اس شخص کو کسی صورت معاف نہیں کرتے جبکہ جو قومی مجرم ہیں انہیں ہم بڑے کھلے دل سے معاف کر دیتے ہیں کوئی احتساب نہیں کرتے ان کا۔ انہیں آنکھوں پر بٹھاتے ہیں۔

سقوطِ ڈھاکہ کے دوسرے مجرم یحییٰ خان کو بھی ہم نے دل کی گہرائیوں سے معاف کر دیا اسے مرتے دم تک ہیرو کا درجہ دئیے رکھا توپوں کی سلامی دی گئی پاکستانی پرچم کے ساتھ تدفین کی گئی۔احتساب تو ہم نے اے کے نیازی کا بھی نہیں کیا شاید اس لیے کہ وہ کونسا کسی کا ذاتی دشمن تھا۔ بس ایک پاکستان کا غدار تھا نا ۔ بس ایک چھوٹی سی “خطا” ہو گئی اس سے کہ سرنڈر کر دیا ملک و ملت کا وقار خاک میں ملا دیا۔ یہ تو ایسی “خطا” نہیں کہ اس سے کچھ سیکھا جائے یا اس کا ٹرائل کیا جائے یا اس کا نام غداروں کی فہرست میں لکھا جائے ۔ ہے نا ؟؟ آہ ۔ ۔ ۔ غدار کا وجود قابل برداشت ہے یا نہیں؟اس سوال کا درست جواب ہم نہ دے سکے۔ بنگال کی مٹی نے شیخ مجیب الرحمٰن کو خون میں نہلا کر جواب دے دیا ۔ ۔ ۔ یاد آیا سوال تو اور بھی ہیں جن کا جواب ہم پر قرض ہے۔

جو بد اخلاقی، خیانت، جھوٹ، حرام خوری، بے حیائی و فحاشی کی جو دیمک ہمارے معاشرے کو لگ چکی ہے کیا ایسا معاشرہ تادیر زندگی کی بہاریں دیکھ سکے گا؟ معاشرہ تباہ ہو گیا تو ملک کیسے قائم رہ سکتا ہے؟اپنی تاریخ مکمل دیانتداری کے ساتھ کیا ہم اگلی نسلوں میں منتقل کر رہے ہیں؟ وہ جو اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ “آج ہم نے نظریہ پاکستان خلیجِ بنگال میں ڈبو دیا” تو کیا ہم نظریہ پاکستان کی محافظ نسل تیار کر چکے ہیں؟ کیا ہمیں معلوم ہے کہ رقص و سرود میں ڈوبی “مسلمان قوم” نظریہ کی حفاظت کر سکتی ہے نہ جغرافیہ کی ۔ ۔ ۔ ؟

وِکٹر ہیُوگو نے کہا تھا،
“An invasion of armies can be resisted but an invasion of ideas can not be resisted”

اہل قلم اور میڈیا کے کارپردازان سے میرا سوال ہے قوم کی فکری رہنمائی کے لیے لائحہ عمل طے کر لیا آپ نے؟
قارئین ! ذرا تاریخ کے جھروکوں میں دیکھئیے، پاک فوج کے سپاہیوں کا خون ( جو مکتی باہنی کی درندگی کی بھینٹ چڑھ گئے ) البدر الشمس کے رضاکار پاکباز جوانوں کا خون ۔ ۔ ۔ اور ۔ ۔ ۔ اور پھر ۔ ۔ ۔ 2012 ، 2013 میں تختہءِ دار پر جھولتے اہلِ وفا ( عبد القادر ملا ، مطیع الرحمان نظامی و دیگر ) کا خون اور پھر پیچھے کی طرف جائیں ڈھاکہ یونیورسٹی گراؤنڈ میں نظریہ پاکستان سے وفا نبھانے والے “مجرم” عبد المالک شہید کا خون ۔ ۔ ۔ سبھی کا یہ پاکیزہ و تازہ و مشک آفرین خون نشانِ منزل تو ہے ہی بذاتِ خود ایک سوال بھی ہے ہماشما سبھی کے لئے۔ مذکورہ بالا سوالات تو نوشتہءِ دیوار ہیں عوام وخواص کے لیے ۔ ۔ ۔

مگر آہ ۔ ۔ ۔ ہمارے کرتوتوں کا 74 سالہ ریکارڈ چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ نوشتہءِ دیوار پڑھنا تو درکنار ہم تو تاریخ کے ایک ایک باب کو وہ قصہءِ پارینہ ثابت کرنے پر تلے ہیں جس کا تذکرہ بھی ایک بڑا “جرم” ہے۔

حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا
لوگ ٹھہرے نہیں حادثہ دیکھ کر

قارئین ! اب الفاظ کی شکل میں چند تصویریں اپنی قومی زندگی کی آپ سامنے رکھتی ہوں۔ دیکھیے اور فیصلہ کیجئیے کہ یہ انداز کیا اسی ملک کے باسیوں کے ہیں جس کے ایک بازو کو توڑ دیا گیا اور جس کی شہ رگ بھی دشمن کے قبضے میں ہے۔ کوئی بھی ٹی۔وی چینل کھول لیجئیے۔ یہ دیکھیے مارننگ شو۔ دلہن تیار کرنے کا مقابلہ ہو رہا ہے۔ بیوٹیشن پہ بحث و مباحثے چل رہے ہیں۔ سال کے 365 دن ختم ہو جاتے ہیں مگر سکن کیئر کے لیے tips ختم نہیں ہوتیں۔ شادی کی تمام وہ رسمیں بڑی ڈھٹائی سے دکھائی جا رہی ہیں جو مکمل طور پر ہندوؤانہ ہیں اور عیاشی اور اسراف کی علامت بھی۔ یہ تصویر ایک تعلیمی ادارے کی ہے۔ لڑکے اور لڑکیاں couples کی شکل میں کیفے میں بیٹھے ہیں۔ آپ سمجھے سقوطِ ڈھاکہ کے اسباب پر غور وغوض کر رہے ہیں؟ ارے نہیں یہ موضوع تو خود ان کے “اساتذہ کرام” کے لیے دردِ سر نہیں ہاں یہ لوگ چونکہ آدھے ادھورے پاکستان کے “آزاد شہری” ہیں اس لیے “پیار محبت” کی باتیں کر رہے ہیں۔ ہر روز فری پیریڈ ختم ہو جاتا ہے مگر یہ رومینٹک قصے ناتمام رہتے ہیں ۔ ۔ ۔ آہ ۔ ۔ ۔ حوصلہ ہے تو مزید بھی کچھ دیکھیے ۔ ۔ ۔ جی ہاں منشیات کا کھلم کھلا استعمال بھی یہاں شروع ہو چکا ہے۔

اس تصویر میں آپ کو ایک بک شاپ نظر آرہی ہے۔ آئیے بک سیلر سے بات کرتے ہیں۔
”جناب ہمیں “سقوطِ ڈھاکہ” بارے کوئی کتاب دکھا دیں“
“ک ۔ ۔ ۔ کیا ۔ ۔ ۔ ؟؟؟” بک سیلر کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی ہیں
“جی سقوطِ ڈھاکہ ۔ ۔ ۔”
“وہ کب ہوا تھا ۔ ۔ ۔ ؟؟؟”
“آپ اجازت دیں تو ہم خود ڈھونڈ لیتے ہیں شاید ہمیں مل جائے” بک سیلر نے کھلے دل سے اجازت دے دی ہے اور ۔ ۔ ۔ آہ ۔ ۔ ۔ ڈیڑھ گھنٹہ کی تلاش و جستجو کے بعد سب سے نچلی طاق میں گرد کی تہہ کے نیچے دو کتب ہمارے ہاتھ لگیں۔ “میں اذان نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا” اور “شکست ۔ ۔ ۔ ۔
تب سیلز مین نے بتایا
“جناب ان کتابوں کا کوئی خریدار نہیں”

اور پھر اس نے احمد فراز، ناصر کاظمی، جون ایلیاء سمیت کئی شعراء کے شعری مجموعے اور ناول اور فیشن، کوکنگ، ایکٹنگ، فائن آرٹس اور پیری مریدی، صوفی ازم وغیرہ پر بے شمار کتابیں ہمارے سامنے رکھ دیں۔
“جناب ان میں سے کوئی کتاب خرید لیجئے” ۔ ۔ ۔ اور ۔ ۔ ۔ میرے لفظوں کے پیرہن میں یہ آخری تصویر آرمی پبلک سکول کی ہے۔ کس قدر زیرک اور چالاک ہے ہمارا دشمن سکول کے پھولوں کو نوچ ڈالنے کے لیے 16 دسمبر کی تاریخ طے کی۔ APS کے معصوم بچوں کا قتل بہت بڑا قومی سانحہ ہے ملک و ملت کے لیے لیکن ۔ ۔ ۔ آہ ۔ ۔ ۔ شاید دشمن کی توقع پوری ہوئی۔ سقوطِ مشرقی پاکستان کا غم اس غم کے پیچھے چھپ گیا ہے۔

ہاں مگر ۔ ۔ ۔ !!میرا ایمان ہے۔ پہاڑی کے چراغ، زمین کا نمک، معاشرے کی کریم مایوسی و بے حسی کے ماحول میں کل بھی کردار کی عظمت کے ساتھ کھڑے تھے عزم و ہمت کی کمی آج بھی نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ہمت اور جہد کی شمع روشن رکھیں#

Add Comment

Click here to post a comment