Home » مجھے سائباں کی تلاش ہے – قدسیہ ملک
کالم

مجھے سائباں کی تلاش ہے – قدسیہ ملک

نور مقدم بہت خوبصورت اور سلجھی ہوئی لڑکی تھی ۔اسلام آباد کی ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھتی تھی۔عورت کی آزادی پر یقین رکھنے والی معصوم لڑکی نے عورت کی آزادی اور خود مختاری کے نعروں کے درمیان آنکھ کھولی اسی ماحول میں پلی بڑھی۔زندگی میں بہت آزادی تھی۔

عورت کے حق میں بولنا ،عورت کی مادر پدرآزادی ،عورت کی خود مختاری کی نام نہاد تنظیموں کے درمیان پل کر جوان ہونے والی خوبصورت نازک اندام لڑکی کی زندگی نے بہت سے نشیب و فراز دیکھےتھے۔اسے مرد کو اپنی انگلیوں پر چلانا آتاتھا۔اسے شادی کے نام سے نفرت تھی۔ لیکن فطرت کے ہاتھوں مجبورلڑکی کومردوں سے دوستیاں کرنا پسند تھا۔اسنے تو صرف مخلوط محافل،مردوعورت کے بے حجابانہ اختلاط اور بلاروک ٹوک کی دوستیاں کرناسیکھاتھا۔اسکے نزدیک سوسائٹی میں موو کرنے کے لئے یہ سب آنا چاہیئے۔اسے یہی سب سکھایاگیاتھا۔اسی لئے تو ہر محفل کو چار چاند لگانے والی شمع محفل اور بولڈ گرل کے نام سے مشہور نور مقدم خواب وخیال میں بھی کبھی سخت لہجہ بدتمیزمرد اور اجڈ جاہل شوہروں کی کبھی حمایت نہ کی تھی۔اس نے کبھی اپنےروشن خیال مرد ساتھیوں کے بارے میں ایسا نہ سوچا تھاجوہوگیا۔

وہ خواب وخیالوں میں رہنے والی لڑکی تھی۔وہ اپنی جیسی حساس دل اورسوچ رکھنے والی لڑکیوں کو اپنا ہم نواء بناتی۔عورتوں کے حق میں بڑے بڑے سیمینار اٹینڈ کرتی۔لیکن وہ دن اس کے لئےکسی قیامت سے کم نہ تھا ۔جب وہ اپنے ہی بوائے فرینڈ کے ہاتھوں اسی کے گھر بہیمانہ قتل کا نشانہ بنی۔ ضاہر جعفر نے قتل سے پہلے اپنے والد کو فون پر بس اتنا ہی تو کہا تھا”نور میرے ساتھ نہیں رہنا چاہتی میں اسے قتل کررہاہوں۔اسے سائباں کی تلاش تھی ۔لیکن وہ جسکو اپنا سائباں سمجھی وہ تو رہزن نکلا۔بقول جاوید ہاشمی “نور مقدم کیس‘ افغان سفیر کی بیٹی کا واقعہ اور عثمان مرزا کیس سڑتے ہوئے جوہڑ کا صرف ایک جھونکا ہیں‘ اسلام آباد میں ایسے سیکڑوں ہزاروں واقعات ہو چکے ہیں اور روز ہو بھی رہے ہیں‘ شہر پارٹیوں اور امراء کے بچوں کی واہیات حرکات کا سرکس بن چکا ہے‘ آپ رات کے وقت سڑک پر نہیں نکل سکتے کیوں کہ نشے میں دھت لوگ آپ کو کچل جائیں گے اور ان کے والدین بڑے آرام سے ’’میرے بچے Soliciteکر رہے تھے‘‘کہیں گے اور بچے اگلی فلائٹ پکڑ کر باہر چلے جائیں گے‘یہ ہے اسلام آباد‘شہر کے نام پر جنگل”

فتنے برس رہے ہیں،روحیں پگھل رہی ہیں کڑی دھوپ ہےخدایا،رحمت کا سائباں دے …… جب اللہ کے قوانین سے انحراف کیا جائے گا تو پھر اس سے بھی خطرناک نتائج دیکھنے کو ملیں گے جو آجکل ہمارا معاشرہ برداشت کررہاہے۔جن معاشروں کی نقالی کی جارہی ہے ان کا حال بھی ملاحظہ کرتے ہیں۔2018میں امریکی دفاعی اداروں کی مطبوعہ معلومات بتاتی ہیں کہ صرف امریکی فوج میں کام کرنے والی 46 فیصد خواتین اور 50 فیصد مردوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے سے پہلے جنسی طور پر ہراساں کیا گیا۔بیشتر مواقع پر ملزم قانون کی گرفت سے محفوظ رہے۔اسلام خواتین پر علم کے حصول کو یکساں طور پر فرض قرار دیتا ہے اور چاہتا ہے کہ وہ اپنے فطری دائرہ میں معاشرتی،معاشی،تہذیبی اور ثقافتی کردار ادا کریں،لیکن وہ معاشی اورسیاسی نعروں کے ذریعہ خواتین کو ورغلا کر سرمایہ دارانہ نظام کے استحصال کا نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دیتا ۔اسلام مخلوط تعلیم ، مخلوط معیشت اور مخلوط ثقافت کو رد کر تا ہے اور خواتین کو وہ تمام حقوق دیتا ہے جو ان کی شخصیت کی نشو ونما اور معاشرہ میں تعمیری کردار کے لیےاہم ہیں۔

یورپ اور امریکہ کے اداروں کے سروے ، انٹرویو اور شماریات یہ ثابت کرتے ہیں ، اصل مسئلہ خواتین کی تعلیم نہیں ہےبلکہ مخلوط تعلیم،مخلوط ادارےاورجنسی مساوات کاتصورہے۔جرمنی میں خواتین پرجنسی تشدد اور ہراسانی کی شرح 58 فیصد ہے، پولینڈ میں ایک تحقیقی جائزہ میں حصہ لینے والی 451 خواتین میں سے 88 فیصد پندرہ سال کی عمر کے بعد کسی نہ کسی شکل میں جنسی ہراسانی اور تشدد کا شکار رہیں ۔ ہالینڈ میں ہراسانی کے حوالہ سےگیارہ سو خواتین سے جمع کردہ معلومات کی روشنی میں دن کی روشنی میں گلیوں اور بازاروں میں 94 فیصد خواتین ہراسانی کا شکار ہوئیں۔خواتین کے ساتھ یہ رویہ ایسے حالات میں اختیار کیا گیا ہے جب خواتین کی یکساں نمائندگی کے اصول کی بنا پر یورپی پارلیمنٹ میں خواتین کی تعداد 38 فیصد ہے اور خواتین یورپی ممالک میں کسی شہر کی انتظامیہ یا عدلیہ میں 33 فیصد تک نمائندگی کی حامل ہیں ۔لیکن ان مقامات پر ان کی نمائندگی کے باوجود انہیں معاشرہ ، تعلیم گاہ کاروباری اور پیشہ وارانہ اداروں میں انھیں نہ تحفظ ملا نہ عزت و احترام۔

حتی کہ سیاسی میدان میں قیادت کے مقام تک پہنچنے والی خواتین کو بھی یورپ اور امریکہ کی حد تک جنسی ہراسانی اور تضحیک کا نشانہ بنناپڑ رہاہے ۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ایسی خواتین کی 25 فیصد تعداد جنسی حملوں کا شکار ہی نہیں بلکہ بعض اوقات جسمانی تشدد کا شکاربھی رہی ہے۔ یورپ کےحوالےسے2018میں طبع شدہ European Union Agency for Fundamental Rights – FRA کے زیراہتمام تحقیقی اعداد و شمار اور جائزے بتاتے ہیں کہ عالمی سطح پراور مقامی ریاستوں کی جانب سے یورپ میں خواتین کے ساتھ صنفی ناانصافی کامسئلہ ابھی تک اپنے ابتدائی مراحل ہی میں ہے ۔جب کہ غیر یورپی اقوام اپنی خوش فہمی کی بنا پر اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ یورپ و امریکہ میں خواتین کو عزت اور تحفظ کی نعمتیں حاصل ہو گئی ہیں اور غیر یورپی اقوام ابھی تک صنفی عدم مساوات پر قابو نہیں پا سکی ہیں جدید تہذیب کے نام پر انسانوں بلکہ اپنے دین سے روگردانی کرنے والےمسلمانوں نےاسے لہب ولعب کاکھلونا بنا دیا اس کی بدترین توہین کی اور اس پر ظلم وستم کی انتہا کردی۔

بد گمانی بڑھا کر تم نے یہ کیا کر دیا
خود بھی تنہا ہو گئے مجھ کو بھی تنہا کر دیا

آج مرد اور عورت دونوں تنہا ہوکر صنفی مساوات جیسے زہر کا مقابلہ کررہےہین۔مغرب اور مشرق کے یہ کھوکھلے نعرے کہ صنفی مساوات معاشی ترقی فراہم کرے گی۔ اورجب تک مرد کے شانہ بہ شانہ عورت اپنے گھر کو تباہ کر کے باہر نہیں نکلے۔ترقی نہیں ہو گی۔تمام کھوکھلے نعروں کی حقیقت مغرب میں معاشرتی تباہ کاری اور خصوصاًخواتین کے حقوق کی پامالی نے بالکل واضح کردی ہے۔ جامعات، تجارتی اور حکومتی اداروں میں مخلوط ماحول نے خواتین کے تحفظ کو عملاً ناممکن بنادیا ہے ۔ جس کی ایک واضح مثال امریکی فوجی اداروں میں ہر سطح پر جنسی ہراسانی اور تشدد کا پایا جانا ایک قومی لمحہ فکریہ ہے۔ یہ ہر عہد کی داستان ہے۔تاریخ کے اوراق سے پتہ چلتاہے کہ ہر عہد میں عورت کیسے مصائب وآلام کا سامناکرتی رہی اور کتنی بے دردی سے کیسی کیسی پستیوں میں پھینک دی گئی تھی۔اللہ تعالی نے عورت کو معظم بنایا لیکن قدیم جاہلیت نے عورت کو جس پستی کے گھڑے میں پھینک دیا اور جدید جاہلیت نے اسے آزادی کا لالچ دے کر جس ذلت سے دو چار کیا وہ کسی سے چھپاہوانہیں ہے.

ایک طرف قدیم جاہلیت نے اسے زندگی سے محروم کیا تو جدید جاہلیت نے اسے زندگی کے ہر میدان میں دوش بدوش چلنے کی ترغیب دی اور اسے گھر کی چار دیواری سے نکال کر شمع محفل بنادیا۔ لیکن جب اسلام کا سایہ رحمت آیا توعورت کی حیثیت بدل کر گھر کی ملکہ کی سی ہوگئی ۔محسن انسانیت جناب رسول اللہ ﷺ نے انسانی سماج پرخصوصی عورتوں پر احسان ِعظیم فرمایا عورتوں کو ظلم ،بے حیائی،رسوائی،بےراہ روی اور تباہی کے گڑھے سے نکالا انہیں تحفظ بخشا ان کے حقوق اجاگر کیے ماں،بہن ، بیوی اور بیٹی کی حیثیت سےان کےفرائض بتلائے اورانہیں شمع خانہ بناکر عزت واحترام کی سب سےاونچی مسند پر فائز کردیااور عورت و مرد کے شرعی احکامات کو تفصیل سے بیان کردیا ۔آج مغربی اقوام بھی عورت کی غلام بنام آزادی سے تنگ آچکی ہیں ۔

آج کی عورت بھی آزادی کے نام پراپنی عزت ووقار کھو بیٹھی آزادی کے نام پر غلامی کا شکار ہوگئی۔اسے پھر وہی اسلامی قانون کی متلاشی ہے۔جہاں ایک ماں صرف اپنے بچوں کے آنکھ کا تارا نہیں بلکہ شوہر کا سکون و قرار،گھر کی ملکہ،گھر کے تمام اہم امور میں شوہر کی معاون بن کر اپنے گھر میں سکون کی سی زندگی گزار دیتی ہے۔وہ ماں ہے تو پیروں تلے جنت،وہ بہن ہے تو بھائی کی عزت کی نگہبان،وہ بیٹی ہے تو باپ کی امیدوں کا محور اور باپ کے لئے نبی مہربان ﷺکی جنت کی بشارت،بیوی ہے تو شوہر کے سکون کا ذریعہ اور یہ سب دین اسلام کی رو سے اسکے حقیقی سائبان ہیں۔

اک زندہ حقیقت ہے مرے سینے میں مستور
کیا سمجھے گا وہ جس کی رگوں میں ہے لہو سرد
نہ پردہ نہ تعلیم، نئی ہو کہ پرانی
نسوانیتِ زن کا نگہبان ہے فقط مرد
جس قوم نے اس زندہ حقیقت کو نہ پایا
اس قوم کا خورشید بہت جلد ہوا زرد
(ضربِ کلیم)