Home » خواتین کا عالمی دن اور خطبہ حجتہ الوداع – ڈاکٹر خولہ علوی
کالم

خواتین کا عالمی دن اور خطبہ حجتہ الوداع – ڈاکٹر خولہ علوی

خاتم النبیین ﷺ نے 10ھ (632ء) میں9 ذی الحجہ “یومِ عرفہ” کو میدان عرفات میں خطبہ حجتہ الوداع ارشاد فرمایا۔ یہ خطبہ اتنا اہم اور قیمتی ہےکہ اسے تاریخ انسانی میں اصل “نیو ورلڈ آرڈر” کی حیثیت حاصل ہے۔ (نام نہاد ورلڈ آرڈر تو حقوق انسانی کے نام پر ظلم و بربریت کی بھیانک داستان ہے۔) اس نے انسانی حقوق کی پہلی باقاعدہ جزوی دستاویز “میگنا کارٹا” سے بھی کئی صدیاں پہلے انسانیت کو سربلندی ورفعت عطا کی ہے۔

یہ حقوق انسانی کا اتنا واضح اور جامع منشور ہے کہ تا قیامت بھٹکی ہوئی انسانیت کے لیے مشعلِ راہ اور مینارہ نور ہے۔ اس خطبہ میں نبی مہربان ﷺ نے تمام انسانوں اور خصوصاً خواتین کے حقوق وفرائض بیان کرتے ہوئے ان کی عزت و وقار کا تذکرہ کیا ہے اور ان کے معاشرتی، معاشی، قانونی، ازدواجی، اور اخلاقی حقوق و فرائض کے تعین و تحفظ کی طرف اشارہ کیا ہے جو ہمارے لیے لائحہ عمل ہیں۔ امام کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا: “اے لوگو! بے شک تمہارے کچھ حقوق عورتوں پر فرض ہیں اور اسی طرح عورتوں کے کچھ حقوق تم پر فرض ہیں۔ (ان کو مکمل طور پر نبھاؤ) عورتوں سے ہمیشہ بہتر سلوک کرنا اور عورتوں کے معاملے میں ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔”(صحیح بخاری:1741 ؛ صحیح مسلم :1679)ہادی و مرشد ﷺ نے مزید فرمایا: “اے لوگو! تم عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو کیونکہ تم نے انہیں اللہ کی امانت کے طور پر اپنے ماتحت کیا ہے اور تم نے اللہ کی اجازت کے ساتھ ان کی عزت و عصمت کو حلال کیا ہے اور تمہارے لیے ان عورتوں پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے گھر میں کسی ایسے آدمی کو نہ گھسنے دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو۔ تمہارے ذمے ان عورتوں کا حق یہ ہے کہ تم (مقدور بھر) انہیں اچھا کھانا اور لباس مہیا کرو۔”
(صحیح بخاری: 1741 ؛ صحیح مسلم: 1679)

یہ خطبہ آج بھی خواتین کو مسائل کے کوہ گراں تلے سے نکال کر سایہ عافیت میں لا سکتا ہے۔ یہ انہیں ان کے سب حقوق دلانے کا ذمہ دار ہے اور اس کے ساتھ ساتھ خواتین کو ان پر عائد کردہ فرائض کو ادا کرنے کی طر ف توجہ دلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں کا نگران مقرر کیا ہے۔ سورۃ النساء میں ارشاد ہے کہ: (الرجال قوامون علی النساء) (النساء34:4) ترجمہ: “مرد عورتوں پر نگران ہیں۔”اصل لفظ “قوام” ہے جس کے معنی و مفہوم میں عربی زبان میں بڑی وسعت ہے اور اردو کا لفظ “نگران” یا “محافظ” اس لفظ کے ترجمے کا حق ادا نہیں کر سکتے۔ نبی معظم ﷺ کی حیاتِ طیبہ نے ہمیں “قوام” کے لفظ کے حقیقی معنی سمجھائے اور سکھائے ہیں۔ مردوں کے فرائض: قوام ہونے کے ناطے مردوں کو اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ وہ اپنی زیرِ کفالت عورتوں کے نان نفقے، پہننے اوڑھنے اور رہائش کے ذمہ دار ہیں۔ نبی مہربانﷺ کی ساری زندگی اپنی قریبی رشتہ دار خواتین سے بہترین سلوک کی شاہد ہے۔ آپ ﷺ نے اپنی چاروں بیٹیوں اور تمام ازواجِ مطہرات کے علاوہ دیگر قریبی رشتہ دار خواتین سے بھی بہترین سلوک کیا جن میں آپ ﷺ کی پھپھیاں، چچیاں اور دیگر رشتہ دار خواتین وغیرہ شامل ہیں.

رضاعی والدہ حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا، رضاعی بہن حضرت شیماء رضی اللہ عنہا اور دایہ حضرت امِ ایمن (رضی اللہ عنہا) وغیرہ سے بھی آپ کا تعلق مثالی تھا اور گھر کا ماحول اور اس کی فضا خوشگوار رکھنے کی “کامیاب ترین ٹیکنیک” بیان کرتے ہوئے آپ ﷺ نے اپنے بارے میں ارشاد فرمایا:(خيركم خيركم لأهله و انا خيركم لاهلى) (جامع ترمذی: 3895) ترجمه :”تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو نے گھر والوں سے بہترین رویہ رکھتا ہے اور میں تم میں سے اپنے گھر والوں کے ساتھ بہترین رویہ رکھتا ہوں۔”اللہ تعالیٰ نےگھر سے باہر کے سارے معاملات مردوں کے سپرد کیے ہیں جن میں کما کر لانا اور اس کمائی کو اپنے والدین، بیوی بچوں پر (اور اگر دیگر افراد ان کے زیرِ کفالت ہوں تو ان پر بھی) خرچ کرنا ان کے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ مردوں پر نکاح کے بعد بیوی کے حق مہر کی ادائیگی لازمی ہوتی ہے۔ ماؤں اور بہنوں کو وراثت کی ادائیگی کرنا بھی مردوں کے لیے واجب ہوتی ہے۔ وہ نسوانیتِ زَن کا نگہبان بنایا گیا ہے اور کانچ جیسی ناموس کی پاسداری اس کی ذمہ داری قرار دی گئی ہے۔ وہ عورت پر مسلط نہیں کیا گیا بلکہ “نازک آبگینہ” قرار دی جانے والی ہستی کا محفظ اور ذمہ دار بنایا گیا ہے۔ ازدواجی زندگی میں بھی اللہ رب العزت نے مرد و عورت دونوں کو حقوق و فرائض میں برابر قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ :

(ولهن مثل الذى عليهن بالمعروف) (البقره2 :228) ترجمہ: “عورتوں کے لیے بھی معروف طریقے سے ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے حقوق ان پر ہیں۔”اللہ تعالیٰ نے عورت کی ذمہ داری یہ مقرر کی ہے کہ وہ گھر کے اندرونی معاملات کی ذمہ دار ہے جس میں بچوں کی پرورش، ان کی تربیت اور گھریلو امور کی ادائیگی شامل ہے۔ عورت کو عطا کردہ قوتیں اور صلاحیتیں نسلِ انسانی کی حیات و بقا اور اولاد کی تعلیم و تربیت کے لیے بالکل موزوں ہیں۔ وہ اپنے سینے میں محبت و الفت اور ہمدردی و غمگساری کے جذبات رکھتی ہے۔ لہٰذا ہمیشہ اولاد کی دیکھ بھال، گھر کا انتظام و انصرام، کھانے پکانے کی ذمہ داری، مہمان نوازی کا اہتمام اور سلائی و دھلائی وغیرہ عورت کی ذمہ داریاں سمجھی جاتی ہیں۔ وہ اپنے باپ، بھائی اور شوہر کی وفادار ہوتی ہے اور وہ خالص جذبوں اور عزت و احترام سے ان کی زندگیوں میں ان کے ساتھ ہم رکاب رہتی ہے۔ ؎ وجودِ زَن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ  اسی کے  ساز سے  ہے  زندگی کا سوزِ دروں نبی کریمﷺ نے اپنی بیٹی کی شادی کے بعد حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور اپنے دامادحضرت علی رضی اللہ عنہ کے درمیان کام کاج کی تقسیم کار یوں قرار دی تھی کہ “حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اندرون خانہ خدمات سر انجام دیں گی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ گھر سے باہر کے تمام کام انجام دیں گے۔”

علامہ ابنِ قیم الجوزیہ اپنی معروف کتاب “زادالمعاد” میں تحریر فرماتے ہیں کہ: “نبی اکرم ﷺ نے “خدمت ظاہرہ” حضرت علی رضی اللہ عنہ کو تفویض کی اور “خدمت باطنہ” کی ذمہ داری حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو سونپی۔”(ابن القیم الجوزیہ، زاد المعاد، ص988)امام ابنِ حبیب “خدمتِ باطنہ” کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ : (الخدمة الباطنه: العجين، والطبخ، الفرش، وكني البيت واستقاءالماء، وعمل البيت كله) (أيضا) “آٹا گوندھنا، پکانا، بستر کا اہتمام، گھر کی صفائی ستھرائی، پانی لانا اور اندرونِ خانہ سے متعلقہ سارے کام “خدمتِ باطنہ” کہلاتے ہیں۔” عورت کا مقام و مرتبہ: قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے عورت کے اصل مقام ومرتبہ کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے:(وقرن فى بيوتكن) (سورۃ الاحزاب 33:33) ترجمہ: “اور اپنے گھروں میں ٹکی رہو. ” یعنی گھر کے اندر رہنا اور بلاضرورت گھر سے باہر نہ جانا، یہ ہی عورت کے لیے حکم ہے. اسلام نے عورت کو وہ مقام و مرتبہ دیا جس سے اس کا لائف سٹائل بدل گیا ہے۔ عورت کو ماں کی صورت میں کائنات کی محترم ترین ہستی قرار دیا گیا اور جنت ماں کے قدموں تلے رکھ دی گئی اور اس کی نا فرمانی کو حرام قرار دیا گیا۔

بہن کی صورت میں بھائی کو اس کا محافظ اور بعض صورتوں میں اس کا کفیل بنایا گیا۔ بیٹی کو “اللہ کی رحمت” قرار دیا گیا اور دو بیٹیوں کی پرورش اور تعلیم و تربیت کے بدلے میں جنت واجب کر دی گئی۔ نیک بیوی کو “دنیا کی بہترین متاع”، “دل کی ٹھنڈک” اور”آنکھوں کا سکون” قرار دیا گیا۔ اسلام نے عورت کے لیے اس کے گھر کو اس کا اصل مقام قرار دے کر اس کے دامن میں خوشیوں کے رنگ بھر دیے۔ گھر آباد ہوئے تو معاشرہ آباد ہو گیا۔ نیک اور صالح لوگ اس کا ثمر بن کر دنیا کو فائدہ پہنچانے لگے لیکن “جدید تحریکِ نسواں” اور “این۔جی۔ اوز” نے عورت کو گھر سے باہر نکال کر اس کا سکون بھرا گھر اُجاڑ دیا۔ اس سے حیاتِ کار زارکی خوشیاں چھین کر اسے کانٹوں بھری راہوں پر چلنے پر مجبور کر دیا۔ اب مغربی عورت مسلمان عورت کی زندگی دیکھ کر، اس کا مقام و مرتبہ جان کر، اس کے حقوق و فرائض کا متوازن انداز دیکھ کر اس پر رشک کرتی ہے۔ وہ گھر کے اندر واپس جانے، خالص “عورت” بننے اور اس جیسا مقام حاصل کرنے کی “آرزو مند” ہے لیکن اس کا “لبرل” معاشرہ اس بات کو برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے۔ کیونکہ یہاں صرف اس خاتون کی اہمیت ہے جو زیادہ سے زیادہ مردوں کی نقالی کر سکے اور مرد جیسی بن کر زندگی کے نشیب و فراز گزار سکے۔ وہاں مرد عورت کو گھر واپسی کا راستہ دینے کو تیار نہیں ہیں۔

اسلام میں بیرونِ خانہ تمام سرگرمیوں کی انجام دہی اور فکر معاش کی ذمہ داری مرد کی ہوتی ہے اور گھر کے اندر مرد کے کما کر لائے ہوئے مال سے گھر کا انتظام کرنا، شوہر کے لیے اطمینان و سکون کی فضا مہیا کرنا، اس کی خدمت کرنا، اس کی اولاد کی صحیح تعلیم و تربیت کرنا اور دیگر تمام امور خانہ داری سر انجام دینا یہ سب کام عورت کے ہیں۔ مردوں کا اپنی ذمہ داریوں کو کماحقہ ادا کرنا بڑا ضروری ہے کیونکہ روزِ قیامت مردوں سے ان ذمہ داریوں کی باز پُرس کی جائے گی۔ اسی طرح یہ عورتوں کے لیے بھی بہت ضروری ہے کیونکہ عورتوں سے بھی ان کی ذمہ داریوں کے بارے میں پوچھا جاۓ گا۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے۔ (“كلكم راع و كلكم مسئول عن رعيته”) (صحیح بخاری :5082 ؛ صحیح مسلم: 2527) ترجمہ: “تم میں سے ہر ایک اپنے ماتحتوں پر نگران ہے اور تم سب سے ان کے بارے میں جواب دہی کی جائے گی۔” عورت بحالتِ مجبوری یا شوق معاشی ضروریات کے لیے گھر سے باہر جا سکتی ہے لیکن اسلام کی مقرر کردہ حدود و قیود کے ساتھ، جو خود اس کے لیے فائدہ مند ہیں۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:(قوا انفسكم واهليكم نارا) (التحريم 6:66) ترجمہ: “اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچاؤ.” خاتم النبیینﷺ نے فرمایا: (“ما نحل والد والدامن نحل أفضل أدب حسن”) (صحیح بخاری: 5082 ؛ صحیح مسلم: 2527)

ترجمہ: “انسان اپنی اولاد کو جو کچھ دیتا ہے، اس میں سب سے بہتر عطیہ اولاد کی اچھی تعلیم و تربیت ہے.” اولاد پر شفقت اور مہربانی کرنے اور ان کی بہترین تعلیم و تربیت کے معاملے میں نبی اکرم ﷺ نے قریش کی خواتین کی تعریف ان الفاظ میں فرمائی:(“خيرنسآء ركبت الابل صالح نساءقريب أختاه على ولدفى صغره و أرعاه على زوج فى ذات يده”) (صحیح بخاری :7138) ترجمہ “اونٹوں کی سوار بہترین خواتین قریش کی نیک خواتین ہیں، جو اولاد پر بچپن میں انتہائی مہربان اور نرم ہوتی ہیں اور شوہر کی ملکیتی اشیاء کی دیکھ بھال کرنے والی ہوتی ہیں۔”عورت گھر کی “مالکہ” ہے اور اس سے اس ذمہ داری کی ادائیگی کے متعلق پوچھ گچھ بھی ہو گی۔ چنانچہ آپﷺ کا ارشاد ہے:(“المراة راعيةعلى بيت زوجها وولده وهى مسئولة عنهم”) (صحیح بخاری: 2527)ترجمہ “عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں کی نگران ہے اور اس سے ان (ذمہ داریوں) کے متعلق باز پرس کی جاۓ گی۔” ہمارا معاشرہ مغربی معاشرے سے بالکل الگ اور منفرد ہے۔ وہ حدود و قیود سے آزاد “لبرل” معاشرہ ہے جبکہ ہمارا معاشرہ “اسلامی” معاشرہ ہے جو اسلام کی حدود و قیود کا پابند ہے۔

خواتین کے عالمی دن 8 مارچ” کو ان کے حقوق و فرائض کی باتیں ہوتی ہیں لیکن اسلام نے صرف ایک دن نہیں بلکہ سال کے 365 دن نہ صرف مردوں کے حقوق کے لیے بلکہ عورتوں کے حقوق کے لیے بھی مختص کیے ہیں جن میں انہیں صرف فرائض کی ادائیگی ہی نہیں کرنی ہوتی بلکہ ان کے حقوق بھی ان کو حاصل ہوتے ہیں۔ جیسا کہ سورۃ البقرہ(2 : 228) میں اللہ تعالیٰ نے ان کے حقوق کا تذکرہ کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نےاس کائنات رنگ و بو کو مرد و زن دونوں سے آباد کیا ہے۔ مرد کا وجود عورت کے لیے ناگزیر ہے اور عورت کا وجود مرد کے لیے۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے لباس کی مانند ہیں۔(هن لباس لكم وانتم لباس لهن) (البقرہ2 :187) ترجمہ: “وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔” عورت کو وہ احترام اور وہ حقوق بجا طور پر ملنے چاہئیں جو اسلام نے اسے دیے ہیں اور خطبہ حجتہ الوداع میں نبی مہرباں ﷺ نے ان کا تذکرہ فرمایا ہے۔ اس کو حق ملکیت، وراثت، حق مہر اور نان و نفقہ وغیرہ ملتے رہیں اور وہ اطمینان سے گھر میں رہ کر اپنے فرائض ادا کرتی رہے اور اس کو غیر ضروری طور پر معاشرے میں نکل کر بیرونی سرگرمیاں سر انجام نہ دینی پڑیں۔ آج الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر بڑا غلط پروپیگنڈا کرکے عورت کی ذہن سازی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ شوہر بیوی کا بڑا دشمن ہے جو اس پر پابندیاں لگاتا ہے اور روک ٹوک کرتا ہے۔ جبکہ شوہر ہی بیوی کا اصل “قوام” ہوتا ہے۔

اسی طرح حسبِ حالات باپ، بھائی اور بیٹا بھی عورت کے قوام ہوتے ہیں۔ اگر مرد کے کردار و عمل میں کمی کوتاہی ہو، تو اس کی اصلاح ہونی چاہیے، نہ کہ اس کی کردار کشی کرنی چاہئے اورمرد اور عورت کو ایک دوسرے کا دشمن بنا دینا چاہیے۔ یہ چیز ہمارے معاشرے کو تباہی و بربادی کے راستے پر گامزن کر رہی ہے۔
نے پردہ،  نہ تعلیم ، نئی ہو کہ پرانی
نسوانیت  زَن کا نگہباں  ہے فقط مرد
جس قوم نے اس زندہ حقیقت کو نہ پایا
اس قوم کا خورشید بہت جلد ہوا زرد

ہم مغربی تہذیب اور معاشرہ سے پناہ چاہتے ہیں۔ ہمارے لیے قرآنِ مجید اورخطبہ حجتہ الوداع کی راہنمائی کافی ہے!!! الحمد للّٰہ۔

1 Comment

Click here to post a comment

  • بہت عمدہ اور مؤثر آرٹیکل ہے ماشاءاللہ ۔
    بلاشبہ ہمارے لیے اسلام کی تعلیمات اور رہنمائی کافی ہے ۔