Home » زندگی اور مقصدِ حیات سے بے رغبتی – شہر بانو داؤد پوٹو
کالم

زندگی اور مقصدِ حیات سے بے رغبتی – شہر بانو داؤد پوٹو

زندگی اللہ تعالی کا دلفریب تحفہ ہے. کائنات کا وجود زندگی ایک نعمت ہے جسے اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب کے بتائے ہوئے طریقے سے گزارنا ہمارا فرضِ اول ہے. کسی نے زندگی کو عیش و نشاط سمجھا تو کوئی زندگی کو حسین خواب خیال کرتا ہے .

کسی کے نزدیک زندگی بے معنیٰ کھیل ہے تو کسی کے لیے زندگی غموں کا دریا ہے درحقیقت زندگی خوشیوں اور غموں کا مجموعہ ہے. زندگی ایک خوبصورت احساس اور عمل کا نام ہے. زندگی کی رونقیں میں آگے بڑھنے اور فتح پانے کی طرف مائل کرتی ہیں. سمجھۓ زندگی جہد مسلسل کا نام ہے اور یہ جہد مسلسل ہی تو زندگی کے اصل معنیٰ سمجھاتی ہے.دنیا دارالامتحان ہے یہاں سب کچھ پرفیکٹ نہیں ملتا جو اللہ تعالی نے ہمارے مقدر میں لکھا ہے اُسے برداشت سے اور خوبصورتی سے نبھانا ہے یہی زندگی کا حُسن ہے.اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتے ہیں کہ :-

” میں نے انسانوں اور جنوں کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے “

تو مقصدِ زندگی اللہ تعالی نے خود قرآن پاک میں بتا دیا کہ ہمیں صرف اسُی کا حکم ماننا ہے اور اسُی کی اطاعت کرنی ہے. ہمیں اس دنیا میں اصل مقصد یہی ہے درِحقیقت تو ہم سب یہاں مہمان ہیں.

میری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفرازی
میں اسی لئے مسلماں میں اسی لیے نمازی

اور قرآن پاک تو سرخرو ہونے کی کنجی ہے.قرآن کہتا ہے:-

فرصت اگر ملے تو پڑھنا مجھے ضرور
میں نایاب الجھنوں کی مکمل کتاب ہوں

انسان کی زندگی کا مقصد صرف کھانا پینا نہیں یہ کام تو حیوان بھی کرتے ہیں. انسان کی زندگی کا مقصد اپنے خالق و مالک کی عبادت کرنا ہے مگر موجودہ دور میں انسان دنیا کی عیش و عشرت میں گم ہوکر کو خالقِ کا ئنات کو بُھلا بیٹھا ہے اس لیے وہ پریشانی میں مبتلا ہے ہر کوئی اپنی دنیا اپنی دکان اور اپنے گھر میں مصروف ہے کبھی موقع ملا تو اللہ تعالیٰ کو یاد کرلیا ورنہ اللہ کی طرف تو کوئی خیال ہی نہیں ہے. نوجوان کہتے ہیں زندگی تنگ پڑ گئی ہے زندگی میں سکون نہیں ہے رات کو دیر تک نیند نہیں آتی اور اس جیسی ہزار باتیں… مگر جواب صرف اور صرف ایک

“جان لو اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو سکون ملتا ہے”

حالات کے پیش نظر لوگ ڈپریشن کا شکار ہو چکے ہیں اور ڈپریشن کی انتہائی شکل خودکشی ہے آج کل ٹی وی پہ اور انٹرنیٹ پر روزانہ خودکشی کے واقعات سننے اور دیکھنے کو ملتے ہیں. خودکشی کا رجحان بہت زیادہ بڑھ چکا ہے . زندگی کی بعض کٹھن راہیں انسانوں کے حوصلے پست کر دیتی ہیں تو وہ اس سے فرار حاصل کرنے لگتے ہیں اس میں قصور زندگی کا نہیں بلکہ آُن کے اپنے حوصلوں کی ناپختگی کا ہے. لوگوں میں ناامیدی ، مایوسی اور اداسی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ وہ زندگی کی تلخ حقیقتوں کو قبول نہیں کر پاتےاور چھوٹی سے چھوٹی ناکامی پر زندگی سے شکایت کرنے لگتے ہیں اور ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں زندگی اتنی سستی نہیں ہے کہ ایسے لوگوں کے تلخ رویوں کی وجہ سے ہار دیا جائے . مسکرائیے۔۔۔۔۔ کہ یہ زندگی صرف اُس رب کی امانت ہے جس نے اس کائنات کی کسی شے کو بیکار نہیں بنایا. شکر ادا کریں کہ آپ سے محبت کرنے والا کوئی عام نہیں بلکہ اس کائنات کا رب ہے رحیم ہے کریم ہے.

آجکل نوجوانوں نے ہر بات کو خود پر حاوی کیا ہوا ہے والدین اور استاد کی ڈانٹ برداشت نہیں کر پاتے. امتحان میں ناکامی یا پسند کی شادی نہ ہونے پر زندگی کو بُرا بھلا کہنا شروع کر دیتے ہیں اور نشے میں مبتلا ہو جاتے ہیں یقین جانیں ہم کبھی بھی کسی کے بغیر نہیں مرتے جب ہم اللہ تعالی کے بغیر نہیں مر سکتے تو کسی انسان کی بغیر بھی نہیں مر سکتے . موت برحق ہے اور اللہ کے حکم سے ہی آئے گی سمجھ جائیں گے زندگی کسی کے ہونے یا نہ ہونے کا نام نہیں ہے. زندگی ایک بار ملتی ہے سراسرغلط تصور….. زندگی تو ہر روز ملتی ہے. ہر صبح ہمیں نئی زندگی ملتی ہے دراصل موت صرف ایک بار ملتی ہے.اُسکی تیاری کرنی چاہیے. زندگی تو ہر دن نئے چیلنجز لے کر آتی ہے اور ہم اپنی پریشانیوں میں اتنا مصروف ہوجاتے ہیں کہ اصل مقصد کو بھول جاتے ہیں اور جب جب ہم اپنا مقصد بھولیں گے زندگی بھر رنگ اور مشکل ہوتی جائے گی اور دنیا کی مصیبتیں کمزور کرتی جائیں گی جبکہ مصیبت, خوشی اور کامیابی تو زندگی کا حصہ ہیں.

اور جب جب ہم اپنی موت کو اور اللہ سے ملنے کو یاد رکھیں گے یقین کریں زندگی آسان ہوتی جائے گی ہوتا یہ ہیکہ چیلنجز تو وہی رہتے ہیں نس ہمارا اُنھيں ڈیل کرنے کا نظریہ بدل جاتا ہے جب نظریہ بدل جاتا ہے تو ذہن پر سکون ہو جاتا ہے.یاد رکھیں!!! لوگ آپ کی نفع اورنقصان کے مالک نہیں ہیں جو بھی ہو اللہ کی مرضی سے ہوا اللہ نے لوگوں کو آپ کے لیے آزمائش بنایا ہوا ہے. اِسے قبول کریں!! جب آپ اللہ سے راضی ہو جائینگے تو اللہ تعالی آپ کو اپنی حکمتیں بھی سکھا دے گا.آپ کو پتا ہے نا…. ہمارا رب بہت مہربان ہے وہ ہر بات سنتا ہے ہر بار سنتا ہے اور بار بار سنتا ہے .وہ کہتا ہے …… مجھ سے مانگو میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا جب آزمائش آتی ہے ہم سوچتے ہیں اللہ تعالی کہاں ہے سن کیوں نہیں رہے یاد رکھیں امتحان میں استاد خاموش رہتا ہے آزمائش میں ثابت قدم رہنے کی دعا مانگیں اللہ سے شکوہ نہ کریں بلکہ وہ نعمتیں یاد رکھیں جو اس نے آپ کو عطا کی ہیں.یاد رکھیں!!! زندگی خوبصورت ہے لیکن غم کے بادل بھی آئیں گے تبھی تو اِسے زندگی کہتے ہیں ورنہ تو آپ جنت میں ہوتے نہ….. جہاں کوئی غم نہ ہوتا کوئی دکھ نہ ہوتا…

جیسے بادلوں کے پیچھے سورج چمک رہا ہے ایک دن آپ کا سورج بھی پریشانیوں کے پیچھے ضرور چمکے گا.توکل رکھیں !! اللہ پر یقین کا سفر بہت خوبصورت ہے اسے طے کرنا سیکھیں . بے شک! منزل دیکھ کر آپ کا دل باغ باغ ہو جائے گا.