Home » بیوہ اور طلاق یافتہ کے حقوق کون ادا کرے؟ – لطیف النساء
کالم

بیوہ اور طلاق یافتہ کے حقوق کون ادا کرے؟ – لطیف النساء

مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ان لوگوں کے بارے میں کیا لکھوں کیسے لکھوں؟ مگر یقین جانئے مجھے یہ لکھتے ہوئے بھی ندامت سی محسوس ہو رہی ہے. کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ لوگ اتنے بے حس اور بے غرض کیوں ہو گئے ہیں کہ کسی کو کسی کی پرواہ ہی نہیں۔

کیا مرد اور کیا عورتیں یا تو دین کی بات سمجھتے ہی نہیں یا شاید سمجھنا ہی نہیں چاہتے اللہ ہی بہتر جانتا ہے مگر ہم تو یہی جانتے ہیں کہ یہ دنیا متاعِ غرور ہے اوربڑا عمربھر کا امتحان ہے۔ زندگی صرف اور صرف ایک بار ملتی ہے کرنے کو بہت کچھ ہے محبت کیلئے تو یہ زندگی کم ہے، مگر سوچتی ہوں کہ

وہ جو نفرتوں کو سینے میں پنہا رکھتے ہیں
جانے وہ لوگ محبت کو کہاں رکھتے ہیں

تمام مخلوق اللہ کا کنبہ ہے اور اشرف المخلوقات کا حق ادا کرتے ہوئے محبت ہی کی ترغیب دینا چاہئے کسی ایک شخص بندہ بندی سے نہیں بلکہ جانوروں سے بلکہ ہر زندہ مخلوق خدا سے محبت کرنا ہی زندگی کا حق ہے۔ قربانی کی روح تقویٰ اور اطاعت کا جوہرہی تو ہے ہاں شرف قبولیت وہی قربانی ہے جو فرماں برداری و جاں نثاری کے جذبات کے ساتھ ہو اور اللہ کی راہ میں پیش کی جائے۔ اس لئے خالق سے دل لگاؤ مخلوق تو وفا کے لائق نہیں مگر اچھی بات یہ جو خالق سے دل لگائے وہ اس کے احکام کی خلاف ورزی کبھی نہ کرے گا ورنہ سمجھیں ضعفِ ایمان کے مترادف ہے۔ یہ صحیح ہے کہ تنہا رہ لیں مگر اپنا معیار نہ گرائیں عزت کے بغیر محبت کا کوئی وجود ہی نہیں کہتے ہیں نا کہ سب سے ذلیل انسان تو وہ ہو تا ہے جسے سچ اورحق کا پتا ہو مگر پھر بھی وہ جھوٹ کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ دنیا میں ہمیشہ یہ سچ ہی سنا ہے کہ غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے۔

بے شک ایسا ہی ہے زندگی اس یقینی تصور کے ساتھ گزر جاتی ہے لہٰذا کیوں پریشان ہوتے ہو اگر کوئی تمہارے ساتھ غلط کر کے خوش ہے تو کیا تم نے نہیں پڑھا؟
وَمَا کَانَ رَبُّکَ نَسِیًّا o اور تیرا رب بھولنے والا نہیں۔
سورۂ مریم کی یہ آیت کتنا حوصلہ دیتی ہے سبحان اللہ! مگر میں یہ سوچتی ہوں کہ دنیا میں عورتیں زیادہ اور مرد کم ہوتے جارہے ہیں اور قیامت کی کھلی نشانی ہے۔ ہمیں اکثر ایسے لوگوں سے بھی واسطہ پڑتا ہے جو بہت ہی زیادہ مجبور اور بے بس ہیں۔ کسی کے شوہر حادثے کا شکار ہو کر گزر گئے، کوئی بیماری سے چل بسے، تو کوئی نشئی ہوکربے بس کر گئے تو کسی نے نفسیاتی بیماری کے باعث خودکشی کرلی تو کوئی کسی دوسری کی محبت میں اتنا گرفتار ہو گیا کہ اپنی بیوی بچوں کااُن جیسی عظیم نعمتوں کا شکار ہو کر خود کشیاں کرلیں یا پھر غریبی کا شکار ہو اور خود کو ختم کرلیا بلا سوچے سمجھے کہ معصوم بچوں اور بیوی کو کیوں مزید تکلیف میں گرفتار کر دیا؟ یہ تو ہوئیں بیوائیں!

اب بتائیے کہ کیا ان کا کوئی ہمدرد اور غمگسار نہیں ہونا چاہئے؟ کیا والدین کے سوا کوئی اور ان کا ہمدرد اور ذمہ دار نہیں ہوسکتا؟ اللہ تعالی کے احکامات بیواؤں کے بارے میں کیا کیا ہیں؟ کوئی کیوں انھیں نہیں سمجھتا اور کیا ان معصوم بچوں اور عورتوں پر چاہے وہ رشتہ دار ہوں یاغیر انکا کوئی حق نہیں؟ انسا ن تو وہ ہی سب سے اچھا ہے جو دوسروں کی بھلائی میں اپنے آپ کو کھپا دے تو کہاں گئی وہ انسانیت؟ ان کی بھلائی کیلئے بھی آنے والے صرف اور صرف غرض لئے ہوتے ہیں اور شاید کچھ لوگ آٹے میں نمک کے برابر انکے بارے میں مخلص ہوں مگر میرا خیال ہے کہ انہیں سوچنا چائیے اور عملی طور پر اپنے فرائض نبھانا چاہئے اس سلسلے میں جب کہ وہ صاحب ِ حیثیت بھی ہوں اور اپنی فیملی کیلئے زیادہ خود کفیل بھی ہوں مگر عملی طور پر کیوں اپنے آپ کو اتنا مجبور اور بے بس سمجھتے ہیں کہ وہ خود ان کیلئے کچھ نہیں کر سکتے! انہیں ایک حیثیت اور مقام دینا، عزت کا مقام دینا ان کیلئے قوام بننا کیا انکا حق نہیں؟ بہنوں کو بھی سوچنا چاہئے اور اللہ کی خوشنودی اور رضا کی خاطر انہیں اتنا بے بس نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اختیار اور اقتدار ہوتے ہوئے بھی اگر اپنے فرائض سے غافل ہیں تو کیا سمجھا جائے؟

یا تو وہ بے حس ہیں یا مغلوب یا مجبور۔ مجبوری تو قابل معافی ہے مگر اس کے علاوہ جو شخص جان بوجھ کر صاحبِ حیثیت ہوتے ہوئے ان بیواؤں کو سہارا نہ دیگا تو قیامت کے دن رب کو کیا منہ دکھائے گا؟ مطلب تو یہ ہے ناکہ ہر کام اللہ کی خوشنودی کیلئے اس کے حکم کی تعمیل کیلئے کیا جائے تا کہ نا جائز فائدہ اٹھایا جائے؟ کچھ لوگ تو عجیب عجیب منطقیں نکال کرنا جائز فائدہ اٹھا جاتے ہیں کچھ تو لوٹ ہی جاتے ہیں مطلب بجائے بیوہ کیلئے قوام بننے کے اسکوہی الٹا جائیدادوں پر قبضہ جما کر اسے غلام بنائے رکھتے ہیں۔ بات بات پر احسان جتاتے ہیں۔ اچھائی برائی کا فرق کون نہیں جانتا اور رویہ کسے سمجھ نہیں آتا؟ اگر خدا خوفی سے اور حکمت سے کام لیا جائے تو ہر مشکل آسان ہو جاتی ہے اورآہستہ آہستہ گھر پر امن طور پر بسنے لگتے ہیں۔ میں نے خود ایک عورت کو دیکھا جسکی جوان بیٹی تھی اور اسکی شادی ہونے والی تھی میں نے پوچھا تم کیوں رہی ہو؟ وہ اور اسکی ماں کچھ دم درود کروانے اور کچھ مشورہ لینے آئی تھی۔

ماں کی غیر موجودگی میں کہنے لگی۔ میری ماں بڑی پریشان ہے؟ میں نے پوچھا کیوں تو وہ کہنے لگی کہ وہ چاہتی ہے کہ میری تیسری چھوٹی امی کو میرے ابوطلاق نہ دیں ہیں۔ میں حیران رہ گئی اور پوچھا کیوں؟ تو کہتی ہے کہ وہ بے آسرا ہو جائے گی دو چھوٹے بچوں کو لیکر کہاں جائے گی؟ مجھے بھی رب کو منہ دکھانا ہے۔ ابو آج غصے میں کہہ کر گئے ہیں ملتان کہ میں اس کو طلاق دیگر آؤنگا۔ میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگی میرے ابو بھی جب چھوٹی امی کے پاس جا تے ہیں تووہ انھیں مہینوں روک لیتی ہے جبکہ میرے ابو کو سب کو دیکھنا ہوتا ہے۔ اس لیے دعا کیلئے آئی ہیں اور اسکے علاوہ میرا چھوٹا بھائی بھی ماں کو پریشان کرتا ہے کہ میں خود کشی کر لوں گا؟ میں نے کہا کیا اور کیوں؟ کہنے لگی ہمارے پڑوس میں امی کی ایک بہت اچھی بیوہ دوست رہتی تھی دو بچوں کی ماں تھی تو میرے ابو نے میری امی سے کہا کہ اس سے کہو کسی بھلے مانس سے شادی کرلے بچے سیٹ رہینگے۔ کچھ عرصے بعد پتا چلا کہ میرے ابو ہی وہ بھلے مانس ہیں ان کا بیٹااچھے اسکول میں پڑھتا تھا اور کافی سہولیات تھیں جبکہ میرا بھائی اتنے مناسب اسکول میں نہیں پڑھتا تھا۔

جب کالج میں داخلہ ہوا تو اس کا اچھے کالج میں داخلہ ہو گیا مگر میرا بھائی چڑ گیا کہتا ہے مجھے نظر اندازکیا گیا ہے۔ مجھے ابو سے پورا حق چاہئے میری تو تین ہفتے بعد شادی ہے ہم دو بہنیں ہیں اور دوبھائی، باقی تو چھوٹے ہیں مگر مجھے ان سب باتوں سے ڈر لگتا ہے۔ میں نے کہا کہ آپکی امی اتنی اچھی نیت رکھتی ہیں اللہ آپ لوگوں کو ہمیشہ خوش رکھے گا تم خوشی خوشی رخصت ہو، دعائیں کرنا وہ ضرور رنگ لائیں گی۔ آپ کے ابو تو سب کا حق نبھانا چاہتے ہیں ماں نے ابھی روکا ہے نا کہ چھوٹی امی کو بے آسرا نہ کریں گناہ ہے تو وہ آپکے بھائی کو بھی منا لینگی تم فکرنہ کرو۔ ان شاء اللہ۔ ایک طرف یہ رخ بھی ہے۔ اسی طرح عراق میں میں نے پانچ بچے اور دو امائیں دیکھیں،یقین مانیں سب بچوں کو معلوم ہے کہ آج ابو ہمارے ساتھ نیچے ہونگے اور کل اوپر کمرے والے بچوں کو معلوم ہے کہ وہ ابو کے ساتھ ہونگے۔ دونوں بیگمات بچے ایک ساتھ ناشتہ کرتے ہیں بچوں اور شو ہر کے ساتھ جسکے تین بچے ہیں وہ نیچے رہتی ہے بہت زیادہ موٹی جبکہ دوسری بیگم جو اوپر کمرے میں رہتی ہے دبلی پتلی ینگ سی دو چھوٹے بچوں کی اماں جسکو میں نے کبھی لڑتے جھگڑتے نہیں دیکھا۔

سب بچے صبح تیار کیے جاتے ہیں اسکول کیلئے اور وین کے انتظار میں دونوں امیاں بچوں کو لیکر دروازے پرہوتی ہیں۔ہنستی مسکراتی شوہر کو بچوں کے جانے کے چند منٹ بعد رخصت کرتیں دونوں کے کمرے اور سامان ایک جیسا دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی۔ اسی طرح طلاق یا فتہ لڑکیاں بسا اوقات اپنی جہالت میں بعض دفعہ ماں کے چڑھاوے میں آکر اتنا برا سلوک اپنے شوہروں سے کرتی ہیں کہ معاملہ طلاق تک پہنچ جاتا ہے۔ تو کچھ خودسری میں مبتلا، تو کوئی خود کوحور اور میاں کو لنگور سمجھتی ہیں جبکہ انکے شوہر حضرات جل جل کر رہتے ہیں۔ پھر طلاق کے بعد پچھتاتی ہیں؟ کچھ توسسرال کو بالکل خاطر میں نہیں لاتیں بلکہ ساس سے تو بات کرناتک گورا نہیں کرتیں! جب یہ رویہ ہو گاتو کیسے گھر میں سکھ چین ہوگا؟ اسی طرح بعض دفعہ مرد حضرات کا بھی الٹا ہی رویہ ہوتا ہے وہ عورتوں کو باندی سمجھ کر بے عزت کرتے رہتے ہیں، شریف زادیاں مجبورً۱ صبر سے زہر کا گھونٹ پی کر سہتی رہتی ہیں اور کچھ شادی شدہ ہونے کے باوجود لڑکیوں کے ساتھ تعلقات رکھتے ہیں اور ڈنکے کی چوٹ پر اس طرح بھی تنگ کرنا نا انصافی ہے۔ بہر حال جب ساتھ رہنا محال ہو جاتا ہے تو بچے تو سب سے پہلے سراسررُل جاتے ہیں۔

ان طلاق یافتہ لڑکیوں کو بھی بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر حسین ہیں کم عمر ہیں تو بھی مرد حضرات انہیں چین نہیں لینے دیتے۔ بدلہ نکالتے ہیں خدا سے نہیں ڈرتے،طعنے دیتے ہیں اور غلام بنا کر رکھتے ہیں اور وہ اللہ والیاں عزت کی خاطر ظلم سہتی رہتی ہیں جبکہ مرد حضرات اگر بچے والے ہوں تو انکی بھی کب بنتی ہے؟ خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لڑکے جنکی شادی ایسی کنواری یا طلاق یافتہ لڑکیوں سے یا بیوہ سے ہو جائے تو کسی کا دل نہیں توڑتیں بلکہ اپنے اخلاق سے محنت، محبت سے سب کا دل جیت لیتی ہیں، مطلب صبر شکر والی ہوتی ہیں اور رب کی قدر دانی انکی روح کو انکے گھر کو نہال رکھتی ہے مگر اگر لڑکیاں بچوں والی ہوں تو عجیب عجیب مردوں کی شادی کی آفر شرائط کے ساتھ آتی ہیں جو بڑاظلم ہے۔ جوڑ اور بے ربط رشتے! مذاق سمجھا ہوتا ہے!

ہر چیز کی حد ہو تی ہے۔اس لئے خواتین کے اس مسئلے پر خدا خوفی سے مرد و خواتین دونوں کو سوچنا سمجھنا چاہئے اس طرح کے کسی کی بھی انا متاثر نہ ہو، پچھلی کہا نی کو بھول کر ایک نئی زندگی کو خوبیوں اور خامیوں کو ساتھ لیکرہی تعاون سے رہنا چاہئے۔ ورنہ احساس کے رشتے خونی رشتوں سے بھی زیادہ مضبوط ہوتے ہیں سمجھنے کی بات ہے کہ تنہارہ لیں مگر اپنا معیا رمت گرائیں کیونکہ واقعی عزت کے بغیر محبت کا کوئی وجود نہیں۔کیونکہ:

ہزاروں وار دنیا کے سہے جاتے ہیں ہنس ہنس کے
مگر اپنوں کے طعنے اور شکوے ماردیتے ہیں

تو حقوق العباد کب نبھاؤ گے؟