اخوت کا بیاں ہو جا،محبت کی زباں ہو جا – نوشابہ یعقوب راجہ




آج کا میرا کالم بحیثیت پریزیڈنٹ آف یوتھ پارلیمنٹ آف پاکستان(چپٹر فرانس ) کی حیثیت سے ہے۔ گزشتہ رات وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب کا قوم سے خطا سنا جس میں وہ وسائل کی کمی اور یوتھ اور قوم کے جذبے کی بات کر رہے تھے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا اور اس سے قبل ایک اسلامی ریاست مدینہ منورہ وجود میں آئی تھی۔
اور اس اسلامی ریاست کے باسیوں کی تربیت کا بنیادی اصول اللہ پر ایمان ،تو کل اور پھر اپنے اسباب کا بہترین استعمال تھا۔تاریخ اسلام ہمیں بتاتی ہے کہ کامیابی مکہ کی 13 سالہ مشکل زندگی کا سامنا کر کے شعیب ابی طالب کی گھاٹی میں محصور رہ کر تمام تکالیف برداشت کر کے پھر ریاست مدینہ میں مال و اسباب کی کمی کے باجود معرکہ بدر و احد ،خندق لڑ کر فتح مکہ کا جشن منایا جاتاہے۔ تاریخ اسلام بتاتی ہے کہ کامیابی مال و اسباب کی زیادتی سے نہیں جذبہ ایمانی سے ملتی ہے۔اور جو وسائل ہوں ان کا بہترین استعمال کرنے کا ہنر ایک مومن کا خاصہ ہونا چاہیے ۔ایک بہترین سپہ سالار کی نیت کا صاف ہونا اور بہترین منصفانہ اور عادلانہ صفات اس کی قوم کو کسی بھی قسم کے مشکل حالات سے نکال سکتی ہیں۔لہذا ہمیں مشکل کی اس گھڑی میں کم اسباب کے ساتھ ان حالات کا مقابلہ کرنا ہے۔اس کی جانی،مالی،بدنی ہر طرح کی خدمات دینے کی ضرورت ہے۔ہماری قوم دنیا کی وہ بہترین قوم ہے جو مشکل حالات کا مقابلہ ڈٹ کر سکتی ہے۔اور قربانی اور ایثار بھی کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔
بطور ایک سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ہونے بہت سی نیوز تبصرے پڑھنے کا موقع ملتا ہے۔ہماری قوم کے اندر ایک بیماری پیدا ہو گئی ہے یہ سیاسی جماعت ،وہ سیاسی جماعت دھڑے بندیاں پہلے یہ کام دین کے فرقہ بندیوں کی صورت میں تھا۔یہ وہابی،وہ سنی،یہ بریلوی، یہ شیعہ وہ سنی وغیرہ مگر یہ بڑھ کر سیاسی جماعتوں کے اراکین اور چاہنے والوں میں بھی آ گیا ہے۔
یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو ………تم سبھی کچھ ہو بتاؤ مسلمان بھی ہو
کہ دوسری جماعت کے کسی احسن کام کو قبول نہ کرنا تسلیم نہ کرنا۔ہمارے معاشرے کی یہ غلط سوچ معاشرے کو ترقی کی راہ پہ گامزن نہیں ہونے دیتی۔ہماری سوسائٹی کو اپنا دل اور ظرف بڑا کرنے کی ضرورت ہے ۔تبھی مل جل کر معاشرے کی تعمیر بہترین طریقے سے کی جا سکتی ہے۔ ہماری آبادی بائیس کروڑ سے زیادہ ہے اور کراسس کے دوران اس سوسائٹی کے لیے بہت زیادہ ورکرز کی ضرورت ہے اور جتنے بھی لوگ این جی اوز میدان میں آئیں انھیں ایک دوسرے کا احترام اور آپس میں کارڈینیشن ہونی چاہیے ۔
مثال کے طور پر اگر ایک جگہ مختلف این جی اوز گراونڈ پہ کام کر رہی ہیں تو انھیں اس علاقے کے مسائل اور ضروریات کا ادراک ہونا چاہیے۔اور سب ملکر اس علاقے کے لوگوں تک نہ صرف خوراک بلکہ ادویات اور دیگر سامان ضرورت ان تک پہنچا سکتے ہیں۔اس طرح نہ تو کچھ ضائع ہو سکتا ہے اور نہ متعلقہ باقی لوگ محروم رہ سکتے ہیں اور سوسائٹی کی بہترین خدمت کی جا سکتی ہے ۔میری گزارش ہے کہ پاکستان کے ہر شہر میں تمام این جی اوز کے اکٹھے مگر اپنے اپنے نام کے بینرز کے ساتھ کیمپ لگنے چاہیں اور پورے نظم وضبط کے ساتھ کام ہونا چاہئیے تاکہ کوئی بھی مستحق محروم نہ رہے۔ہم سب پاکستان کی ترقی چاہتے ہیں تو قائد کے فرمان کو لیکر آگے بڑھنا پڑے گا “ایمان،اتحاد،تنظیم “۔پاکستان میں جب کوئی آفت یا مصیبت آتی ہے تو وہ قوم کو یکجا کر جاتی اب کی بار سارے دینی ،گروہی اور جماعتی اختلافات کو بھلا کر ملک و قوم کی خدمت کریں ۔اور تمام این جی اوز کی بہترین پرفارمنس کو سہانا حکومت پاکستان کی بھی ذمہ داری ہے۔
خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا،
سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہم اسی کی حمد کرتے ہیں۔ اسی سے مدد چاہتے ہیں۔ اس سے معافی مانگتے ہیں۔ اسی کے پاس توبہ کرتے ہیں اور ہم اللہ ہی کے ہاں اپنے نفسوں کی برائیوں اور اپنے اعمال کی خرابیوں سے پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے تو پھر کوئی اسے بھٹکا نہیں سکتا اور جسے اللہ گمراہ کر دے اس کو کوئی راہ ہدایت نہیں دکھا سکتا۔ میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد اس کا بندہ اور رسول ہے۔ اللہ کے بندو! میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی تاکید اور اس کی اطاعت پر پر زور طور پر آمادہ کرتا ہوں اور میں اسی سے ابتدا کرتا ہوں جو بھلائی ہے۔ لوگو! میری باتیں سن لو مجھے کچھ خبر نہیں کہ میں تم سے اس قیام گاہ میں اس سال کے بعد پھر کبھی ملاقات کر سکوں۔
ہاں جاہلیت کے تمام دستور آج میرے پاؤں کے نیچے ہیں؛ عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر، سرخ کو سیاہ پر اور سیاہ کو سرخ پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقویٰ کے سبب سے ۔ خدا سے ڈرنے والا انسان مومن ہوتا ہے اور اس کا نافرمان شقی۔ تم سب کے سب آدم کی اولاد میں سے ہو اور آدم مٹی سے بنے تھے۔ لوگو! تمہارے خون تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر ایسی حرام ہیں جیسا کہ تم آج کے دن کی اس شہر کی اور اس مہینہ کی حرمت کرتے ہو۔ دیکھو عنقریب تمہیں خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کی بابت سوال فرمائے گا۔ خبردار میرے بعد گمراہ نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹتے رہو۔” جب ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اتنا خوبصورت پیغام ہمارے پاس ہے تو پھر ہمیں اپنا اپنا محاسبہ کر کے اپنی اصلاح کرنی چاہیے ۔ اللہ کا فرمان ہے
“اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو”
بحیثیت نہ صرف پاکستانی بلکہ بحیثیت امت مسلمہ ہمیں جن مسائل کا سامنا ہے اس کا بڑا سبب ہماری تفرقہ بازی اور اتحاد و یگانگت کا نہ ہونا ہے………آج وقت کا تقاضا ہے ہم سب سیاسی چھتریوں سے نکل کر پاکستان کے جھنڈے کے سائے تلے آکر صرف بحیثیت اچھے انسان،اچھے پاکستانی اور اچھے مسلمان ہونے کا حق ادا کریں۔ہماری شاندار روایات ہمیں سکھاتی ہیں کہ شہید ہونے والے جب پانی منہ کے ساتھ لگاتے ہیں تو دوسرے زخمی بھائی کی آواز سن کر پانی اسکو بجھوا دیتے ہیں ۔یہ شاندار احساس ایک مومن کی معراج ہے۔اور مومن اپنی تمام خدمات فی سبیل اللہ دیتا ہے ۔اس کے تمام امور کا اجر اسے رب کی ذات اس دنیا اور اگلی دنیا میں دیتی ہے۔اللہ کا سپاہی بغیر کسی تعریف اور صلہ کے اپنی خدمات دیے چلا جاتا ہےکیونکہ اس کی رضا اللہ کی خوشنودی ہوتی ہے۔بس ہماری ذمہ داری صرف اور صرف اخوت و یگانگت کو بنائے رکھنا ہے جو آج امت کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے ۔کوئی؟کون؟کیا ہے وہ جانے اور اس کا رب جانے ؟؟؟ہماری ذمہ داری ایک مسلمان کی حیثیت سے صرف اتنی ہونی چاہئے میں دوسرے مسلمان بہن بھائی کی کیسے مدد کر سکتا ہوں۔علامہ اقبال نے فرمایا تھا
تُو رازِ کن فکاں ہے، اپنی انکھوں پر عیاں ہو جا
خودی کا راز داں ہو جا، خدا کا ترجماں ہو جا
ہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوعِ انساں کو
اُخُوّت کا بیاں ہو جا، محبّت کی زباں ہو جا
یہ ہندی، وہ خُراسانی، یہ افغانی، وہ تُورانی
تُو اے شرمندۂ ساحل! اُچھل کر بے کراں ہو جا
غبار آلودۂ رنگ و نَسب ہیں بال و پر تیرے
تُو اے مُرغِ حرم! اُڑنے سے پہلے پَرفشاں ہو جا
خودی میں ڈوب جا غافل! یہ سِرِّ زندگانی ہے
نکل کر حلقۂ شام و سحَر سے جاوداں ہو جا
مَصافِ زندگی میں سیرتِ فولاد پیدا کر
شبستانِ محبّت میں حریر و پرنیاں ہو جا
گزر جا بن کے سیلِ تُند رَو کوہ و بیاباں سے
گلستاں راہ میں آئے تو جُوئے نغمہ خواں ہو جا
ترے علم و محبّت کی نہیں ہے انتہا کوئی
نہیں ہے تجھ سے بڑھ کر سازِ فطرت میں نَوا کوئی
میری دعا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان کی خاطر خدمات دینے پاکستان کے ہر بیٹے اور ہر بیٹی کو میرا سلام ہے اور اللہ آپ کے ذوق،ظرف ،سوچ،خدمت میں مزید کشادگی دے اور پاکستان کو ہر آفت اور بلا سے محفوظ رکھے اور پاکستان کو دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی دے۔ آمین ثم آمین
اللہ پاکستان کو اور ہمارے پلینٹ کو جلد از جلد اس وبا سے چھٹکارا عطا فرمائے اور ہم سب کو اپنے امان میں رکھے آمین ثم آمین
پاکستان زندہ باد

اپنا تبصرہ بھیجیں