نہ سیر گل کے لیے ہے نہ آشیاں کے لیے – نوشابہ یعقوب راجہ




شیکسپیئر کا ماننا تھا ……. یہ دنیا ایک اسٹیج ہےاور انسان اداکار ہیں۔ ہر شخص پیدا ہونے سے لیکر مرنے تک مختلف کردار نبھاتا ہے اور دنیا سے چلا جاتا یے۔ درحقیقت …….یہ دنیا واقعی میں بہت بڑا تھیٹر ہے اور اس میں اداکاروں کی بھی کمی نہیں ہے۔اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر شخص کی کہانی دوسرے شخص سے مختلف ہوتی ہے۔
تھیٹر ،اسٹیج ،فلم میں مختلف اداکار پرفارمنس دیتے ہیں ……….مگر کسی کسی کی اداکاری لوگوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ کچھ اداکار ایسے ہوتے ہیں کہ جنھیں دیکھ کر انسان کہتا ہے ………یہ کردار بنا ہی اسی کے لیے تھا اس سے بہتر اس رول سے کوئی انصاف نہیں کر سکتا تھا۔اور کچھ اداکار اپنے رول سے انصاف نہیں کرتے شاید اس اسکرپٹ کو سمجھتے نہیں یا ویسا مزاج نہیں رکھتے اس وجہ سے وہ خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کرتے۔ بالکل یہی حال دنیا کے اسٹیج کا ہے یہاں ازل سے کروڑوں لوگ جوق در جوق آتے رہے اور یہ سلسلہ تاابد جاری و ساری رہے گا ہم نے بھی گزر جانا ہے کل ہماری جگہ کوئی اور پرفارمنس دے رہا ہو گا۔سوال یہ ہے یہ اسٹیج قدرت نے کیوں بنایا؟؟؟اور ہمیں مختلف کردار کیوں دیے۔؟؟؟اور ہر کردار کے تقاضے مختلف رکھے۔لیکن ایک بات یکساں رکھی گئ کہ اسکرپٹ سب کے پاس ایک جیسا ہے مگر نبھاتا ہر کوئی اپنے طریقے سے ہے۔کچھ اس اسٹیج پر بہت شاندار پرفارمنس دے جاتے ہیں اور کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ان کا شمار ان لوگوں میں ہے جو اپنے کرداروں کو پڑھتے ہیں ۔محنت کرتے ہیں اور انھیں اللہ کے بتائے ہوئے طریقے پر چلتے ہوئے نبھاتے ہیں ۔
وہ ایک وقت میں بہت اچھا بیٹا/بیٹی ہوتے ہیں ،بہت اچھے شاگرد ہوتے ہیں،بزرگوں کی عزت کرنیوالے بچے ہوتے ہیں۔جب تھوڑے بڑے ہوتے ہیں دین کو فالو کرتے ہیں برائیوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔جب شادی ہو جائے اچھے جیون ساتھی ثابت ہوتے ہیں۔اپنے رشتوں کو نبھاتے ہیں ۔پھر والدین بن کر اولاد کی اچھی تربیت کرتے ہیں انھیں اچھی تعلیم دیتے ہیں ان کے فرائض ادا کرتے ہیں اور رفتہ رفتہ موت کی وادی میں چلے جاتے ہیں۔کچھ ایسے کردار بھی ہوتے ہیں جو وقت سے پہلے اللہ کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمارا ایمان ہے کہ ہر شخص نے اپنے وعدے کے مطابق اپنے رب کی طرف لوٹ کے جانا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سب لوگ اس دنیا میں آتے ہیں اپنے کردار نبھا کر چلے جاتے ہیں آخر یہی یکسانیت ہمیشہ سے تھی اور ہمیشہ رہے گی تو یہ دنیا بنانے کا مقصد کیا تھا؟؟
اس کا جواب سورہ الملک میں اللہ سبحان تعالی بیان کرتے ہیں
“تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ( 1 ) 
وہ (خدا) جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے بڑی برکت والا ہے۔ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے
الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ ( 2 ) 
اسی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون اچھے عمل کرتا ہے۔ اور وہ زبردست (اور) بخشنے والا ہے
الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا مَّا تَرَىٰ فِي خَلْقِ الرَّحْمَٰنِ مِن تَفَاوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَىٰ مِن فُطُورٍ ( 3 ) 
اس نے سات آسمان اوپر تلے بنائے۔ (اے دیکھنے والے) کیا تو (خدا) رحمٰن کی آفرنیش میں کچھ نقص دیکھتا ہے؟ ذرا آنکھ اٹھا کر دیکھ بھلا تجھ کو (آسمان میں) کوئی شکاف نظر آتا ہے؟
ان آیات کی روشنی سے پتہ چلتا ہے کہ ایک مسلمان کو صرف سیر گلستان کے لیے اور عیاشی اور من مانی کے لیے پیدا نہیں کیا گیا ……. بلکہ اس کا زندگی کو بنانے کا مقصد انسان کو بنانے کا مقصد ،موت اور زندگی کو پیدا کرنے کا صرف ایک ہی مقصد ہے اور وہ یہی ہے کہ کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔جو اچھائی اور برائی میں تمیز ہے……. جس اختیار کا استعمال انسان اپنی مرضی سے کرتا ہے وہ اصل امتحان ہے۔ایک مسلمان کے لیے یہ دنیا صرف اسٹیج نہیں امتحان گاہ بھی ہے ۔ہر انسان زندگی کے امتحان کے مختلف مرحلوں سے گزرتا ہے اور ان راستوں پر وہ جو فیصلے کرتا ہے …… وہ آزادئ رائے کا استعمال کرتا ہے وہ حکم رحمانی مانتا ہے یا حکم شیطانی اس کا یہ قوت فیصلہ اس کی کامیابی یا ناکامی کا سبب بنتی ہے۔ اللہ نے انسان کے اندر دو سسٹم لگائے ہیں۔ضمیر اور نفس ۔ضمیر کی آواز ہمیشہ حق کی آواز دیتی ہے یہ بات ٹھیک ہے یہ غلط ہے حق و باطل میں تفریق کرواتی ہے۔اور رہا سوال نفس کا تو اس کی طرف سے ہمیشہ اکڑ ،ضد،ہٹ دھرمی ظلم کرنے کی فرمائش رہتی ہے۔اور اس کی بات ماننے والے تباہ و برباد ہو جاتے ہیں اور ضمیر کی آواز پہ چلنے والے سرخرو ہوتے ہیں۔
جب تک یہ آواز زندہ رہے یہ الارم بجتا رہے شعوری طور پر انسان زندہ رہتا ہے اور اگر ضمیر جیتے جی جب مر جائے تو پھر انسان زندہ لاش کی مانند ہوتا ہے بے مہارا انسان جو جانوروں کی طرح کی زندگی گزارتا ہے ۔اپنے ضمیر کی روشنی کے لیے قرآن و حدیث کا مطالعہ جاری رکھنا چاہیے کیونکہ کامیاب وہی لوگ ہوتے ہیں جو بہتر عمل کرتے ہیں اور عمل بہتر تب ہی ہوتا ہے جب ایتھنٹک علم ہو۔اس لیے اپنے رب کے حضور کامیابی کے لیے ریاضت ضروری ہے ۔اس دنیا میں کمایا گیا پیسہ،پراپرٹی، شہرت ،عزت وہاں کچھ کام نہیں آتا انسان کیساتھ صرف اعمال جاتے ہیں کوشش کرنی چاہئے حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد میں کوتاہی نہ ہواس کے بعد اللہ رب العزت فرماتے ہیں …….الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا مَّا تَرَىٰ فِي خَلْقِ الرَّحْمَٰنِ مِن تَفَاوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَىٰ مِن فُطُورٍ ( 3 ) 
اس نے سات آسمان اوپر تلے بنائے۔ (اے دیکھنے والے) کیا تو (خدا) رحمٰن کی آفرنیش میں کچھ نقص دیکھتا ہے؟ ذرا آنکھ اٹھا کر دیکھ بھلا تجھ کو (آسمان میں) کوئی شکاف نظر آتا ہے؟ اپنی کائنات پر غور و فکر کی بات کرتے ہیں ۔اپنی تخلیقات پر تحقیق کی بات کرتے ہیں۔اس پر علوم حاصل کرنے کی بات کرتے ہیں۔آج بھی اگر کوئی نئی تحقیق کی جاتی ہے تو اس کے نتائج من و عن قرآن و سنت کے عین مطابق آتے ہیں ۔اس لیے علوم سیکھنے تحقیق کرنے کا حکم ہے کہ یہی وہ فرق ہے جس سے حضرت انسان اشرف المخلوقات کہلایا یہی علوم اسے باقی مخلوق سے ممتاز کرتے ہیں۔اس کی اہمیت اس بات سے لگائی جا سکتی ہے کہ سورہ علق پہلی وحی کی گئ اقراء….!
اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ( 1 ) علق – الآية 1
(اے محمدﷺ) اپنے پروردگار کا نام لے کر پڑھو جس نے (عالم کو) پیدا کیا
خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ ( 2 ) علق – الآية 2
جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا
اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ ( 3 ) علق – الآية 3
پڑھو اور تمہارا پروردگار بڑا کریم ہے
الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ( 4 ) علق – الآية 4
جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا
عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ( 5 ) علق – الآية 5
اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جس کا اس کو علم نہ تھا………! یہ آیات اس بات کی گواہ ہیں کہ دینی اور دنیاوی علوم کا امتزاج انسان کی خلافت برقرار رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہیں۔
شاعر مشرق نے فرمایا تھا
نہ تُو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے
جہاں ہے تیرے لیے، تُو نہیں جہاں کے لیے
یہ عقل و دِل ہیں شرر شُعلۂ محبّت کے
وہ خار و خَس کے لیے ہے، یہ نیستاں کے لیے
مقامِ پروَرشِ آہ و نالہ ہے یہ چمن
نہ سیرِ گُل کے لیے ہے نہ آشیاں کے لیے
رہے گا راوی و نیل و فرات میں کب تک
ترا سفینہ کہ ہے بحرِ بے کراں کے لیے
!نشانِ راہ دکھاتے تھے جو ستاروں کو
ترس گئے ہیں کسی مردِ راہ‌داں کے لیے
نِگہ بلند، سخن دل نواز، جاں پُرسوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے
ذرا سی بات تھی، اندیشۂ عجم نے اسے
بڑھا دیا ہے فقط زیبِ داستاں کے لیے
مِرے گُلو میں ہے اک نغمہ جبرئیل آشوب
سنبھال کر جسے رکھّا ہے لامکاں کے لیے
اللہ نے یہ سلطنتیں اپنے خلیفہ کے تانع کی ہیں نہ کہ خلیفہ کو ان کے تابع کیا ہے۔انسان کو چاہیے اپنے دل سے تمام شکوک وشبہات نکال کر اس دل کو اللہ کی محبت اورانوار و تجلیات کا مرکز بنائے۔دنیا میں رہ کر اس کی رنگینیوں کو ترک کر کے اپنے دل کے تخت کی بادشاہی اللہ رب العزت کے سپرد کرے۔اللہ نے مسلمانوں کو دنیا کی رہبری اور رہنمائی سونپی مگر وہ اپنی کم عقلی کی بدولت زوال پذیر ہوئے۔جو دنیا کو رہبری اور رہنمائی فراہم کر کے نشان منزل دکھاتے تھے وہ اب ناپید ہو چکے ہیں۔نگاہ بلند ہو اور گفتگو کا انداز ایسا ہو جو دلوں میں گھر کر جائے سوز و گداز سے بھر پور ہو یہ وہ اوصاف ہیں جو کسی قافلے کے سالار میں ہونے چاہیں۔ہمارے سالار بر حق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان تمام اوصاف حمیدہ کے مالک تھے۔میرا انداز عجمیوں والا ہے بات لمبی ہوگئ مضمون کی دلنشینی کے لیے بھی بات کو بڑھا دیا۔فرماتے عشق الہی سے جو کیفیت ہےوہ بیاں سے باہر ہے۔اگر میرے اشعار جبرائیل سن لیں تو وہ بھی تڑپ اٹھیں۔مگر میں بارگاہ الہی میں انھیں پیش کرونگا یہ لامکاں کے لیے ہیں۔ یہ ہے دنیا کے اسٹیج پہ اشرف المخلوقات کہلانے والے نائب کا کردار۔اسے یہ کردار کیسے نبھانا ہے؟؟کامیاب وہی ہے جس نے اسٹیج چھوڑنے سے قبل اپنے کردار، افکار اور اذکار سے رب کی رضا کو جیت لیا ۔
کیونکہ اس کے بعد دوسرا موقع ملنے کا نہیں۔اللہ مجھے آپ سب کو دین کی سمجھ دے اپنا کردار ایسے اچھا نبھانا دے کہ اللہ رب العزت کو پسند آ جائے اور روز محشر اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے ۔آمین ثم آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں