ارطغل غازی کا سحر اور ہمارا معاشرہ ! – نوشابہ یعقوب راجہ




ایک طرف ارطغل غازی دیکھ کرمیرا دل عشق کے پر لگا کر اڑ رہا ہوتا ہے…….
اگر اس دنیا سے نکل کر تھوڑی دیر حالات حاضرہ کے لیے سوشل میڈیا یا ٹی وی شوز پر نظر پڑے تو امت کے زوال کا سبب معلوم ہونے لگتا ہے . ہماری اخلاقی گراوٹ اور خرافات میں کھونا زوال کا سبب ٹھہرا!خدارا اس زوال سے نکلیے ! نجانے کیوں ہمیں اپنی دنیا اور دوسروں کی آخرت کی اتنی فکر میں لاحق ہوتی ہے۔اگر ہم اپنی آخرت اور دوسروں کی دنیا کی فکر کریں تو حالات یکسر مختلف ہوں۔
آجکل جس فضول بات کو لیکر میڈیا چیخ رہا ہے شرم آنی چاہئے ہمارے سینیر جرنلسٹ کو کس ایشو کو لیکر مولانا طارق جمیل صاحب کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔انسان جب اللہ سے دعا مانگتا ہے اسے اپنے گناہوں کا اعتراف کر کے بخشش مانگتا ہے۔کیا یہ ہماری سوسائٹی کے نقائص نہیں ہیں؟کیا کہتے مولانا یا اللہ تیرا گنہگار پارساوں میں گھیر گیا ہے رحم کر!!
انتہائی شرم کا مقام ہے ۔جہالت اپنی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ہمیں خود کو بدلنے کی ضرورت ہے اپنے اپنے گریبان میں جھانکنے کی اشد ضرورت ہے۔ہماری بد اخلاقی،جہالت،عدم برداشت، خود کو بھول کر دوسروں کو دائرہ اسلام سے باہر چھوڑ کر آنے کی بےہودہ عادات نے ہمارا مذاق بنا کر رکھ دیا ۔جس معاشرے میں اساتذہ کرام اور علماء کرام کی تذہیک کی جائے وہاں ادب کیسے پروان چڑھ سکتا ہے ۔پرانی اقوام میں ایک ایک برائی تھی اور وہ اس مخصوص جرم میں نیست و نابود ہوئی۔ہماری قوم میں بد اخلاقی سے لیکر بددیانتی اور اس لیکر ہر شعبہ ہائے زندگی میں کون سی جگہ ہم ٹھیک ہیں ہمارے معاشرے کے معصوم بچے بچیاں تک درندگی کا نشانہ بنتے ہیں۔ایک ریڑھی والے سے لیکر شوگر ملز اور فلور ملز کے مالکان تک اکثریت بددیانت مافیا کی ہے جو اپنی اپنی بساط کے مطابق کام سر انجام دے رہے ہیں۔ہمارے کونسے معاملات ٹھیک ہیں۔ہمارا میڈیا اپنے مفادات کی خاطر اپنے منصب سے بددیانتی کرتا ہے۔
اگر صرف 5 منٹ کے لیے ضمیر کی بتی جلا کر ہر شخص اپنا محاسبہ کرے تو وہ دوسروں کی بجائے اپنی اصلاح میں لگ جائے گا۔ہر شخص گناہوں کے بوجھ تلے دفن ہے غلطیوں اور گناہوں پر ندامت سنت آدم ہے اور ان پر اکڑ شیطان کی سنت ہے ۔فیصلہ آپ کا ہے؟؟؟ کہ آج آپ اور میں کہاں کھڑے ہیں؟؟؟ہمیں اپنی روش درست کرنی ہوگی وگرنہ مزید دلدل میں دھنستے جائیں گے .ارطغل غازی کو دیکھ کر دل عشق کے پر لگا کر اڑ رہا ہوتا ہے کہ جب نظر حالات حاضرہ پر پڑتی ہے تو علامہ اقبال کے اشعار یاد آتے ہیں…..
تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی
کہ تو گفتار وہ کردار تو ثابت وہ سیارا
گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمین پہ آسمان نے ہم کو دے مارا !!!
خدارا امت مسلمہ اپنا ماضی یاد کریں۔ہماری تاریخ بہت ہی قیمتی اور نایاب نگینوں سے بھری پڑی ہے ۔وہ نایاب مالا ہے جس کا ایک ایک موتی گوہر نایاب ہے ۔اتنا قیمتی اور نایاب اور انمول جس کی قیمت دنیا کا کوئی جوہری نہیں لگا سکتا۔کیونکہ بنانے والے نے خود اس کا مقام اور دام جنت کی کرنسی اور وہاں کے مقام کے مطابق لگائے ہیں یہ اس کرہ ارض کے جوہریوں کے بس کی بات نہیں ہے۔اللہ پہ ایمان اور اس سے عشق کرنے والوں کے مقامات اور درجات وہ خود متعین کرتا ہے۔اتنا زمانہ بیت جانے کے بعد بھی اس شخص کی کہانی دیکھتے وقت دل کی ایک ایک دھڑکن اس کردار کیساتھ دھڑکتی ہے کبھی کامیابیوں پہ بے اختیار خوشی اور کبھی اس کی تکلیف پہ آنکھوں سےبے اختیار آنسو بہنے شروع ہو جاتے ہیں
مبتلائے درد عضو ہو روتی ہے آنکھ………. کس قدر ہمدرد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھ
یہ محبت کا وہ کم سے کم معیار ہے جو اللہ اپنے محبوب بندوں کو بخشتا ہے۔ امت کی مثال ایک جسم کی مانند کیسے ہوتی ہے آپ کو بخوبی اندازہ ہو جائے گا۔زیادہ دور نہیں جا سکتے تو ارطغل غازی کو دیکھنا شروع کریں آپ کو زندگی کی سمجھ آنا شروع ہو جائے گی۔اس ڈرامہ کو اپنی فیملیز کیساتھ دیکھنا شروع کریں آپ صرف شروع کریں یہ جادو آپ کے سر چڑھ کر بولے گا۔ اپنی خوبصورت روایات کو اپنائیں۔اپنا ماضی دیکھیں اور حال کو درست کریں تاکہ ہمارا مستقبل روشن ہو سکے۔ہمیں ماضی میں جانا ہو گا۔
تاریخ کے پلیٹے اوراق کہ دنیا کو ہو جائے یقین……. اس قوم کے تم فرد ہو جو قوم مٹ سکتی نہیں!!
اللہ ہمیں ہمارے اسلاف کے نقشے قدم پر چلنے کی توفیق دے اور ہمیں ہمارا کھوئے ہوئے مقام کو حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین ثم آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں